اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز (عربی: مضيق ہرمز، فارسی:تنگہ ہرمز) خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ایک اہم آبنائے ہے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور اومان واقع ہیں۔ یہ آبنائے کم از کم 21 میل چوڑی ہے۔ یہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد بحری راستہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا 20 فیصد اس آبنائے سے گذرتا ہے۔
غزوہ بدر 17 رمضان 2 ہجری بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ ز رہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔روایات میں مجموعی تعداد 313 ہے لیکن والد کا نام، قبیلہ کا نام اور ملتے جلتے ناموں کی وجہ سے متفقہ 313 نام کسی جگہ بھی نہیں، البتہ تھوڑے اختلاف سے مندرجہ ذیل 331 (91 مہاجر 64 اوس کے اور 176 خزرج کے ) نام میسر ہیں۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
روح اللہ موسوی خمینی (18 مئی 1900 یا 24 ستمبر 1902 – 3 جون 1989) ایک ایرانی اسلامی انقلابی، سیاست دان اور مذہبی رہنما تھے جنھوں نے 1979 سے 1989 اپنی وفات تک ایران کے پہلے رہبرِ معظم کے طور پر حکمرانی کی. وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی اور ایرانی انقلاب کے مرکزی رہنما تھے، جس نے محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹ دیا اور ایرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔ نظریاتی طور پر ایک شیعہ اسلام پسند، خمینی کے مذہبی اور سیاسی نظریات کو خمینیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خمینی، جو موجودہ ایران کے صوبہ مرکزی کے شہر خمین میں پیدا ہوئے، ان کے والد کو 1903 میں قتل کر دیا گیا جب خمینی دو سال کے تھے۔ انھوں نے کم عمری میں قرآن اور عربی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور اپنے رشتہ داروں، بشمول اپنی والدہ کے کزن اور بڑے بھائی کی مدد سے اپنی مذہبی تعلیمات میں ترقی کی. خمینی اصولی شیعہ بارہ امامی اسلام کے ایک عالم، ایک آیت اللہ، ایک مرجع (“تقلید کا منبع”)، ایک مجتہد یا فقیہ (شریعت کا ماہر) اور 40 سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی سفید انقلاب کی مخالفت کی وجہ سے انھیں 1964 میں بورصہ میں ریاستی سرپرستی میں جلاوطن کر دیا گیا۔ تقریباً ایک سال بعد، وہ نجف منتقل ہو گئے، جہاں انھوں نے اپنے مذہبی و سیاسی نظریہ ولایت فقیہ پر دیے گئے خطبات کو اسلامی حکومت میں مرتب کیا.
فتح مکہ (جسے فتح عظیم بھی کہا جاتا ہے) عہد نبوی کا ایک غزوہ ہے جو 20 رمضان سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی کو پیش آیا، اس غزوے کی بدولت مسلمانوں کو شہر مکہ پر فتح نصیب ہوئی اور اس کو اسلامی قلمرو میں شامل کر لیا گیا۔ اس غزوہ کا سبب قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان میں ہوا تھا، یعنی قریش مکہ نے اپنے حلیف قبیلہ بنو دئل بن بکر بن عبد منات بن کنانہ (اس کی ایک خاص شاخ جسے بنو نفاثہ کہا جاتا ہے) نے بنو خزاعہ کے خلاف قتل و غارت میں مدد کی تھی اور چونکہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا اس لیے اس حملے کو قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی سمجھا گیا جو مسلمانوں اور قریش کے درمیان میں ہوا تھا، یہ معاہدہ "صلح حدیبیہ" کے نام سے معروف ہے۔ اسی معاہدہ کی خلاف ورزی کے جواب میں حضرت محمدﷺ بن عبد اللہ نے ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا جو دس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا؛ لشکر آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا اور بغیر کسی مزاحمت کے مکہ میں پر امن طریقے سے داخل ہو گیا سوائے ایک معمولی سی جھڑپ کے جس کے سپہ سالار خالد بن ولید کو اس وقت سامنا ہوا جب قریش کی ایک ٹولی نے عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسلمانوں سے مزاحمت کی اور پھر خالد بن ولید کو ان سے قتال کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بارہ کفار مارے گئے اور باقی بھاگ گئے، جبکہ دو مسلمان بھی شہید ہوئے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
ترسیمہ یا وصلی (انگریزی: ligature) کسی بھی تحریر (دستی یا مشینی) میں ان لکیروں یا خطوط کو کہا جاتا ہے جو کسی لفظ میں ملنے والے دو حروف کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ اسی بات کو ٹائپوگرافی یا کمپیوٹر تحریر کے اعتبار سے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان مشینی تحریروں میں ایک اصطلاح فانٹ کی اکائی (grapheme) استعمال ہوتی ہے جس سے مراد اپنا ایک الگ تشخص رکھنے والی کوئی لکیر ہوتی ہے؛ مثال کے طور پر 'آ' اور 'ان' کے الفاظ میں سے دونوں میں دو عدد اکائیاں موجود ہیں اور جب ان اکائیوں کو آپس میں ملانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس ملانے والی لکیر کو ترسیمہ کہتے ہیں۔ گویا اگر غ اور م کی اکائیوں کو آپس میں جوڑ کر لفظ غم بنایا جائے تو غ کی شکل جس مقام پر تبدیل ہو کر م سے جڑے گی وہ جگہ ترسیمہ کہلائے گی؛ لیکن عموما اس غ (یعنی اس کی تبدیل شدہ مکمل شکل) کو بھی ترسیمہ کہہ دیا جاتا ہے جبکہ بعض کتب و جرائد میں غ اور م کی کو ملانے والی شکل ترسیمہ کہی جاتی ہے۔
سید مجتبی حسینی خامنهای (ولادت:8 ستمبر 1969ء)، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای، کے بیٹے ہیں۔ انھوں نےغلام علی حداد عادل کی بیٹی سے شادی کی ہے. جب ان کے والد کی ہلاکت ہوئی تو انھیں ایران کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا۔ بعد میں امریکی حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی 2027 میں قتل کر دیا جائے گا۔ انھوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مدرسه علوی سے حاصل کی. ان کے اولین اساتذہ سید محمود هاشمی شاهرودی اور ان کے والد تھے، مزید و اعلی تعلیم کے لیے حوزه علمیه قم چلے گئے اور مصباح یزدی، محسن خرازی اور صافی گلپایگانی سے کسب فیض کیا.
معاذ بن عمرو بن الجموح انصاری السلمی یہ اور ان کے والد عمرو بن الجموح دونوں غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہ ابو جہل کے قتل میں شامل تھے۔ عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تھا، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو دو نوعمر نوجوان میرے دائیں بائیں کھڑے تھے، میں نے دل میں سوچا کہ اگر میں دو بہادر آدمیوں کے درمیان ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا؟ اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے مجھے چٹکی بھری اور کہنے لگا چچاجان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں میں نے کہا ہاں! لیکن بھتیجے!
شمالی کوریا (کوریائی: 조선)، کا قیام یکم مئی 1948ءکو کوریا کے ان علاقوں پر عمل میں آیا تھا جن پر جنگ عظیم ثانی میں سوویت روس کا قبضہ ہو گیا تھا۔ اس کا رقبہ 46500 مربع میل ہے اور آبادی 21386000 (21.38 ملین)ہے۔ 1950 ءمیں شمالی کوریا کی افواج نے جنوبی کوریا کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ تین سال کی جنگ کے بعد چین اور امریکا کی مداخلت سے جنگ بندی عمل میں آئی۔ اگلی چار دہائیوں کے دوران کم ال سنگ کی قیادت میں اشتراکی حکومت نے سیاسی اقتصادی اور سماجی شعبوں کو مستحکم بنانے کی کوشش کی۔ قدرتی وسائل اور ہائڈروالیکٹرک پیداوار سے ملک کی فوجی قوت میں بہت اضافہ ہو گیا اور بھاری صنعتوں کا قیام عمل میں آیا۔ شمالی کوریا کے پاس اس وقت بڑی تعداد میں دور مار کرنے والے میزائلوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں نزدیک مار کرنے والے میزائل بھی موجود ہیں جن سے جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
اہل تشیع یا شیعیت (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت و خلافت کے قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
کیوبا (ہسپانوی:Cuba)، سرکاری طور پر جمہوریہ کیوبا (ہسپانوی: ریپبلیکا ڈی کیوبا [reˈpuβlika ˈkuβa] ) ایک جزیرے پر مشتمل ہے۔ نیز آئلا ڈی لا جووینٹڈ Isla de la Juventud اور کئی چھوٹے مجمع الجزائر، 4,195 جزیرے اور مرکزی جزیرے کے ارد گرد موجود کیز کا تعلق کیوبا سے ہے۔ کیوبا اس جگہ واقع ہے جہاں شمالی کیریبین سمندر، خلیج میکسیکو اور بحر اوقیانوس ملتے ہیں۔ کیوبا یوکاٹن جزیرہ نما (میکسیکو) کے مشرق میں، امریکی ریاست فلوریڈا اور بہاماس دونوں کے جنوب میں، ہسپانیولا (ہیٹی/ڈومینیکن ریپبلک) کے مغرب میں اور جمیکا اور جزائر کیمین دونوں کے شمال میں واقع ہے۔ ہوانا سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ہے۔ دوسرے بڑے شہروں میں سینٹیاگو ڈی کیوبا اور کیماگوئی شامل ہیں۔ جمہوریہ کیوبا کا زمینی رقبہ 109,884 مربع کلومیٹر (42,426 مربع میل) ہے، لیکن کل رقبہ بشمول آبی علاقے اور خصوصی اقتصادی زون، 350,730 مربع کلومیٹر (135,420 مربع میل) ہے۔ کیوبا ہیٹی کے بعد کیریبین میں دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جس میں 11 ملین سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔
اِسْرائِیل (عبرانی: יִשְׂרָאֵל) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
چوتھے خلیفہ راشد اور اہل تشیع کے پہلے امام علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار کے ذریعہ نماز کے دوران میں قاتلانہ حملہ کیا۔ اس حملہ کی وجہ سے علی زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی۔ آپ تیسرے خلیفہ تھے جن کو خلافت کے دوران قتل کیا گیا، آپ سے پہلے عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان کو قتل کیا جا چکا تھا۔
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیہ عثمانیہ"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
شاہ ولی اللہ (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اسلامی مفکر، محدث اور فلسفی تھے، جو مغلیہ سلطنت کے دور میں علم و دانش کا روشن مینار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی اصل روح کے مطابق اصلاح کا بیانیہ پیش کیا اور "تحریک ولی اللہی" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح، اتحاد اور روحانی بیداری تھا۔ شاہ ولی اللہ کا فلسفہ ولی اللہی اسلامی اصولوں، عقل اور اجتہاد کی بنیاد پر استوار تھا، جس میں معاشرتی بگاڑ اور فرقہ واریت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر میں اسلامی احیاء کی ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔
ویاس تیرتھ (ت 1460ء – تقریباً 1539ء)، جو ”ویاس راج“ یا ”چندرِکا چاریہ“ کے ناموں سے بھی موسوم ہیں، ہندو فلسفی، عالم، مناظر، شارح اور شاعر تھے جن کا تعلق مدھو اچاریہ کے دبستان دویت ویدانت سے تھا۔ وجے نگر سلطنت کے ”راج گرو“ کی حیثیت سے ویاس تیرتھ دویت مت کے اس سنہری دور کے ہراول دستے میں شامل تھے جب جدلیاتی فکر میں نئی پیش رفت ہوئی، پورندر داس اور کنک داس جیسے نغمہ نگاروں کی بدولت ہریداس ادب کو فروغ ملا اور پورے برصغیر میں دویت ویدانت کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہوئی۔ ویاس تیرتھ نے خود بھی کنڑ اور سنسکرت زبانوں میں متعدد کیرتن تصنیف کیے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
ایران عراق جنگ ایک تباہ کن تنازع تھا جو 1980 میں شروع ہوا اور آٹھ سال تک جاری رہا۔ علاقائی تنازعات، سیاسی اور نظریاتی اختلافات اور عراقی صدر صدام حسین کے عزائم کی وجہ سے، عراق نے ایران پر اچانک حملہ کیا۔ جنگ تیزی سے خونی تعطل میں بدل گئی، دونوں فریقوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے۔ اس تنازع نے دونوں ممالک پر گہرا اثر ڈالا، جس نے انسانی مصائب، معاشی تباہی اور علاقائی عدم استحکام کی میراث چھوڑی۔
جنگ عظیم دوم یا دوسری عالمی جنگ ایک عالمی تنازعہ تھا جو 1939 سے 1945 تک جاری رہا۔ دنیا کے ممالک کی اکثریت، بشمول تمام عظیم طاقتیں، دو مخالف فوجی اتحاد کے حصے کے طور پر لڑے: "اتحادی" اور "محوری"۔ بہت سے شریک ممالک نے اس پوری جنگ میں تمام دستیاب اقتصادی، صنعتی اور سائنسی صلاحیتوں کو سرمایہ کاری کر کے شہری اور فوجی وسائل کے درمیان فرق کو کم کر دیا۔ ہوائی جہازوں نے ایک اہم کردار ادا کیا، جس نے آبادی کے مراکز پر اسٹریٹجک بمباری اور جنگ میں استعمال ہوئے صرف دو جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کو قابل بنایا۔ یہ تاریخ کا اب تک کا سب سے مہلک تنازع تھا، جس کے نتیجے میں 7 سے 8.5 کروڑ ہلاکتیں ہوئیں۔ ہولوکاسٹ سمیت نسل کشی، بھوک، قتل عام اور بیماری کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ محور کی شکست کے نتیجے میں، جرمنی، آسٹریا اور جاپان پر قبضہ کر لیا گیا اور جرمن اور جاپانی رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے چلائے گئے۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے جنگ کی ٹھانی۔ ابوسفیان نے قریش اور دیگر قبائل حتیٰ کہ یہودیوں سے بھی لوگوں کو جنگ پر راضی کیا اور اس سلسلے میں کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی مگر مسلمانوں نے سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوہ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھی۔ جیسے آج کل امریکا، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآن میں سورۃ الاحزاب میں ہے۔
سکس سگما پلس (انگریزی: Six Sigma Plus) ایک پاکستانی آزاد فلم اور ٹیلی ویژن پروڈکشن کمپنی ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد معروف پاکستانی اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید اور ان کے کاروباری شراکت دار شہزاد نصیب نے 2010ء میں رکھی تھی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد پاکستانی ڈراما اور فلمی صنعت میں بین الاقوامی معیار کی کہانیاں، تکنیکی مہارت اور پروڈکشن ویلیو متعارف کروانا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سکس سگما پلس نے نہ صرف منفرد موضوعات پر مبنی ڈرامے پیش کیے بلکہ ایسے فنکاروں، ہدایتکاروں اور تکنیکی عملے کو بھی پلیٹ فارم فراہم کیا جنھوں نے پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ادارے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ہی برسوں میں اس نے متعدد کامیاب ڈرامے اور فلمیں پیش کیں جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوئیں۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
3333 (عدد) یعنی 3333 ایک عدد اور ایک علامت ہے۔ کچھ عددی نظاموں میں 3332 سے بڑا یا زیادہ اور 3334 سے چھوٹا یا کم ہوتا ہے۔ گنتی میں اسے تین ہزار تین سو تینتیس یا تینتیس سو تینتیس بولا جاتا ہے۔ اور اس سے پہلے تین ہزار تین سوبتیس یا تینتیس سو بتیس اور اس کے بعد تین ہزار تین سو چونتیس یا تینتیس سو چونتیس بولا جاتا ہے۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
یہودیت وہ مذہب ہے جس میں خدا کی وحدانیت اور بنی اسرائیل کی برتری و عظمت کا یقین رکھنا ضروری ہے۔ یہی دو بنیادیں ہیں جس پر یہودی مذہب قائم ہے۔ یہ مذہب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کی مسلسل اور مرتب تاریخ محفوظ ہے۔ اس مذہب کو عالمگیر مذہب کہنا مشکل ہے کیونکہ دنیا کے ہر ایک گوشے میں ہونے کے باوجود اس مذہب میں غیر اسرائیلوں کے داخلے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے اور انھیں بہت مشکل مراحل سے گزار کر ہی یہودیت کے دائرے میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہودیوں کو بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ اسلامی مقدس کتاب قرآن میں بھی ان کے لیے یہی لفظ بکثرت استعمال ہوا ہے۔ اصل میں بنی اسرائیل کے معنی ہیں اسرائیل کی اولاد اور نبی یعقوب کا لقب ہے۔
نکاح متعہ (عربی : نكاح المتعة ) جسے عرف عام میں متعہ یا صیغہ کہا جاتا ہے؛ ولی (شہادت) کی موجودگی یا غیر موجودگی میں ہونے والا ایک ایسا نکاح ہے جس کی مدت (ایک روز، چند روز، ماہ، سال یا کئی سال) معین ہوتی ہے جو فریقین خود طے کرتے ہیں اور اس مدت کے اختتام پر خود بخود علیحدگی ہو جاتی ہے یا اگر مرد باقی ماندہ مدت بخش دے تب بھی عورت نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے مگر ہر صورت میں عدت اپنی شرائط کے ساتھ پوری کرنی پڑتی ہے ؛ اور اولاد انھیں والدین سے منسوب ہو تی ہے؛ اگر فریقین چاہیں تو مدتِ اختتامِ متعہ پر علیحدگی کی بجائے اسے جاری (یا مستقل) بھی کر سکتے ہیں۔ یہ نکاح ابتدا سے اسلام میں متعدد بار جائز ہوا اور اس سے روکا گیا پھر جائز ہوا۔ تاریخی اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے چند سال قبل تک اس کی موجودگی پر سنی بھی اور شیعہ بھی دونوں اتفاق کرتے ہیں۔ یعنی اس کا اصل میں حلال ہونا مسلم اور مورد اتفاق ہے مگر اکثر شیعہ اور سنی نیز دیگر فرقے اس کے حلیت باقی رہنے یا حرام ہوجانے کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں۔
جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔
ماہِ رمضان (رمضان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کی جمع رمضانات، ارمضاء، ارمضۃ یا رماضین آتی ہے) یہ ہجری تقویم کا نواں مہینہ ہے جو شعبان کے بعد آتا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ مہینہ دیگر ہجری مہینوں کی بہ نسبت بہت خصوصیت اور مقام ومرتبہ والا سمجھا جاتا ہے۔ اس مہینے میں اسلام کا ایک اہم رکن روزہ رکھا جاتا ہے، روزہ کے دنوں میں فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانا پینا منع ہوتا ہے۔ اسی ماہ میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید مکمل ہوا۔
تاریخ ایران (History of Iran) جس فارس بھی کہا جاتا ہے ایک بڑے خطے کی تاریخ کے ساتھ باہم پیچیدگی سے ملی ہوئی ہے۔ ایران عظمی جو مغرب میں اناطولیہ، آبنائے باسفورس اور مصر مشرق میں قدیم ہندوستاناور دریائے سیحوں شمال میں قفقاز اور یوریشیائی مسطح میدانی خطہ جنوب میں خلیج فارس سے خلیج عمان تک پھیلا ہوا ہے۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
اسماعیل قاآنی اکبر نژاد (پیدائش: 17 مرداد 1336 ھ ش / 8 اگست 1957ء) ایرانی فوجی کمانڈر ہیں جو سنہ 1398 ھ ش (2019ء) سے پاسدارانِ انقلاب کی سپاہ قدس کے تیسرے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ 1386 ھ ش (2007ء) سے 1398 ھ ش (2019ء) قاسم سلیمانی کے نائب کی حیثیت سے سپاہ قدس میں فرائض انجام دیتے رہے۔
قرآن کریم، قرآن مجید یا قرآن شریف (عربی: القرآن الكريم) دین اسلام کی مقدس و مرکزی کتاب ہے جس کے متعلق ہم اسلام کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ یہ کلام الہی ہے اور اسی بنا پر یہ انتہائی محترم و قابل عظمت کتاب ہے۔ اسے ہمارے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے ذریعے اتارا گیا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے جیسے جیسے قرآن مجید کی آیات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتیں آپ صلی علیہ وآلہ وسلم اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سناتے اور ان آیات کے مطالب و معانی سمجھا دیتے۔ کچھ صحابہ کرام تو ان آیات کو وہیں یاد کر لیتے اور کچھ لکھ کر محفوظ کر لیتے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ہر قسم کی تاریف بیان کرتا ہے پاک ہے محفوظ ہے ، قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ افضل کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔ اور صحف ابراہیم، زبور اور تورات و انجیل کے بعد آسمانی کتابوں میں یہ سب سے آخری اور افضل کتاب ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اب اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے پیش نظر اسے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ نیز عربی زبان و ادب اور اس کے نحوی و صرفی قواعد کی وحدت و ارتقا میں بھی قرآن کا خاصا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے وضع کردہ عربی زبان کے قواعد بلند پایہ عرب محققین اور علمائے لغت مثلاً سیبویہ، ابو الاسود الدؤلی اور خلیل بن احمد فراہیدی وغیرہ کے یہاں بنیادی ماخذ سمجھے گئے ہیں۔
قرآن واضح طور پر گواہى ديتا ہے كہ يہ دو وحشى خونخوار قبيلوں كے نام تھے، وہ لوگ اپنے ارد گرد رہنے والوں پر بہت زيادتياں اور ظلم كرتے تھے۔ مفسر علامہ طباطبائی نے الميزان ميں لكھا ہے كہ توريت كى سارى باتوں سے مجموعى طور پر معلوم ہوتا ہے كہ ماجوج يا ياجوج و ماجوج ایک يا كئى بڑے بڑے قبيلے تھے، يہ شمالى ايشيا كے دور دراز علاقے ميں رہتے تھے۔ يہ جنگجو، غارت گر اور ڈاكو قسم كے لوگ تھے۔
ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی بمباری
6 اور 9 اگست 1945 کودوسری جنگ عظیم میں ایک انسانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔ اس دن کو امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم گرایا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 2 سے 3 لاکھ کے درمیان لوگوں کی جان لی۔ آج اس دن کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسوں امڈ پڑتے ہیں کہ کیا ایسے انسان بھی ہو سکتے ہیں جو لاکھوں بے گناہ لوگوں کی جان منٹوں میں لے لیتا ہیں۔ اس واقعے نے پورے انسانیت کے دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایٹمی بمباری کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے معصوم لوگوں کے جسموں سے گوشت بگلنے لگا۔ اس دن کو تاریخ میں سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی بمباری کی وجہ ہے کہ آج بھی اگر ہیروشیما یا ناگاساکی میں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں کوئی نہ کوئی خلقی نقص پایا جاتا ہے۔ ایٹم بم انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔ جب بھی اس کا استعمال ہوا ہے ہمیشہ اس نے تباہی مجھائی ہے۔وہی امریکا جو آج دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہم سب سے زیادہ انسانیت کے حق میں ہے، اسی نے 1945 میں سب سے زیادہ انسانوں کو قتل کیا۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 12 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .
افک کے لغوی معنی بات کو الٹ دینا ہے۔ حقیقت کے خلاف کچھ بنا دینا اسی مناسبت سے اس کا معنی جھوٹ اور افتراء کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ الزام کسی حوالہ سے بولا جائے تو اس کا معنی بہتان بن جاتا ہے بدترین قسم کا جھوٹ جو حق کو باطل سے اور باطل کو حق سے بدل دے پاکدامن کو فاسق سے اور فاسق کو پاکدامن بنا دے افک کہلاتا ہے۔
کردستان مشرق وسطی کے ایک جغرافیائی و ثقافتی خطے کا نام ہے جس میں کرد نسل کے باشندوں کی اکثریت ہے۔ کردستان شمالی اور شمال مغربی بین النہرین سے ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ کردستان کے علاقے ترکی، شام اور عراق میں تقسیم شدہ ہیں۔ کردستان کا ایک بڑا حصہ ایران میں بھی واقع ہے، خاص طور پر مغربی اور شمال مغربی ایران میں۔ کردستان کے لوگ ننانوے فی صد مسلمان ہیں اور اسلام سے ان کی وابستگی بہت زیادہ ہے۔
ایران اسرائیل جنگ(3) ایران (با حمایت حوثی یمن) اور اسرائیل (با حمایت امریکا) کے مابین مسلح تنازع تھا جو 13 جون 2025ء کو اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو وسعت دینے سے روکنے کے دعوے کے ساتھ ایران کی متعدد تنصیبات پر ناگہانی حملے کیے۔ ان حملوں کو ”آپریشن شیرِ برخاستہ“(4) کا نام دیا گیا، جن کے دوران اسرائیلی دفاعی افواج اور موساد نے ایران کے جوہری مراکز، عسکری تنصیبات اور شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی شب ایران نے ”آپریشن وعدۂ صادق سوم“(5) کے تحت جوابی کارروائی کی، جس میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور خودکار ڈرونوں کے ذریعے اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کے ساتھ ساتھ بعض رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔
لیلۃ القدر یا شب قدر اسلامی مہینے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائسویں اور انتیسویں) میں سے ایک رات جس کے بارے میں قرآن کریم میں سورہ قدر کے نام سے ایک سورت بھی نازل ہوئی ہے۔ اس رات میں عبادت کرنے کی بہت فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔
اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
مائنر لیگ کرکٹ سیزن 2024ء (2024ء مائنر لیگن کرکٹ چیمپئن شپ کے طور پر برانڈڈ کیا گیا جسے اسپانسرشپ کی وجوہات کی بنا پر یاش ٹیکنالوجیز نے پیش کیا اور بعض اوقات اسے مختصر کر کے 2024ء کر دیا گیا۔ یہ مائنر لیگ کا چوتھا سیزن تھا، جسے یو ایس اے کرکٹ (یو ایس اے سی) اور میجر لیگ کرکٹ (ایم ایل سی) نے 2019ء میں قائم کیا تھا۔ لیگ نے پچھلے اسپانسر سنوکو کی جگہ لے کر یاش ٹیکنالوجیز کو ٹائٹل اسپانسر کے طور پر ٹیپ کیا، آئی آر اے اسپورٹس ویئر کے ساتھ لیگ کے سرکاری ملبوسات کے شراکت دار کے طور پر۔ اس سیزن کی میزبانی 30 اگست سے 6 اکتوبر 2024ء تک پورے امریکا میں 19 مقامات پر کی گئی۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
ایران/تہران میں اہل سنت کی مساجد ایران کے قانون کے مطابق کوئی شیعہ یا سُنی مسجد نہیں بلکہ ہر مسجد اللہ کا گھر ہے، ایران کے جن علاقوں میں اہل سنت کی تعداد زیادہ ہے وہاں کی مساجد میں اہل سنت پیش امام ہیں اور اہل تشیع کو وہاں کوئی اور مسجد بنانے کی اجازت نہیں بلکہ اہل تشیع بھی اہل سنت امام کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور اسی طرح جن علاقوں میں اہل تشیع کی آبادی زیادہ ہے وہاں پیش امام اہل تشیع ہو گا اور اہل سنت ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ تہران شہر میں 9 مرکزی اہلسنت مساجد موجود ہیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: مسجد صادقیہ، واقع در فلکهی دوم صادقیہ، بلوار آیت اللہ کاشانی، انتهای خیابان بوستان یکم، خیابان اعتمادیان، پلاک 31. مسجد تهرانپارس، واقع در خیابان دلاوران، خیابان والائیان، خیابان خسروپور، پلاک 14. مسجد شهرقدس، واقع در کیلومتر 20 جادهی قدیم، بلوار مصلی، بلوار امام حسین، میدان امام حسین، ضلع شمالی میدان، (سربالایی)، کوچهی فراز یکم، سومین کوچهی سمت چپ، پلاک 104.
خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔
میاں محمد شہباز شریف (پیدائش؛ 23 ستمبر 1951ء) ایک پاکستانی سیاست دان اور تاجر ہیں جو اس وقت مارچ 2024ء سے پاکستان کے 23ویں وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ اپریل 2022ء سے اگست 2023ء تک اس عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں۔ اس سے قبل اپنے سیاسی کیرئیر میں وہ تین بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، جس سے وہ پنجاب کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعلیٰ بن گئے۔
رُقَیۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم (24ق.ھ / 2ھ) آپ اعلان نبوت سے سات برس پہلے جب کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھا پیدا ہوئیں اور ابتدا اسلام ہی میں مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ پہلے آپ کا نکاح ابولہب کے بیٹے ”عتبہ” سے ہوا تھا لیکن ابھی آپ کی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ”سورہ تبت یدا” نازل ہو گئی۔ ابو لہب قرآن میں اپنی اس دائمی رسوائی کا بیان سن کر غصہ میں آگ بگولا ہو گیا اور اپنے بیٹے عتبہ کو مجبور کر دیا کہ وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دے۔ چنانچہ عتبہ نے طلاق دے دی۔ اس کے بعد حضور اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کر دیا۔ نکاح کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر حبشہ سے مکہ واپس آ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور یہ میاں بیوی دونوں ”صاحب الہجرتین” (دو ہجرتوں والے)کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئے۔ جنگ ِ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت سخت بیمار تھیں۔ چنانچہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنگ ِ بدر میں شریک ہونے سے روک دیا اور یہ حکم دیا کہ وہ حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری کریں۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس دن جنگ ِ بدر میں مسلمانوں کی فتح مبین کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچے اسی دن حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیس سال کی عمر پا کر وفات پائی۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ ِ بدر کے سبب سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ جنگ ِ بدر میں شریک نہ ہوئے لیکن حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو جنگ ِ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور جنگ ِ بدر کے مالِ غنیمت میں سے ان کو مجاہدین کے برابر حصہ بھی عطا فرمایا اور شرکاء جنگ ِ بدر کے برابر اجر عظیم کی بشارت بھی دی۔
پیروز نهاوندی یا فیروز جسے ابولؤلؤ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کا اصل تاریخی تعارف خلیفہ دوم عمر بن خطاب کو شہید کرنے کا ہے۔ وہ نہاوند شہر کا ایک مشہور اور ماہر ترین بڑھئی تھا۔ اس نے خلیفہ دوم کو شہید کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ پیروز نهاوندی یا فیروز جسے ابولؤلؤ اور باباشجاع الدین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے رستم فرخ زاد کی زیر کمان ایرانی مجوسی فوج کا سپاہی تھا اور جنگ قادسیہ (نہاوند) میں ساسانی فوج کی شکست کے بعد غلام کے طور پر مدینہ لایا گیا- سن 23 ہجری میں مسجد نبوی میں دوران نماز اس نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا- سیدنا فاروق اعظم کی شہادت کے بعد اسے قصاص میں قتل کیا گیا- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔اس کے بارے میں آتا ہے کہ ایک عمدہ لوہار اور بڑھئی تھا- اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق نہاوند سے تھا- فیروز مجوسی کا مزار قم سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر کاشان - فنس روڈ پر واقع ہے- یہ گیارہویں صدی کے شاہانہ انداز میں تعمیر کی گئی عمارت ہے جو مرکزی ہال، صحن اور نیلے کلر کی ایرانی ٹائلوں سے مزین مخروطی گنبد پر مشتمل ہے- اس کی درست تاریخ بنیاد تو نہیں معلوم مگر چودھویں صدی کے آخری نصف میں اسے پوری طرح بحال کر دیا گیا تھا اور اس پر نیا لوح تربت لگایا گیا تھا- شیعہ اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کرنے کے عوض بابا شجاع الدین (دین کا بہادر سپوت) کا اعزاز دیتے ہیں- حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا دن آج بھی ایران کے دور دراز کے قصبات میں فیروز نہاوندی کی عظمت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو کچھ سال پہلے تک تمام شہروں میں جشن عمر کشی کے نام سے منایا جاتا تھا جو عرب ممالک کے احتجاج پر حکام نے بند کروادیا.
منشی پریم چند اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا گاؤں کے پٹواری اور والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور استاد پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد عربوں کی قائم کردہ دو عظیم ترین سلطنتوں میں سے دوسری سلطنت خلافت عباسیہ ہے۔ خاندان عباسیہ کے دو بھائیوں السفاح اور ابو جعفر المنصور نے 750ء (132ھ) خلافت عباسیہ کو قائم کیا اور 1258ء (656ھ) میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ خلافت بنو امیہ کے خلاف ایک تحریک کے ذریعے قائم ہوئی۔ تحریک نے ایک عرصے تک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر بنو امیہ کو شکست دینے کے بعد بر سر اقتدار آگئی۔
یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔
فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اردو نثر کی تاریخ میں خصوصاً یہ کالج سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ کالج انگریزوں کی سیاسی مصلحتوں کے تحت عمل میں آیا تھا۔ تاہم اس کالج نے اردو زبان کے نثری ادب کی ترقی کے لیے نئی راہیں کھول دیں تھیں۔ سر زمین پاک و ہند میں فورٹ ولیم کالج مغربی طرز کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جو لارڈ ولزلی کے حکم پر 1800ءمیں قائم کیا گیاتھا۔
عید الفطر ایک اہم مذہبی تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔ عید کے دن مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو عید مناتے ہیں۔ کسی بھی قمری ہجری مہینے کا آغاز مقامی مذہبی رہنماؤں کے چاند نظر آجانے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ ممالک ایسے ہیں جو سعودی عرب کی پیروی کرتے ہیں۔ عید الفطر کے دن نماز عید (دو رکعت 6 زائد تکبیروں)کے ساتھ پڑھی جاتی ہے، جسے جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس میں 6 زائد تکبیریں ہوتی ہیں (جن میں سے 3 پہلی رکعت کے شروع میں ثنا کے بعد اور فاتحہ سے پہلے اور بقیہ 3 دوسری رکعت کے رکوع میں جانے سے پہلے ادا کی جاتی ہیں)۔ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں انھیں حکم دیا گیا ہے کہ "رمضان کے آخری دن تک روزے رکھو۔ اور عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرو"۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔