اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے کھلاڑیوں کی فہرست
یہ حروف تہجی کے لحاظ سے ان کرکٹرز کی مکمل فہرست ہے جو 1894ء سے لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے لیے ٹاپ کلاس میچوں میں کھیل چکے ہیں۔ 1879ء میں قائم ہونے والے اس کلب کو معمولی حیثیت حاصل تھی جب تک کہ اسے 1895ء میں کاؤنٹی چیمپئن شپ میں شامل ہونے سے پہلے 1894ء میں فرسٹ کلاس ٹیم کے طور پر درجہ بند نہیں کیا گیا۔ لیسٹر شائر کو 1963ء میں محدود اوورز کرکٹ کے آغاز سے لسٹ اے ٹیم کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے اور 2003ء میں ٹوئنٹی 20 کپ کے افتتاح کے بعد سے ایک اعلی سطح کی ٹوئنٹی 20 ٹیم کے طور میں۔
خیبر پختونخوا (پشتو: خېبر پښتونخوا) یا مختصر طور پر پختونخوا، پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو پاکستان کے شمالی مغربی حصّے میں واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا جبکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے جو یکم جولائی 1970ء کو قائم ہوا۔ 2010 سے قبل یہ صوبہ سرحد کہلاتا تھا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی چار کروڑ آٹھ لاکھ چھپن ہزار ستانوے 40٫856٫097 افراد پر مشتمل ہے۔ صوبائی زبان پشتو اور صوبائی دار الحکومت پشاور ہے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
بی بی سی اردو بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے پاکستانی قارائین کے لیے جاری کی جانے خبروں کی ویب گاہ ہے۔ ریڈیو پر بھی پورے پاکستان میں لوگ اس کے خبروں کو پسند کرتے ہیں۔گذشتہ سال فروری میں بی بی سی اردو نے اپنے پروگرام سیربین کو آج نیوز پر پیر تا جمعہ پیش کرنا شروع کیا جس کے بعد سے سیربین نے پاکستان میں بی بی سی اردو کی رسائی میں اضافہ کیا ہے۔ نہ صرف اس نے بی بی سی کی ہفتہ وار رسائی کو 56 لاکھ افراد تک بڑھایا ہے بلکہ سیربین کی مدد سے بی بی سی کی ساکھ کو بھی تقویت دی ہے، جس کا اظہار اس جائزے میں ہوا جس میں 94 فیصد افراد نے بی بی سی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ بی بی سی اردو کے شائقین ایک کروڑ سے زیادہ ہیں۔
69 یا سکسٹی نائن ایک جنسی آسن ہے جس میں دو افراد اس طرح ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں کہ ہر شخص کا منھ دوسرے کے عضو تناسل کے قریب ہوتا ہے جس سے دونوں بیک وقت ایک دوسرے کے لیے دہنی جماع انجام دے سکتے ہیں۔ اس حالت میں دونوں افراد کی وضع عدد 69 (69) سے مشابہ ہوتی ہے، اسی لیے اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ یہاں 6 اور 9 کے ہندسے عددی معنی کی بجائے پکٹو گرافک علامت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جن میں ابھرا ہوا حصہ دونوں افراد کے سروں کی نمائندگی کرتا ہے۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
سیکس اینڈ دی سٹی (فلم) (انگریزی: Sex and the City (film)) 2008ء میں منظر عام پر آنے والی ایک خواتین دوستوں کی فلم، رومانوی مزاحیہ اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری مائیکل پیٹرک کنگ نے کی۔ اس فلم میں کرس ناتھ، سارہ جیسکا پارکر، سنتھیا نکسن، کرسٹن ڈیوس اور کم کیٹرل نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Darren Star، مائیکل پیٹرک کنگ اور سارہ جیسکا پارکر نے فلم سازی کی، آرون زیگ مین نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
حکومت خیبر پختونخوا کے تمام تر سرکاری دفاتر صدر مقام پشاور میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ ضمنی صدر مقام کے طور پر ایبٹ آباد مخصوص ہے جہاں صوبائی سرکاری دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی عملداری پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے جو شمال میں ہمالیہ، جنوب میں پنجاب، پاکستان اور بلوچستان، مغرب میں افغانستان اور مشرق میں چین اور تاجکستان کی سرحدوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کی علاقائی سرحدوں تک محدود ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کا سربراہ گورنر خیبر جس کو وزیر اعظم نامزد کرتا ہے اور انتظام کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ ہوتا ہے جو صوبائی اسمبلی میں اکثریت سے منتخب کیا جاتا ہے۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
علاؤ الدین خلجی کے حملے نے دکن کی زبان اور تہذیب و تمدن کو بہت متاثر کیا۔ مرکز سے دور ہونے کی وجہ سے علاؤ الدین خلجی نے یہاں ترک سرداروں کو حکمران بنا دیا۔ بعد میں محمد تغلق نے دہلی کی بجائے دیو گری کو دار السلطنت قرار دے کر ساری آبادی کو وہاں جانے کا حکم دیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان گھرانے وہاں آباد ہوئے۔ ان کے ساتھ ہی نئی زبان و تہذیب بھی دکن پہنچی۔ مقامی باشندوں اور اہالیانِ دلی کے ملاپ سے ہندی زبان وجود میں آئی جسے قدیم اردو بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے صوفیا نے اس زبان کو تبلیغی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس کے بعد اس زبان نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ جب دکن میں مستقل تصانیف ملتی ہیں اس وقت شمالی ہندوستان میں سوائے امیر خسرو کی خالق باری، سید اشرف سمنانی کے رسالہ نثر اور افضل جھنجھانوی کی مثنوی کے کوئی کارنامہ نظر نہیں آتا۔ سلطان محمد تغلق کی سلطنت کمزور ہوئی تو دکن میں آزاد بہمنی سلطنت قائم ہوئی اور دکن، شمالی ہندوستان سے کٹ کر رہ گیا۔ بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد پانچ آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں۔ ان میں بیجا پور کی عادل شاہی اور گولکنڈہ کی قطب شاہی سلطنت نے اردو زبان و ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ریاستوں کے حکمران ادیب اور ادب پرور تھے۔ ابراہیم عادل شاہ نے اردو کو شاہی زبان کا درجہ دے دیا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
نائیک سیف علی جنجوعہ (23 اپریل 1922ء — 26 اکتوبر 1948ء) پاک فوج کے ایک جری جوان اور بعد از مرگ ملک کے عظیم جنگی ہیرو بنے۔ وہ آزاد کشمیر رجمنٹ میں ایک غیر کمیشنڈ افسر (NCO) تھے اور انھیں پاکستان کا سب سے اعلیٰ عسکری اعزاز نشان حیدر پانے والی دوسری شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، جو انھیں پہلی پاک بھارت جنگ (1947ء-1948ء) کے دوران بے مثال شجاعت، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر بعد از مرگ عطا کیا گیا۔ وہ آزاد جموں و کشمیر حکومت کے سب سے بڑے عسکری اعزاز ہلال کشمیر پانے والے بھی واحد غازی ہیں، جسے بعد میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نشانِ حیدر کے مساوی قرار دیا گیا۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجابی کہلاتے ہیں۔ پنجاب جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان، شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں کردستانی ،بلوچوں اور عربی نژادوں کی کافی تعداد ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ چھہتر لاکھ اٹھاسی ہزار نو سو بائیس 127٫688٫922 افراد پر مشتمل ہے۔ پنجاب سب سے بڑا بارہ کروڑ آبادی والا صوبہ ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
بے دخول جنسی عمل (انگریزی: Non-penetrative sex) یا بیرونی/خارجی جنسی عمل (انگریزی: outercourse) سے مراد ایسی جنسی سرگرمی ہے جس میں عموماً جنسی دخول شامل نہیں ہوتا۔ تاہم بعض صورتوں میں خصوصاً جب اسے آؤٹر کورس کہا جائے، اس میں انگشت زنی یا دہنی جماع کی بعض صورتوں کے باعث دخول سے متعلق پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ عموماً اس اصطلاح میں فرجی، دبری یا دہنی جماع کے پہلو شامل نہیں ہوتے بلکہ اس میں مختلف جنسی اور غیر جنسی سرگرمیاں مثلاً فروٹیج، دستی جنسی عمل، باہمی خود لذتی، بوسہ اور معانقہ شامل ہیں۔
خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔
مالمو ہوائی اڈا (سویڈش: Malmö flygplats؛ (آئی اے ٹی اے: ESMS، آئی سی اے او: MMX)، جسے 2007ء تک اسٹورپ ہوائی اڈا (سویڈش: Sturups flygplats) کہا جاتا تھا، سویڈن کا تیسرا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ اس سے آگے اسٹاک ہوم آرلینڈا اور گوتھنبرگ لینڈویٹر ہوائی اڈے ہیں۔ 2023ء میں اس نے تقریباً 1,290,000 مسافروں کو خدمات فراہم کیں، جن میں 46 فیصد سویڈش شہری اور 54 فیصد غیر ملکی تھے۔ یہ ہوائی اڈا 3 دسمبر 1972ء کو کھولا گیا تاکہ بولتوفٹا ہوائی اڈے کی جگہ لے سکے، جسے بعد میں بند کر دیا گیا۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
آزاد کشمیر ریگولر فورس (انگریزی:Azad Kashmir Regular Force یا AKRF) جو موجودہ 1972ء سے آزاد کشمیر رجمنٹ ہے اس کی بنیاد آزاد کشمیر پونچھ اور سدھنوتی کے ان فوجیوں نے رکھی جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں برطانوی ہندوستان کی فوج کا حصہ رہے ان آزاد کشمیر کے ریٹائر فوجیوں نے مری کے گھنے جنگلات میں کیپٹن حسین خان کے معسکر کیمپ میں 28 ستمبر 1947ء کو سب سے پہلے نیشنل ہوم گارڈ قائم کی جس کا مقصد ریاست جموں کشمیر کو مسلح جہدوجہد کے ذریعے الحاق پاکستان میں شامل کرنا تھا کیونکہ اس سے پہلے 19 جولائی 1947 کو ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں کی منتخب نمائندہ جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے ایک قرارداد الحاق پاکستان منظور کر کے مہاراجا کشمیر سے الحاق پاکستان کا مطالبہ کیا تھا جس کے نتیجے میں مہاراجا کشمیر نے پونچھ اور سدھنوتی کے مسلمانوں پر فوجی آپریشن شروع کر دیا جس کے جواب میں پونچھ اور سدھنوتی سے پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے ریٹائرڈ فوجیوں نے مہاراجا کشمیر کے شخصی راج کے خلاف پونچھ بغاوت کا اعلان کر کے 6 مسلح بریگیڈز اور 13 مسلح بٹالین یونٹیں قائم کر کے اسے 28 ستمبر 1947ء کو نیشنل ہوم گارڈز کا نام دے کر مسلح جہدوجہد آزادی کا سفر شروع کیا جس کے ثمر میں 4 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیر کی انقلابی حکومت کا وجود عمل میں آیا اس کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے ہوم گارڈز کو مزید تقویت دیتے ہوئے دو اور مسلح بریگیڈز قائم کیے اس کے بعد 28 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیر حکومت نے اپنے دار الحکومت تراڑکھل کے مقام پر پہلے عسکری تربیت کیمپ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد آزاد کشمیر کے غیر تربیت یافتہ رضاکاروں کو عسکری تربیت دنیا اور انھیں مختلف محاذوں پر بھیجنا تھا یہ آزاد کشمیر فوج کا پہلا عسکری کیمپ آج بھی آزاد کشمیر ضلع سدھنوتی کی تحصیل تراڑکھل میں پاک فوج کی اے کے رجمنٹ کے زیراہتمام موجود ہے، بعد آزاد کشمیر حکومت نے مزید نیشنل ہوم گارڈز کی توثیق کرتے ہوئے 3 دسمبر 1947ء کو نیشنل ہوم گارڈز کو آزاد کشمیر ریگولر فورس ( AKRF ) کا نام دے کر اس کا کمانڈر انچیف خان محمد خان بابائے پونچھ کو بنا کر آزاد کشمیر فوج کو مزید منظم کرنا شروع کیا اس آزاد کشمیر ریگولر فورس کے بریگیڈز اور یونٹوں و بٹالین کا مختصر باڈی تعارف یہ بیان کیا جاتا ہے
کریستیانسان ہوائی اڈا (نارویجین: Kristiansand lufthavn؛ (آئی اے ٹی اے: ENCN، آئی سی اے او: KRS) جنوبی ناروے کے صوبے آغدر میں واقع شہر کریستیانسان کو خدمات فراہم کرنے والا ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ بلدیہ اودرنس کے علاقے تِویت میں واقع ہے، جو سڑک کے راستے شہر کے مرکز سے تقریباً 16 کلومیٹر (9.9 میل) اور فضائی فاصلے کے لحاظ سے 8 کلومیٹر (5.0 میل) دور ہے۔
مصنوعی ذہانت (انگریزی: artificial intelligence) یا مختصرًا اے آئی (مذ) ایک ایسی شاخ ہے جو کمپیوٹر سائنس اور مشینیات کے میدان میں انسانی ذہانت کے اصولوں کو نقل کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مشینوں کو ایسی صلاحیت فراہم کرتی ہے کہ وہ انسانوں کی مانند سوچ سکیں، مسائل کا حل نکال سکیں اور فیصلہ کر سکیں۔ اے آئی طبیعیات کی طرح ایک نظم وضبط ہے۔ یہ کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جو ذہین کارندوں کی تخلیق سے متعلق ہے، جو ایسے نظام ہیں، جو استدلال کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر اے آئی کا تعلق ایسی مشینوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے نظریہ اور طریقہ کار سے ہے، جو انسانوں کی طرح سوچتے اور کام کرتے ہیں۔ اس نظم و ضبط میں مشین لرننگ ہے، جو مصنوعی ذہانت کا ایک ذیلی شعبہ ہے۔
بودو ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: ENBO، آئی سی اے او: BOO) شمالی ناروے کے صوبے نورلینڈ میں شہر بودو کے اندر واقع ایک شہری بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ شہر کے مرکز کے بالکل جنوب میں، جزیرہ نما بودو کے مغربی سرے پر واقع ہے اور اس کی سہولیات فوجی بودو فضائی اڈے کے ساتھ مشترکہ ہیں۔ ہوائی اڈے پر کنکریٹ کا ایک رن وے ہے، جس کی لمبائی 2,794 میٹر اور چوڑائی 45 میٹر (9,167 × 148 فٹ) ہے۔ یہ تقریباً مشرق سے مغرب کی سمت میں پھیلا ہوا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں کے لیے جیٹ طیاروں کی پروازوں کے علاوہ، یہ ہوائی اڈا علاقائی فضائی کمپنیوں کی ان پروازوں کا مرکز بھی ہے جو ہیلجلینڈ، لوفوتن جزائر اور ویسٹرولن کے علاقوں کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔ موجودہ ہوائی اڈے سے تقریباً ایک کلومیٹر (0.6 میل) جنوب میں نیا ہوائی اڈا تعمیر کرنے اور موجودہ ہوائی اڈے کی جگہ ایک نیا اسمارٹ سٹی ضلع قائم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ اس اسمارٹ سٹی میں نقل و حمل اور پائیداری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ایوینور کے حوالے سے جنوری 2022ء میں ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، نیا ہوائی اڈا 2030ء سے پہلے تیار ہو سکتا ہے۔ .
ہالووین (Halloween) امریکا میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے جس میں گلی کوچوں، بازاروں، سیرگاہوں اور دیگر مقامات پر جابجا ڈراؤنے چہروں اور خوف ناک لبادوں میں ملبوس چھوٹے بڑے بھوت اور چڑیلیں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اکثر گھروں کے باہر بڑے بڑے کدو پِیٹھے نظر آتے ہیں جن پر ہیبت ناک شکلیں تراشی گئی ہوتی ہیں اور ان کے اندر موم بتیاں جل رہی ہوتی ہیں۔ کئی گھروں کے باہر ڈراؤنے ڈھانچے کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے قریب سے گزریں تو وہ ایک خوف ناک قہقہہ لگا کر دل دہلا دیتے ہیں۔
دبستان دہلی اردو ادب کا اولین اور مخصوص دبستان ہے جو دہلی شہر اور خصوصاً قلعہ معلی کی زبان و ادب کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اورنگزیب کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا معظم تخت نشین ہوا لیکن اس کے بعد معظم کے بیٹے معز الدین نے اپنے بھائی کو شکست دے کر حکومت بنائی۔ معز الدین کے بھتیجے ”فرخ سیر“ نے سید بردران کی مدد سے حکومت حاصل کی لیکن سید بردران نے فرخ سیر کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ اس طرح 1707ء سے لے کر 1719ء تک دہلی کی تخت پر کئی بادشاہ تبدیل ہوئے۔ محمد شاہ رنگیلا کی عیاشی کے دور میں نادرشاہ درانی نے دہلی پر حملہ کر دیا اور دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پھر احمد شاہ ابدالی کے حملے نے مزید کسر بھی پوری کر دی۔ دوسری طرف مرہٹے، جاٹ اور روہیلے آئے دن دہلی پر حملہ آور ہوتے اور قتل عام کرتے اس دور میں کئی بادشاہ بدلے اور مغل سلطنت محدود ہوتے ہوتے صرف دہلی تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اور آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے معزول کر کے رنگوں بھیج دیا۔ یہ تھی دہلی کی مختصر تاریخ جس میں دبستان دہلی کا ادب پروان چڑھا۔ یہ ایک ایسا پرآشوب دور تھا جس میں ہر طرف بدنظمی، انتشاراور پستی کا دور دورہ تھا۔ ملک میں ہر طرف بے چینی تھی۔ اس حالت کی وجہ سے جس قسم کی شاعری پروان چڑھی۔ دبستان دہلی کے چند شعرا کا ذکر درج زیل ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ پاکستانی بری افواج کے پانچ ستارہ جنرل، موجودہ اور گیارہویں سربراہ پاک فوج ہیں۔ آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل کمانڈ کر رہے تھے۔ انھوں نے 17 جون 2019ء سے 6 اکتوبر 2021ء تک گوجرانوالہ میں XXX کور (پاکستان) کی کمانڈ کی۔ انھوں نے آئی ایس آئی کے 23 ویں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں یہاں تک کہ ان کی جگہ16 جون 2019ء کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تعینات کیا گیا۔ منیر نے افسران کی تربیت گاہ، منگلا میں کیڈٹ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر "اعزازی تلوار" حاصل کی۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے انھیں 24 نومبر 2022ء کو 3 سال کی مدت کے لیے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر مقرر کیا۔ عاصم منیر وہ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں جو ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں خفیہ اداروں کی سربراہی کر چکے ہیں۔ 20 مئی 2025ء کو عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، یوں وہ پاکستان کی تاریخ میں اس رتبے تک پہنچنے والے دوسرے فرد بنے ان سے پہلے صرف ایوب خان کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔ عاصم پاکستان کے وہ پہلے اور واحد سربراہ پاک فوج بھی بنے جنھوں نے فیلڈ مارشل کے عہدہ کے ساتھ اس منصب پر خدمات انجام دیں۔ فیلڈ مارشل کا درجہ ایک باوقار اور فائیو اسٹار اعزازی عہدہ ہے، جو جنرل کے رینک سے بھی بلند ہوتا ہے۔
محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اردو پوائنٹ دنیا کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ ہے۔اردو پوائنٹ کے بانی علی چوہدری ہیں۔ اس کا صدر دفتر پاکستان کے شہر لاہور میں ہے۔ اردوپوائنٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 419 ویں اور پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 5ویں بڑی ویب گاہ ہے۔ اردو پوائنٹ کا فیس بک پیج پاکستان کے سرفہرست 15 پیجیز میں سے ایک ہے۔ ۔۔ اردو پوائنٹ اردو فونٹس کی سپورٹ کے حوالے بھی سرفہرست اردو ویب گاہ ہے
انسانی جنسیت میں خاص طور پر دو مردوں (یا زیادہ) کے درمیان جنسی سرگرمی کے دوران، ٹاپ، باٹم اور ورسٹائل کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ فاعل یا ٹاپ (Top) عام طور پر وہ فرد جو دخول (penetrates) کرتا ہے۔ مفعول یا باٹم (Bottom) عام طور پر وہ فرد جو دخول کو قبول کرتا ہے۔ورسٹائل (Versatile) وہ فرد جو دونوں میں حصہ لیتا ہے۔ یہ اصطلاحات کسی فرد کی ذاتی شناخت کا حصہ ہو سکتی ہیں جو اس کی عام ترجیحات اور عادات کو ظاہر کرتی ہیں، لیکن یہ وسیع تر جنسی شناختوں اور سماجی کرداروں کو بھی بیان کر سکتی ہیں۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مختلف روایات میں اکثر گیارہ سے تیرہ ازواج کے نام ملتے ہیں۔ جنھیں امہات المؤمنین کہا جاتا ہے یعنی مؤمنین کی مائیں۔ اس کے علاوہ انھیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں حضرت عائشہ کے علاوہ تمام بیوہ و مطلقہ (طلاق شدہ) تھیں اور زیادہ شادیوں کا عرب میں عام رواج تھا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک سہ فریقی اجتماعی دفاعی معاہدہ ہے جس پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ، سعودی عرب میں دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت، تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر مانا جائے گا۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین طے پانے والے دو طرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پر مبنی ہے، جس میں ترکی کو شامل کرنے کے لیے تقابلی باہمی دفاعی عزم میں توسیع کی گئی ہے۔ اس پر فروری 2026 میں شروع ہونے والی ایران پر مشتمل ایک وسیع تر علاقائی جنگ کے پس منظر میں دستخط کیے گئے تھے، جس کے دوران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آئیں۔
ڈاگی اسٹائل (Doggy style - ڈوگی اسٹائل) جنسی حالت ہے جس میں ایک شریکِ عمل جھک کر، چاروں ہاتھ پاؤں پر (عام طور پر ہاتھوں اور گھٹنوں پر) یا اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا ہے تاکہ جماع، کسی اور قسم کے جنسی دخول یا دوسری جنسی سرگرمی انجام دی جا سکے۔ ڈاگی اسٹائل کو پیچھے سے دخول والی حالتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دیگر حالتوں میں ”اسپونز“ شامل ہے جس میں وصول کرنے والا شریک اپنے پہلو کے بل لیٹتا ہے یا ریورس کاؤگرل (reverse cowgirl) جس میں بھی پیچھے سے دخول ہوتا ہے۔ اس حالت یا پوزیشن میں بے دخول جنسی عمل کو بھی ڈاگی اسٹائل کہا جا سکتا ہے۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جسے ملک کے صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبۂ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرۂ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی کراچی میں قائم ہیں۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دار الحکومت منتخب کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی میں اُن علاقوں سے جو بھارت کا حصہ بن گئے تھے، لاکھوں مہاجرین ہجرت کرکے آئے۔ پاکستان کا دار الحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔
گوتھنبرگ لینڈویٹر ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: ESGG، آئی سی اے او: GOT) ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو مغربی سویڈن کے علاقے گوتھنبرگ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2024ء میں 5.3 ملین سے کچھ زیادہ مسافروں کی آمدورفت کے ساتھ، یہ سویڈن کا دوسرا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے، جبکہ پہلے نمبر پر اسٹاک ہوم آرلانڈا ہوائی اڈا ہے۔ لینڈویٹر ایک اہم فضائی مال برداری کا مرکز بھی ہے؛ 2007ء میں یہاں سے 60.1 ہزار ٹن فضائی مال برداری ہوئی، جو آرلانڈا ہوائی اڈے کی گنجائش کا تقریباً 60 فیصد تھی۔ ، .
ڈارون بین الاقوامی ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: YPDN، آئی سی اے او: DRW) ایک ملکی اور بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو شمالی آسٹریلیا کے شہر ڈارون کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ مسافروں کی آمدورفت کے لحاظ سے یہ آسٹریلیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں گیارہویں نمبر پر ہے۔ مالی سال 2024ء کے دوران اس نے تقریباً 18 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کیں۔ یہ ڈارون کے علاقے کا مرکزی اور واحد بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔
فَرج یا مہبل یا بھگ (عربی جمع: فُرُوج، اردو جمع:فرجیں یا فرجوں؛ عربی سے ماخوذ شگاف یا خلا کے لیے) بیرونی مؤنثی جنسی اعضا پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرج تپۂ عانہ، لبۂ بزرگ ، لبۂ کوچک، بظر، پیاز دہلیزی، دہلیز فرجی ، پیشاب کا گوشت ، افتتاح اندام نہانی ، پردۂ بکارت اور بارتولین اور اسکین کے دہلیزی غدود شامل ہیں۔ پیشاب کا گوشت بھی شامل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ والول ویسٹیبول میں کھلتا ہے۔ فرج کی دیگر خصوصیات میں پوڈینڈل کلفٹ ، سیبیسیئس غدود ، یورجینٹل مثلث (پیرینیم کا پچھلا حصہ) اور شرمگاہی بال شامل ہیں۔ ولوا میں اندام نہانی کا داخلہ شامل ہوتا ہے ، جو بچہ دانی کی طرف جاتا ہے اور بیرونی اور اندرونی لب کی تہوں سے اس کے لیے دوہری پرت فراہم کرتا ہے۔ شرونیی فرش کے پٹھے ولوا کے ڈھانچے کی حمایت کرتے ہیں۔ بول وتناسلی مثلث کے دوسرے عضلات بھی سہارا دیتے ہیں۔
شاداب خان، ایک پاکستانی بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑی ہے جو محدود اوور کی کرکٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلتا ہے اور اس کی نائب کپتانی کرتا ہے۔ وہ پاکستان سپر لیگ (PSL) میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی کرتا ہے، اور گھریلو کرکٹ میں ناردرن کے لیے کھیلتا ہے۔ آل راؤنڈر، خان پاکستان کے سب سے کامیاب ٹی/20 بین الاقوامی بولر ہے۔ اس کا شمار پاکستان کے بہترین فیلڈرز میں بھی ہوتا ہے۔ 2022ء تک، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی طرف سے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں میں شامل ہے۔ خان 2017ء کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا رکن تھا۔
تھرونہائم فارنیس ہوائی اڈا (نارویجین: Trondheim lufthavn, Værnes؛ (آئی اے ٹی اے: ENVA، آئی سی اے او: TRD) ناروے کے صوبے سور تروندیلاگ کے شہر اور بلدیہ تھرونہائم کو خدمات فراہم کرنے والا ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ صوبے نور تروندلاگ کی بلدیہ ستیوردال کے گاؤں فارنیس میں واقع ہے، جو تھرونہائم سے 10 بحری میل (19 کلومیٹر؛ 12 میل) مشرق میں ہے۔ اس ہوائی اڈے کا انتظام سرکاری ادارہ ایوینور کرتا ہے اور یہ ناروے کی شاہی فضائیہ کے فارنیس فضائی اسٹیشن کے ساتھ سہولیات مشترکہ طور پر استعمال کرتا ہے۔ 2014ء میں اس ہوائی اڈے سے 4,416,681 مسافروں نے سفر کیا اور طیاروں کی 60,934 آمد و رفت ہوئی، جس کے باعث یہ ناروے کا چوتھا مصروف ترین ہوائی اڈا بن گیا۔
شاہ ولی اللہ (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اسلامی مفکر، محدث اور فلسفی تھے، جو مغلیہ سلطنت کے دور میں علم و دانش کا روشن مینار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی اصل روح کے مطابق اصلاح کا بیانیہ پیش کیا اور "تحریک ولی اللہی" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح، اتحاد اور روحانی بیداری تھا۔ شاہ ولی اللہ کا فلسفہ ولی اللہی اسلامی اصولوں، عقل اور اجتہاد کی بنیاد پر استوار تھا، جس میں معاشرتی بگاڑ اور فرقہ واریت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر میں اسلامی احیاء کی ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔
منشی پریم چند اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا گاؤں کے پٹواری اور والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور استاد پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
اردو زبان کی ابتدا کے متعلق نظریات
اردو کی ابتدا و آغاز کے بارے میں کئی مختلف نظریات ملتے ہیں یہ نظریات آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتدا کی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا کا سراغ قدیم آریاؤں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ ہریانوی زبان سے شروع ہوئی۔ بہر طور اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتدا مسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
تسلیم شدہ بڑی طاقتیں پہلے نپولین دور کے بعد کے دوران یورپ میں آئی تھیں۔ چھوٹی طاقتوں اور بڑی طاقتوں کے مابین تقسیم کا باقاعدہ آغاز 1814 میں چیمونٹ کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ہوا۔ ایک بڑی طاقت ایک ایسی قوم یا ریاست ہے جو اپنی عظیم معاشی ، سیاسی اور فوجی طاقت کے ذریعہ نہ صرف دنیا کے اپنے خطے ، بلکہ دوسروں سے آگے بھی طاقت اور اثر و رسوخ کے قابل ہے۔ دنے ش نلے نے س ے س ے تاریخی اصطلاحات " عظیم قوم " ، ایک خاص ملک یا علاقے میں آباد لوگوں کی ایک ممتاز مجموعی اور " عظیم سلطنت " ، ریاستوں یا ممالک کا ایک واحد گروہ ، جو ایک واحد اعلیٰ اختیار کے تحت ہے۔ ہیں بولچال مکالمات (تاریخی شبدجال ).
کوڈ (فوری رسپانس کے کوڈ سے مختصر) میٹرکس کے بارکوڈ کی ایک قسم (یا دو رخی کوڈ) سب سے پہلے آٹو صنعت کے لیے ڈیزائن کے لیے ٹریڈ مارک ہے۔ حال ہی میں، نظام اس کے روزہ معیاری UPC barcodes کے مقابلے میں پڑھنے کی اہلیت اور بڑے اسٹوریج کی صلاحیت کی وجہ سے کی صنعت سے باہر مقبول ہو گیا ہے۔ سیاہ ماڈیول (مربع نقطہ) ایک سفید پس منظر پر ایک مربع پیٹرن میں منظم کی کوڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ انکوڈنگ معلومات چار کے مانکیکرن قسم کا بنایا جا سکتا ہے ("طریقوں") ڈیٹا کی (عددی، اکشرانکیی، بائٹ / بائنری، کانجی) یا حمایت تجاوزات کے ذریعے عملی طور پر کسی بھی قسم کے اعداد و شمار
سکندر سوم مقدونی (قدیم یونانی: άλέξαvδρoς، الیگزینڈروس؛ 20/21 جولائی 356 قبل مسیح-10/11 جون 323 قبل مسیح) جسے عام طور پر سکندر اعظم کے نام سے جانا جاتا ہے، قدیم یونانی سلطنت مقدونیہ کا بادشاہ تھا۔ وہ 20 سال کی عمر میں 336 قبل مسیح میں اپنے والد فلپ دوم کے بعد تخت نشین ہوا اور اس نے اپنے دور حکومت کے زیادہ تر سال مغربی ایشیا، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں اور مصر میں ایک طویل فوجی مہم چلاتے ہوئے گزارے۔ 30 سال کی عمر تک، اس نے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک بنائی تھی، جو یونان سے شمال مغربی ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ جنگ میں ناقابل شکست رہا اور اسے وسیع پیمانے پر تاریخ کے سب سے بڑے اور کامیاب ترین فوجی کمانڈروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اومیو ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: ESNU، آئی سی اے او: UME) ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو شمالی سویڈن کے شہر اومیو کے جنوبی مضافات میں واقع ہے۔ 2019ء کے مطابق، یہ سویڈن کا ساتواں بڑا ہوائی اڈا تھا۔ اس نے 2019ء میں مجموعی طور پر 960,351 مسافروں کو خدمات فراہم کیں۔ یہ ہوائی اڈا شہر اومیو کے مرکز سے تقریباً 5.4 کلومیٹر (3.4 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
سندھ سندھی: سنڌ پاکستان کے چارصوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی حصہ ہے۔ سندھ کی صوبائی زبان سندھی اور اردو ہے۔ صوبائی دار الحکومت کراچی ہے۔ سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ چھپن لاکھ چھیانوے ہزار 55,696,147 افراد پر مشتمل ہے۔
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں4 /جون 1857ء کو ہوئی تھی- ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا اور وکالت بھی کی مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ ہونے کے سبب ترک کر دی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
لولیو ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: ESPA، آئی سی اے او: LLA) سویڈن کے شہر لولیو سے تقریباً 7 کلومیٹر (4.3 میل) جنوب مشرق میں، گاؤں کالاکس کے قریب واقع ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ سویڈش فضائی معلوماتی کتابچے میں اس کا سرکاری نام لولیو کالاکس ہوائی اڈا درج ہے۔ 2024ء میں اس ہوائی اڈے سے مجموعی طور پر 980,333 مسافروں نے سفر کیا، جس کے باعث یہ سویڈن کا چوتھا مصروف ترین ہوائی اڈا بن گیا۔ یہ شمالی سویڈن (نورلینڈ) کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔ اس کا رن وے نوربوٹن فضائی ونگ (F 21) بھی استعمال کرتا ہے۔
لاہور (پنجابی: لہور) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
شاہ بدیع الدین احمد قطب المدار
حضرت سید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار ایک صوفی بزرگ تھے جنھوں نے مداریہ سلسلہ کی بنیاد رکھی۔ آپ کو قطب المدار کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا۔ شاہ بدیع الدین احمد قطب المدار کی ولادت یکم شوال 242ھ کو سوریہ کے قدیم اور مشہور شہر حلب میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام سید قدوۃ الدین علی حلبی اور والد کا نام سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی ہاجرہ تھا۔ آپ حسنی حسینی سادات میں سے ہیں۔ آپ والدہ کی طرف سے حسنی اور والد کی طرف سے حسینی تھے۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .