اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
قریشی ایک مسلمان خاندان ہے، جس سے مراد وہ شخص ہے جو قریش سے تعلق رکھتا ہو اور انکا نسب آگے چل کر صدیقی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد ہیں فاروقی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی طری مختلف صحابہ و اہل بیت کی اولادیں قریشی ہیں جس کی اولاد ہوں گے انھی سے منسوب ہوں گے شیخ قریشی ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے قریشی ہیں شیخ انکا لقب ہے جو معزز اور بزرگی کی وجہ سے دیا گیا یہ لوگ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پہلے مریدین میں سے ہیں جب وہ دعوت دین اسلام کے لیے بر صغیر میں تشریف لائے
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
ماہِ رمضان (رمضان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کی جمع رمضانات، ارمضاء، ارمضۃ یا رماضین آتی ہے) یہ ہجری تقویم کا نواں مہینہ ہے جو شعبان کے بعد آتا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ مہینہ دیگر ہجری مہینوں کی بہ نسبت بہت خصوصیت اور مقام ومرتبہ والا سمجھا جاتا ہے۔ اس مہینے میں اسلام کا ایک اہم رکن روزہ رکھا جاتا ہے، روزہ کے دنوں میں فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانا پینا منع ہوتا ہے۔ اسی ماہ میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید مکمل ہوا۔
بنگال کا مشرقی حصّہ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت پاکستان کا حصہ بنا اور مشرقی پاکستان (East Pakistan) کہلایا۔ پاکستان کے ان دونوں حصوں کے درمیان 1600 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان واحد رشتہ اسلام کا تھا حالانکہ نسلی اور لسانی دونوں لحاظ سے یہ ممالک بالکل جدا تھے اور مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش حکومت نے ان تعصبات کو جگایا اور بنگلہ دیش نے شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں 16 دسمبر 1971ء میں آزادی حاصل کی۔ بھارت نے جنگ 1971ء میں بنگلہ دیش کی حمایت کی اور یوں امت مسلمہ کی سب سے بڑی مملکت پاکستان دو لخت ہو گئی۔
عرب اسرائیل تنازع (عربی: الصراع العربي الإسرائيلي، عبرانی: הסכסוך הישראלי ערבי) 1948ء سے جاری عرب لیگ اور ریاست اسرائیل کے مابین تنازع ہے جو درحقیقت ارض فلسطین کے استحقاق پر ہے۔ جس سے عرب میں جذبہ انتقام ابھرا اور 1948ء میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی، جس میں کثیر تعداد میں عرب افواج اور رضاکار شریک ہوئے۔ اخوان المسلمین سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ لیکن جنگ میں عربوں کو ہزیمت ہوئی جس کے نتیجہ میں فلسطینیوں کو ہجرت اور پناہ گزینی پر مجبور ہونا پڑا۔
شوکت تھانوی 3 فروری 1904کو پیدا ہوئے اور ایکصحافی،ناول نگار، ڈراما نگار،افسانہ نگار، مزاح نگار، ادیب اور شاعر تھے۔انھوں نے ادب کی ہر صنف میں نام کمایا مگر ان کی اصل شہرت مزاح نگاری اور خاص طور پر روزنامہ جنگ میں لکھے گئے ان کے مزاحیہ کالم ہیں۔ نام محمد عمر اور شوکت تخلص تھا۔ اور یہ شوکت تھانوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ اور 4 مئی 1963 میں انتقال کرگئے۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
اردو زبان کی ابتدا کے متعلق نظریات
اردو کی ابتدا و آغاز کے بارے میں کئی مختلف نظریات ملتے ہیں یہ نظریات آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتدا کی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا کا سراغ قدیم آریاؤں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ ہریانوی زبان سے شروع ہوئی۔ بہر طور اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتدا مسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
وزیر آباد، ضلع وزیر آباد، صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے۔ وزیرآباد دریا چناب کے کنارے لاہور سے 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کے قریبی دیہات میں علی پور(پاکستان)، احمد نگر(پاکستان)، رسول نگر اور سوہدرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم تاریخی حیثیت کے حامل گاؤں منظورآباد اور بهروکے اور دھونکل بهی واقع ہیں اور کوٹلی پیر احمد شاه بهی اپنے اندر ایک عظیم تاریخ لیے ہوئے ہے، مغل بادشاہ شاہجہان کے گورنر وزیر خان نے چونکہ اس شہر کی بنیاد رکھی لہذا اس نسبت سے وزیر آباد کا نام ملا،
غلام عباس 17 نومبر 1909ء میں امر تسر (چند محققین کی رائے میں 1907) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاہور کے دیال سنگھ ہائی اسکول سے حاصل کی۔ لکھنے لکھانے کا شوق فطرت میں داخل تھا۔ ساتویں جماعت میں ایک کہانی "بکری" لکھی۔ کہانی استاد محترم مولوی لطیف علی کو دکھائی۔ جنھوں نے حوصلہ افزائی فرمائی تو یہ شوق اور بڑھا۔ نویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے اس قابل ہو گئے کہ انگریزی نظموں اور کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کر سکیں۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) ایک فوجی، سیاسی اور مذہبی رہنما تھے جو اسلام کے آخری نبی اور بانی بھی تھے۔ محمد تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشواؤں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی کنیت ابو القاسم تھی۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیا کے سلسلے کے آخری نبی تھے جن کو خدا نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔
ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، المعروف ڈاکٹر این اے بلوچ (انگریزی: Nabi Bakhsh Khan Baloch)، (پیدائش: 16 دسمبر،1917ء - وفات: 6 اپریل، 2011ء) پاکستان میں پیدا ہونے والے مؤرخ، ماہرِ لسانیات، محقق، ماہرِ لوک ادب، ماہرِلطیفیات، ماہرِ تعلیم، بانی وائس چانسلر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی، پروفیسر ایمریطس، مشیر قومی ہجرہ کونسل اور بانی چیئرمین سندھی زبان کابااختیار ادارہ (Sindhi Language Authority) تھے۔ جدید سندھی ادب کے اندر نمایاں ترین شخصیات میں شامل تھے
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا (پشتو: خېبر پښتونخوا) یا مختصر طور پر پختونخوا، پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو پاکستان کے شمالی مغربی حصّے میں واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا جبکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے جو یکم جولائی 1970ء کو قائم ہوا۔ 2010 سے قبل یہ صوبہ سرحد کہلاتا تھا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی چار کروڑ آٹھ لاکھ چھپن ہزار ستانوے 40٫856٫097 افراد پر مشتمل ہے۔ صوبائی زبان پشتو اور صوبائی دار الحکومت پشاور ہے۔
روزہ اسلام کے 5 ارکان میں سے ایک ہے جسے عربی میں صوم کہتے ہیں۔ مسلمان اسلامی سال کے مقدس مہینے رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں۔ روزے میں مسلمان صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے اور اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے سے باز رہتے ہیں۔ روزہ رکھنے کے لیے صبح صادق سے قبل کھانا کھایا جاتا ہے جسے سحری کہتے ہیں جس کے بعد نماز فجر ادا کی جاتی ہے جبکہ غروب آفتاب کے وقت اذان مغرب کے ساتھ کچھ کھا پی کر روزہ کھول لیا جاتا ہے جسے افطار کرنا کہتے ہیں۔
رمضان کے مہینے میں عشاء کی نماز کے بعد اور وتروں،سے پہلے باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ جو بیس رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور دو دو رکعت کرکے پڑھی جاتی ہے۔ ہر چار رکعت کے بعد وقف ہوتا ہے۔ جس میں تسبیح و تحلیل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے اس کا نام تروایح ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں رات کی عبادت کو بڑی فضیلت دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلی تروایح کے باجماعت اور اول رات میں پڑھنے کا حکم دیا اور اُس وقت سے اب تک یہ اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔ اس نماز کی امامت بالعموم حافظ قرآن کرتے ہیں اور رمضان کے پورے مہینے میں ایک بار سنت ہے اور زیادہ مرتبہ قرآن شریف پورا ختم کیا جا سکتا ہے حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی حضرات بیس رکعت پڑھتے ہیں اور اہل حدیث/سلفی آٹھ رکعت، تروایح کے بعد 3وتر بھی باجماعت پڑھے جاتے ہیں۔یعنی 11رکعات پڑہتے ہیں
اورینٹل کالج لاہور یا کلیۃ الشرقیہ (اوریئنٹل کالج)، جامعہ پنجاب اولڈ کیمپس لاہور، پاکستان میں علوم الشرقیہ (Oriental Learning) کا تعلیمی ادارہ ہے۔ اس میں مختلف زبانوں میں ماسٹر درجے تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جبکہ کچھ زبانوں میں پی ایچ ڈی تک کا انتظام ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی، اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے پرنسپل ہیں۔ اس کے شعبہ جات میں سے مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں۔
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیہ عثمانیہ"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
ستارۂ امتیاز، پاکستان میں سِول اور عسکری شخصیات کو عطاء کیا جانے والا تیسرا بڑا اعزاز ہے۔ اِس کا ترجمہ ستارۂ فضیلت بھی کیا جاتا ہے، ایک ایسا اعزاز ہے جو حکومتِ پاکستان عسکری اور سِول شخصیات کو عطاء کرتی ہے۔ سِول شخصیات کو یہ اعزاز اُن کی اَدب، فنونِ لطیفہ، کھیل، طب یا سائنس کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اِس اعزاز کا اعلان سال میں ایک دفعہ یومِ آزادی کے موقع پر کیا جاتا ہے اور یومِ پاکستان کے موقع پر صدرِ پاکستان اس اعزاز سے پاکستانی عوام کو نوازتے ہیں۔ عسکری حوالے سے یہ اعلیٰ ترین اعزاز بریگیڈئیر یا میجر جنرل کے رُتبہ پر فائز اُن فوجی افسران کو عطاء کیا جاتا ہے، جنھوں نے نمایاں خدمات سر انجام دی ہوں۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
شفقت راناانگریزی: Shafqat Rana(پیدائش: 10 اگست 1943ء شملہ، پنجاب، انڈیا) ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔ جس نے پاکستان کی طرف سے 5 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی۔ شفقت رانا ایک اچھے دائیں ہاتھ کے بلے باز تھے، ڈرائیو اور کٹ پر مضبوط تھے، جنہیں نشیب و فراز سے بھرپور کیریئر میں اتنے مواقع نہیں ملے تاہم انھوں نے چھ سالوں میں پانچ ٹیسٹ کھیلے ان کے کیرئیر کی خاص بات 1969-70ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف سامنے آئی تھی جب انھوں نے لاہور میں منعقدہ تیسرے ٹیسٹ میں کیریئر کے بہترین 95 اور مجموعی طور پر 167 رنز بنائے اور ڈھاکہ میں 65 رنز بنائے جہاں فسادات کی وجہ سے کھیل کو روکنا پڑا شفقت رانا کی فیملی کا بھی کرکٹ سے گہرا لگاو ہے جس میں شکور رانا (بھائی)، عظمت رانا (بھائی)، مقصود رانا(بھتیجا)، منصور رانا (بھتیجا) اور سلطان رانا(بھائی) شامل ہیں شفقت رانا نے پاکستان کے علاوہ لاہور، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز سمیت بہت سی کرکٹ ٹیموں کی طرف سے کرکٹ کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
آئی سی سی ٹی/20 عالمی کپ 2026ء
آئی سی سی ٹی/20 عالمی کپ 2026ء مینز ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کا 10 واں ایڈیشن ہوگا۔ اس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا فروری سے مارچ 2026ء تک کرنے والے ہیں۔ بھارت دفاعی چیمپئن ہے۔
ڈاکٹر معین نظامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعر، محقق اور اورینٹل کالج لاہور، جامعہ پنجاب کے پرنسپل اور فارسی کے پروفیسر ہیں۔ معین نظامی 27 دسمبر 1963ء کو معظم آباد، ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور ایف اے میں وظیفہ حاصل کیا۔ بی اے کا امتحان جامعہ پنجاب سے پاس کیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فارسی اور اسلامیات کے مضامین میں یونیورسٹی میں اول آئے۔ ادبی ذوق و شوق انھیں ورثے میں ملا ہے۔ ان کے والد محترم پروفیسر صاحبزادہ غلام نظام الدین ایم اے (اردو - فارسی) شعرِ ناب، شاخِ گل، چاندنی کا شہر، ہو المعظم اور پیر گوہر جیسی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا خاندان روحانی پیشوائی کی وجہ سے عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے دادا خواجہ غلام سدید الدین، شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی کے خلیفہ اعظم ہیں۔ معین نظامی نہ صرف نامور شاعر ہیں بلکہ بلند پایہ ادیب بھی ہیں۔ ان کی مطبوعہ تصانیف میں النبی المعظم (سیرت رسول)، روشن چراغ (تصوف و معرفت)، جھلک (ادبی مضامین)، نیند سے بوجھل آنکھیں(مجموعہ کلام)، سر الشہادتین (سیرت امام حسین)، ایران میں برصغیر کے فارسی مطالعات، متروک (نظمیں)، اقبال شناسی، معبد (نظمیں)، تجسیم (نظمیں)، نیند سے بوجھل آنکھیں (غزلیں)، طلسمات (نظمیں)، استخارہ (غزلیں)، معین الطریقت، نظمیں تیرا طواف کرتی ہیں، گنج صدق شامل ہیں۔ ان کے مضامین روحانی پیغام، ضیائے حرم اور روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہوتے ہیں۔ آپ شاعری میں احسان دانش سے تلمذ رکھتے ہیں۔
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین فلم
فلم فیئر اعزاز بھارت کی ہندی زبان کی فلم انڈسٹری بالی وڈ سے تعلق رکھنے والی دونوں جمالیاتی اور تکنیکی شخصیات کی بہترین کارکردگیوں کو سراہنے کے لیے سالانہ دئے جانے والے فلمی اعزازات ہیں۔ ان اعزازات کا انعقاد ایک بڑے بھارتی میڈیا گروپ دی ٹائم کی طرف سے ہوتاہے۔ فلم فیئر اعزاز کی تقریب بھارت کی قدیم ترین بھارتی ہندی فلمی اعزاز میں سے ایک ہے۔ اس اعزاز کا آغاز 1954ء میں ہوا، جب نیشنل فلم ایوارڈ بھی قائم ہوا تھا۔ یہ اعزازات بالی ووڈ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ان کی کارکردگی پرعوام کے ووٹ اور جیوری ارکان کے ووٹ کی بنیاد پر دی ہر سال دیے جاتے ہیں۔
خدیجہ مستور (ولادت: 11 دسمبر، 1927ء - وفات: 26 جولائی، 1982ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو کی مشہور و معروف ناول نگار و افسانہ نگار تھیں جو اردو ادب کی بے حد مقبول شخصیات میں سے ایک تھیں۔ خدیجہ اپنے ناول آنگن کی وجہ سے دنیائے ادب میں شہرت رکھتی ہیں جس پر ہم ٹی وی کی طرف سے ڈراما بھی بنایا گیا۔ ان کی چھوٹی بہن ہاجرہ مسرور بھی ایک ناول نگار و افسانہ نگار تھیں جبکہ شاعر، ڈراما نگار اور کالم نگار خالد احمد (متوفی 2013ء) ان کے چھوٹے بھائی تھے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
نفلی نماز کے اوقات یا غیر فرض نمازوں کے وقت۔ یہ "زمانی اوقات" ہیں۔ نفلی نماز کا وقت وہ ہے جو شرع نے اس کے ادا کرنے کے لیے مقرر کیا ہے اور وقت میں داخل ہونا مقید نفلی نماز کی صحت کے لیے شرط ہے، یعنی محدود نفلی کے وقت میں ایک معین وقت داخل ہوتا ہے یا کسی فعل یا سبب کا ہونا۔ غیر محدود نفلی نماز کے لیے کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا، بلکہ اسے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے سوائے ان اوقات کے جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
اللہ کے ذاتی نام 'اللہ' کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ انھیں کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے اچھے ناموں سے پکارا جائے۔ روایات میں بکثرت نیچے دیے گئے ننانوے صفاتی نام ملتے ہیں جن کے ساتھ ان کا اردو ترجمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔
احساس پروگرام ( لفظی 'Compassion') ایک سماجی تحفظ کا نیٹ ورک اور غربت کے خاتمے کا پروگرام تھا جسے حکومت پاکستان نے 2019 میں شروع کیا تھا پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اسے ایک فلاحی ریاست کی طرف ایک اہم اقدام قرار دیا جس کا وعدہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں پاکستانی عوام سے کیا تھا۔ اس کا مقصد پسماندہ طبقے کی ترقی، عدم مساوات کو کم کرنا، عوام میں سرمایہ کاری کرنا اور ملک میں پسماندہ اضلاع کو اٹھانا ہے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
سالوں بعد سورج اور چاند کی کشش کی وجہ سے زمین کی گردش میں ایک ثانیہ (سیکنڈ) کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے ماہرین مخصوص اوقات میں گھڑی میں ایک لیپ ثانیہ کا اضافہ کرتے ہیں۔ یہ اضافہ عموماً 30 جون یا 31 دسمبر کو 11 بج کر 59 دقیقے (منٹ) اور 60 ثانیے یو ٹی سی پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق اس وقت 4 بج کر 59 دقیقے اور 60 ثانیے ہوتے ہیں۔ 1971 سے لے کر اب تک 25 لیپ ثانیے بڑھائے جا چکے ہیں۔ 30 جون 2015 کو چھبیسواں لیپ ثانیہ بڑھایا گیا۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
مجیب اللہ ندوی (1918ء – 2006ء) ایک بھارتی عالم دین، حنفی فقیہ، ادیب، مصنف، مؤرخ، دار المصنفین کے رفیق اور صوفی تھے۔ اتر پردیش کے ضلع غازی پور میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ مظہر العلوم بنارس اور دار العلوم ندوۃ العلماء میں تعلیم حاصل کی۔ 1944ء میں فضیلت کی تکمیل اور سند فراغت حاصل کرنے کے بعد دار المصنفین سے وابستہ ہوئے۔ 1962ء میں اعظم گڑھ شہر میں ایک دینی درسگاہ جامعۃ الرشاد قائم کی۔ شیخ وصی اللہ الہ آبادی اور سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور شیخ محمد احمد پرتاپ گڑھی سے استفادہ کیا اور مؤخر الذکر سے مجاز بیعت و ارشاد ہوئے۔ 2006ء میں وفات پائی۔ فقہ و حدیث اور تاریخ کے موضوع پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔
قرآن کریم، قرآن مجید یا قرآن شریف (عربی: القرآن الكريم) دین اسلام کی مقدس و مرکزی کتاب ہے جس کے متعلق ہم اسلام کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ یہ کلام الہی ہے اور اسی بنا پر یہ انتہائی محترم و قابل عظمت کتاب ہے۔ اسے ہمارے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے ذریعے اتارا گیا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے جیسے جیسے قرآن مجید کی آیات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتیں آپ صلی علیہ وآلہ وسلم اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سناتے اور ان آیات کے مطالب و معانی سمجھا دیتے۔ کچھ صحابہ کرام تو ان آیات کو وہیں یاد کر لیتے اور کچھ لکھ کر محفوظ کر لیتے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ہر قسم کی تاریف بیان کرتا ہے پاک ہے محفوظ ہے ، قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ افضل کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔ اور صحف ابراہیم، زبور اور تورات و انجیل کے بعد آسمانی کتابوں میں یہ سب سے آخری اور افضل کتاب ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اب اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے پیش نظر اسے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ نیز عربی زبان و ادب اور اس کے نحوی و صرفی قواعد کی وحدت و ارتقا میں بھی قرآن کا خاصا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے وضع کردہ عربی زبان کے قواعد بلند پایہ عرب محققین اور علمائے لغت مثلاً سیبویہ، ابو الاسود الدؤلی اور خلیل بن احمد فراہیدی وغیرہ کے یہاں بنیادی ماخذ سمجھے گئے ہیں۔
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
معبد آناهيتا ایران کے تاریخی آثار میں سے ایک ہے جو اشکانی (پارتی) اور ساسانی دور سے تعلق رکھتا ہے اور اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ایران اور دنیا کے سب سے بڑے پتھریلے آثار میں سے ایک ہے اور کرمانشاہ صوبے کے شہر کنگاورو میں واقع ہے۔ یہ تخت جمشید کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے اور آج بھی مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ساتھ ہی یہ ماہر آثار قدیمہ کے لیے تحقیقی اور کھدائی کا اہم مقام بھی ہے۔ قدیم ایرانیوں کے نزدیک معبد آناھیٹا پانی کا محافظ تھا اور اس کے لیے خاص احترام اور اہمیت کا جذبہ رکھتے تھے۔ اس معبد کا طول 220 میٹر اور عرض 210 میٹر ہے، جبکہ اس کے گرد لگائے گئے دیوار کی موٹائی 18 میٹر سے زیادہ ہے۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
سیکس ایجوکیشن ایک برطانوی طربیہ ڈراما ویب ٹیلی ویژن سیریل ہے جو لوری نان نے تخلیق کیا ہے۔ آسا بٹرفیلڈ ایک عدم تحفظ کے شکار نوجوان کے طور پر اور گیلین اینڈرسن اس کی ماں ہے، جو ایک نفسیاتی جنسی مسائل کی معالجہ ہے، پریمئیر 11 جنوری 2019 کو نیٹ فلکس پر نشر ہوا۔ شوتی گٹوا، ایما میکی، کانر سوینڈلز، ایمی لو ووڈ اور کیدار ولیم اسٹرلنگ معاون اداکار ہیں۔ نشر ہونے کے بعد ہی فلمی نقادوں نے اسے سراہا جس سے یہ جلد ہی یہ سیزن نیٹ فلکس کے لیے تجارتی کامیابی کے طور پر
2016ء کاؤنٹی چیمپئن شپ (اسپانسرشپ کی وجوہات کی بنا پر 2016ء سپیک سیورس کاؤنٹی چیمپئن شپ کے نام سے مشہور) 117 واں کرکٹ کاؤنٹی چیمپئن شپ سیزن تھا۔ مارچ 2016ء میں اعلان کیا گیا تھا کہ 2017ء کا سیزن میں ڈویژن ون میں صرف آٹھ ٹیمیں شامل ہوں گی، جس کا مطلب ہے کہ 2016ء کے سیزن میں صرف ایک ٹیم کو ڈویژن ٹو سے ترقی دی جائے گی جبکہ دو ٹیموں کو ڈویژن ون سے خارج کر دیا گیا تھا۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
سورۃ البقرہ قرآن کی دوسری اور سب سے طویل سورۃ ہے۔ اس کی 286 آیات ہیں اور قرآن کے پہلے پارے میں سورہ الفاتحہ کو چھوڑ کر باقی تمام آیات، دوسرا پارہ مکمل طور پر اور تیسرے پارے کا بڑا حصہ اسی سورۃ پر مشتمل ہے۔ قرآن کی مشہور آیت الکرسی بھی اسی سورۃ کا حصہ ہے اور تیسرے پارے میں آتی ہے۔ اس سورت میں بہت سے اسلامی قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ بقرہ کے لفظی معنی "گائے" ہیں۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
مجمع وکالہ، سبیل اور کتاب کایتبای
مجمع وکالہ، سبیل اور کُتّاب سلطان قایتبای ایک تاریخی و آثارِ قدیمہ پر مشتمل مجموعہ ہے، جسے مملوکی سلطان سیف الدین قایتبائی نے 1477ء (882ھ) میں تعمیر کروایا۔ یہ مجموعہ اسلامی قاہرہ کے قرونِ وسطیٰ کے تاریخی علاقے میں واقع ہے، جسے آج کل تاریخی ضلع قاہرہ یا قاہرہ المعز کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ شہر قاہرہ ، مصر میں واقع ہے۔ یہ مجمع چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہے:
صلیبی جنگیں (انگریزی: Crusades) مذہبی جنگوں کا ایک سلسلہ تھا جسے قرون وسطی میں لاطینی کلیسیا نے منظور کیا تھا، جس میں خاص طور پر مشرقی بحیرہ روم کی مہمات، جن کا مقصد ارض مقدسہ کو اسلامی حکمرانی سے آزاد کرانا تھا۔ ان فوجی مہمات میں سے سب سے مشہور 1095ء اور 1291ء کے درمیانی عرصے میں مقدس سرزمین پر لڑی گئی جنگیں تھیں جن کا مقصد یروشلم اور اس کے آس پاس کے علاقے کو مسلم حکمرانی سے فتح کرنا تھا۔ 1095ء میں پوپ اربن دوم نے کلرمونٹ کی کونسل میں پہلی مہم کا اعلان کیا۔ اس نے بازنطینی شہنشاہ الیکسیوس اول کومنینوس کے لیے فوجی حمایت کی۔ الیکسیوس اول کومنینوس نے مغربی یورپ کے تمام شرکاء کو صلیبی جنگوں کی دعوت دی۔ زیادہ تر مہمات منظم فوجوں کے ذریعے چلائی گئیں، جن کی قیادت بعض اوقات بادشاہ کرتے تھے۔ پوپ کی ابتدائی کامیابیوں نے چار صلیبی ریاستیں قائم کیں جن میں کاؤنٹی آف ایڈیسا، امارت انطاکیہ، یروشلم کی بادشاہی اور طرابلس کی کاؤنٹی شامل تھیں۔ پہلی صلیبی جنگ جس کے نتیجے میں 1099ء میں یروشلم کی فتح ہوئی، درجنوں فوجی مہمات کا حصہ بنیں۔ صلیبی جنگیں بنیادی طور پر گھڑ سوار جنگیں تھیں اور ان جنگوں کا نام ان لوگوں کے نام پر رکھا گیا تھا جنھوں نے اس میں حصہ لیا تھا اور یہ مذہبی مہمات کا حصہ تھیں۔ ان جنگوں کا مقصد بنیادی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اور اس کا دفاع کرنے کے لیے صلیب کے نعرے کے تحت تھیں جس کا مرکزی مقدس سرزمین یروشلم پر قبضہ کرنا تھا۔ یروشلم پر قبضہ کرنے کے لیے ان لوگوں نے سرخ کپڑے سے صلیب کا نشان تھام لیا۔ بازنطینیوں کے زوال کی بنیادی وجہ بازنطینی سلطنت کے دار الحکومت بازینطینم(قسطنطنیہ ) سے گزرنے والی پہلی مہمات کی وجہ سے ہونے والی تباہی تھی۔
بو علی سینا کا مکمل نام علی الحسین بن عبد اللہ بن الحسن بن علی بن سینا (980ء تا 1037ء) ہے، جو دنیائے اسلام کے ممتاز طبیب اور فلسفی ہیں۔ ابن سینا یا ابی سینا فارس کے رہنے والے ایک جامع العلوم شخص تھے جنھیں ہارون الرشید کے دور میں اسلام کے سنہری دور کے سب سے اہم مفکرین اور ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابن سینا کے نام پر ہی آج ادویات کو میڈیسن کہا جا تا ہے
طارق رحمٰن (پ۔ 20 نومبر 1965ء) مقامی طور پر طارق ضیاء کے نام سے معروف، بنگلہ دیشی سیاست دان اور موجودہ وزیرِ اعظم بنگلہ دیش ہیں۔ وہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے صدر نشین ہیں اور 2026ء سے بوگرہ-6 اور ڈھاکہ-17 کی نمائندگی جاتیہ سنسد میں کر رہے ہیں۔ وہ فروری 2018 سے اپنی والدہ خالدہ ضیاء کی قید کے بعد قائم مقام صدر نشین کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ وہ ضیاء الرحمن (جو بنگلہ دیش کے ساتویں صدر تھے) اور خالدہ ضیاء (جو ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں) کے بڑے صاحبزادے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !