اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
عید الفطر ایک اہم مذہبی تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔ عید کے دن مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو عید مناتے ہیں۔ کسی بھی قمری ہجری مہینے کا آغاز مقامی مذہبی رہنماؤں کے چاند نظر آجانے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ ممالک ایسے ہیں جو سعودی عرب کی پیروی کرتے ہیں۔ عید الفطر کے دن نماز عید (دو رکعت 6 زائد تکبیروں)کے ساتھ پڑھی جاتی ہے، جسے جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس میں 6 زائد تکبیریں ہوتی ہیں (جن میں سے 3 پہلی رکعت کے شروع میں ثنا کے بعد اور فاتحہ سے پہلے اور بقیہ 3 دوسری رکعت کے رکوع میں جانے سے پہلے ادا کی جاتی ہیں)۔ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں انھیں حکم دیا گیا ہے کہ "رمضان کے آخری دن تک روزے رکھو۔ اور عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرو"۔
شیعہ فرقہ اسمعیلیوں کی شاخ دعوت طیبی کے پیرو کار ہیں ۔ مگر عموماً یہ بوہرے کہلاتے ہیں جو بیوپار کا گجراتی تلفظ ہے اور بوہرے عموماً تجارت پیشہ ہیں ۔ خیال رہے برہمنوں کی ایک گوت بوہرہ ہے اور یہ بھی تجارت پیشہ ہیں ۔ بیشتر بوہرے گجرات ، بمبئی ، برہانپور ، مالوہ ، راجپوتانہ اور کراچی میں رہتے ہیں ۔ جب کہ ان کا داعی پہلے سورت میں رہتا تھا اور بمبئی میں رہتا ہے ۔بوہرہ اسماعیلی فرقے کے مستعلیہ طیبیہ کو کہتے ہیں مستعلیہ کا یہ گروہ یمن، بھارت، افریقا، الجزائر اور پاکستان میں غیر آغا خانی اسماعیلی ہیں یہ وہ اسماعیلی ہیں جو ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ بوہرہ گجراتی لفظ ووہرہ جو ایک ہندو ذات تھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ مغربی ہند میں ہندو بوہرے بھی ہیں اور سنی بوہرے بھی۔ بالعموم یہ بیوپاری ہیں اور شہروں میں رہتے ہیں۔ افریقا اور الجزائر میں بھی تجارت کرتے ہیں اور عرب و مسقط میں پھیلے ہوئے ہیں۔ احمد، عبد اللہ وغیرہ ان کے مشہور رہنما داعی مطلق تھے۔ جن کے مزارات قدیم شہر کھنبات ’’بھارت‘‘ میں ہیں۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
علی اردشیر لاریجانی (3 جون 1958 – 17 مارچ 2026ء)، ایران کے ایک قدامت پسند سیاست دان، فلسفی اور سابق فوجی افسر تھے۔ وہ قُم کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہوئے اور 12 جون 2008 سے مجلس شورائ اسلامی ایران کے سپیکر رہے تھے۔ مارچ 2016 میں مجلس شورائی اسلامی ایران کے دسویں دور کے انتخابات میں قُم سے دوسری بار منتخب ہوئے۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے کے سربراہ، وزیر ثقافت و اسلامی راہنمائی اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
نوروز (لغوی معنی: ’’نیا دن‘‘) ایرانی سال نو کا نام ہے۔ اپنی بنیاد میں ایرانی اور زرتشتیتی تہوار ہونے کے باوجود، نوروز کا تہوار دنیا بھر میں متنوع نسلی و لسانی گروہ مناتے ہیں۔ مغربی ایشیا، وسط ایشیا، قفقاز، بحیرہ اسود اور بلقان میں یہ تہوار 3000 سالوں سے منایا جا رہا ہے۔ بیشتر تہوار منانے والوں کے لیے یہ ایک سیکولر تعطیل ہے جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مناتے ہیں، لیکن زرتشتی، بہائی اور بعض مسلم گروہوں کے لیے یہ مذہبی دن ہے۔ نوروز بہاری اعتدالین کا دن ہے اور شمالی نصف کرہ میں بہار کے آغاز کی علامت ہے۔ یہ ایرانی تقویم کے پہلے مہینے فروردین کا پہلا دن ہوتا ہے۔ یہ عموماً 21 مارچ یا اس سے پچھلے یا اگلے دن منایا جاتا ہے۔ سورج کے خط استوا سماوی کو عبور کرنے اور دن اور رات برابر ہونے کے لمحے کو ہر سال شمار کیا جاتا ہے اور خاندان رسومات ادا کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ نوروز کو ایرانی قوم کی مختلف نسلی گروہوں کے مابین اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے: ایران نسلی گروہوں جیسے فارس ، آذربائیجانی، کورد، بلوچی، سمنانی، تالش، لور ، بختیاری ، گیلکی ، مازندرانی ، خوزستانی عرب اور گورگانی ترکمنوں سب مل کر یہ جشن مناتے ہیں.
آبنائے ہرمز (عربی: مضيق ہرمز، فارسی:تنگہ ہرمز) خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ایک اہم آبنائے ہے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور اومان واقع ہیں۔ یہ آبنائے کم از کم 21 میل چوڑی ہے۔ یہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد بحری راستہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا 20 فیصد اس آبنائے سے گذرتا ہے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
اہل تشیع یا شیعیت (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت و خلافت کے قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ (27ق.ھ / 32ھ) (عربی: عَبْدُ اللهِ بنُ مَسْعُوْدِ بنِ غَافِلِ بنِ حَبِيْبٍ الهُذَلِيُّ رضی اللہ عنہ ) حضرت محمد کے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے۔ محمد نوید ازہر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اسلام قبول کرنے والے اولین اصحاب رسولؐ میں سے ہیں۔ امام بغوی نے آپ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’’ میں اسلام لانے والوں میں چھٹا شخص ہوں،، آپ کے قبول اسلام کا واقعہ نہایت دلچسپ ہے۔ آپ عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہے تھے کہ ادھر سے حضور اکرمؐ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ہمراہ گذرے حضورؐ نے دودھ طلب فرمایا۔ حضرت ابن مسعودؓ نے عرض کیا۔ مجھے امانت دار بنایا گیا ہے کہ بکریاں چرائوں اور ان کی حفاظت کروں، دودھ پلانے کا مجاز نہیں ہوں۔ حضورؐ نے بکریوں میں سے ایک ایسی بکری تلاش کی جو ابھی دودھ دینے کے قابل نہیں ہوئی تھی آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور اور اسے دوہا۔ یوں حضورؐ اور حضرت صدیق اکبرؓ نے دودھ نوش جاں فرمایا۔ یہ ماجرا دیکھ کر عبد اللہ بن مسعودؓ نے حضورؐ سے عرض کی یہ دعا مجھے بھی سکھا دیں۔ آپؐ نے عبد اللہ ابن مسعودؓ کے سرپر دست شفقت پھیرا اور فرمایا: ’’تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو‘‘ (یعنی تم استاد بنو گے) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سرکار دو عالمؐ کے قریبی اور پسندیدہ ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ سفر و حضر میں حضورؐ کے ساتھ رہے۔ حضورؐ نے ان سے فرما رکھا تھا کہ ’’تمھیں میرے گھر میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ پردہ اٹھا کر اندر آ جایا کرو اور ہماری باتیں سنا کرو،، حضور اکرمؐ کی کچھ خاص خدمتیں ابن مسعودؓ سے متعلق تھیں۔ مثلاً جوتا مبارک اٹھانا، مسواک کو اپنے اپنے پاس رکھنا، آپؐ کے آگے چلنا، نہاتے وقت پردہ کرانا،خواب سے بیدار کرنا وغیر۔ ابتدائے اسلام میں جب اپنے اسلام کا اظہار نہایت مشکل تھا، آپ وہ پہلے مسلمان تھے۔ جنھوں نے بیت اللہ شریف کے پاس کھڑے ہو کر مستانہ وار سورۃ الرحمٰن کی بآواز بلند تلاوت کی اور کفار مکہ کا ظلم برداشت کیا (ابن ہشام) حضور اکرمؐ نے فرمایا: قرآن مجید کو ان چار افراد سے حاصل کرو سب سے پہلے عبد اللہ ابن مسعودؓ کا نام ذکر فرمایا: بعد ازاں ابی بن کعب، سالم مولیٰ اور معاذ بن جبل ؓ کے اسمائے گرامی لیے۔ (بخاری و مسلم ) حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے عادات و اطوار میں عبد اللہ بن مسعودؓ سے مشابہت رکھنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ رسول اللہؐ کے قریبی اصحاب کی نظر میں عبد اللہ بن مسعودؓ درجات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ الاکمال فی اسماء الرجال میں ہے، رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’میں اپنی امت کے واسطے وہ پسند کرتا ہوں جو ابن مسعودؓ اس کے واسطے پسند کریں اور امت کے واسطے اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جسے ابن مسعودؓ ناپسند کریں،، اس فرمان عظمت نشان کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا سب سے پہلا اجتہاد جو نظر آتا ہے وہ خلافت صدیق اکبرؓ کے بارے میں میں ہے۔ حضور اکرمؐ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کے بارے میں ابن مسعودؓ نے ان خوبصورت الفاظ میں اجتہاد کیا کہ ’’ہم اپنے دنیاوی معاملات کے لیے اسی شخصیت کو پسند کرتے ہیں جسے رسول اللہؐ نے ہمارے دینی امور کے لیے پسند فرمایا ہے۔،، یعنی جس ہستی کو حضورؐ نے نماز کی امانت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اسی کو ہم خلافت کے لیے پسندکرتے ہیں۔ رسول کریمؐ کے بدترین دشمن ابوجہل کی گردن کاٹنے کا شرف بھی عبد اللہ بن مسعود ؓ کو حاصل ہوا۔ دو ننھے بچے معاذؓ اور معوذؓ نے جب اپنی تلواروں سے ابوجہل کو گھائل کر دیا تو حضرت ابن مسعودؓ کا اس طرف سے گذر ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ کے پاس کارآمد تلوار نہ تھی۔ انھوں نے ابوجہل کی تلوار اٹھا لی۔ ابوجہل کی نظر ان پر پڑی تو وہ ان کے ارادے کو بھانپ گیا۔ اس نے کہا: اے حقیر بھیڑیں چرانے والے!
جنگ عظیم دوم یا دوسری عالمی جنگ ایک عالمی تنازعہ تھا جو 1939 سے 1945 تک جاری رہا۔ دنیا کے ممالک کی اکثریت، بشمول تمام عظیم طاقتیں، دو مخالف فوجی اتحاد کے حصے کے طور پر لڑے: "اتحادی" اور "محوری"۔ بہت سے شریک ممالک نے اس پوری جنگ میں تمام دستیاب اقتصادی، صنعتی اور سائنسی صلاحیتوں کو سرمایہ کاری کر کے شہری اور فوجی وسائل کے درمیان فرق کو کم کر دیا۔ ہوائی جہازوں نے ایک اہم کردار ادا کیا، جس نے آبادی کے مراکز پر اسٹریٹجک بمباری اور جنگ میں استعمال ہوئے صرف دو جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کو قابل بنایا۔ یہ تاریخ کا اب تک کا سب سے مہلک تنازع تھا، جس کے نتیجے میں 7 سے 8.5 کروڑ ہلاکتیں ہوئیں۔ ہولوکاسٹ سمیت نسل کشی، بھوک، قتل عام اور بیماری کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ محور کی شکست کے نتیجے میں، جرمنی، آسٹریا اور جاپان پر قبضہ کر لیا گیا اور جرمن اور جاپانی رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے چلائے گئے۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
بنیامین نیتن یاہو (; عبرانی:; پیدائش: 21 اکتوبر 1949ء) ایک اسرائیلی سیاست دان ہیں، جو 2022 سے اسرائیل کے وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ 1996-1999 اور 2009-2021 کے دوران بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ لیکود جماعت کے چیئرمین ہیں۔ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے سیاست دان ہیں، جنھوں نے مجموعی طور پر 16 سال سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔ بنجمن نیتن یاہو سیکولر یہودی والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش مغربی یروشلم اور امریکا میں ہوئی. وہ 1967 میں اسرائیل واپس آئے اور اسرائیلی دفاعی افواہج میں شامل ہو گئے، جہاں انھوں نے سیرت متکل خصوصی فورسز میں کپتان کے طور پر خدمات انجام دیں اور اعزازی طور پر فارغ ہوئے. میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے گریجویشن کے بعد، نیتن یاہو نے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے لیے کام کیا اور 1978 میں اسرائیل واپس آ کر یوناتن نیتن یاہو اینٹی ٹیرر انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی.
المغرب میں وقف، جسے "حبوس" بھی کہا جاتا ہے، اس کا آغاز اسلامی فتوحات کے ساتھ ہوا۔ مسلمان فاتحین سنتِ نبوی کی پیروی کرتے ہوئے جہاں بھی جاتے وہاں مساجد تعمیر کرتے تھے۔ مغرب میں وقف کا پہلا نمونہ اموی دور میں سامنے آیا، جب عقبہ بن نافع فتوحات کے لیے مغرب پہنچے۔ اس کے بعد عباسی دور میں وقف کا نظام مزید ترقی کرتا گیا اور مذہبی اوقاف کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ فاطمی دور میں وقف کا نظام کچھ کمزور پڑ گیا، لیکن ایوبی اور پھر موحدین کے دور میں اس نے دوبارہ ترقی حاصل کی۔ مملوک اور مرینی ادوار میں وقف کے ادارے نے مزید وسعت اختیار کی اور پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں نمایاں ترقی کی۔ بعد میں سعدی اور علوی ادوار میں اوقاف کو خاص فروغ ملا، جہاں علما، کتبِ علمی اور کتب خانوں کے لیے بڑی تعداد میں اوقاف مخصوص کیے گئے۔ ، جدید دور میں نوآبادیاتی اثرات کی وجہ سے وقف کا نظام کمزور ہوا، جس کے باعث حکومتوں اور اسلامی اداروں کو اس کے قانونی ڈھانچے پر دوبارہ غور کرنا پڑا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے مقاصد کو برقرار رکھا جا سکے۔ .
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
حذيفہ بن انس بن عامر عمروی ہذلی صحابی، شاعر اور تجربہ کار فارس تھے۔ وہ عربوں میں اپنے زمانے کے بہادر اور شجاع افراد میں شمار ہوتے تھے اور انھوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار دیکھے۔ وہ اپنے قبیلے بنی عمرو بن حارث قبیلہ ہذیل کے سردار تھے اور کئی جنگوں میں قیادت کرتے رہے، خاص طور پر قبیلہ کنانہ کے خلاف۔ حذيفہ نے اپنے قبیلے کی قیادت میں مختلف معرکوں میں حصہ لیا اور قبیلے کے لیے شجاعت اور بہادری کا عملی مظاہرہ کیا۔ .
دولت عیونیہ یا امارتِ عیونیہ جزیرۂ عرب کی ایک تاریخی ریاست تھی، جو 469ھ تا 636ھ (1076ء تا 1238ء) کے درمیان قائم رہی۔ اس کا نام عیونی خاندان کے نام پر رکھا گیا، جو قبیلہ عبد القیس سے تعلق رکھتے تھے۔ جب قرامطہ کی طاقت عراق اور شام میں کمزور ہوئی تو بہت سے عرب قبائل نے ان کی حکومت سے آزادی حاصل کرنا شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں قرامطہ کا اقتدار صرف احساء تک محدود ہو گیا۔ بعد ازاں امیر عبد اللہ بن علی عیونی کی قیادت میں عیونیوں نے 469ھ (1076ء) میں احساء فتح کر لیا اور یوں عیونی ریاست قائم ہوئی۔ اس کی حدود شمال میں کویت کے علاقے کاظمہ سے لے کر جنوب میں قطر تک پھیل گئی۔ اپنی آخری مدت میں اس ریاست نے خلافتِ عباسیہ کی اطاعت بھی قبول کر لی۔ .
خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد عربوں کی قائم کردہ دو عظیم ترین سلطنتوں میں سے دوسری سلطنت خلافت عباسیہ ہے۔ خاندان عباسیہ کے دو بھائیوں السفاح اور ابو جعفر المنصور نے 750ء (132ھ) خلافت عباسیہ کو قائم کیا اور 1258ء (656ھ) میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ خلافت بنو امیہ کے خلاف ایک تحریک کے ذریعے قائم ہوئی۔ تحریک نے ایک عرصے تک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر بنو امیہ کو شکست دینے کے بعد بر سر اقتدار آگئی۔
اِسْرائِیل (عبرانی: יִשְׂרָאֵל) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔
قبیلہ ہذیل ایک عرب قبیلہ ہے جو خندفی مضر عدنانی عربوں میں سے ہے۔ یہ زیادہ تر حجاز اور تہامہ میں، جو جزیرہ نما عرب کے مغربی حصے میں ہیں، آباد ہے۔ اس کے علاوہ یہ شمالی جزیرہ نما عرب اور بعض نجد کے علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ہذیل قبیلے کے کئی افراد نے جاہلیت کے دور میں شہرت پائی اور اسلام کے دور میں بھی کئی صحابہ کرام اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جن میں سب سے مشہور عبد اللہ بن مسعود ہیں۔ ہذیل کے کچھ افراد نے اسلامی فتوحات میں بھی حصہ لیا۔ .
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
یہودیت وہ مذہب ہے جس میں خدا کی وحدانیت اور بنی اسرائیل کی برتری و عظمت کا یقین رکھنا ضروری ہے۔ یہی دو بنیادیں ہیں جس پر یہودی مذہب قائم ہے۔ یہ مذہب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کی مسلسل اور مرتب تاریخ محفوظ ہے۔ اس مذہب کو عالمگیر مذہب کہنا مشکل ہے کیونکہ دنیا کے ہر ایک گوشے میں ہونے کے باوجود اس مذہب میں غیر اسرائیلوں کے داخلے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے اور انھیں بہت مشکل مراحل سے گزار کر ہی یہودیت کے دائرے میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہودیوں کو بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ اسلامی مقدس کتاب قرآن میں بھی ان کے لیے یہی لفظ بکثرت استعمال ہوا ہے۔ اصل میں بنی اسرائیل کے معنی ہیں اسرائیل کی اولاد اور نبی یعقوب کا لقب ہے۔
ابو ذؤیب خُوَیلِد بن خالد بن محرث ہذلی ایک صحابی، شاعر اور جنگجو تھا۔ وہ قبائل ہذیل کے شرفاء اور قائدین میں شمار ہوتا تھا۔ اس نے روزِ البوباة میں حصہ لیا اور شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس کے دس بیٹے تھے، جو سب بہادر اور ماہر فرسان تھے۔ اسلام کے دور میں ابو ذؤیب نے شمالی افریقہ اور مصر کی فتوحات میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ بعض روایتوں کے مطابق وہ صحابہ رسول میں شامل تھے اور بعض روایات میں ذکر آیا ہے کہ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔
جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔
عاصم بن خلیفہ بن معقل صباحی ضبی (598ء – 665ء / 25 ق هـ – 45ھ) عاصم بن خلیفہ ایک مشہور عرب شاعر، بہادر سپاہی اور نامور جنگجو تھا، جو جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں معروف رہا۔ ابن حجر عسقلانی نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ جاہلیت کا ایک مشہور سوار تھا جس نے بسطام بن قیس شیبانی کو قتل کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے اور ابھی ہجرت نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں عاصم نے اسلام قبول کیا اور عثمان بن عفان کے پاس حاضر ہوا کرتا تھا اور اپنا تعارف یوں کرواتا تھا: "میں عاصم بن خلیفہ ہوں، بسطام بن قیس کا قاتل"۔ .
الیگزنڈر گراہم بیل ، جو ٹیلے فون کا موجدتھا۔ وہ ایڈنبرا ، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا۔ ابنیادی تعلیم سنگانی میں تعلیم پائی۔ 1871ء میں بوسٹن امریکا آیا۔ اس کے والد اور دادا نے اپنی زندگی انسانی آواز کے مطالعے اور گونگے بہروں کی تعلیم کے لیے وقف کردی تھی۔ بیل نے بھی باپ دادا کا پیشہ اختیار کیا۔ اس کی شہرت اگرچہ ٹیلی فون کی وجہ سے ہوئی۔ مگر اس کا اپنا شوق زندگی بھر بہروں کی مدد کرتا رہا۔ اس نے شادی بھی ایک مادرزاد بہری لڑکی سے کی۔ بہروں کا ایکاسکول کھولا اور بہروں کی تعلیم دینے والے مدرسین کے لیے الگ اسکول قائم کیا۔ ان کاموں کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون ایجاد کرنے کی کوشش بھی کرتا رہا۔ آخر مارچ 1876ء میں وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے آواز کی شدت اور کیفیت کو جانچنے کا آلہ ’’ آواز پیما‘‘ بھی ایجاد کیا۔ 1880ء میں حکومت فرانس کی طرف سے اُسے ٹیلی فون ایجاد کرنے پر پچاس ہزار فرانک انعام دیا گیا۔ یہ رقم اس نے صنعتی تحقیق کی لیبارٹری کو عطا کردی۔
يعسوب الدين بن احمد بن محمد صادق بن محمد رستگار جويباري (1940ء میں پیدا ہوئے) ایران کے ایک معاصر شیعہ مرجع دین ہیں۔ وہ خاص طور پر اپنی کتاب حقیقت وحدت در دین کی وجہ سے مشہور ہیں، جو انھوں نے بعض ایرانی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کے طور پر لکھی، جن میں مسلمانوں کے درمیان عقائدی وحدت قائم کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔ اس کتاب میں بعض صحابہ جیسے ابو بکر اور عمر پر ہونے والی تنقید کی وجہ سے ایرانی سنی مسلمانوں میں غصہ پیدا ہوا اور انھوں نے جمعہ کی نماز میں “مر جاؤ” کے نعرے لگائے۔ اس کے نتیجے میں جويباري کو گرفتار کر کے قید بھی کیا گیا کیونکہ حکومت نے انھیں عوام کے ایک حصے کی توہین کا مرتکب قرار دیا۔
سیکس ایجوکیشن ایک برطانوی طربیہ ڈراما ویب ٹیلی ویژن سیریل ہے جو لوری نان نے تخلیق کیا ہے۔ آسا بٹرفیلڈ ایک عدم تحفظ کے شکار نوجوان کے طور پر اور گیلین اینڈرسن اس کی ماں ہے، جو ایک نفسیاتی جنسی مسائل کی معالجہ ہے، پریمئیر 11 جنوری 2019 کو نیٹ فلکس پر نشر ہوا۔ شوتی گٹوا، ایما میکی، کانر سوینڈلز، ایمی لو ووڈ اور کیدار ولیم اسٹرلنگ معاون اداکار ہیں۔ نشر ہونے کے بعد ہی فلمی نقادوں نے اسے سراہا جس سے یہ جلد ہی یہ سیزن نیٹ فلکس کے لیے تجارتی کامیابی کے طور پر
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔
غرقہ القليس (یونانی ἐκκλησία یعنی "کنیسہ") وہ کنیسہ ہے جسے ابرہہ الاشرم نے یمن میں بنایا اور سجایا تاکہ عرب لوگ یہاں حج کرنے آئیں بجائے کعبہ کے۔ جب عربوں کی طرف سے اس کی طرف رجحان نہیں ملا تو اس نے ایک عظیم فوج ہاتھیوں پر سوار کر کے کعبہ کو تباہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ لیکن اللہ نے اسے اور اس کی فوج کو طیر ابابیل کے ذریعے شکست دی، جو سجيل کے پتھروں سے انھیں مار رہی تھیں اور وہ سب کعصف مأكول (کھایا ہوا بھس) بن گئے۔ یہ کنیسہ صنعاء میں واقع تھی۔ آج کل اس کا صرف مقام باقی ہے: ایک گڑھا اور چند درخت۔ 1976 میں شہری تعاون اور ترقیاتی ادارہ" نے اس کی صفائی کی۔ موجودہ وقت میں غرقة القليس کو کچرے کے ڈمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ حارة القطيع میں مسجد نصیر کے قریب، شہر قدیم کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ .
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
آيت اللہ محسن اراکی (1956ء، نجف، عراق) ایک معاصر شیعہ عالم دین اور مجتہد ہیں۔ وہ جمعیۃ مدرسین حوزہ قم العلمية کے رئیسیہ کے رکن ہیں۔ وہ پہلے عالمی ادارۂ تقریب بین المذاہب اسلامیہ کے جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ انھوں نے انگلینڈ میں اسلامی مرکز بھی قائم کیا اور ایران میں مجلس خبراء رہبری کی اقتصادی کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
میسور یا میسورو بھارت کی ریاست کرناٹک میں واقع مشہور شہر ہے ۔ یہ سلطنتِ خداداد سلطنتِ میسور کا حصّہ تھا ۔ یہ ایک سیاحتی مقام بھی ہے ۔ یہ ریاست کرناٹک کا دوسرا بڑا شہر ہے ۔ کرناٹک کا پُرانا نام میسور تھا ۔ میسور محل یہیں واقع ہے۔۔ میسور محلوں کے شہر سے بھی معروف ہے ۔ جنوبی ہند کے وسیع چڑیاگھر یہیں واقع ہے۔
سعودی عرب (رسمی نام : المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
الجزائر میں اوقاف کا نظام دوسرے اسلامی ممالک کی طرح قدیم زمانے سے موجود ہے۔ جب سے مسلمان فاتحین اس سرزمین پر آئے، تب سے ہی وہاں کے معاشرے میں وقف کا رواج شروع ہو گیا۔ الجزائر کے قدیم ترین اوقاف میں سے ایک مسجد سیدی غانم ہے، جس کی بنیاد پہلی صدی ہجری کے وسط میں رکھی گئی۔ مسلمان فاتحین جہاں بھی پہنچتے، وہاں مسجد ضرور تعمیر کرتے تھے، کیونکہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک تعلیمی اور تربیتی ادارہ بھی ہوتی تھی۔
ابو حزرہ عتیبہ بن حارث بن شہاب يربوعی تميمی (553م – 604م / 70 ق ھ – 18 ق ھ) ابو حزرة عتیبہ بن حارث ایک مشہور شاعر، قائد اور بہادر فراری تھا جو عربوں میں اپنے زمانے کے سب سے شجاع اور معتبر فرسان میں شمار ہوتا تھا۔ ابو عبیدہ بصری نے اسے "تمام عربی فرسان میں سب سے آگے" قرار دیا اور ابو الفضل المیدانی نے اسے "صیاد الفوارس" یعنی فرسان کا شکار کرنے والا فرسان کہا۔ زمخشری کے مطابق عرب اسے شجاعت اور بہادری کی علامت کے طور پر یاد کرتے تھے۔ .
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
خلافت راشدہ (عربی: ٱلْخِلَافَةُ ٱلرَّاشِدَةُ) اسلامی پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے بعد آنے والی پہلی خلافت تھی۔ 632 عیسوی میں حضرت محمدﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد چار لگاتار خلفاء نے حکومت تھی۔ 7ویں صدی کے دوران، یہ خلافت مغربی ایشیا اور شمال مشرقی افریقا میں سب سے طاقتور اقتصادی، ثقافتی اور فوجی قوت تھی۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام النمیری الحرانی (ولادت: 22 جنوری 1263ء، 621ھ - وفات: 26 ستمبر 1328ء، 20 ذو القعدہ 728ھ) جو ابن تیمیہ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں، ایک مشہور عالم دین، فقیہ، محدث، الٰہیات دان اور منصف تھے۔ آپ کا اصل نام احمد، کنیت ابو العباس اور ابن تیمیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ 621ھ میں پیدا ہوئے۔ حنبلی مذہب کے فروغ اور اس کو پروان چڑھانے میں شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ کی خدمات جلیلہ قدر ہیں۔ اُن کو مذہبِ حنبلی کا شارح سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض مسائل میں ابن تیمیہ نے امام احمد بن حنبل سے بھی اختلاف کیا۔ قلعہ دمشق ملک شام میں بحالت قید و بند 20 ذو القعدہ 728ھ میں وصال ہوا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ پاکستانی بری افواج کے پانچ ستارہ جنرل، موجودہ اور گیارہویں سربراہ پاک فوج ہیں۔ آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل کمانڈ کر رہے تھے۔ انھوں نے 17 جون 2019ء سے 6 اکتوبر 2021ء تک گوجرانوالہ میں XXX کور (پاکستان) کی کمانڈ کی۔ انھوں نے آئی ایس آئی کے 23 ویں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں یہاں تک کہ ان کی جگہ16 جون 2019ء کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تعینات کیا گیا۔ منیر نے افسران کی تربیت گاہ، منگلا میں کیڈٹ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر "اعزازی تلوار" حاصل کی۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے انھیں 24 نومبر 2022ء کو 3 سال کی مدت کے لیے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر مقرر کیا۔ عاصم منیر وہ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں جو ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں خفیہ اداروں کی سربراہی کر چکے ہیں۔ 20 مئی 2025ء کو عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، یوں وہ پاکستان کی تاریخ میں اس رتبے تک پہنچنے والے دوسرے فرد بنے ان سے پہلے صرف ایوب خان کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔ عاصم پاکستان کے وہ پہلے اور واحد سربراہ پاک فوج بھی بنے جنھوں نے فیلڈ مارشل کے عہدہ کے ساتھ اس منصب پر خدمات انجام دیں۔ فیلڈ مارشل کا درجہ ایک باوقار اور فائیو اسٹار اعزازی عہدہ ہے، جو جنرل کے رینک سے بھی بلند ہوتا ہے۔
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیہ عثمانیہ"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک قوم پرست جماعت ہے جو قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آنے والے مہاجرین کی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ واضح رہے کہ ان مہاجرین کی بھاری اکثریت اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے۔آفاق احمد اس کے بانی و چیرمین ہیں۔ کراچی کے تعلیمی اداروں میں مہاجروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بے جا سلوک سے تنگ آکر مہاجر نوجوانوں نے آل پاکستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس) کی بنیاد رکھی، اے پی ایم ایس کو مہاجروں کی حمایت اتنی بڑھی کہ تعلیمی اداروں سے باہر تک اس کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت پیش آئی چنانچہ مہاجر قومی موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور عظیم احمد طارق کو اس کا پہلا چیئرمین بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جبکہ الطاف حسین جو ملک چھوڑ کر روز گار کی تلاش میں امریکا کے شہر شکا گو جا چکے تھے اور مہاجر قومی موومنٹ کی بے انتہا مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ پاکستان واپس آ گئے اور غیر مرئی قوتوں کی حمایت سے مہاجر قومی موونٹ کے قائد کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن ان کی شخصی خامیاں اور پالیسیاں مہاجر قومی موومنٹ سے ذاتی فائدہ اٹھانے تک محدود رہیں۔ چنانچہ آفاق احمد کی قیادت میں مہاجر کارکنان نے الطاف حسین کی شخصی خامیوں اور مہاجر مفادات کے خلاف سازشوں پر آواز اٹھانی شروع کی لیکن الطاف حسین نے آفاق احمد کے ساتھیوں کو مروانا شروع کر دیا۔ اس طرح جرائم پیشہ لوگوں کا راج کراچی پر قائم ہو گیا اور کراچی میں خوف و دہشت کا طوطی بولنے لگا۔ چنانچہ امن و امان کی دگرگوں صورت حال پر قابو پانے کے لیے الطاف حسین کے دہشت گردوں کے خلاف فوج نے آپریشن کا فیصلہ کیا لیکن الطاف حسین کو ایجنسیوں نے پہلے ہی اس آپریشن سے باخبر کر دیا اور اسے با حفاظت لندن پہنچادیا۔ 19 جون 1992ء کو الطاف حسین کے جرائم پیشہ مجرموں کے خلاف فوج نے آپریشن شروع کرنے سے پہلے آفاق احمد اور ان کے ساتھیوں نے کراچی میں واپسی کا عمل شروع کر دیا۔ فوج کے تحفظ اور آفاق احمد کی کراچی میں موجودگی نے مہاجر عوام کو تحفظ کا احساس دلایا تو تاریکی کے دیوتا کے بت پاش پاش ہو گئے اور عوام نے الطاف حسین سے اپنی نفرت کا واضح اعلان کر دیا۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) برصغیر کے معروف و مشہور عالم دین، مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحریکات کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا اور بیسویں صدی کے مجدد اسلام ثابت ہوئے۔ مولانا مودودی وہ دوسرے شخص تھے جن کی غائبانہ نماز جنازہ کعبہ میں ادا کی گئی، پہلے نجاشی تھے۔
سؤل (انگریزی: Seoul، کوریائی: 서울) جنوبی کوریا کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ ایک کروڑ سے زائد آبادی کا حامل یہ شہر دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے جو سیول قومی دار الحکومت علاقہ کہلاتا ہے۔ اس میں جنوبی کوریا کی اہم بندرگاہ انچیون اور گیونگی-ڈو کے علاقے بھی شامل ہیں اور اس علاقے کی کل آبادی تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ بنتی ہے۔ جنوبی کوریا کی نصف سے زائد آبادی اس علاقے میں رہتی ہے جس کی ایک چوتھائی دار الحکومت سیول کی باسی ہے۔ یہ ملک کا سیاسی، ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ ایک خاص شہر کی حیثیت سے یہ براہ راست قومی حکومت کے زیر انتظام ہے۔
فریڈرک گرانٹ بینٹنگSir Frederick Grant Banting( پیدائش:14 نومبر 1891ءوفات:21 فروری 1941ء)کینڈا کا سائنس دان جس نے 1921ء میں ذیابیطس کے لیے انسولین کا ٹیکا ایجاد کیا۔ 1923ء میں طب کے شعبے میں نوبل انعام ملا۔ ستمبر 2011 تک وہ طب کے شعبے میں نوبل انعام حاصل کرنے والا سب سے کم عمر سانئس دان ہے۔ وہ ہوائی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
ولایت فقیہ (فارسی: ولایت فقیه، عربی: وِلاَيَةُ ٱلْفَقِيهِ) ایک تصور ہے جو اثنا عشری شیعہ اسلامی قانون میں پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، “معصوم امام” کے ظہور تک (جو قیامت سے پہلے کسی وقت ہوگا)، مسلم دنیا کے کم از کم کچھ مذہبی اور سماجی امور کو نیک شیعہ فقہا (فقیہ) کے ذریعے چلایا جانا چاہیے. ان امور کی نوعیت پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ ولایت فقیہ خاص طور پر روح اللہ خمینی اور اسلامی جمہوریہ ایران سے منسلک ہے۔ 1970 میں ایک سلسلہ وار لیکچرز میں، خمینی نے سرپرستی کے تصور کو اس کی “مطلق” شکل میں ریاست اور معاشرے کی حکمرانی کے طور پر پیش کیا۔ سرپرستی کا یہ ورژن اب اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی بنیاد بناتا ہے، جو ایک ولی فقیہ (عربی: وَلِيُّةُ فَقِيهٌ) کو اس ملک کے سپریم لیڈر کے طور پر خدمات انجام دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ فی الحال، یہ کردار آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ہے. “ولایت مطلقہ فقیہ” کے تحت، فقیہ کو تمام عوامی معاملات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے، جس میں ریاستوں کی حکمرانی اور تمام مذہبی امور شامل ہیں، یہاں تک کہ مذہبی فرائض جیسے نماز یا حج کی عارضی معطلی بھی شامل ہے۔ اس کے حامیوں کے مطابق، اس کی اطاعت ان مذہبی فرائض کی ادائیگی سے زیادہ اہم ہے۔ بعض شیعہ اسلامی علما اس سے اختلاف کرتے ہیں اور سرپرستی کو بہت محدود دائرے تک محدود کرتے ہیں—جیسے تنازعات میں ثالثی کرنا، یتیم بچوں، ذہنی طور پر معذور افراد اور دیگر جن کے مفادات کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہے، کے لیے سرپرستی فراہم کرنا.
محمد بن جميل بن عبد الحسين بن يوسف حمود عاملی (1959ء، بیروت – حال) ایک موجودہ لبنانی شیعہ اثنا عشری مرجع ہیں۔ وہ سنی عقائد کے بارے میں سخت موقف کے لیے جانے جاتے ہیں اور بعض اہلِ سنت کے اعمال کو کفر اور ان کے ذبائح کھانے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ شیعہ عقائد پر مضبوطی سے قائم ہیں اور شیعہ اور غیر شیعہ کے درمیان عقیدتی قربت کو قبول نہیں کرتے۔ انھوں نے ایران میں قائم ولایت فقیہ کی حکومت پر بھی تنقید کی ہے، جس کا ذکر انھوں نے اپنی کتاب "ولایت فقيه العامہ فی الميزان" میں کیا ہے۔ .
انور شاہ کشمیری (26 نومبر 1875ء – 28 مئی 1933ء) ایک کشمیری عالم دین، مفسر، محدث اور فلسفی تھے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں انھیں علومِ حدیث میں مہارت، زبردست حافظے اور احادیث کی منفرد تشریح کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ وہ دار العلوم دیوبند کے چوتھے صدر مدرس بھی تھے۔ ان کی علمی اور مذہبی وراثت کا سلسلہ بغداد سے جا ملتا ہے۔ انھوں نے محمود حسن دیوبندی کی سرپرستی میں دار العلوم دیوبند میں اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور روحانی تعلق رشید احمد گنگوہی سے استوار کیا۔ انھوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز مدرسہ امینیہ کے پہلے صدر مدرس کی حیثیت سے کیا۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان، پاکستان کے اکثر دیوبندی مکتب فکر کے دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم یا وفاق ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں دینی مدارس کی حفاظت، رجسٹریشن، ترقی، نصاب سازی، امتحانات اور ڈگری سے منسلک معاملات ہیں۔ تنظیم کے صدر مولانا محمد تقی عثمانی اور سیکٹری جرنل قاری محمد حنیف جا لندھری ہیں۔
زمین سورج سے تیسرا سیارہ ہے اور واحد فلکیاتی جسم ہے جس پر زندگی موجود ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہے کہ زمین ایک سمندری دنیا ہے، جو نظام شمسی میں واحد ہے جو مائع سطحی پانی کو برقرار رکھتی ہے۔ زمین کے تقریباً تمام پانی اس کے عالمی سمندر میں موجود ہیں، جو زمین کی سطح کے 70.8% حصے کو ڈھانپتے ہیں۔ باقی 29.2% زمین کی سطح خشکی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ براعظمی خشک رقبہ کی شکل میں زمین کے نصف کرہ میں پایا جاتا ہے۔ زمین کی زیادہ تر خشکی قدرے نم ہے اور نباتات سے ڈھکی ہوئی ہے، جبکہ زمین کے قطبی صحراؤں میں برف کی بڑی تہیں زمین کے زیرِ زمین پانی، جھیلوں، دریاؤں اور فضائی پانی سے زیادہ پانی اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ زمین کی سطح آہستہ آہستہ حرکت کرنے والی ٹیکٹونک پلیٹوں پر مشتمل ہے، جو پہاڑی سلسلے، آتش فشاں اور زلزلے پیدا کرنے کے لیے آپس میں تعامل کرتی ہیں۔ زمین کا ایک مائع بیرونی کور ہے جو ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے جو زیادہ تر تباہ کن شمسی ہواؤں اور کائناتی تابکاری کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے.
خطبہ حجۃ الوداع بلاشبہ انسانی حقوق کا اوّلین اور مثالی منشور اعظم ہے۔ اسے تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کا سب سے پہلامنشور انسانی حقوق ہونے کا اعزاز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو آخری حج کیا اسے دو حوالوں سے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ ایک اس حوالہ سے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری حج وہی کیا اور اس حوالے سے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اس خطبہ میں ارشاد فرمایا :وَاللَّهِ لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا۔ یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے، شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔ خطبہ حجۃ الوداع کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔
'مرزا اسد اللہ خان غالب' کی شخصیت کو کون نہیں جانتا۔ ہمارے ملک میں تو یہ عالم ہے کہ اگر کسی کو تھوڑی بہت اردو کی سوجھ بوجھ ہے تو غالب کے نام کو تو ضرور جانتا ہوگا۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔
حضرت مولانا ڈاکٹر سید محمد عبد القادر آزاد 1939ء کو برصغیر پاک و ہند کی مشہور مجذوب شخصیت اور پیر حضرت سید محمد سعید احمد شاہ پیرزادہ عرف پیر پٹھان، پیر افغانی کے ہاں پیدا ہوئے، ولادت کے بعد آپ کا نام سید عبد القادر آزاد تجویز کیا گیا۔ جونہی یہ بچہ گود میں آیا تو خاندان کے ہر فرد نے آپ کے بارے پیران پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے سلسلہ تصوف کا وارث بننے کی نوید دی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم حضرت مولانا پیر سید محمد سعیداحمد شاہ پیرزادہ سے حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے مدرسہ قاسم العلوم ملتان سے سند فراغت حاصل کی۔ مولانا ڈاکٹر سید محمد عبد القادر آزاد زندگی بھر علم و حکمت کے حصول میں منہمک رہے۔ آپ نے’’ حکیم الامت مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی بحیثیت مفسر قران ‘‘میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ ریاست بہاولپور میں آپ نے مرکزی درس گاہ اسلامی مشن سے تدریسی خدمات کی ابتدا کی۔ آپ اس ادارہ کے مہتمم اور پرنسپل کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔ 1970 ء میں آپ لاہور تشریف لاے اور مشہور عالمگیری بادشاہی مسجد کی خطابت کے فرائض آپ کے سپرد کیے گئے۔ یاد رہے جب سے بادشاہی مسجد لاہور اور جامع مسجد دہلی مغل بادشاہوں نے تعمیر کیں تب سے مغل بادشاہوں نے یہ دونوں مساجد پیر پٹھان پیر افغانی کبیروالا شریف کے حوالے کر دیں کیونکہ پچھلے چودہ سو سالوں سے اس خاندان کی دین اسلام کے لیے خدمات قابل قدر تھیں۔ عالمگیری بادشاہی مسجد کی امامت و خطابت سب سے زیادہ ڈاکٹر حضرت محمد عبد القادر آزاد کی ممد و معاون ثابت ہوئی وہ ان کی بے نیازی سرچشمی اور استغناء تھا۔ انھوں نے دین کی خدمت کے لیے اعلیٰ طبقوں اور جدید تعلیم یافتہ حضرات میں تبلیغ و اصلاح دین کو اپنا نصب العین بنایا ۔ مولانا آزاد ایک محنتی اورا نتھک انسان تھے‘ بیکار بیٹھنا ان کے لیے امر محال تھا۔مولانا آزاد سادگی ‘ نفاست ،پاکیزگی متانت کا مزاج رکھتے تھے ۔ آپ کا انداز گفتگو دلکش ‘ خندہ جبیں اور زبان میں میٹھاس تھی۔ ضرورت مند وں کا مجمع رہائش گاہ پر ہر وقت موجود رہتا ،دسترخواں ہر وقت بچھا رہتا۔کوئی سائل کوئی سفارشی سب کو جیب میں ہاتھ ڈال کر جو نکلتا مٹھی بند کر کے دے دیتے ۔ جُبہ اور دستار والے بھی آپ کے پاس آتے اور شرٹ پتلون والے سب کے ساتھ محبت کا سلوک فرماتے ۔
ابراہیم بن عمر بن عقیل بن یحییٰ (1327ھ – 1415ھ) ایک یمنی سنی صوفی فقیہ اور محدث تھے، جو تعز کے مفتی اور وہاں کے علما کے شیخ شمار ہوتے تھے۔ وہ جامع المظفر (تعز) کے امام و خطیب رہے اور مساجد، مدارس، علمی تحقیقات، سیمینارز اور مجلات میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ یمن میں انھوں نے کئی اہم مناصب بھی سنبھالے اور حکومتی حلقوں کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ سنہ 1355ھ میں انھیں فوجی علوم کی تعلیم کے لیے عراق بھی بھیجا گیا۔