اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
بلال ابن رباح رضی اللہ تعالٰی عنہ(42ق.ھ / 60ھ) (عربی: بلال بن رباح الحبشي) المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مؤذن بنایا تھا۔سفر و حضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔آپ بہت ہی مشہور صحابی ہیں ۔ آپ کے والد کا نام رباح ہے ۔ آپ حبشہ کے رہنے والے تھے اور مکہ مکرمہ میں ایک کافر امیہ بن خلف کے غلام تھے ۔ اسی حال میں مسلمان ہو گئے ۔امیہ بن خلف نے آپ کو بہت ستایا اور آپ پر بڑے بڑے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے مگر آپ رضی اللہ عنہ پہاڑ کی طرح اسلام پر ڈٹے رہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ
ماہنامہ ڈائجسٹ ، پاکستان کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اردو ڈائجسٹ ہے۔ عام طور پر اس کے کل صفحات کی تعداد 290 سے 320 کے درمیان ہوتی ہے۔ اس رسالے کا اجرا جنوری 1972ء میں ہوا تھا۔ تب سے ہی یہ ڈائجسٹ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا باقاعدہ ممبر ہے۔ یہ ایک فیملی اردو میگزین ہے جو پاکستان کے عوام کے ہر طبقے میں بہت زیادہ مقبول ہے۔
لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
ملیکہ بنت ملحان یا ام سلیم آپ ملحان کی بیٹی ہیں،آپ کا نام سہیلہ یا رمانہ یا ملیکہ یا غمیصہ یا رمیصا ہے،آپ کا نکاح مالک ابن نضر سے ہوا جو حضرت انس کے والد ہیں،حضرت انس مالک ابن نضر کے بیٹے ہیں،آپ کے شکم سے پھر مالک مشرک ہو کر ہی قتل ہوا،آپ ایمان لائیں ابو طلحہ نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا آپ بولیں کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو تم سے نکاح کرلوں گی اور سواء اسلام کے کوئی مہر نہ لوں گی چنانچہ ابو طلحہ ایمان لائے اور آپ سے نکاح کیا،ایک مخلوق نے آپ سے احادیث روایت کیں ہیں۔
میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حج یا عمرہ پر جانے والے لوگ احرام باندھتے ہیں یا جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہوتا ہے۔ پانچ مقامِ میقات حضرت محمد نے متعین کر دیے تھے جبکہ چھٹا میقات بھارت اور مشرق بعید سے آنے والےزائرین کے لیے بعد میں متعین کیا گیا۔ اہل مکہ کے لیے میقات ان کا اپنا گھر یا مسجد الحرام ہے۔
بلاد الشام (عربی: بِلَاد الشَّام، نقل حرفی: Bilād al-Shām)، جسے انگریزی ذرائع میں اکثر اسلامی شام یا محض شام کہا جاتا ہے، راشدی، اموی، عباسی اور فاطمی خلافتوں کا ایک صوبہ تھا۔ یہ تقریباً بازنطینی مشرقی ڈیوسیز کے مطابق تھا، جسے 634–647ء میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ امویوں کے دور (661–750ء) میں بلاد الشام خلافت کا مرکزی صوبہ تھا اور صوبے بھر کے مختلف مقامات اموی خلفاء اور شہزادوں کی نشست گاہیں رہے۔ بلاد الشام کو سب سے پہلے 637ء اور 640ء کے درمیان خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسلم فتح کے بعد چار اجناد (فوجی اضلاع؛ واحد جند) میں منظم کیا: دمشق (دمشق)، حمص (حمص)، الاردن (اردن) اور فلسطین ((خطہ)فلسطین)۔ قنسرین کا جند خلیفہ معاویہ اول (د. 661–680) یا یزید اول (د.
بی بی سی اردو بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے پاکستانی قارائین کے لیے جاری کی جانے خبروں کی ویب گاہ ہے۔ ریڈیو پر بھی پورے پاکستان میں لوگ اس کے خبروں کو پسند کرتے ہیں۔گذشتہ سال فروری میں بی بی سی اردو نے اپنے پروگرام سیربین کو آج نیوز پر پیر تا جمعہ پیش کرنا شروع کیا جس کے بعد سے سیربین نے پاکستان میں بی بی سی اردو کی رسائی میں اضافہ کیا ہے۔ نہ صرف اس نے بی بی سی کی ہفتہ وار رسائی کو 56 لاکھ افراد تک بڑھایا ہے بلکہ سیربین کی مدد سے بی بی سی کی ساکھ کو بھی تقویت دی ہے، جس کا اظہار اس جائزے میں ہوا جس میں 94 فیصد افراد نے بی بی سی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ بی بی سی اردو کے شائقین ایک کروڑ سے زیادہ ہیں۔
اصح السیر فی ہدی خیر البشر ابو البرکات عبد الرؤف قادری داناپوری کی سیرت نبوی پر تصنیف کردہ ایک جامع اور تحقیقی کتاب ہے، جو 1932ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ یہ اردو کی نمایاں کتبِ سیرت میں شمار ہوتی ہے اور خصوصاً مغازی، فقہی مباحث اور سیرت کے مصادر و مراجع کے استعمال میں اپنی نوعیت کی منفرد تصنیف ہے۔ کتاب کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی اساس مستند احادیث اور معتبر تاریخی روایات پر رکھی گئی ہے اور اس میں مغازی کی ترتیب و تحلیل پر خاص محنت کی گئی ہے، جسے اہلِ علم نے قابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔
XI کور یا پشاور کور پاکستان آرمی کا ایک کور ہے۔ XI کور واحد کور ہے جسے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ (KPK) میں تفویض کیا گیا ہے۔ یہ اس وقت پشاور ، خیبر پختون خواہ میں تعینات ہے۔ کور کو 1975 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے فوری طور پر NWFP اور شمالی علاقہ جات میں انتظامی فوجی آپریشنل یونٹس کی مدد کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ کور کو سوویت – افغان جنگ میں شمولیت کے لیے بین الاقوامی سطح پر ممتاز کیا جاتا ہے۔
یوم آزادی بھارت میں ہر سال 15 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سنہ 1947 میں اسی تاریخ کو ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد مملکت متحدہ کے استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے قانون آزادی ہند 1947ء کا بل منظور کر کے قانون سازی کا اختیار مجلس دستور ساز کو سونپ دیا تھا۔ یہ آزادی تحریک آزادی ہند کا نتیجہ تھی جس کے تحت انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں پورے ہندوستان میں تحریک عدم تشدد اور سول نافرمانی میں عوام نے حصہ لیا اور اس جدوجہد میں ہر کس و ناکس نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کا واقعہ بھی پیش آیا اور برطانوی ہند کو مذہبی بنیادوں پر دو ڈومینین میں تقسیم کر دیا گیا؛ بھارت ڈومینین اور پاکستان ڈومنین۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں دونوں طرف خطرناک مذہبی فسادات ہوئے جن میں تقریباً 1.5 کروڑ لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے۔ 15 اگست سنہ 1947ی کو بھارت کے وزیر اعظم بھارت جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر بھارت کا نیا پرچم لہرایا۔ اسی دن ہر سال بھارت کا وزیر اعظم بھارتی پرچم لہراتا ہے اور ملک کو خطاب کرتا ہے۔
غیبت صغرٰی (minor occultation)، اہل تشیع میں پایا جانے والے امامت کے نظریے سے تعلق رکھنے والا ایک تصور ہے جسے بارہویں امام حضرت مہدیعلیہ السلام کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور اس کی مدت عرصہ 874ء تا 891ء تک بیان کی جاتی ہے۔ 874ء میں اپنے والد یعنی گیارہویں امام حسن عسکریعلیہ السلام کے انتقال کے بعد، امام مہدیعلیہ السلام کو بارھواں امام تسلیم کیا گیا جن کی عمر اس وقت پانچ سال بتائی جاتی ہے۔ اس وقت کے عباسی خلیفہ بنام المعتمد (870ء تا 892ء) کی جانب سے کسی خطرے (و دیگر مصلحتوں) کے پیش نظر بارہویں امام کو پوشیدہ رہتے ہوئے کام کرنا پڑا اور شیعوں سے رابطے کے لیے ان کے والد کے چند قریبی ساتھی بطور سفیر کام کرتے رہے، ان سفیروں کے لیے نواب اربعہ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ جب عوام کو کوئی مسئلہ درپیش آتا تو وہ اسے امام کے سفیر کو پیش کردیتے اور سفیر پھر امام سے اس مسئلہ پر وضاحت حاصل کر کہ عوام تک پہنچا دیتے تھے۔ شیعوں کے مطابق غیبی امام اور عوام کے درمیان رابطہ قائم رکھنے والے ان سفیروں یا نواب کی تعداد چار بیان کی جاتی ہے، چوتھے نائب (حضرت محمد السمری) نے 891ء میں اپنی وفات سے چند روز قبل، غیبی امام (حضرت مہدیعلیہ السلام) کی جانب سے یہ پیغام سنایا کہ تم مرنے والے ہواور تمھارے بعد اب کوئی جانشین خاص، نائب خاص یا سفیر مقرر نہیں کیا جائے گا اور یوں ان کی وفات کے بعد سے اہل تشیع میں حضرت امام مہدیعلیہ السلام کے دوبارہ منظرعام پر آنے کا انتظار شروع ہوا، غیبت (حالت غیب) میں ہونے کی اس مدت کو کہ جب امام اور عوام کے درمیان رابطے کا کوئی نائب خاص یا سفیر بھی نا رہا، غیبت کبرٰی (major occultation) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
شاہدہ حسن(پیدائش: 24 نومبر 1953، چٹاگانگ، بنگلہ دیش) ایک ہم عصر اردو شاعر ہ ہے ۔ پاکستان میں مقیم ، وہ اپنی نظموں اور غزلوں کے لیے مشہور ہیں۔ حسن نے اردو شاعری میں بہت کچھ لکھا ہے ، جو دو مجاز مجموعوں میں شائع ہوا ہے ، "یہاں کچھ پھول رکھے ہیں "اور "ایک تارا ہے سرہانے میرے"۔ انھوں نے جامعہ کراچی سے انگریزی میں ماسٹر کر رکھا ہے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوب میں ضلع بنوں ایک اہم ترین خوبصورت شہر ہے۔ جو وزیرستان کے ساتھ واقع ہے۔ اس شہر کی بنیاد 1848میں ایڈروڈ نے ڈالی۔ برطانوی راج میں بنوں شہر کو ایک اہم سرحدی شہر کی حیثیت حاصل تھی۔ بنوں ایک سرسبز شہر ہے عام لوگوں کا پیشہ کاشتکاری اور بھیژ، بکریاں چرانا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتوں میں کپڑے اور گنے کے کارخانے بھی یہاں موجود ہے۔ علاقے کی مشہور سوغات نسوار اور مسالا جات اور مہندی ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں کی مشہور شخصیات میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰٰ اکرم خان درانی اور سابق صدر غلام اسحاق خان شامل ہے۔ سورانی علاقہ پریز خونی خیل عرف رحمت کلہ میں ایک قریش خاندان آباد ہیں مولوی فضل غنی قریشی بن مولوی غلام یوسف قریشی بن مولوی عالم خان قریشی بن مولوی محمد گل قریشی اس کا شجرہ نسب اس طرح محفوظ ہیں
سنگاپور کی حکومت (مالے: Kerajaan Singapura؛ چینی: 新加坡政府؛ تامل: சிங்கப்பூர் அரசாங்கம்) جمہوریہ سنگاپور کی قومی حکومت ہے جو ایک پارلیمانی جمہوریہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ حکومت کا ڈھانچہ ویسٹ منسٹر نظام پر مبنی ہے، جس میں تین شاخوں پر مشتمل ہے: ایگزیکٹو، قانون سازی اور عدلیہ۔ سنگاپور کی حکومت کو اس کی اعلیٰ کارکردگی، شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کے لیے جانا جاتا ہے۔
میجر جسونت سنگھ جسول (1938ء-2020ء) بھارت کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور سابق وزیر تھے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اور پارلیمان میں سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ارکان میں شامل ہیں۔ جسونت سنگھ 1980ء سے 2014ء تک تقریباً تمام عرصہ کسی ایک پارلیمان کے رکن رہے۔ انھوں نے پانچ دفعہ راجیہ سبھا کا انتخاب 1980، 1986، 1998، 1999 اور 2004 اور چار دفعہ
ارشد شریف ( پیدائش 22 فروری 1972 تا 23 اکتوبر 2022)، ایک پاکستانی صحافی، مصنف اور ٹی وی نیوز اینکر پرسن تھے۔ ان کو تحقیقاتی صحافت میں مہارت حاصل تھی اور قومی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں خاص طور پر برطانیہ کے لیے ملک میں بہت سے سیاسی واقعات کا احاطہ کیا ہے۔ 23 مارچ 2019ء کو انھیں صحافت میں ان کی خدمات پر صدر پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ وہ اپنی تحقیقی صحافت کے لیے جانے جاتے تھے
یروشلم یا القدس شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر مسیح کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ مسلمان تبدیلی قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔
نہال چند لاہوری کے اجداد کا تعلقدہلی سے تھا۔ دلی کی تباہی کے بعد نہال چند لاہور چلے گئے اس لیے لاہوری کہلائے۔ فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں ایک کپتان کی وساطت سے ملاز م ہوئے ۔ نہال چند لاہور نے ”گل بکاولی“ کے قصے کو فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا اور اس کانام ”مذہب عشق “رکھا۔ مترجم نے اپنے ترجمے کو اصل سے قریب رکھتے ہوئے تکلفات سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ مترجم نے لفاظی کی جگہ سادگی اختیار کرکے قصے کودلچسپ اور عام فہم بنادیا ہے۔ ان کی تاریخ پیدائش اور وفات کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کا جا سکتا۔ نہال چند لاہوری کی سیرت اور شخصیت کے گرد نامعلوم حقائق کا ہالہ ہے۔سوائے اس کے کہ نہال چند لاہوری کا مولد و مسکن میر امن دہلوی کی شہرۂ آفاق دہلی ہے اور ان کے آبا و اجداد شاہ جہان آباد کے باسی تھے،سب کچھ پردۂ اخفا میں ہے۔نہ تاریخِ پیدائش ملتی ہے، نہ تاریخِ وفات اور نہ شجرۂ نسب۔کہا جاتا ہے کہ دہلی کی طوائف الملوکی کے سیلاب میں اس عہد کے تمام بیش قیمتی حقائق بہہ گئے۔ شرفائے شہر اور اہلِ علموں کو جب نئے جائے اماں کی تلاش ہوئی تو نہال چند لاہوری عروس البلاد لاہور کی پناہ میں آگئے اور اسی نسبت سے’لاہوری‘ کہلائے۔نہال چند لاہوری کی تعلیم و تربیت کہاں ہوئی؟،کس ماحول میں ہوئی؟،افتادِ طبع کیسی تھی؟،کن اساتذہ کے ہاتھوں فارسی اور ریختہ میں صیقل ہوئے تھے،ہنوز وقت کی گرد میں گم ہیں۔نہال چند کے لاحقے ’لاہوری‘ کی بھی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ملتی۔بذاتِ خود انھوں نے اپنے سوانحی حالات میں کہیں بھی ’لاہوری‘ کی وضاحت نہیں کی اور نہ قیامِ لاہور کی اطلاع دی ہے۔ممکن ہے یہ بدعت ان کے تذکرہ نگاروں کی ہو، جنھوں نے دہلی کی طوائف الملوکی سے پیداشدہ حالات میں لکھنؤ،عظیم آباد اور دکن کی جانب اہلِ کمال کی مہاجرت کے پس منظر میں ’لاہوری‘لاحقے کی مناسبت سے احتمالاً یہ نتیجہ مستنبط کر لیا ہو کہ دہلی کے بعد لاہوراُن کا دوسرا مستقر ٹھہرا۔البتہ اتنی بات تو طے ہے کہ فکرِ معاش نے انھیں 1802ء میں کلکتہ پہنچایااور پھر یہیں ’مذہبِ عشق‘ کے ترجمے و تالیف کے سبب انھیں شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ نہال چند لاہوری لاہور سے کلکتہ کیسے پہنچنے، یہ درمیانی کڑیاں بھی غائب ہیں۔البتہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ایک دیرینہ واقف کار انگریز ڈیوڈ روبرٹسن کے توسل سے لاہوری ڈاکٹر گل کرسٹ کے حلقہئ اعتماد میں آئے اور بقول سید محمد صاحب”فورٹ ولیم کالج کے شعبہئ تالیف و تراجم میں ملازم رکھ لیے گئے“ تاہم یہ امر بھی اختلاف سے مبرّا نہیں،ڈاکٹر عبیدہ بیگم نے نہال چند کو سرے سے فورٹ ولیم کالج کا ملازم تسلیم نہیں کیا اور لکھا ہے کہ ”نہال چند شعبہئ ہندوستانی کے باضابطہ ملازم نہیں تھے“۔ڈاکٹر عبیدہ بیگم کے موقف کی توثیق 9/ستمبر1803میں کالج کونسل کو بھیجی گئی گل کرسٹ کی اس رپورٹ سے بھی ہوتی ہے،جس میں کالج کے غیر تنخواہ دار مصنفین کی کتب پر انعام کی سفارش کی گئی تھی۔ اس طرح نہال چند کے شخصی احوال و کوائف کا باب خاصا اختلافی بلکہ بڑی حد تک نزاعی ہے۔ان شرربار، شکستہ بلکہ گم شدہ کڑیوں کے باوجود نہال چند کا نام اردو نثر کی تاریخ کا نشانِ راہ بنا ہوا ہے۔ان کی بنیادی حیثیت ایک مشّاق مترجم اور سلیس نثر نگاری کے رجحان کی پرورش کرنے والے کی بنتی ہے۔”گل بکاؤلی مسمّیٰ بہ ’مذہبِ عشق‘۔ نثر بہ زبانِ ہندی۔ قصّہ“ان کا نثری کارنامہ ہے،جس پر نہال چند کی ناموری کی پوری عمارت ایستادہ ہے۔ ہندوستان کی لوگ کہانیوں میں گل بکاؤلی کی کتھا نے بڑی شہرت پائی۔شیخ عزت اللہ بنگالی نے اسے فارسی میں لکھا تھا۔نہال چند نے اسے فارسی سے اردو میں منتقل کیا اور ’مذہبِ عشق‘ سے موسوم کیا۔یہی نثری قصّہ بعد میں پنڈت دیا شنکر کول نسیم کے ہاتھوں مثنوی گلزارِ نسیم کی شکل میں پیش ہوا۔اپنی نوعیت کے اعتبار سے لاہوری کا ’مذہبِ عشق‘ بنگالی اور نسیم دونوں سے جداگانہ حیثیت کا حامل ہے۔یہ نہ تو فارسی ہے اور نہ منظوم اردوبلکہ اس کا خمیر وقت کی عوامی اور رابطے کے طور پر ابھرتی ہوئی زبان اردو سے اٹھایاگیا ہے۔وہ عوامی زبان جس پر بدیسی حکومت کی نگاہیں مرکوز تھیں اور جسے حاکم وقت اپنی استعماری سطوت اور تفکیری میلانات کی توسیع اور نفاذ کی خاطر ایک حربے (Tool)کے بطور ترقی دینا چاہتا تھا۔یہاں یہ دیکھنا بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ گل بکاؤلی کی کہانی سے سروکار رکھنے والے متون کس طرح لمحہ بہ لمحہ تیزی سے ایک دوسرے متن کی مقبولیت پر خاک ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔گل بکاؤلی کی لوک کتھا اولاً فارسی زبان میں ضبط تحریر میں لائی گئی مگر لاہوری کے اردو پیراہن نے اصل فارسی متن یا ماخذ کو حاشیے پر ڈال دیا،اس طرح کہ عزت اللہ بنگالی اپنے کارنامے کے ساتھ ذہنوں سے تقریباً اوجھل ہو گئے۔نسیم کی مثنوی کی بدولت کچھ ایسا ہی حشر نہال چند لاہوری کے ’مذہبِ عشق‘کا بھی ہوا۔سالک لکھنوی کے بقول: ”نسیم لکھنوی کی مثنوی اتنی مقبول ہوئی کہ نہال چند لاہوری کا ترجمہ ماند پڑ گیا، لوگ نہال چند کا نام بھول گئے۔یاد رہا تو صرف گل بکاؤلی کا قصّہ“۔ ’مذہبِ عشق‘ کا قلمی نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (کلکتہ) کی لائبریری میں موجود ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک نسخہ مولانا آزاد لائبری، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے حوالے سے موجود ہے،جس کے صفحات کی تعداد: 102ہے اور یہ نسخہ باتصویر ہے،اس میں کل 12 تصاویر ہیں۔ ایک صفحے پر عموماً 19سطور ہیں۔ اس کی سن اشاعت1873مندرج ہے۔یہ خطِ نستعلیق میں ہے۔ انٹرنیٹ پردستیاب ’ریختہ کتب‘ کے ذخائر میں ’مذہبِ عشق‘ (5) کا جو نسخہ موجود ہے،اس پر سن اشاعت 1803درج ہے۔یہ خلیل الرحمٰن داؤدی کا مرتب کردہ نسخہ ہے۔اس کی طباعت قدیم کانٹے دار ٹائپ میں ہوئی ہے۔عام طور پر اس کے صفحات پر 6 2لائنیں ہیں۔یہ مجلسِ ادب لاہور سے شائع ہوا ہے۔ اصل قصہ کل 154صفحات پر مبنی ہے،داؤدی کا مقدمہ 16 صفحے اور اخیر کے 8 صفحات اغلاط نامے کے لیے مختص ہیں؛اس طرح اس نسخے میں کل 203 صفحات ہیں۔ ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (کلکتے) والے قلمی نسخے میں سرورق پر فورٹ ولیم کالج کی مہر کے ساتھ’گل بکاؤلی مسمّیٰ بہ ’مذہبِ عشق‘۔نثر بہ زبانِ ہندی۔قصّہ‘ مندرج ہے،یہ خطِ نستعلیق میں ہے، صفحات کی تعداد 103، نسخے کا حجم9 1x26ینٹی میٹ رہے،پہلے صفحہ کی سات سطروں کے علاوہ بقیہ تمام صفحات پر تیرہ سطور پائی جاتی ہیں۔ دیباچے میں فراہم کردہ اطلاع کے مطابق شیخ عزت اللہ بنگالی نے یہ قصہ اپنے معشوق نذر محمد کو کسی دن خلوت میں سنایا تھا،اس کی خواہش پر اسے فارسی میں لکھنا شروع کیالیکن 1123ہجری میں دوست کی ناگہانی موت نے بنگالی کو اس حد تک مایوس کر دیا کہ وہ اس مسودے کو چاک کرنے کے درپے ہو گیا،لیکن احباب کے منع کرنے پر ایسا نہ کیااور آدھے قصے کو فارسی میں منتقل کیا اور آدھے کو ”جوں کا توں“ رکھا۔ شیخ عزت اللہ بنگالی نے نذر محمد کو یہ قصہ زبانی سنایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس عہد کا معلوم قصہ تھا۔تحریری شکل بعد میں دی گئی تاہم اس بین حقیقت کے علی الرغم ایشیاٹک سوسائٹی والے نسخے کی فہرست میں صفحہ 134 پراس پریشان کن عبارت پرنظر پڑتی ہے: “Gul-e-Bakawali,-A love story of Tajul Mulukand Bakawali, transted from Hindustani into Persian.ca.
میمو (MEMU): مسافر گاڑی کے بدلے بھارتی ریلوے کے نئے نظام کا نام ہے مین لین اِلکٹریکل ملٹیپل یونٹ (Mainline Electrical Multiple Units) یعنی میمو ۔ میمو میں ایک سے زیادہ اِلکٹریک موٹور ہیں، اس لیے ملٹیپل یونٹ کہلاتی ہے۔ میمو کی آمد سے سفر میں پیش آنے والی مشکلات میں کمی آئے گی۔ اور وقت میں بھی کمی آئے گی۔ اِس طرح کی تیز رفتار گاڑیوں کو عام طور ہر نو ڈبّے ہوں گے۔ اِس میں سفری ریل گاڑیوں کے مقابلے میں دوگنی گنجائش ہوگی۔ میمو کے لیے موجودہ پلیٹ فارم میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ممبئی کی سبربان ریل گاڑیوں کی شکل و صورت والی میمو کی خصوصیت یہ ہے کہ دونوں سروں میں کنٹرول کیبن موجود ہے۔ انجن شنڈنگ جیسی کئی باتوں سے میمو مستثنیٰ ہے۔ میمو کی دوسری خوبی یہ ہے کہ صفر سے اَسّی کلومیٹر تک جلد سے پہنچ سکتی۔ میمو میں 3000 تا 4000 مسافر سفر کر سکتے ہیں۔ عام طور پر سفری ریل گاڑیوں میں 1500 تا 2000 مسافر سفر کر سکتے ہیں۔ ہفتے میں ایک مرتبہ میمو کی مرمت کرے گا۔ اس کے لیے چھ گھنٹے لگیں گے۔ بھارت میں میمو کی سروس پہلی بار 1995-96ء میں چھتیس گڑھ کے رائے پور اور دُرگ کے درمیان شروع ہوئی۔
مولانا سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء – وفات: 29 جون 2026ء) ہندوستانی عالمِ دین، مفکر اور مصنف تھے۔ بھارت کی دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلما کے کئی دہائیوں تک وہاں کے اعلی استاذ رہے۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن اور لکھنؤ میں واقع جامعہ امام احمد بن عرفان شہید کے صدر بھی تھے۔
بہمنی سلطنت یا سلطنتِ بہمنیہ اواخر قرونِ وسطیٰ کی فارسی مسلم بادشاہت تھی جو برصغیر کے دکن کے علاقے پر حکمرانی کرتی تھی۔ دکن کی پہلی مستقل مسلم سلطنت سمجھا جانے والا یہ اقتدار 1347ء میں اس وقت قائم ہوا جب اسماعیل مُخ نے دہلی کے سلطان محمد بن تغلق کے خلاف بغاوت کی۔ بعد میں اسماعیل مخ نے دستبرداری اختیار کی اور اقتدار ظفر خاں کے سپرد کیا جنھوں نے بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
مختصر سیرتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیرت النبی پر ایک مختصر کتاب ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے مصنف کا نام عبد اللہ بن محمد بن عبدالوہاب ہے اسے الداعیۃ بالمکتب التعاونی لدعوۃ الجالیات بالجبیل (سعودی عرب) نے نشر کیا۔
بیئر دنیا کا شاید سب سے پرانا اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا شراب سے بننے والا مشروب ہے۔ پانی اور چائے کے بعد اسے دنیا کے تیسرے پسندیدہ ترین مشروب کا درجہ حاصل ہے۔ اسے نشاستے کو اُبالنے اور پھر خمیر اٹھانے سے بنایا جاتا ہے۔ عموماً اسے غلے بالخصوص مالٹ (غلے کو پانی میں بھگونے کے بعد جب وہ اگنا شروع کرے تو فوراً اسے خشک کر لیا جاتا ہے) جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم گندم، مکئی اور چاول بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بیئر میں ہوپس (مادہ پھولوں کے گچھے) استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف بیئر کی تلخی کو بڑھا دیتے ہیں بلکہ قدرتی طور پر بیئر کو محفوظ بھی رکھتے ہیں۔ تاہم کئی اقسام کے پھل یا جڑی بوٹیاں بھی اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ کی قدیم ترین تحاریر میں بیئر کا تذکرہ ملتا ہے۔ حمورابی کے قوانین میں بیئر اور اس کی فروخت کے بارے بیان موجود ہے۔ اس کے علاوہ نِنکاسی کی حمد بھی شامل ہے جو بیئر کی تیاری کی ترکیب کو یاد رکھنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ آج بیئر کشید کرنے کی صنعت عالمی پیمانے پر پھیل چکی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی کمپنیاں اور کئی ہزار چھوٹی کمپنیاں اسے کشید کرتی ہیں۔
محمد بن ابی بکر ابوبکر صدیق کے بیٹے ان کی والدہ کا نام اسماء بنت عمیس تھا۔ یہی محمد بن عبد اللہ کہلاتے ہیں۔ آپ کی پرورش علی بن ابی طالب کے گھر میں ہوئی۔اگرچہ ان کی پیدائش رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہوئی، لیکن ان کو صحابیت کا شرف اور درجہ حاصل نہیں ہے کیونکہ رسول اللہﷺ سے فیض حاصل نہ کر پائے لیکن متعدد ائمہ نے انھیں صحابہ کی فہرست میں لکھا ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سگے بھائی تھے اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے اس بھائی سے بہت محبت اور شفقت فرماتی تھی۔ ان پر قتل عثمان کا الزام لگایا جاتا ہے جو ثابت نہ ہے کیونکہ جب سیدنا عثمان نے ان کو کو سیدنا ابوبکر کا یاد دلوایا تو واپس ہوگے-
محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
ممتاز مفتی (پیدائش: 1905ء | وفات: اکتوبر 1995ء) اردو ادب میں ایک ممتاز نام۔ ممتاز مفتی اپنی اوائل دور میں ایک لبرل اور مذہب سے بیگانے دانشور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ممتاز شیریں کی طرح وہ بھی سگمنڈ فرائڈ کے کام سے متاثر تھے۔ اشفاق احمد جو ممتاز مفتی کے قریبی دوست تھے کے مطابق ممتاز مفتی تقسیم ہند سے پہلے غیر معروف ادب کے انتہائی دلدادہ تھے، یہاں تک کہ وہ اکثر سویڈن کے کئی غیر معروف ادیبوں کے ناول پڑھتے نظر آتے۔ ممتاز مفتی ابتدا میں تقسیم ہند کے انتہائی مخالف تھے لیکن بعد میں انتہائی محب وطن پاکستانی اور اسلام پسند کے طور پر جانے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ذات میں یہ تبدیلی قدرت اللہ شہاب سے تعلق قائم ہونے کے بعد پیش آئی۔ گو کہ ان کی شخصیت پر قدرت اللہ شہاب کی عادات، اطوار اور نظریات اثر انداز ہوئے لیکن پھر بھی وہ بحیثیت ادیب اپنی یگانیت اور اچھوتے پن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ممتاز مفتی کی تحریریں زیادہ تر معاشرے میں موجود کئی پہلوؤں اور برائیوں کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) برصغیر کے معروف و مشہور عالم دین، مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحریکات کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا اور بیسویں صدی کے مجدد اسلام ثابت ہوئے۔ مولانا مودودی وہ دوسرے شخص تھے جن کی غائبانہ نماز جنازہ کعبہ میں ادا کی گئی، پہلے نجاشی تھے۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
بلوچ ایک کثیر النسل قوم ہے بلوچوں کی تاریخ تقریباً 5000 سال پرانا ہے۔ ایران سے ملنے والے مختلف چیزیں آج کے موجود بلوچوں سے ملتے جلتے ہیں بلوچوں نے تقریباً 5000 سال پہلے مال مویشی کرنا سیکھ لیا تھا اس بات کا ثبوت ترکی کے قدیم تاریخ بتاتی ہیں۔ بلوچوں کا جد جسے حمزہ سیستانی کہتے ہیں وہ دراصل سیستان و بلوچستان میں رہتا تھا۔ بلوچوں کی مادری زبان بلوچی ہے لیکن کچھ بلوچ دوسری زبانیں بھی بولتے ہیں۔ بلوچ بنیاد میں دو قبیلوں میں مشتمل ہے براھو اور بلوچک، دونوں قبائل بلوشگان کے اولاد ہیں جو شمالی ایران اور زاگرس کے پہاڑوں میں رہتے تھے۔
ثقافتی ورثہ پنجاب، پاکستان کے مقامات کی فہرست
ذیل میں پنجاب، پاکستان کے ثقافت ورثے کی فہرست ہے۔ حکومت پنجاب کے 1985 کے خصوصی مقامات کے قانون تحفظ کے تحت 2013 سے 272 مقامات کی حفاظت کی جا رہی ہے۔.
شہدائے کربلا وہ مظلوم افراد ہیں جو واقعہ کربلا میں ایک غیر منصفانہ جنگ میں شہید کر دیے گئے۔ جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اس وقت کے مسلم دنیا کے حاکم یزید بن معاویہ کو ایک خلیفہ کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یزید اسلام کی ہدایت ، یعنی شورائی نظام سے نہیں بلکہ ایک ملوکیت سے مکرّر کردہ شخص تھا اور اس کے کردار میں بہت سی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ اور ان لوگوں کا خیال تھا جس کو ایسے غیر اسلامی طریقے سے مقرّر کیا گیا ہو اور جس شخص کی شخصیت میں ایسی خرابیاں یا برائیاں پائی جائیں وہ امّتِ مسلمہ کا خلیفہ بننے کا اہل نہیں ہے۔ شہدائے کربلا کے سالار نواسہ رسول حسین بن علی تھے۔
گندھک یا کبریت (انگریزی: Sulfur، نقل حرفی: سلفر) کے نام سے پہچانا جانے والا ایک ایسا کیمیائی عنصر ہے جس کا عنصری عدد 16 ہے۔ انگریزی میں اسے S سے ظاہر کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر بکثرت پایا جانے والا یہ غیر دھاتی عنصر ہے۔ گندھک اپنی خام حالت میں چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس قلمی عنصر ہوتا ہے۔ قدرت میں گندھک اور زندگی کا قریبی تعلق ہے۔ تجارتی پیمانے پر اسے کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم ماضی میں اسے کالے بارود، ماچسوں، کُرم کُش ادویات اور پھپھوندی مارنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ڈولفن فورس پنجاب پولیس کا ایک ایلیٹ یونٹ ہے جو اسٹریٹ کرائم سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔ استنبول پولیس ڈولفن فورس کے بعد بنائی گئی تھی اور اسے 2016ء میں لاہور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لانچ کیا تھا۔ بعد میں، اس کی صوبے کے چھ دیگر شہروں میں توسیع کی گئی ہے، اس کے دوسرے مرحلے میں کل 696 پولیس اہلکاروں کو تربیت دی گئی تھی۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
نوحہ : نوحہ کے معنی غم کرنا یا غم کا اظہار کرنا۔ خاص طور پر مرثیوں میں شہداء کی شہادت کو بیان کرتے ہوئے غم کا اظہار کرنا۔ نوحہ خوانی کی روایت مرثیوں میں شہدائے کربلا کے شہیدوں کو یاد کرنا اور ان کی شہادت پر رونا ماتم کرنا شامل ہے۔ آج کل نوحہ خوانی شہدائے کربلا کے اماموں کی شہادت پر غم کا اظہار کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔
آئمہ بیگ پاکستان کی ایک گلوکارہ اور اسکرپٹ رائٹر ہیں جو 10 مارچ 1995 میں پیدا ہوئیں ۔ وہ 2015ء سے 2017ء تک دنیا نیوز کے پروگرام مذاق رات کی شریک میزبان تھیں۔۔ ان کو شہرت لاہور سے آگے (2016) سے ملی ۔ اس کے بعد ان کی مزید شہرت مشہور گانے کوک اسٹوڈیو کا "بازی" سے ہوئی جو انھوں نے ساحر علی بگا کے ساتھ مل کر گایا تھا۔
گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج (عام طور پر ایس ای کالج کے طور پر جانا جاتا ہے) اس کا نام نوابِ بہاولپور صادق محمد خان عباسی چہارم اور پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر رابرٹ آئلس ایجرٹن نے رکھا تھا۔ اس میں ایک ایسی تعلیم فراہم کرنے کی روایت ہے جو تعلیمی، کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کو کردار کی نشو و نما کے اوزار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔