اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
عالمی یوم اساتذہ دنیا کے کئی ممالک میں "اساتذہ کا عالمی دن" یا "ورلڈ ٹیچرزڈے" ہرسال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگرکرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں کئی سیمینارز، کانفرنسیں اورتقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 2009ء میں عالمی یوم اساتذہ کے حوالے سے یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2015ء تک دنیابھر میں تعلیم کو عام کیا جائے گااور بلند معیار تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں پیشہ ور اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اورانہیں دورجدید میں نظام تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وقتًا فوقتًا باخبر کیا جائے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
سعودی عرب (رسمی نام: المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
موہن داس کرم چند گاندھی (گجراتی: મોહનદાસ કરમચંદ ગાંધી؛ ہندی: मोहनदास करमचंद गांधी؛ انگریزی: Mohandas Karamchand Gandhi؛ 2 اکتوبر، 1869ء تا 30 جنوری 1948ء) بھارت کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ انھوں نے ستیہ گرہ اور اہنسا (عدم تشدد) کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی ہے جو عدم تشدد پر مبنی ہے۔ یہ طریقۂ کار ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنی اور ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔ بھارت میں انھیں احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کہا جاتا ہے۔ بھارت میں وہ بابائے قوم(راشٹر پتا) کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ گاندھی کی یوم پیدائش (گاندھی جینتی) بھارت میں قومی تعطیل کا درجہ رکھتا ہے اور دنیا بھر میں یوم عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 30 جنوری، 1948ء کو ایک ہندو قوم پرست نتھو رام گوڈسے نے ان کا قتل کر دیا۔
سیکس اینڈ دی سٹی (فلم) (انگریزی: Sex and the City (film)) 2008ء میں منظر عام پر آنے والی ایک خواتین دوستوں کی فلم، رومانوی مزاحیہ اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری مائیکل پیٹرک کنگ نے کی۔ اس فلم میں کرس ناتھ، سارہ جیسکا پارکر، سنتھیا نکسن، کرسٹن ڈیوس اور کم کیٹرل نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Darren Star، مائیکل پیٹرک کنگ اور سارہ جیسکا پارکر نے فلم سازی کی، آرون زیگ مین نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
عبد الرشید نعمانی (28 ستمبر 1915ء-12 اگست 1999ء) 20 ویں صدی کے پاکستانی اسلامی اسکالر تھے جو کلاسیکی علوم، روایات اور اسلامی فقہ میں اپنی مہارت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ کنیت 'نعمانی' کو ابن حنیفہ کے نسب میں جڑے ہوئے حنفی مکتب کے لیے ان کی محبت کی عکاسی کرنے کے لیے اپنایا گیا تھا۔ ان کی اسکالرشپ بنیادی طور پر تاریخ کی تالیف اور اس کی اصطلاحات کے ساتھ ساتھ ابو حنیفہ کے موقف کے دفاع پر مرکوز تھی، ایک ایسا نقطہ نظر جس پر کچھ لوگوں کی جانب سے تنقید کی گئی جنھوں نے انھیں حنفیت کا جنونی قرار دیا۔ انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ندوۃ المصنفین کے رکن کے طور پر کیا اور تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان چلے گئے جہاں انھوں نے جامعہ العلوم الاسلامیہ اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسے اداروں میں پڑھایا۔ اسی کے ساتھ ہی انھوں نے ان اداروں کے شائع کردہ رسالوں کے بانی ایڈیٹر ان چیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ نعمانی نے اپنی تحقیق اردو اور عربی دونوں زبانوں میں شائع کی، جس سے یہ نظریہ آگے بڑھا کہ ابوحنیفہ نے سب سے پہلے قانونی فریم ورک کے اندر حدود کو منظم کیا۔ ابوحنیفہ اور سنن ابن ماجہ پر مرکوز ان کے دو کام، عبد الفتاح ابو غدہ نے ترمیم کیے اور عرب ممالک میں شائع ہوئے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
جج یا قاضی وہ عُہدیدار جو قانون کے اعلیٰ امتحانات پاس کرنے کے بعد قانون سے کماحقہ واقفیت رکھتا ہو اور اسے کسی دیوانی یا فوجداری عدالت کی صدارت پر فائز کیا گیا ہو۔ پاکستان میں دیوانی عدالتوں کے جج سول جج کہلاتے ہیں۔ اور فوجداری، ماتحت عدالتوں کے جج مجسٹریٹ۔ البتہ فوجداری عدالت بالا سیشن جج کی عدالت ہوتی ہے۔ اور سیشن جج کو دیوانی اختیارات کی عدالت بالا کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ جج کہتے ہیں۔تمام سول جج سینئر سول جج کے ماتحت کام کرتے ہیں۔تمام ایڈیشنل سیشن جج ایک سیشن جج کے ماتحت سب کام کرتے ہیں ہیں ان کا دائرہ اختیار سیشن جتنا ہی ہوتا ہے۔سب سے پہلے سیول جج بھرتی کیے جاتے ہیں اور ہائی کورٹ خود ایڈیشنل سیشن جج بھرتی کرتی ہے۔سول جج بھرتی ہونے کے لیے یے کم ذات کم دو سال کا تجربہ وکالت میں ہونا لازمی ہے۔اس کا امتحان ان سے پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن لیتی تھی پر اب لاہورہائیکورٹ سیول جج کے امتحان خود لیتی ہے۔در جائے اول میں بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سورج قابلیت کے لحاظ سے ایڈیشنل سیشن جج تک ریٹائر ہو سکتا ہے۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
منشی پریم چند اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا گاؤں کے پٹواری اور والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور استاد پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
3D سیکس اینڈ زین: ایکسٹریم ایکسیسی
3D سیکس اینڈ زین: ایکسٹریم ایکسیسی (انگریزی: 3D Sex and Zen: Extreme Ecstasy) 2011ء میں منظر عام پر آنے والی ایک فلم میں جنسی مواد ہے، جس کی ہدایت کاری Christopher Sun نے کی۔ اس فلم میں Saori Hara نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Raymond Wong نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
بیڈ فورڈ شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب لسٹ اے کھلاڑیوں کی فہرست
یہ ان کرکٹ کھلاڑیوں کی فہرست ہے جو بیڈفورڈشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے لیے لسٹ اے میچوں میں کھیل چکے ہیں۔ بیڈفورڈشائر، جو معمولی کاؤنٹیوں میں سے ایک ہے، نے 1967ء اور 2005ء کے درمیان 27 لسٹ اے کرکٹ میچ کھیلے-جو ایک روزہ، محدود اوورز کی کرکٹ کی شکل ہے۔ 1967ء کے جیلیٹ کپ میں اپنی لسٹ اے کی شروعات کرنے کے بعد کاؤنٹی نے 1973ء تک مقابلے میں چھ میچ کھیلے اور پھر 1977ء میں ایک بار۔ معمولی کاؤنٹیاں لسٹ اے مقابلوں کی باقاعدہ خصوصیت نہیں تھیں اور بیڈفورڈشائر نے 2001 ءاور 2005 ءکے درمیان چیلٹنھم اینڈ گلوسٹر ٹرافی میں دس میچ کھیلنے سے پہلے 1982ء اور 2000ء کے درمیان نیٹ ویسٹ ٹرافی میں 10 میچ کھیلے۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اردو نثر کی تاریخ میں خصوصاً یہ کالج سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ کالج انگریزوں کی سیاسی مصلحتوں کے تحت عمل میں آیا تھا۔ تاہم اس کالج نے اردو زبان کے نثری ادب کی ترقی کے لیے نئی راہیں کھول دیں تھیں۔ سر زمین پاک و ہند میں فورٹ ولیم کالج مغربی طرز کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جو لارڈ ولزلی کے حکم پر 1800ءمیں قائم کیا گیاتھا۔
شاہ رخ خان (تلفظ [' ʃa:ɦrəx xa:n ]؛ پیدائش 2 نومبر، 1965ء)، جنھیں اکثر غیر رسمی طور پر ایس آركے (SRK) نام سے پُکارا جاتا ہے، ہندی فلموں کے مشہور اداکار ہیں۔ اکثر میڈیا میں انھیں "بالی وڈ کا بادشاہ"، "کنگ خان" اور "رومانس کنگ" ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ شاہ رخ خان نے رومانوی ڈراما فلم سے لے کر ہنگامہ خیز جیسے انداز میں 60 سے زائد ہندی فلموں میں اداکاری کی ہے۔
مروان بن حکم کا تعلق بنو امیہ کی دوسری شاخ بنی عاص سے تھا۔ حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضرت عثمان نے حکم کے بیٹے مروان کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ حضرت عثمان کو اس پر بے حد اعتماد تھا۔ اس لیے مہر خلافت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ جب آپ کے خلاف فسادیوں نے شورش پیدا کی تو حاکم مصر کے نام منسوب خط وغیرہ کی جعلسازی کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی جاتی ہے۔ شہادت عثمان کے بعد مدینہ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کے خلاف لڑا۔ حضرت طلحہ کی شہادت بھی اس کے ہاتھوں ہوئی جو اسی کی فوج کے سربراہ تھے۔ امیر معاویہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اسے مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یزید کی موت کے وقت یہ مدینہ ہی میں مقیم تھا۔ جبیر ابن مطعم سے روایت ہے کہ ہم لوگ پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ادھر سے حکم (مروان کا باپ) گذرا۔ اسے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے صلب میں جو بچہ ہے اس سے میری امت عذاب اور پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ اس روایت بارے ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ روایت منکر ہے۔<ref>أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي ابن أبي حاتم؛ الرازي (1427 هـ - 2006 م)۔ العلل۔ مطابع الحميضي۔ ج 6۔ ص 555 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)</>
کریمپائی (انگریزی: Creampie، تلفظ: کریم پائی) فحش نگاری کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد مرد کا عورت کی فرج یا دبر میں منی خارج کرنا ہے۔ فحش فلموں میں ایسے مناظر بہت کم ہوتے ہیں جن میں مرد کسی عورت کے شرمگاہ کے اندر منی کا اخراج کرے۔ اس کی بنیادی وجہ جنسی بیماریوں کی منتقلی کا ڈر اور حمل ٹھہرنے کا خوف ہے۔ اسی وجہ سے بہت کم اداکارائیں کریمپائی پر رضا مند ہوتی ہیں اور اس کے لیے اضافی اجرت بھی طلب کرتی ہیں۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
اردو زبان کی ابتدا کے متعلق نظریات
اردو کی ابتدا و آغاز کے بارے میں کئی مختلف نظریات ملتے ہیں یہ نظریات آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتدا کی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا کا سراغ قدیم آریاؤں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ ہریانوی زبان سے شروع ہوئی۔ بہر طور اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتدا مسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
جُنْدُب بن جُنَادَة رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات 31ھ) ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے۔آپ اپنی کنیت ابوذرؓ غِفَارِی کے نام سے مشہور ہوئے۔آپ نہ مکہ سے تھے نہ یثرب سے تعلق تھا بلکہ ایک ایسی جگہ سے تھے جو مسافروں کے لیے نہایت ہی خطر ناک جگہ تھی - غِفَار-رہزنی اور تجارتی قافلوں کو لوٹنا بنو غفار کا پیشہ تھا۔جب مکہ میں آفتاب رسالت طلوع ہوا تو یہ خبر بنو غفار کے اس نوجوان تک بھی پہنچی جس کی رنگت میں سرمئی غالب تھی- بلند ترین قد, دبلے اور پھرتیلے جسم کے مالک تھے۔کردار میں سادہ مزاجی اقوال میں بے باکی ان کی شخصیت کو ایک خاص پہچان دیتی تھی۔آپ کبھی بت پرستی کے قریب نہیں گئے۔ابوذرؓ نے اپنے بھائی انیس کو یہ ذمہ دیا کہ مکہ کے حالات معلوم کرے اور اس شخص کے بھی جس نے نبوت کا اعلان کیا اور اک اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ان کے بھائی نے واپس آکر مختصر حالات بیان کیے کیونکہ مشرکین مکہ مکرمہ کی وجہ سے تفصیل معلوم کرنا مشکل کام تھا۔ابو زر غفاری نے کہا اتنا میرے لیے کافی نہیں خود مختصر سامان سفر باندھا اور مکہ کے لیے روانہ ہوئے جاتے وقت بھائی نے آگاہ کیا کہ مکہ کی قوم اس نبی کے خلاف ہیں اور وہ ان کے دشمن ہیں اور انھیں بھی تکلیف دیتے ہیں جو ان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔جب یہ مکہ پہنچے تو اسی الجھن میں رہے کی کس سے ملے اور کس سے نہیں اسی الجھن میں وقت گذرا اور سامان سفر ختم ہو گیا۔اسی حالت میں اک جگہ سے گذر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک معتبر شخصیت پر پڑی جو مسکینوں کو کھانا کھلا رہے تھے دیکھنے پر بہت ہی بھلے آدمی معلوم ہوتے تھے۔ جیسے ابوذرؓ نے غور کیا ویسے ہی انھوں نے بھی بھی ابوذرؓ پر غور کیا۔وہ ابوبکرؓ تھے۔ انھیں ابوبکرؓ اپنے گھر لے گئے اور خوب مہمان نوازی کی تین دن گذر گئے لیکن ابوذرؓ غفاری نے ان کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا کیونکہ ابوذرؓ غفاری اب بھی الجھن میں ہی تھے۔آخر ابوبکرؓ نے ان سے پوچھ لیا نہ تم تاجر نظر آتے ہو نہ تمھارے آمد کی وجہ معلوم ہوتی ہے۔تمھارا مقصد کیا ہے اور تمھاری منزل کیا ہے۔یہ سن کر ابوذرؓ نے ہمت باندھی اور کہا کہ وعدہ کرو کہ جو میں سوال کروں اس کا صحیح جواب دو گے اور مجھے تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اور یہ راز ہی رکھو گے۔ابوبکرؓ صدیق نے وعدہ کیا- ابوذرؓ نے ان سے مکہ آنے کا ارادہ بیان کیا اور یہ اللہ کی منشا تھی کہ آپ ابوبکر صدیقؓ کے مہمان تھے اور ابوبکرؓ بلا تاخیر انھیں آپ ﷺ کے پاس لے کر گئے۔آپ ﷺ نے ان کے سامنے جب قرآن پڑھا تو بے ساختہ ابوذرؓ نے درمیان میں ہی کلمہ پڑھ کر گواہی دی جس سے آپ ﷺ بے حد خوش ہوئے۔ان کی بے باکی کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ ابوذرؓ نے مشرکین مکہ کے درمیان با آواز بلند مسلمان ہونے کا اعلان کیا جس سے مشتعل ہوکر مشرکین نے آپ کو بہت زدوکوب کیا لیکن آپ ﷺ کے چاچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ابھی ایمان نہ لائے تھے درمیان میں حائل ہو گئے اور کہا یامعاشرۃ القریش! یہ شخص بنو غِفَار سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے ہمارے تجارتی قافلوں کا گذر ہوتا ہے یہ سنتے ہی سب خوف سے پیچھے ہٹ گئے اس طرح ابوذرؓ مشرکین کے چنگل سے چھوٹے آپ اسلام لانے والے پانچویں یا چھٹے شخص تھے اور بیرون مکہ سے آکر اسلام لانے والے پہلے شخص تھے آپ ﷺ سے پہلی ملاقات میں السلام علیکہ یا رسول اللہ یہ الفاظ سب سے پہلے ابوذرؓ نے استعمال کیے آپ ﷺ کے کہنے پر آپ نے اپنے علاقے میں جاکر دعوت دی آپ کے خاندان سمیت اکثر لوگ ایمان لے آے- بقیہ تب ایمان لائے جب آپ ﷺ مدینہ میں تھے آپ ﷺ نے بنو غفار کے لیے دعا فرمائی غِفٰارُُ غَفَرَالَلہُ لَہُمْ اے اللہ بنو غفار کو بخش دے دنیا اور مال سے بے رغبتی: ایک دفع ایک صحابی ابوذرؓ کے کمرے میں آے تو حیران رہ گئے سارا حجرہ خالی پڑا ہے تو پوچھا آپ کی ضروریات کا سامان کہاں ہے تو آپ نے فرمایا وہ سب سامان میں نے اپنے محل میں محفوظ رکھا ہے!
محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
قرآن کریم، قرآن مجید یا قرآن شریف (عربی: القرآن الكريم) دین اسلام کی مقدس و مرکزی کتاب ہے جس کے متعلق ہم اسلام کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ یہ کلام الہی ہے اور اسی بنا پر یہ انتہائی محترم و قابل عظمت کتاب ہے۔ اسے ہمارے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے ذریعے اتارا گیا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے جیسے جیسے قرآن مجید کی آیات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتیں آپ صلی علیہ وآلہ وسلم اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سناتے اور ان آیات کے مطالب و معانی سمجھا دیتے۔ کچھ صحابہ کرام تو ان آیات کو وہیں یاد کر لیتے اور کچھ لکھ کر محفوظ کر لیتے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ہر قسم کی تاریف بیان کرتا ہے پاک ہے محفوظ ہے ، قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ افضل کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔ اور صحف ابراہیم، زبور اور تورات و انجیل کے بعد آسمانی کتابوں میں یہ سب سے آخری اور افضل کتاب ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اب اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے پیش نظر اسے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ نیز عربی زبان و ادب اور اس کے نحوی و صرفی قواعد کی وحدت و ارتقا میں بھی قرآن کا خاصا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے وضع کردہ عربی زبان کے قواعد بلند پایہ عرب محققین اور علمائے لغت مثلاً سیبویہ، ابو الاسود الدؤلی اور خلیل بن احمد فراہیدی وغیرہ کے یہاں بنیادی ماخذ سمجھے گئے ہیں۔
پاکستان فوج، جو عام طور پر پاک فوج کے نام سے جانی جاتی ہے، پاکستان آرمڈ فورسز کا زمینی حصہ اور سب سے بڑا حصہ ہے۔ پاکستان کے صدر آرمی کے سپریم کمانڈر ہیں۔ (چیف آف آرمی اسٹاف)، جو ایک فور اسٹار جنرل ہوتا ہے، آرمی کو کمانڈ کرتا ہے۔ آرمی اگست ١٩٤7 میں اس وقت قائم ہوئی جب پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کے ٢٠٢٤ کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان آرمی کے پاس تقریباً 5٦٠,٠٠٠ ایکٹو ڈیوٹی پرسنل ہیں، جو پاکستان آرمی ریزرو، نیشنل گارڈ اور سول آرمڈ فورسز سے سپورٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان آرمی دنیا کی چھٹی بڑی آرمی اور مسلم دنیا کی سب سے بڑی آرمی ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق، پاکستانی شہری ١٦ سال کی عمر میں رضاکارانہ طور پر فوجی خدمات میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن انھیں ١٨ سال کی عمر تک جنگ میں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی فوج کا بنیادی مقصد اور آئینی مشن پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی اتحاد کو یقینی بنانا ہے، اسے بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے سے بچانا ہے۔ اسے پاکستانی وفاقی حکومت کی طرف سے اندرونی خطرات کا جواب دینے کے لیے بھی طلب کیا جا سکتا ہے. قومی یا بین الاقوامی آفات یا ہنگامی حالات کے دوران، یہ ملک میں انسانی امدادی کارروائیاں کرتی ہے اور اقوام متحدہ (یو این) کے مینڈیٹ کے تحت امن قائم کرنے والے مشنوں میں فعال طور پر حصہ لیتی ہے۔ خاص طور پر، اس نے صومالیہ میں آپریشن گوتھک سرپینٹ کے دوران فوری رد عمل فورس کی مدد کی درخواست کرنے والے پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بوسنیا کی جنگ اور بڑی یوگوسلاوی جنگوں کے دوران پاکستانی فوجی دستے اقوام متحدہ اور نیٹو اتحاد کا حصہ بن کر نسبتاً مضبوط موجودگی رکھتے تھے۔ پاکستانی فوج، جو پاکستانی بحریہ اور پاکستانی فضائیہ کے ساتھ پاکستانی فوج کا ایک بڑا حصہ ہے، ایک رضاکار فورس ہے جس نے بھارت کے ساتھ تین بڑی جنگوں، افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن پر کئی سرحدی جھڑپوں اور بلوچستان کے علاقے میں ایک طویل عرصے سے جاری بغاوت کے دوران وسیع پیمانے پر جنگیں لڑی ہیں، جس کا مقابلہ وہ ١٩٤٨ سے ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کر رہی ہے۔ ١٩٦٠ کی دہائی سے، فوج کے عناصر کو بار بار عرب اسرائیل جنگوں کے دوران عرب ریاستوں میں مشاورتی حیثیت میں تعینات کیا گیا ہے اور پہلی خلیجی جنگ کے دوران عراق کے خلاف امریکا کی قیادت میں اتحاد کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ٢١ویں صدی میں عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران دیگر قابل ذکر فوجی آپریشنز میں: ضربِ عضب، بلیک تھنڈر اسٹورم اور راہِ نجات شامل ہیں۔ آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، پاکستانی فوج نے بارہا منتخب سول حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ہے اور اپنے محفوظ آئینی مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے کہ “جب طلب کیا جائے تو سول وفاقی حکومتوں کی مدد کے لیے کام کریں”۔ فوج نے ملک میں قانون اور نظم و ضبط بحال کرنے کے دعوے کے ساتھ وفاقی حکومت کے خلاف مارشل لا نافذ کرنے میں حصہ لیا ہے اور گذشتہ دہائیوں میں متعدد مواقع پر قانون ساز شاخ اور پارلیمنٹ کو برخاست کر دیا ہے—جبکہ ملک میں وسیع تر تجارتی، غیر ملکی اور سیاسی مفادات کو برقرار رکھا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ اس نے ریاست کے اندر ریاست کے طور پر کام کیا ہے. پاکستانی فوج کو عملی اور جغرافیائی طور پر مختلف کور میں تقسیم کیا گیا ہے.
تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام النمیری الحرانی (ولادت: 22 جنوری 1263ء، 621ھ - وفات: 26 ستمبر 1328ء، 20 ذو القعدہ 728ھ) جو ابن تیمیہ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں، ایک مشہور عالم دین، فقیہ، محدث، الٰہیات دان اور منصف تھے۔ آپ کا اصل نام احمد، کنیت ابو العباس اور ابن تیمیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ 621ھ میں پیدا ہوئے۔ حنبلی مذہب کے فروغ اور اس کو پروان چڑھانے میں شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ کی خدمات جلیلہ قدر ہیں۔ اُن کو مذہبِ حنبلی کا شارح سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض مسائل میں ابن تیمیہ نے امام احمد بن حنبل سے بھی اختلاف کیا۔ قلعہ دمشق ملک شام میں بحالت قید و بند 20 ذو القعدہ 728ھ میں وصال ہوا۔
عبد الرحمن بن عوف (43ق.ھ / 31ھ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے ان کا لقب تاجر الرحمن تھا۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارکہ سے دس سال بعد خاندان قریش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اسی طرح ہوئی جس طرح سرداران قریش کے بچوں کی ہوا کرتی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب یہ ہوا کہ یمن کے ایک بوڑھے عیسائی راہب نے آپ کو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ظہور کی خبر دی اور یہ بتایا کہ وہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوں گے اور مدینہ منورہ کو ہجرت کریں گے ۔ جب آپ یمن سے لوٹ کر مکہ مکرمہ آئے توحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اسلام کی ترغیب دی۔ چنانچہ ایک دن انھوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کر لیا۔جبکہ آپ سے پہلے چند ہی آدمی آغوش اسلام میں آئے تھے چونکہ مسلمان ہوتے ہی آپ کے گھر والوں نے آپ پر ظلم وستم کا پہاڑ توڑنا شروع کر دیا اس لیے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے ۔ پھر حبشہ سے مکہ مکرمہ واپس آئے اور اپنا سارا مال واسباب چھوڑ کر بالکل خالی ہاتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے ۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے بازار کا رخ کیا اور چند ہی دنوں میں آپ کی تجارت میں اس قدر خیر وبرکت ہوئی کہ آپ کا شمار دولت مندوں میں ہونے لگا اور آپ نے قبیلہ انصار کی ایک خاتون سے شادی بھی کرلی۔.
عربی (عربی: العربية) بلند میں سب سے بڑی زبان ہے اور عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت ملتی ہے۔ جدید عری یا فصیح عربی کی تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ فصیح عربی قدیم زمانے سے ہی بہت ترقی یافتہ شکل میں تھی اور قرآن کی زبان ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ فصیح عربی اور بولے جانے والی عربی میں بہت فرق نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے بولے جانے والی اردو اور ادبی اردو میں فرق ہے۔ عربی زبان نے اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ تاریخ میں عربی زبان کی اہمیّت کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
روچیانگ لولان ہوائی اڈا (چینی: 若羌楼兰机场) چین کے صوبہ سنکیانگ کی روچیانگ کاؤنٹی میں واقع ایک عوامی ہوائی اڈا ہے۔ اس کا رن وے 2,800 میٹر طویل ہے۔ ہوائی اڈے کو مارچ 2014ء میں چین کی ریاستی کونسل اور مرکزی فوجی کمیشن سے منظوری ملی۔ یہ ہوائی اڈا روچیانگ شہر کے مغرب میں واقع شی تاتی رانگ گاؤں (西塔提让村) میں قائم کیا گیا۔ اس کی تعمیر نومبر 2015ء میں شروع ہوئی، جس پر 546 ملین یوآن کی سرمایہ کاری کی گئی۔ ہوائی اڈا 29 مارچ 2018ء کو کھولا گیا اور یہ سنکیانگ کا 20واں ہوائی اڈا بن گیا۔ .
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم، جسے اکثر شاہینز کہا جاتا ہے ' فالکنز '، گرین شرٹس، مین ان گرین اور کارنر ٹائیگرز پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر انتظام ہیں۔ یہ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی مکمل رکن ہے اور ٹیسٹ، ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹوئنٹی20 بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں شرکت کرتی ہے۔ پاکستان نے 456 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں 148 جیتے، 142 ہارے اور 166 ڈرا ہوئے۔ پاکستان کو 28 جولائی 1952ء کو ٹیسٹ کا درجہ ملا اور اس نے اکتوبر 1952ء میں فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ، دہلی میں بھارت کے خلاف اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا، جس میں بھارت نے ایک اننگز اور 70 رنز سے فتح حاصل کی۔ ٹیم نے 945 ایک روزہ کھیلے ہیں، 498 جیتے، 418 ہارے، 9 برابر ہوئے اور 20 بے نتیجہ رہے۔ پاکستان 1992ء کا ورلڈ کپ چیمپئن تھا اور 1999ء کے ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہا۔ پاکستان، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر، 1987ء اور 1996ء کے عالمی کپ کی میزبانی کر چکا ہے، 1996ء کے فائنل کی میزبانی لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی تھی۔ ٹیم نے 194 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل بھی کھیلے ہیں، 120 جیتے، 66 ہارے اور برابر رہے۔ پاکستان نے 2009ء کا آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا اور 2007ء میں افتتاحی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہا تھا۔ پاکستان کے پاس آئی سی سی کے ہر بڑے انٹرنیشنل کرکٹ ٹورنامنٹ میں سے ہر ایک جیتنے کا امتیازی کارنامہ ہے: آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 1992ء، آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2009ء اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017ء؛ اس کے ساتھ ساتھ 2016ء میں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی گدی اٹھانے والی چوتھی ٹیم بن گئی۔ 9 جون 2022ء تک، پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی کی طرف سے ٹیسٹ میں پانچویں، ون ڈے میں تیسرے اور ٹوئنٹی20 بین الاقوامی میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافے کے باعث غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان کا دورہ جمود کا شکار ہو گیا۔ سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیم پر 2009ء کے حملے کے بعد، 2019ء تک ملک میں کوئی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی گئی تھی 2009ء اور 2016ء کے درمیان، ان کے ہوم میچ زیادہ تر متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں دہشت گردی میں کمی کے ساتھ ساتھ سیکورٹی میں اضافے کی وجہ سے 2015ء سے کئی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں ان ٹیموں میں زمبابوے، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور ایک آئی سی سی ورلڈ الیون ٹیم شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان سپر لیگ نے پاکستان میں کھیلوں کی میزبانی کی ہے۔ جو جانشین ہونے کے ناطے برطانوی راج کی ریاست کو ایسے عمل سے نہیں گذرنا پڑتا تھا۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار تھے۔ پاکستان کا پہلا ٹیسٹ میچ اکتوبر 1952ء میں دہلی میں پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے حصے کے طور پر کھیلا گیا تھا جسے بھارت نے 2-1 سے جیتا تھا۔ پاکستان نے اپنا پہلا دورہ انگلینڈ 1954ء میں کیا اور اوول میں فتح کے بعد سیریز 1-1 سے برابر کر دی جس میں فاسٹ باؤلر فضل محمود نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کا پہلا ہوم ٹیسٹ میچ جنوری 1955ء میں بھارت کے خلاف بنگلہ بندھو نیشنل اسٹیڈیم، ڈھاکہ، مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش ) میں تھا، جس کے بعد بہاولپور، لاہور، پشاور اور کراچی میں مزید چار ٹیسٹ میچز کھیلے گئے (سیریز کے پانچوں میچز ڈرا ہو گئے۔ ٹیسٹ کی تاریخ میں اس طرح کا پہلا واقعہ) ٹیم کو ایک مضبوط لیکن غیر متوقع ٹیم سمجھا جاتا ہے۔ روایتی طور پر پاکستانی کرکٹ باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل رہی ہے لیکن الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ موقع پر محدود نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات ان کی کارکردگی متضاد ہوتی ہے۔ خاص طور پر، ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ دشمنی عام طور پر جذباتی طور پر چارج کی جاتی ہے اور یہ دلچسپ مقابلوں کے لیے فراہم کر سکتی ہے، کیونکہ سرحد کے دونوں طرف سے باصلاحیت ٹیمیں اور کھلاڑی اپنے کھیل کو نئی سطحوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستان کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے مقابلے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم اور انتہائی چارج شدہ ماحول کی صورت میں نکلے ہیں۔ ٹیم کو اندرون اور بیرون ملک بھر پور حمایت حاصل ہے، خاص طور پر برطانیہ میں جہاں برطانوی پاکستانیوں نے "اسٹیانی آرمی" کے نام سے ایک فین کلب بنایا ہے۔ کلب کے ارکان ملک بھر میں ہونے والے میچوں کو دکھاتے ہیں اور انھیں زبردست مدد فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ سٹینی آرمی پسماندہ پاکستانیوں کے لیے خیراتی اقدامات میں بھی حصہ لیتی ہے، جس میں اسی طرح کی "بھارت آرمی" کے برطانوی ہندوستانی اراکین کے خلاف سالانہ دوستانہ کرکٹ میچ بھی شامل ہیں۔
مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی، جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر ان کا دور دورہ تھا۔ مغل سلطنت کی بنیاد 1526ء میں بابر نے رکھی، جو آج کے ازبکستان سے ایک سردار تھا، جس نے ہمسایہ صفوی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ سے ہندوستان پر حملہ کے لیے مدد لی۔ مغل شاہی ڈھانچہ بابر سے شروع ہوتا ہے۔ اور 1720ء تک قائم رہا۔ مغل سلطنت کے آخری طاقتور شہنشاہ، اورنگ زیب کے دور حکومت میں سلطنت نے اپنی زیادہ سے زیادہ جغرافیائی حد تک رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد 1760ء تک پرانی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے میں کمی واقع ہوئی، سلطنت کو 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے بعد برطانوی راج نے باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا۔ 17ویں صدی میں بحر ہند میں بڑھتی ہوئی یورپی موجودگی اور ہندوستانی خام اور تیار مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ نے مغل دربار کے لیے بہت زیادہ دولت پیدا کی۔ مغل دور میں مصوری، ادبی شکلوں، پارچہ اور فن تعمیر کی زیادہ سرپرستی ہوئی، خاص طور پر شاہ جہاں کے دور حکومت میں۔ جنوبی ایشیا میں مغل یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات میں درج ذیل جگہیں شامل ہیں: آگرہ کا قلعہ، فتح پور سیکری، لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، لاہور کا قلعہ، شالامار باغات اور تاج محل، جسے "ہندوستان میں مسلم فن کا زیور" کہا جاتا ہے۔ دنیا کے ورثے کے عالمی طور پر قابل تعریف شاہکاروں میں سے ایک ہے۔
محیی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی (1240ء—1165ء)، دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق، قدوہ علما اور علوم كا بحر بیكنار ہیں۔ اسلامی تصوف میں آپ كو شیخ اکبر کے نام سے یاد كیا جاتا ہے اور تمام مشائخ آپ كے اس مقام پر تمكین كے قائل ہیں۔ مسلم تصوف میں وحدت الوجود کا تصور پہلے سے موجود تھا لیکن اس کو تفصیل سے بیان کرنا انہی کا کام ہے۔ اکثر محدثین اور بعض متکلمین، بالخصوص شیعہ علما، نے ان کے اس عقیدے کو الحاد و زندقہ سے تعبیر کیا ہے۔ مگر صوفیا انھیں شیخ الاکبر کہتے ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ جن میں فصوص الحكم اور الفتوحات المکیہ (4000 صفحات) بہت مشہور ہے۔ فتوحات المكيۃ 560 ابواب پر مشتمل ہے اور کتب تصوف میں اس کا درجہ بہت بلند ہے۔
باغ و بہار میر امن دہلوی کی تصنیف کردہ ایک داستان ہے جو اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج میں جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ عام خیال ہے کہ باغ و بہار کو میر امن نے امیر خسرو کی فارسی داستان قصہ چہار درویش سے اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن یہ خیال پایہ استناد کو نہیں پہنچتا۔ حافظ محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ان کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہے باغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے جو انگریزوں کو مقامی زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے تصنیف کیا۔ اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور پر جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ قرار دیا گیا ہے۔ اس داستان کی اشاعت کے بعد اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال تک پہنچا دیا۔ اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار کیا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد، "میر امن نے باغ و بہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مرورِ ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔" نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں "داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا"۔
خوتان کونگانگ ہوائی اڈا (اویغوری: خوتەن ئايرودرومى) (IATA: HTN، ICAO: ZWTN) عوامی جمہوریہ چین کے شہر خوتان میں واقع ایک ہوائی اڈا ہے۔ یہ ہوائی اڈا سطح سمندر سے 1,424 میٹر (4,672 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اس میں ایک رن وے (11/29) ہے، جس کی سطح کنکریٹ کی ہے اور اس کی لمبائی 3,200 میٹر جبکہ چوڑائی 50 میٹر ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی کے طیارے یہاں تعینات ہیں اور وہ اس تنصیب کو نئی نسل کے لڑاکا طیاروں کی آزمائش کے لیے استعمال کرتی ہے۔ چین کی شہری ہوا بازی انتظامیہ کے مطابق، 2011ء میں مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے خوتان ہوائی اڈا چین میں 83ویں نمبر پر تھا۔ اس سال ہوائی اڈے نے 359,040 مسافروں کو خدمات فراہم کیں، جبکہ آنے اور جانے والی پروازوں سمیت ہوائی جہازوں کی کل آمدورفت 3,236 رہی۔ اسی عرصے میں ہوائی اڈے کے ذریعے 1,270 ٹن سامان منتقل کیا گیا۔ .
قُصی بن کلاب (پیدائش: 400ء – وفات: 480ء) (عربی : قصي ابن كلاب ۔ انگریزی میں Qusayy) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آباء میں سے ایک تھے۔ ان کی والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد کلاب بن مرہ کا انتقال ان کے بچپن میں ہو گیا تھا۔ حضرت محمد آپ کی پانچویں پشت میں پیدا ہوئے۔ آپ ھاشم کے دادا تھے جن سے بنو ھاشم کا قبیلہ شروع ہوتا ہے۔ آپ کی پیدائش 400ء اور وفات 480ء میں ہوئی۔ یہ آپ ہی تھے جنھوں نے مکہ میں اپنی قوت مستحکم کی اور سرداری قائم کی اور کعبہ کی خدمت کی۔ بے شمار صحابہ کرام آپ کی نسل سے ہیں۔ آپ کی جوانی کے وقت کعبہ کا کنڑول بنو خزاعہ کے پاس تھا جس کے سردار ھلیل کی بیٹی سے آپ نے شادی کی۔ ھلیل کی وفات کے بعد چونکہ قصی بن کلاب بہت ذہین اور دانشمند سمجھے جاتے تھے اس لیے کعبہ کا کنٹرول اور سرداری ان کو مل گئی جس سے یہ خدمت بنو خزاعہ سے قریش میں منتقل ہو گئی۔ انھوں نے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کر کے اس کی حالت بہتر کی اور لوگوں کو اس کے ارد گرد گھر تعمیر کرنے کی دعوت دی۔ اس وقت انھوں نے دنیائے عرب کا پہلا مرکزِ شہر داری (ٹاؤن ھال) بھی تعمیر کیا۔ اس مرکزِ شہر داری میں تمام قبائل کے نمائندے اپنے معاشرتی، معاشی اور دیگر مسائل کے باہم فیصلے کیا کرتے تھے۔ مکہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ آپ نے قانون بنایا کہ کعبہ کے زائرین کو مفت کھانا اور پانی مہیا کیا جائے گا جس کے لیے انھوں نے مکہ کے قبائل کو قائل کیا کہ وہ ایک ٹیکس ادا کیا کریں۔ اس سے مکہ کے زائرین کی تعداد بہت بڑھ گئی۔
سائبر سیکس (انگریزی: Cybersex) جسے کمپیوٹر سیکس، انٹرنیٹ سیکس، نیٹ سیکس اور سائبرنگ بھی کہا جاتا ہے، ایک بینشی ہمبستری کا معاملہ ہے جس میں دو یا اس سے زیادہ افراد دور دراز کے فاصلوں پر کمپیوٹر نیٹ ورک سے جڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو مباشرت پر آمادہ پیامات بھیجتے ہیں۔ ایک طرح سے یہ تخیلی ہم بستری اس طرح مکمل ہوتی ہے کہ اس کے شرکاء اپنے اعمال کا تذکرہ کرتے ہیں اور اپنی گفتگو کے ساتھیوں کو جوابات بھیجتے ہیں جو اس شکل ہوتے ہیں کہ اس سے ان کی خود کی جنسی خواہشات اور تخیلات کو ہوا ملتی ہے۔ سائبر سیکس میں اکثر حقیقی زندگی کی مشت زنی کا ماحول ہوتا ہے۔ ایسے ماحول جن میں سائبر سیکس انجام پزیر ہو ضروری نہیں کہ مخصوص موضوع تک محدود رہے اور چیاٹ کے شرکاء اچانک کوئی دعوتی پیام وصول کر سکتے ہیں۔ سائبر سیکس کے معاملے کی کیفیت عمومًا اس بات پر منحصر ہے کہ شرکاء میں کس طرح ایک زندہ جذباتی دماغی تصویر اپنے ساتھیوں کے دماغوں میں چھوڑ سکتے ہیں۔ خیالات کی روانی اور بے یقینی کی معطلی بھی ضروری طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ سائبر سیکس کسی رواں یا بہت ہی گہرا چکے رشتے کے بیچ ممکن ہے، مثلًا ایسے عاشقوں کے بیچ کو جغرافیائی طور پر الک ہو چکے ہیں یا ان افراد کے بیچ ہو سکتا ہے جو پہلے سے ایک دوسرے سے غیر مانوس ہیں اور محض آن لائن مقامات یا سائبر جگہوں پر ملتے ہیں اور یہ لوگ ایک دوسرے سے ممکنہ طور پر اپنے ناموں اور شناختوں مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔ کچھ سیاق و سباق میں سائبر سیکس ویب کیمبرا کی مدد سے مزید روانی کا مظاہرہ کر سکتی ہے اور اس کے ذریعے ساتھیوں کے ویڈیو بر سر موقع فریق ثانی تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔
شاہ ولی اللہ (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اسلامی مفکر، محدث اور فلسفی تھے، جو مغلیہ سلطنت کے دور میں علم و دانش کا روشن مینار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی اصل روح کے مطابق اصلاح کا بیانیہ پیش کیا اور "تحریک ولی اللہی" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح، اتحاد اور روحانی بیداری تھا۔ شاہ ولی اللہ کا فلسفہ ولی اللہی اسلامی اصولوں، عقل اور اجتہاد کی بنیاد پر استوار تھا، جس میں معاشرتی بگاڑ اور فرقہ واریت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر میں اسلامی احیاء کی ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔
کاشغر بین الاقوامی ہوائی اڈا (چینی: 喀什机场) (اویغوری: قەشقەر ئايروپورتى) (IATA: KHG، ICAO: ZWSH) عوامی جمہوریہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر میں واقع ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ اسے کاشی ہوائی اڈا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک شہری ہوائی اڈا ہے جو کاشغر کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ اسے 10 مارچ 1954ء کو کھولا گیا۔ 2006ء میں یہاں سے پہلی بین الاقوامی پروازیں شروع ہوئیں۔ .
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیه عثمانیه"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
فویون کوکو توہائی ہوائی اڈا (چینی: 富蕴可可托海机场) (IATA: FYN، ICAO: ZWFY) چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر فویون میں واقع ایک عوامی ہوائی اڈا ہے۔ پرانا فویون ہوائی اڈا 1965ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ کاؤنٹی ہیڈکوارٹر سے 38 کلومیٹر (24 میل) کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہاں سے اورومچی کے لیے ایک پرواز چلتی تھی، جو 1994ء میں کوکو توہائی کان کی بندش کے بعد منسوخ کر دی گئی۔ . . چین کی ریاستی کونسل نے نومبر 2011ء میں فویون ہوائی اڈے کو منتقل کرکے دوبارہ تعمیر کرنے کی تجویز کی منظوری دی۔ نیا ہوائی اڈا صوبائی شاہراہ 226 اور قومی شاہراہ 216 کے سنگم کے قریب، کاؤنٹی ہیڈکوارٹر سے 21 کلومیٹر (13 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ 4C درجے کا علاقائی ہوائی اڈا ہے، جس کی تعمیر پر متوقع لاگت 410 ملین یوآن تھی۔ ہوائی اڈا 1 اگست 2015ء کو چائنا سدرن ایئر لائنز کی اورومچی دیوپو بین الاقوامی ہوائی اڈے سے آنے والی افتتاحی پرواز کے ساتھ کھولا گیا۔ .
علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں4 /جون 1857ء کو ہوئی تھی- ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا اور وکالت بھی کی مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ ہونے کے سبب ترک کر دی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
سید احمد شاہ المعروف پطرس بخاری (انگریزی: Patras Bokhari؛ پیدائش: یکم اکتوبر 1898ء - وفات: 5 دسمبر 1958ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مزاح نگار، افسانہ نگار، مترجم، شاعر، نقاد، معلم، برطانوی ہندوستان کے ماہر نشریات اور پاکستان کے سفارت کار تھے۔ پطرس کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مختصر مجموعہ پطرس کے مضامین پاکستان اور ہندوستان میں اسکولوں سے لے کر جامعات تک اردو نصاب کا حصہ ہے۔ ان کا شمار متحدہ ہندوستان میں نشریات کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پطرس اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ پطرس انگریزی کے پروفیسر تھے اور انگریزی میں اتنی قابلیت تھی کہ انھوں نے امریکا کی جامعات میں انگریزی پڑھائی اور وہیں وفات پائی اور دفن ہوئے۔
پشتون جنگجو ہیرو٫ شاعر اور فلسفی خوش حال خان خٹک نور الدین اکبر کے زمانے میں سرائے اکوڑ کے علاقے میں شھباز خان کے گھر میں سال 1022 ھ (کے مئی یا جون کے مہینے) میں پیدا ہوئے۔ باپ شہباز خان قبیلہ خٹک کا سردار اور مغلوں کی جانب سے علاقے کا جاگیردار(خان) تھا اور یہ خانی ان کو باپ دادا سے میراث میں ملی تھی۔ خوش حال خان تلواروں کے سائے میں پیدا ہوئے اور تلواروں کے سائے میں بڑے ہوئے۔ ان کی قسمت میں ایک بہت بڑا شاعر، ادیب اور عالم بننا لکھا گیا تھا۔ اگرچہ کچھ عرصہ درس و تدریس کی محفل میں بیٹھے تھے لیکن ان کی علم کا زیادہ تر حصہ ذاتی مطالعے، مشاھدے اور تجربے سے حاصل ہوا تھا۔ شکار کے شوق نے انھیں باقاعدہ پڑھائی کرنے کو نہیں چھوڑا مگر علم کے شوق کی وجہ سے انھوں نے اتنی ساری کتابوں کا مطالعہ کرایا کہ بعد میں انھوں نے عربی فقہ کی مشہور اور مستند کتاب ھدایہ کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا اور اسی وجہ سے ان کا شمار علما میں ہوتا ہے۔ اوائل عمر میں یوسف زئی قبیلے کے اکثر معرکوں میں شریک رہا۔ 1651ء میں باپ کے مرنے پر27 سال کی عمر میں اپنے قبیلے کا سردار بنا۔ شروع سے ہی مغلوں کے وفادار تھے اور ٱپکا لشکر مغل فوج میں ھر اول دستے کی حیثیت رکھتا تھا اور آپ نے مغلوں کی بہت خدمت کی۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں اس کے ایک صوبیدار نے اس کو کسی دشمن کے کہنے پر خوش حال خان سے بد ظن کر دیا حتٰی کہ اسے گرفتار کر لیا گیا اور وہ تین چار برس دہلی اور رنتھمبور کے قلعوں میں قید رہا۔ اپنے خلاف اورنگزیب کی ان شکایتوں اور قید و بند کی صعوبتوں کو خوش حال خان خٹک ایک جگہ اپنی شاعری ميں اس طرح بلاوجہ قرار ديتے ھيں -
میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار 2013ء تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔
پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز کی فہرست
یہ پاکستان آرمی میں حاضر سروس جنرلوں کی فہرست ہے۔ اس وقت پاک فوج کے پاس 2 جنرلز ، 29 لیفٹیننٹ جنرلز (بشمول 2 اے ایم سی جنرلز) اور 186 میجر جنرلز (بشمول 42 اے ایم سی جنرلز) ہیں۔
بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India)، جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔
دار العلوم دیوبند بھارت کا ایک اسلامی مدرسہ ہے، جہاں سنی دیوبندی مکتب فکر کا آغاز ہوا۔ یہ ادارہ اترپردیش ضلع سہارنپور کے ایک قصبہ دیوبند میں واقع ہے۔ یہ مدرسہ 1866ء میں محمد قاسم نانوتوی، فضل الرحمن عثمانی، سید محمد عابد دیوبندی اور دیگر حضرات نے قائم کیا تھا۔ محمود دیوبندی اس ادارے کے پہلے استاد اور محمود حسن دیوبندی اس کے پہلے طالب علم تھے۔
اللہ عربی زبان میں خالق کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے۔، خالق تخلیق کرنے والے کو کہا جاتا ہے اور فارسی اور اردو زبانوں میں اللہ کے لیے خدا اور پروردگار کے الفاظ بھی ادا کیے جاتے ہیں۔ کھوار زبان میں اللہ کے لیے خدای کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ کا لفظ انگریزی زبان کے لفظ God کا عربی متبادل ہے۔ یہ لفظ مسلمانوں کی زبانوں تک محدود نہیں بلکہ مشرق وسطی اور دیگر اسلامی ممالک میں رہنے والے مسیحی، یہودی اور بعض اوقات دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی خدا واحد کے لیے اللہ کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں اور بائبل کے عربی تراجم میں God کے لیے اللہ کا لفظ ہی استعمال کیا جاتا ہے