اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
خیبر پختونخوا (پشتو: خېبر پښتونخوا) یا مختصر طور پر پختونخوا، پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو پاکستان کے شمالی مغربی حصّے میں واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا جبکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے جو یکم جولائی 1970ء کو قائم ہوا۔ 2010 سے قبل یہ صوبہ سرحد کہلاتا تھا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی چار کروڑ آٹھ لاکھ چھپن ہزار ستانوے 40٫856٫097 افراد پر مشتمل ہے۔ صوبائی زبان پشتو اور صوبائی دار الحکومت پشاور ہے۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
ابو منذر ہشام بن محمد بن سائب بن بشر بن عمرو بن حارث بن عبد الحارث کلبی، جو ابن الکلبی (پیدائش 110ھ - وفات 204ھ) کے نام سے معروف ہیں، وہ مؤرخ اور عرب قبائل کے نسب، ان کی تاریخ، جنگوں، واقعات اور عیوب کے عالم تھے۔ ہشام کے بعد آنے والے ماہرینِ انساب نے اپنی تصانیف میں ان کے کام پر بہت انحصار کیا۔ ابن حزم کی کتاب جمہرۃ انساب العرب دراصل کلبی کی کتاب جمہرۃ النسب ہی کا ایک نسخہ تھی، جس میں کچھ مواد حذف اور کچھ شامل کیا گیا تھا۔ ان سے ضرب الامثال کی کتابوں، مثلاً میدانی کی مجمع الامثال، عسکری کی جمہرۃ الامثال اور قاسم بن سلام کی کتاب الامثال نے بھی استفادہ کیا۔ تاہم، ابن کلبی نے اپنے قبیلے کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں بھی شامل کیں جن کی تاریخی روایات میں کوئی اصل یا نسبی بنیاد موجود نہیں تھی۔ محمد بن سعد ، بلاذری ، محمد بن جریر طبری اور مسعودی جیسے علما اور مؤرخین نے انھیں قابلِ اعتماد سمجھتے ہوئے ان سے روایات نقل کیں۔ طبری نے ہشام کی تصانیف سے بہت سے اقتباسات نقل کیے، جبکہ بلاذری نے اپنی کتاب الانساب کا بیشتر مواد ہشام کلبی کی کتاب الجمہرۃ سے اخذ کیا۔ یاقوت حموی نے بھی ابن کلبی کی کتابوں، مثلاً افتراق العرب، اشتقاق البلدان، الانساب اور الاصنام سے استفادہ کیا۔ ابن جوزی نے ہشام بن کلبی سے روایات نقل کیں، جبکہ عمر بن شبہ ، ابن کثیر ، ابن عبد ربہ اور تنوخی نے اپنی کتاب الفرج بعد الشدہ میں ان سے روایات بیان کیں۔ ابن حجر عسقلانی نے بھی ان سے روایت کی۔.
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
حکومت خیبر پختونخوا کے تمام تر سرکاری دفاتر صدر مقام پشاور میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ ضمنی صدر مقام کے طور پر ایبٹ آباد مخصوص ہے جہاں صوبائی سرکاری دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی عملداری پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے جو شمال میں ہمالیہ، جنوب میں پنجاب، پاکستان اور بلوچستان، مغرب میں افغانستان اور مشرق میں چین اور تاجکستان کی سرحدوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کی علاقائی سرحدوں تک محدود ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کا سربراہ گورنر خیبر جس کو وزیر اعظم نامزد کرتا ہے اور انتظام کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ ہوتا ہے جو صوبائی اسمبلی میں اکثریت سے منتخب کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
سیکس اینڈ دی سٹی (فلم) (انگریزی: Sex and the City (film)) 2008ء میں منظر عام پر آنے والی ایک خواتین دوستوں کی فلم، رومانوی مزاحیہ اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری مائیکل پیٹرک کنگ نے کی۔ اس فلم میں کرس ناتھ، سارہ جیسکا پارکر، سنتھیا نکسن، کرسٹن ڈیوس اور کم کیٹرل نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Darren Star، مائیکل پیٹرک کنگ اور سارہ جیسکا پارکر نے فلم سازی کی، آرون زیگ مین نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
مصنوعی ذہانت (انگریزی: artificial intelligence) یا مختصرًا اے آئی (مذ) ایک ایسی شاخ ہے جو کمپیوٹر سائنس اور مشینیات کے میدان میں انسانی ذہانت کے اصولوں کو نقل کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مشینوں کو ایسی صلاحیت فراہم کرتی ہے کہ وہ انسانوں کی مانند سوچ سکیں، مسائل کا حل نکال سکیں اور فیصلہ کر سکیں۔ اے آئی طبیعیات کی طرح ایک نظم وضبط ہے۔ یہ کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جو ذہین کارندوں کی تخلیق سے متعلق ہے، جو ایسے نظام ہیں، جو استدلال کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر اے آئی کا تعلق ایسی مشینوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے نظریہ اور طریقہ کار سے ہے، جو انسانوں کی طرح سوچتے اور کام کرتے ہیں۔ اس نظم و ضبط میں مشین لرننگ ہے، جو مصنوعی ذہانت کا ایک ذیلی شعبہ ہے۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
سندھ سندھی: سنڌ پاکستان کے چارصوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی حصہ ہے۔ سندھ کی صوبائی زبان سندھی اور اردو ہے۔ صوبائی دار الحکومت کراچی ہے۔ سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ چھپن لاکھ چھیانوے ہزار 55,696,147 افراد پر مشتمل ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
سعید الرحمن اعظمی ندوی بن محمد ایوب اعظمی عربی زبان و ادب کے ماہر، ناقد، ادیب، صحافی اور دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم اور انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ کے چانسلر تھے۔ اس کے علاوہ عربی ماہنامہ مجلۃ البعث الاسلامی کی تاسیس میں بھی سید محمد الحسنی کے ساتھ شریک رہے۔ مئو ناتھ بھجن، اتر پردیش میں ولادت ہوئی، مدرسہ مفتاح العلوم، مئو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء سے ادب عربی میں تخصص کیا۔ اس کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاذ ادب عربی مقرر ہوئے۔1958 ء میں عربی زبان و ادب کے ماہر ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے بغداد میں جاکر استفادہ کیا۔ 1993ء سے 1999ء تک دار العلوم ندوۃ العلماء کے کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کے عمید رہے۔ 2000ء سے دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم ہیں۔ عربی زبان کے خطیب اور قلم کار تھے۔
عمر اور ماروی کی لوک داستان شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی کتاب ’شاہ جو رسالو‘ میں بھی بیان کی ہے جو سب سے مستند سمجھی جاتی ہے۔ یہ داستان کچھ یوں ہے کہ ماروی نامی حسین و جمیل لڑکی تھرپارکر کے گاﺅں ملیر کی رہائشی تھی جس کی گاﺅں ہی کے ایک رشتدار لڑکے کھیت (Khet) سے منگنی ہو جاتی ہے۔ گاﺅں ہی کا ایک اور لڑکا بھی اس کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ ماروی کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ انکار کر دیتی ہے۔ حسد کا مارا یہ شخص اس وقت کے حکمران ’عمر سومرو‘ کے دربار میں چلا جاتا ہے جس سے شہر عمرکوٹ منسوب ہے اور پھر اسے شاعرانہ انداز میں ماروی کے حسن کے متعلق بتاتا ہے۔ بادشاہ عمر سومرو اس شخص کی زبانی ماروی کے حسن کا قصہ سن کر اسے دیکھنے کے لیے اس کے ملیر میں گاﺅں بھالوا چلا آتا ہے۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجابی کہلاتے ہیں۔ پنجاب جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان، شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں کردستانی ،بلوچوں اور عربی نژادوں کی کافی تعداد ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ چھہتر لاکھ اٹھاسی ہزار نو سو بائیس 127٫688٫922 افراد پر مشتمل ہے۔ پنجاب سب سے بڑا بارہ کروڑ آبادی والا صوبہ ہے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے اور زمینی رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ پاکستان کی 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 110 ملین تھی۔ یہ آبادی والا صوبہ پنجاب کے عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنے والے اعلیٰ معیار کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے لیے مشہور ہے۔ 2017 ءمیں، پنجاب، پاکستان میں تحصیل سطح کے 88 ہسپتال (THQ)، 34 ڈسٹرکٹ ہسپتال (DHQ) اور 23 تدریسی ہسپتال تھے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
کریمپائی (انگریزی: Creampie، تلفظ: کریم پائی) فحش نگاری کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد مرد کا عورت کی فرج یا دبر میں منی خارج کرنا ہے۔ فحش فلموں میں ایسے مناظر بہت کم ہوتے ہیں جن میں مرد کسی عورت کے شرمگاہ کے اندر منی کا اخراج کرے۔ اس کی بنیادی وجہ جنسی بیماریوں کی منتقلی کا ڈر اور حمل ٹھہرنے کا خوف ہے۔ اسی وجہ سے بہت کم اداکارائیں کریمپائی پر رضا مند ہوتی ہیں اور اس کے لیے اضافی اجرت بھی طلب کرتی ہیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک ایسا عربی کلمہ ہے جو تمام دنیا کے مسلمان استعمال کرتے ہیں جو چاہے کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ یہ قرآن کا جز ہے اور ہر سورت سے پہلے آتا ہے سوائے سورۃ التوبہ کے۔ اس کے علاوہ یہ سورۃ النمل میں بھی آتا ہے یوں قرآن میں یہ 114 مرتبہ آتا ہے۔ اسے مختصراً بسم اللہ، بسملہ اور تسمیہ بھی کہا جاتا ہے بنام خداى رحمان رحیم
اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
اولیور ریجنالڈ ٹامبو بین الاقوامی ہوائی اڈا
اولیوَر ریجنالڈ ٹامبو بین الاقوامی ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: FAOR، آئی سی اے او: JNB) جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کی خدمت کرنے والا ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے یہ افریقہ کا دوسرا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ اس کی سالانہ گنجائش 28 ملین مسافروں کی ہے اور یہ ساؤتھ افریقن ایئرویز کا مرکزی عملیاتی مرکز ہے۔ اولیوَر ریجنالڈ ٹامبو بین الاقوامی ہوائی اڈا دنیا کے ان صرف تین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جہاں سے تمام چھ آباد براعظموں کے لیے براہِ راست پروازیں دستیاب ہیں۔
بی بی سی اردو بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے پاکستانی قارائین کے لیے جاری کی جانے خبروں کی ویب گاہ ہے۔ ریڈیو پر بھی پورے پاکستان میں لوگ اس کے خبروں کو پسند کرتے ہیں۔گذشتہ سال فروری میں بی بی سی اردو نے اپنے پروگرام سیربین کو آج نیوز پر پیر تا جمعہ پیش کرنا شروع کیا جس کے بعد سے سیربین نے پاکستان میں بی بی سی اردو کی رسائی میں اضافہ کیا ہے۔ نہ صرف اس نے بی بی سی کی ہفتہ وار رسائی کو 56 لاکھ افراد تک بڑھایا ہے بلکہ سیربین کی مدد سے بی بی سی کی ساکھ کو بھی تقویت دی ہے، جس کا اظہار اس جائزے میں ہوا جس میں 94 فیصد افراد نے بی بی سی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ بی بی سی اردو کے شائقین ایک کروڑ سے زیادہ ہیں۔
نعمان ابن ثابت بن زوطا بن مرزبان (پیدائش: 5 ستمبر 699ء– وفات: 14 جون 767ء) (فارسی: ابوحنیفه،عربی: نعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان)، آپ کے دادا زوطی کا کوفہ میں خلیفہ راشد سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے قریبی تعلق تھا۔ عام طور پر آپکو امام ابو حنیفہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ سنی حنفی فقہ (اسلامی فقہ) کے بانی تھے۔ آپ ایک تابعی، مسلمان عالم دین، مجتہد، فقیہ اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ زیدی شیعہ مسلمانوں کی طرف سے بھی آپ کو ایک معروف اسلامی عالم دین اور شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں عام طور پر "امام اعظم" کہا جاتا ہے۔ مشہور اقوال : جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے (رد المختار حاشیہ از در مختار جلد 1 صفحہ 68) وروي عن أمام أبِي يوسف أنه قال سمعت أمام أبا حنيفة يقول: سيّدنا عليُّ بن ابي طالب كرم اللّٰه وجهه حُجَّتُنا عند اللّٰه يوم القيامة ولولا علي ما عَلِمنا كيف قتالُ أهلِ البغي أو كيف نقاتل أهلَ قبلة. امام اعظم ابو حنیفہ کے خاص شاگرد امام ابو یوسف بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے ہم سے فرمایا قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارا وسیلہ حضرت علی ہیں اور اگر حضرت علی نہ ہوتے تو ہمیں معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ اہل قبلہ باغیوں سے جنگ کیسے کی جاتی ہے .
لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے کھلاڑیوں کی فہرست
یہ حروف تہجی کے لحاظ سے ان کرکٹرز کی مکمل فہرست ہے جو 1894ء سے لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے لیے ٹاپ کلاس میچوں میں کھیل چکے ہیں۔ 1879ء میں قائم ہونے والے اس کلب کو معمولی حیثیت حاصل تھی جب تک کہ اسے 1895ء میں کاؤنٹی چیمپئن شپ میں شامل ہونے سے پہلے 1894ء میں فرسٹ کلاس ٹیم کے طور پر درجہ بند نہیں کیا گیا۔ لیسٹر شائر کو 1963ء میں محدود اوورز کرکٹ کے آغاز سے لسٹ اے ٹیم کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے اور 2003ء میں ٹوئنٹی 20 کپ کے افتتاح کے بعد سے ایک اعلی سطح کی ٹوئنٹی 20 ٹیم کے طور میں۔
کیپ ٹاؤن بین الاقوامی ہوائی اڈا
کیپ ٹاؤن بین الاقوامی ہوائی اڈا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کی خدمت کرنے والا مرکزی ہوائی اڈا ہے۔ یہ جنوبی افریقہ کا دوسرا اور افریقہ کا چھٹا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ یہ شہر کے مرکز سے تقریباً 20 کلومیٹر (12 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے 1954ء میں کھولا گیا تاکہ ینگسفیلڈ کے نواحی علاقے میں واقع کیپ ٹاؤن کے سابقہ ہوائی اڈے کی جگہ لے سکے۔ یہ کیپ ٹاؤن کے شہری علاقے کا واحد ہوائی اڈا ہے جہاں مسافروں کی آمدورفت کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔
شاہ مسواتی سوم بین الاقوامی ہوائی اڈا
شاہ مسواتی سوم بین الاقوامی ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: FDSK، آئی سی اے او: SHO) اسواتینی کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ اس نے 2014ء میں ماتسابا ہوائی اڈے کی جگہ لی اور ایسواتینی کا واحد بین الاقوامی ہوائی اڈا بن گیا جہاں تجارتی پروازیں آتی ہیں۔ اسے سالانہ 3 لاکھ 60 ہزار مسافروں کی آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ منصوبہ بندی اور تعمیر کے مراحل میں اسے ابتدا میں سکھوفے بین الاقوامی ہوائی اڈا (انگریزی: Sikhuphe International Airport) کہا جاتا تھا۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
باغ و بہار میر امن دہلوی کی تصنیف کردہ ایک داستان ہے جو اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج میں جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ عام خیال ہے کہ باغ و بہار کو میر امن نے امیر خسرو کی فارسی داستان قصہ چہار درویش سے اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن یہ خیال پایہ استناد کو نہیں پہنچتا۔ حافظ محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ان کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہے باغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے جو انگریزوں کو مقامی زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے تصنیف کیا۔ اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور پر جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ قرار دیا گیا ہے۔ اس داستان کی اشاعت کے بعد اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال تک پہنچا دیا۔ اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار کیا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد، "میر امن نے باغ و بہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مرورِ ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔" نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں "داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا"۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ پاکستانی بری افواج کے پانچ ستارہ جنرل، موجودہ اور گیارہویں سربراہ پاک فوج ہیں۔ آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل کمانڈ کر رہے تھے۔ انھوں نے 17 جون 2019ء سے 6 اکتوبر 2021ء تک گوجرانوالہ میں XXX کور (پاکستان) کی کمانڈ کی۔ انھوں نے آئی ایس آئی کے 23 ویں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں یہاں تک کہ ان کی جگہ16 جون 2019ء کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تعینات کیا گیا۔ منیر نے افسران کی تربیت گاہ، منگلا میں کیڈٹ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر "اعزازی تلوار" حاصل کی۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے انھیں 24 نومبر 2022ء کو 3 سال کی مدت کے لیے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر مقرر کیا۔ عاصم منیر وہ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں جو ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں خفیہ اداروں کی سربراہی کر چکے ہیں۔ 20 مئی 2025ء کو عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، یوں وہ پاکستان کی تاریخ میں اس رتبے تک پہنچنے والے دوسرے فرد بنے ان سے پہلے صرف ایوب خان کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔ عاصم پاکستان کے وہ پہلے اور واحد سربراہ پاک فوج بھی بنے جنھوں نے فیلڈ مارشل کے عہدہ کے ساتھ اس منصب پر خدمات انجام دیں۔ فیلڈ مارشل کا درجہ ایک باوقار اور فائیو اسٹار اعزازی عہدہ ہے، جو جنرل کے رینک سے بھی بلند ہوتا ہے۔
پنجاب پاکستان کے چار صوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ جبکہ رقبہ کے لحاظ سے یہ دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ صوبے کے 41 اضلاع ہیں۔ صوبائی دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر لاہور ہے۔ صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، سرگودھا سیالکوٹ، بہاولپور، گجرات شامل ہیں۔
سکس بلٹس (انگریزی: Six Bullets) 2012ء میں منظر عام پر آنے والی ایک ایکشن فلم، مارشل آرٹ فلم اور پر تجسس فلم ہے، جس کی ہدایت کاری Ernie Barbarash نے کی۔ اس فلم میں Anna-Louise Plowman، Celesta Hodge، Jean-Claude Van Damme، Joe Flanigan اور Kristopher Van Varenberg نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Brad Krevoy نے فلم سازی کی۔
ہلاکو خان (پیدائش 15 اکتوبر 1218ء – وفات 8 فروری 1265ء) ایل خانی حکومت کا بانی اور منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا تھا۔ چنگیز خان کے لڑکے تولی خان کے تین بیٹے تھے۔ ان میں ایک منگو خان تھا جو قراقرم میں رہتا تھا اور پوری منگول سلطنت کا خان اعظم تھا، دوسرا بیٹا قبلائی خان تھا جو چین میں منگول سلطنت کا بانی تھا جبکہ تیسرا لڑکا ہلاکو خان تھا۔ منگو خان کے زمانے میں شمال مغربی ایران میں ایک اسماعیلی گروہ حشاشین نے بڑا ہنگامہ اور خونریزی شروع کردی۔ یہ علاقہ منگولوں کے زیر حکومت تھا اس لیے وہاں کے باشندوں نے منگو خان سے اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی۔ منگو خان نے اس شکایت پر اپنے بھائی ہلاکو خان کو 1256ء میں ایران کا حاکم بناکر روانہ کیا اور اس کو اسماعیلیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ ہلاکو نے اسی سال اسماعیلیوں کے مرکز قلعہ الموت پر قبضہ کرکے اسماعیلی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور ان کے آخری بادشاہ خور شاہ کو قتل کر دیا۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔
النزهہ ہوائی اڈا ایک بند ہوائی اڈا ہے، جو اسکندریہ شہر کے مرکز سے تقریباً 6 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ مصر کے دار الحکومت قاہرہ کے بعد دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کے لیے یہ ہوائی اڈا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ النزهہ ہوائی اڈے کی تعمیر 1947ء میں ہوئی۔ اس کی زمین کا رقبہ تقریباً 650 فدان ہے۔ 2008ء میں اس ہوائی اڈے نے تقریباً 1,162,987 مسافروں کو خدمات فراہم کیں، جو 2007ء کے مقابلے میں 46.3 فیصد زیادہ تھے۔ ہوائی اڈے کو 2011ء میں بند کر دیا گیا اور بعد ازاں 360 ملین مصری پاؤنڈ سے زیادہ لاگت سے اس کی تجدید کے باوجود اسے مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ صدر عبد الفتاح السیسی نے ایک اجلاس میں کہا: ’’میں آپ سے پوری صاف گوئی کے ساتھ بات کر رہا ہوں، ہم کئی وجوہات کی بنا پر اسکندریہ کے ہوائی اڈے کو استعمال نہیں کر سکیں گے؛ ان وجوہات کا ذکر نہ کرنے پر مجھے معاف کیجیے۔‘‘
پوڈگوریتسا بین الاقوامی ہوائی اڈا
پوڈگوریتسا بین الاقوامی ہوائی اڈا (مونٹینیگرین: Aerodrom Podgorica؛ (آئی اے ٹی اے: LYPG، آئی سی اے او: TGD) ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو مونٹینیگرو کے دار الحکومت پوڈگوریتسا میں واقع ہے۔ اس ہوائی اڈے کی تعمیر مئی 1928ء میں ہوئی۔ 1943ء میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن قبضے کے باعث اتحادی افواج نے اس پر شدید بمباری کی۔ بعد ازاں یوگوسلاویہ کے حکام نے 1957ء میں اسے دوبارہ تعمیر کیا۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
کراچی ڈویژن، پاکستان میں صوبہ سندھ کی صوبائی حکومت کا تیسرا کلیہ ہے جو 1960ء میں صدر ایوب خان نے قائم کیا اور 1972ء میں بننے والے صوبہ سندھ کا ایک ڈویژن بن گیا۔ کراچی ڈویژن میں موجودہ سات اضلاع شامل ہیں۔کراچی ڈویژن کو کراچی سٹی کا بھی نام دیا جاتا ہے۔ مردم شماری پاکستان ۲۰۲۳ء میں کراچی ڈویژن کی آبادی دو کروڑ تین لاکھ بیاسی ہزار آٹھ سو اکیاسی 20,382,881 افراد پر مشتمل ہے۔
ملتان پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے اور جنوبی پنجاب کا سیاسی اور ثقافتی مرکز ہے۔ یہ شہر دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ یہاں سرائیکی اکثریت میں ہیں۔ یہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر، ضلع ملتان اور تحصیل ملتان کا صدر مقام بھی ہے۔ بقیہ تحصیلوں میں صدر ملتان، تحصیل شجاع آباد اورتحصیل جلال پورپیروالہ شامل ہیں۔ یہاں کے مشہور مدارس میں جامع العلوم ملتان شامل ہے
وی سی برڈ بین الاقوامی ہوائی اڈا
وی سی برڈ بین الاقوامی ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: TAPA، آئی سی اے او: ANU) ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو انٹیگوا جزیرے پر واقع ہے۔ یہ انٹیگوا و باربوڈا کے سب سے بڑے شہر سینٹ جانز سے تقریباً 8 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ ہوائی اڈا ملک کا فضائی مرکز اور اس جزیرہ نما ملک کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں سب سے بڑا ہے۔ افتتاح کے وقت، کیریبین ایئر لائنز گروپ نے ٹرمینل اے کو خطے کا جدید ترین ہوائی اڈا قرار دیا۔ اس ٹرمینل کا افتتاح اگست 2015ء میں ہوا، جبکہ اس کی تعمیر کا کام 2005ء میں شروع ہوا تھا۔ یہ ہوائی اڈا لیورڈ جزائر کے خطے میں نقل و حمل کا ایک اہم مرکز ہے اور ملک کو چار براعظموں اور 50 سے زیادہ مقامات سے جوڑتا ہے۔ .
بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India)، جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔
سلطان محمد فاتح یا سلطان محمد الثانی (عثمانی ترکی زبان: محمد ثانى، Meḥmed-i s̠ānī; ترکی زبان: II. Mehmet ترکی تلفظ: [ˈmeh.met]; اور المعروف el-Fātiḥ، الفاتح) (پیدائش: 30 مارچ 1432ء — وفات: 3 مئی 1481ء) سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان تھے جو 1444ء سے 1446ء اور 1451ء سے 1481ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان رہے۔ انھوں نے محض 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) فتح کرکے عیسائیوں کی بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ اس عظیم الشان فتح کے بعد انھوں نے اپنے خطابات میں قیصر کا اضافہ کیا۔ انھیں سلطان محمد الفاتح یا سلطان الفاتح کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
کوڈ (فوری رسپانس کے کوڈ سے مختصر) میٹرکس کے بارکوڈ کی ایک قسم (یا دو رخی کوڈ) سب سے پہلے آٹو صنعت کے لیے ڈیزائن کے لیے ٹریڈ مارک ہے۔ حال ہی میں، نظام اس کے روزہ معیاری UPC barcodes کے مقابلے میں پڑھنے کی اہلیت اور بڑے اسٹوریج کی صلاحیت کی وجہ سے کی صنعت سے باہر مقبول ہو گیا ہے۔ سیاہ ماڈیول (مربع نقطہ) ایک سفید پس منظر پر ایک مربع پیٹرن میں منظم کی کوڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ انکوڈنگ معلومات چار کے مانکیکرن قسم کا بنایا جا سکتا ہے ("طریقوں") ڈیٹا کی (عددی، اکشرانکیی، بائٹ / بائنری، کانجی) یا حمایت تجاوزات کے ذریعے عملی طور پر کسی بھی قسم کے اعداد و شمار
سعودی عرب (رسمی نام: المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
غلامی (انگریزی: Ghulami) پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ اس فلم كو 25 اکتوبر، 1985ء كو پاکستان میں ریلیز ہوئى۔ پاکستانی اس فلم کا کریکٹر ایکشن اور میوزکل فلموں کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ یہ فلم باکس آفس میں ہٹ ہوئی تھی یہ فلم لاہور کے گلستان سنیما میں ڈائمنڈ جوبلی اس کی دو ڈھائی ماہ تک کامیاب نمائش ہوئی تھی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر جہانگیر قیصر تھے۔ پروڈیوسر سرور بھٹی تھے۔ کہانی سید نور نے لکھی تھی اور موسیقی وجاہت عطرے نے بنائی تھی۔ اس میں سلطان راہی، محمد علی، مصطفٰی قریشی، یوسف خان، افضال احمد اور ادیب وغیرہ تھے۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک گلستان سنیما میں لاتعداد سپُر ہٹ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہیں پاکستان فلم انڈسٹری میں کامیابی کی نئی تاریخ رقم کرنے والی شہرہ آفاق فلمیں ’’چن وریام ‘‘اسی سنیما میں ریلیز ہوئیں۔ لاہور میں چلنے کے بعد لاکھوں شاٸقین کی فرمائش پر
کنگ شاکا بین الاقوامی ہوائی اڈا
کنگ شاکا بین الاقوامی ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: FALE، آئی سی اے او: DUR) ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو جنوبی افریقہ کے تیسرے بڑے شہر ڈربن کی خدمت کرتا ہے۔ ، ،
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب جسے حرف عام میں اے سی ای' بھی کہا جاتا ہے ایک سرکاری ادارہ ہے جو صوبہ پنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بدعنوانی کے مقدمات کی چھان بین کرنا اور ابتدائی انکوائری کرنا ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا یہ جرائم مزید تفتیش کی ضمانت دیتے ہیں۔ اے سی ای پنجاب چیف سیکرٹری کے انتظامی دائرہ اختیار میں کام کرتا ہے، صوبے کے اندر بدعنوانی سے متعلق معاملات کو حل کرنے کے لیے حکومتی پروٹوکول اور ہدایات کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب اپنے کاموں اور کاموں کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے متعدد ونگز میں منظم ہے۔ ان ونگز میں لیگل ونگ، ٹیکنیکل ونگ، ریسرچ ڈویلپمنٹ اینڈ ٹریننگ ونگ، مانیٹرنگ اینڈ ویجیلنس ونگ اور ایڈمنسٹریشن ونگ شامل ہیں۔ مزید برآں اے سی ای پنجاب اپنی رسائی کو بڑھانے اور علاقائی سطح پر بدعنوانی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقائی ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے کام کرتا ہے، جن میں سے ہر ایک کی قیادت ایک علاقائی ڈائریکٹر کرتا ہے۔ ونگز اور ڈائریکٹوریٹ کا ڈھانچہ اور تقسیم بدعنوانی کے خلاف جنگ میں اے سی ای پنجاب کی جامع کوششوں میں معاون ہے۔
سگسی (منگولی: Сагсай) مشرقی منگولیا کے صوبے بیان-اولگی کا ایک ضلع ہے۔ شہر میں زیادہ تر قازق آبادی ہے، یہ علاقہ عقاب سے شکار کرنے والوں کا گھر ہے، جو سنہری عقاب سے خرگوش اور لومڑی کا شکار کرتے ہیں۔ ہر سال سگسی میں، الطائی قازق عقابوں کا سالانہ میلہ ستمبر کے آخری ہفتے میں لگتا ہے، یہ یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔
کوئٹہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا صدر مقام اور سب سے بڑا شہر ہے۔ کوئٹہ پشتو لفظ کوٹ سے نکلاہے قیام پاکستان سے قبل کوئٹہ افغانستان کا حصہ تھا تیسرے افغان اینگلو جنگ کے بعد برطانیہ نے کوئٹہ پر قبضہ کیا پھر قیام پاکستان کے بعد یہ تاج برطانیہ سے پاکستان کو منتقل ہوا ک کوئٹہ میں سب سے زیادہ پشتو زبان بولی جاتی ہے جبکہ براہوی، پنجابی، ہزارگی زبانیں بھی کوئٹہ میں بولی جاتی ہیں۔ کوئٹہ شہر سطح سمندر سے تقریباً 1700 میٹر سے 1900 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اپنے بہترین معیار کے پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ یہ بنیادی طور پر خشک پہاڑوں میں گھرا ہوا شہر ہے جہاں سردیوں میں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے۔
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم، جسے اکثر شاہینز کہا جاتا ہے ' فالکنز '، گرین شرٹس، مین ان گرین اور کارنر ٹائیگرز پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر انتظام ہیں۔ یہ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی مکمل رکن ہے اور ٹیسٹ، ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹوئنٹی20 بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں شرکت کرتی ہے۔ پاکستان نے 456 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں 148 جیتے، 142 ہارے اور 166 ڈرا ہوئے۔ پاکستان کو 28 جولائی 1952ء کو ٹیسٹ کا درجہ ملا اور اس نے اکتوبر 1952ء میں فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ، دہلی میں بھارت کے خلاف اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا، جس میں بھارت نے ایک اننگز اور 70 رنز سے فتح حاصل کی۔ ٹیم نے 945 ایک روزہ کھیلے ہیں، 498 جیتے، 418 ہارے، 9 برابر ہوئے اور 20 بے نتیجہ رہے۔ پاکستان 1992ء کا ورلڈ کپ چیمپئن تھا اور 1999ء کے ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہا۔ پاکستان، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر، 1987ء اور 1996ء کے عالمی کپ کی میزبانی کر چکا ہے، 1996ء کے فائنل کی میزبانی لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی تھی۔ ٹیم نے 194 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل بھی کھیلے ہیں، 120 جیتے، 66 ہارے اور برابر رہے۔ پاکستان نے 2009ء کا آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا اور 2007ء میں افتتاحی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہا تھا۔ پاکستان کے پاس آئی سی سی کے ہر بڑے انٹرنیشنل کرکٹ ٹورنامنٹ میں سے ہر ایک جیتنے کا امتیازی کارنامہ ہے: آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 1992ء، آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2009ء اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017ء؛ اس کے ساتھ ساتھ 2016ء میں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی گدی اٹھانے والی چوتھی ٹیم بن گئی۔ 9 جون 2022ء تک، پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی کی طرف سے ٹیسٹ میں پانچویں، ون ڈے میں تیسرے اور ٹوئنٹی20 بین الاقوامی میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافے کے باعث غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان کا دورہ جمود کا شکار ہو گیا۔ سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیم پر 2009ء کے حملے کے بعد، 2019ء تک ملک میں کوئی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی گئی تھی 2009ء اور 2016ء کے درمیان، ان کے ہوم میچ زیادہ تر متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں دہشت گردی میں کمی کے ساتھ ساتھ سیکورٹی میں اضافے کی وجہ سے 2015ء سے کئی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں ان ٹیموں میں زمبابوے، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور ایک آئی سی سی ورلڈ الیون ٹیم شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان سپر لیگ نے پاکستان میں کھیلوں کی میزبانی کی ہے۔ جو جانشین ہونے کے ناطے برطانوی راج کی ریاست کو ایسے عمل سے نہیں گذرنا پڑتا تھا۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار تھے۔ پاکستان کا پہلا ٹیسٹ میچ اکتوبر 1952ء میں دہلی میں پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے حصے کے طور پر کھیلا گیا تھا جسے بھارت نے 2-1 سے جیتا تھا۔ پاکستان نے اپنا پہلا دورہ انگلینڈ 1954ء میں کیا اور اوول میں فتح کے بعد سیریز 1-1 سے برابر کر دی جس میں فاسٹ باؤلر فضل محمود نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کا پہلا ہوم ٹیسٹ میچ جنوری 1955ء میں بھارت کے خلاف بنگلہ بندھو نیشنل اسٹیڈیم، ڈھاکہ، مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش ) میں تھا، جس کے بعد بہاولپور، لاہور، پشاور اور کراچی میں مزید چار ٹیسٹ میچز کھیلے گئے (سیریز کے پانچوں میچز ڈرا ہو گئے۔ ٹیسٹ کی تاریخ میں اس طرح کا پہلا واقعہ) ٹیم کو ایک مضبوط لیکن غیر متوقع ٹیم سمجھا جاتا ہے۔ روایتی طور پر پاکستانی کرکٹ باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل رہی ہے لیکن الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ موقع پر محدود نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات ان کی کارکردگی متضاد ہوتی ہے۔ خاص طور پر، ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ دشمنی عام طور پر جذباتی طور پر چارج کی جاتی ہے اور یہ دلچسپ مقابلوں کے لیے فراہم کر سکتی ہے، کیونکہ سرحد کے دونوں طرف سے باصلاحیت ٹیمیں اور کھلاڑی اپنے کھیل کو نئی سطحوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستان کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے مقابلے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم اور انتہائی چارج شدہ ماحول کی صورت میں نکلے ہیں۔ ٹیم کو اندرون اور بیرون ملک بھر پور حمایت حاصل ہے، خاص طور پر برطانیہ میں جہاں برطانوی پاکستانیوں نے "اسٹیانی آرمی" کے نام سے ایک فین کلب بنایا ہے۔ کلب کے ارکان ملک بھر میں ہونے والے میچوں کو دکھاتے ہیں اور انھیں زبردست مدد فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ سٹینی آرمی پسماندہ پاکستانیوں کے لیے خیراتی اقدامات میں بھی حصہ لیتی ہے، جس میں اسی طرح کی "بھارت آرمی" کے برطانوی ہندوستانی اراکین کے خلاف سالانہ دوستانہ کرکٹ میچ بھی شامل ہیں۔
مینار پاکستان لاہور، پاکستان کی ایک قومی یادگار عمارت ہے، جسے لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا جہاں 23 مارچ 1940ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی۔ اسے یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اس میدان کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے، جو سلطنت برطانیہ کا حصہ تھی۔ آج کل اس پارک کو اقبال پارک کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔