اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
کوکین ایک طاقتور اور مہنگا نشہ ہے۔ اسے کوکا نامی درخت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ کئی قسموں، جسے سفید پاؤڈر، پیسٹ (آمیزے) یا پتھر(کرسٹل) کی صورت میں ملتا ہے۔اسے ناک سے سونگھا جاتا ہے، مسوڑوں پر ملا جاتا ہے یا انجیکشن کی مدد سے رگوں میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ فوری طور پر انسان کو راحت پہنچانے والے دماغی حصے کو فعال کردیتی ہے۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
قلعة حلب ایک مضبوط قلعہ بند محل ہے جو قرونِ وسطیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے دنیا کے قدیم ترین اور بڑے قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس ٹیلے پر یہ واقع ہے، اس کا استعمال تیسرا ہزارہ قبل مسیح سے ثابت ہے اور بعد میں اس پر یونانی، بازنطینی ، ایوبی اور مملوک جیسی مختلف تہذیبوں نے قبضہ کیا۔ موجودہ عمارت کا بڑا حصہ ایوبی دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سنہ 2000ء میں آغا خان کلچر فاؤنڈیشن اور حلب کی آثار قدیمہ سوسائٹی نے اس قلعے کی بڑے پیمانے پر مرمت اور تحفظ کا کام کیا۔ یہ قلعہ حلب کے قدیم شہر کے مرکز میں واقع ہے، جسے یونیسکو نے 1986ء میں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ .
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔
رشید احمد صدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آ گئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کیے۔ علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم ہوا تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔ وہ شعروادب کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے تھے ادب کے بڑے اچھے استاد تھے ان کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے۔ 1977ء میں ان کا انتقال ہوا۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
ونایک دامودر ساورکر (ہندی: विनायक दामोदर सावरकर) جنھیں ان کے مداح ویر ساورکر کے لقب سے یاد کرتے ہیں، ہندوتوا نظریے کے بانیوں میں تھے۔ ان کا جنم 28 مئی، 1883ء میں مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے بھاگر گاؤں میں ہوا تھا۔ ان کی ماں کا نام رادھا بائی ساورکر اور باپ دامودر پنت ساورکر تھے۔ دونوں کی چار اولاد تھیں۔ ویر ساورکر کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم ناسک کے شیواجی اسکول سے ہوئی۔ محض 9 سال کی عمر میں ہیضے کی بیماری میں ان کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے کچھ سال بعد ان کے والد کا بھی 1899ء میں طاعون کی وبا میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ان کے بڑے بھائی نے خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اپنے سر لی۔ ساورکر بچپن سے ہی باغی فطرت کے تھے۔ جب وہ گیارہ سال کے تھے تبھی انھوں نے وانر سینا (بندروں کی فوج) کے نام سے ایک گروپ بنایا تھا۔ وہ ہائی اسکول کے دوران بال گنگادھر تلک کے شروع کیے گئے شیواجی اتسو اور گنیش اتسو کیا کرتے تھے۔ مارچ 1901ء میں ان کی شادی یمنا بائی سے ہوئی۔ سنہ 1902ء میں انھوں نے ڈگری کے لیے پونے کے فرگوسن کالج میں داخلہ لیا۔ معاشی بد حالی کی وجہ سے ان کی کلیاتی تعلیم کا خرچ ان کے سسر یعنی یمنابائی کے والد نے اٹھایا۔ ساورکر آگے چل کر ہندو مہا سبھا اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک ہوئے۔ بھارت کی آزادی کے لیے بھی کچھ کوشیشیں انھوں نے کی تھیں، جس کی وجہ سے انھیں کالے پانی کی بھی سزا ہوئی تھی مگر بعد میں انھوں نے انگریزوں سے معافی مانگ لی جس کے نتیجے میں ان کو رہا کر دیا گیا۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
مفتی محمد تقی عثمانی (پیدائش: 5 اکتوبر 1943ء) عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ ان کا شمار عالم اسلام کی مشہور علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ کے حالیہ صدر، بین الاقوامی اسلامی فقہ اکادمی، جدہ کے نائب صدر اور دارالعلوم کراچی کے صدر ہیں۔ اس کے علاوہ آپ آٹھ اسلامی بینکوں میں بحیثیت شرعی مشیر کام کر رہے ہیں اور البلاغ جریدے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
سورۃ البقرہ قرآن کی دوسری اور سب سے طویل سورۃ ہے۔ اس کی 286 آیات ہیں اور قرآن کے پہلے پارے میں سورہ الفاتحہ کو چھوڑ کر باقی تمام آیات، دوسرا پارہ مکمل طور پر اور تیسرے پارے کا بڑا حصہ اسی سورۃ پر مشتمل ہے۔ قرآن کی مشہور آیت الکرسی بھی اسی سورۃ کا حصہ ہے اور تیسرے پارے میں آتی ہے۔ اس سورت میں بہت سے اسلامی قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ بقرہ کے لفظی معنی "گائے" ہیں۔
جسمانی ریمانڈ ایک قانونی اصطلاح ہے۔ کوئی ادارہ جیسے اے این ایف، نیب، ایف آئی اے یا پولیس جب جب کسی ملزم کو گرفتار کرتی ہے تو پھر اسے 24 گھنٹوں کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرنا لازم ہوتا ہے۔ادارہ ملزم کو عدالت میں پیش کر کے استدعا کرتا ہے کہ اس نے ملزم سے کوئی ریکوری کرنی ہے یا کوئی ضروری معلومات حاصل کرنی ہیں لہٰذا تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دے کر ملزم کو پولیس یا ادارے کی تحویل میں دیا جائے۔جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت کو ریمانڈ کی وجہ بتانا لازمی ہے۔عدالت متعلقہ ادارے یا تفتیشی ایجنسی کی درخواست یا وجہ پر ملزم کا جسمانی یا فزیکل ریمانڈ دیتی ہے۔ پاکستانی عدالت ملزم کا زیادہ سے زیادہ 14 روز تک کا جسمانی ریمانڈ دے سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم 14روز یا جتنے دن کا ریمانڈ عدالت دیتی ہے اتنے روز وہ تفتیش کے لیے متعلقہ ادارے کی تحویل میں رہے گا۔یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ دے یا نہ دے۔ جسمانی ریمانڈ ملزم سے کوئی چیز ریکور کرنے کے لیے لیا جاتا ہے یا اس سے کوئی ایسی حقیقت جاننے کے لیے جس کا علم صرف ملزم ہی رکھتا ہو۔ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم ضمانت کی درخواست دائر نہیں کر سکتا۔جب ملزم سے جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیش مکمل ہو جاتی ہے تو پھر عدالت اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیتی ہے، یعنی ملزم سپرنٹنڈنٹ جیل کی تحویل میں چلا جاتا ہے اور وہی اسے عدالت میں پیش کرنے اور واپس جیل لے جانے کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ایک بار دیے گئے ریمانڈ میں دوسری یا تیسری بار توسییع بھی ہو سکتی ہے۔ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم سے تفتیش مکمل ہونے کے بعد عدالت ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیتی ہے جہاں اس سے تفتیش نہیں کی جا سکتی۔جوڈیشل ریمانڈ دینے کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے ملزم کو جیل بھجوانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
نستعلیق (نسخ اور تعلیق کا مرکب) یا خط پارسی فن خطاطی کا ایک اہم، مشہور اور خوب صورت ترین خط ہے جس میں عموماً فارسی-عربی حروف تہجی استعمال کرنے والی زبانیں لکھی جاتی ہیں۔ عصر حاضر میں اس خط کا سب سے زیادہ استعمال اُردو زبان میں ہوتا ہے۔ یہ ایران میں چودھویں اور پندرھویں صدی عیسوی میں پروان چڑھا۔ بعض اوقات اس خط کو عرب خطاط بھی استعمال کرتے ہیں اور فارسی زبان میں عموماً سرخیوں کو لکھنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اردو زبان کی اکثر و بیشتر تحریریں، اخبارات، کتابیں اور ڈیزائن اسی خط میں لکھے جاتے ہیں۔ جبکہ کشمیری زبان اور پشتو زبان بولنے والے بھی اس خط کو اپنی تحریر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں عثمانی ترک زبان اسی خط میں لکھی جاتی تھی اور عثمانی اس خط کو تعلیق کہتے تھے۔ (واضح رہے کہ یہاں فارسی کا مشہور خط تعلیق مراد نہیں ہے، جسے عثمانی "تعلیق قدیم" سے تعبیر کرتے تھے)۔ فارس میں ساسانی سلطنت کے زوال کے بعد اس خط کا استعمال شروع ہوا اور جلد ہی فارسی کی تحریری روایت میں یہ خط مرکزی اہمیت کا حامل بن گیا۔ اس خط کی مرکزی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کی زبانیں (مغربی فارسی، بلوچی، کردی، لوری وغیرہ)، افغانستان کی زبانیں (دری، پشتو، ترکمان، ازبک وغیرہ)، بھارت اور پاکستان کی زبانیں (اردو، کشمیری، سرائیکی، پشتو، بلوچی، کوہستانی وغیرہ) اور چینی صوبہ سنکیانگ کی ترکی الاصل اویغور زبان اس خط کو استعمال کرتی ہیں۔ اب شینا زبان کے لیے بھی تاریخ میں پہلی بار ولایتی نستعلیق سامنے آگیا ہے اور بلتی زبان بھی اسی میں لکھی جا سکتی ہے، جس کو غلام رسول ولایتی نے بنایا ہے۔ اس خط کو تعلیق کا نام دے کر عثمانی خطاطوں نے اپنے فن پاروں میں خوب استعمال کیا اور اسی خط نستعلیق سے خط دیوانی اور خط رقعہ جیسے خوبصورت خطوط ایجاد کیے۔
شیخ الحديث مولانا محمد ادريس سال 1961ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولوی حکیم عبدالحق ہے اور عوام میں مناظراسلام کے نام سے مشہور تھے۔ مولانا محمد ادریس کے دادا کا نام شيخ الحديث مفتی شہزادہ فاضل دارالعلوم ديوبند تھے وہ بھی ایک علمی شخصیت تھے اور اپنے دور کے بڑے مفتی اور شیخ الحدیث تھے۔ آپ كے پردادا كا نام شيخ مولانا محمد اسماعيل ہے۔ جو كه مشهور عالم علامه شمس الحق افغاني كے استاذ تھے اور اپنے علاقے ميں شيخ كے نام سے مشهور تھے۔ آپ عالمی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا محمد حسن جان مدنی کے داماد ہیں۔ حضرت شیخ صاحب کے دو بیٹے ہیں۔ مولانا انیس احمد جو جامعہ دار العلوم حقانیہ کے فاضل اورجامعہ دار العلوم نعمانیہ میں دینی علوم کے درس وتدریس میں مصروف ہیں اور ایک جید مدرس ہے۔ اور ڈاکٹر محمدسلمان جو طب(میڈیکل) MBBS ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
انشائیہ : انشائیہ کے لغوی معنی "عبارت" کے ہیں۔ انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے جو مضمون کی مانند لگتی ہے مگر مضمون سے الگ انداز رکھتی ہے۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار آزادانہ طور پر اپنی تحریر پیش کرتاہے، جس میں اس کی شخصیت کا پہلو نظر آتا ہے۔ کسی خاص نتیجہ کے بغیر بات کو ختم کرتا ہے، یعنی نتیجہ کو قاری پر چھوڑ دیتا ہے۔ مشہور انشاء پروازوں میں محمد حسین آزاد، سرسید احمد خان، ابو الکلام آزاد، مرزا فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی، ابن انشاء وغیرہ مشہور ہیں۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 12 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .
بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق دہلوی (پیدائش: 20 اپریل 1870ء - وفات: 16 اگست 1961ء) برِ صغیر پاک ہند کے عظیم اردو مفکر، محقق، ماہر لسانیات، معلم اور انجمن ترقی اردو اور اردو کالج کراچی (موجودہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی) کے بانی تھے۔ انھوں نے اپنی تمام زندگی اردو کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کردی۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
پاکستان کی تیرہویں قومی اسمبلی کے اراکین کی فہرست
پاکستان کی 13 ویں پارلیمنٹ پاکستان کی مقننہ جو 2008 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان پارلیمنٹ (ایم پی ز) کے دو ایوانی مجلس شوریٰ کی ایوان زیریں ہے۔ قومی اسمبلی ایک جمہوری طور پر قائم ادارہ ہے جس میں 342 اراکین تھے، جنھیں اراکین قومی اسمبلی (MNAs) کہا جاتا ہے، جن میں سے 272 براہ راست منتخب اراکین ہوتے ہیں۔ خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے 70 مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کو ان کے کل ووٹوں کے تناسب کے مطابق نشست مختص کی گئی تھیں۔
شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے جنگ کی ٹھانی۔ ابوسفیان نے قریش اور دیگر قبائل حتیٰ کہ یہودیوں سے بھی لوگوں کو جنگ پر راضی کیا اور اس سلسلے میں کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی مگر مسلمانوں نے سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوہ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھی۔ جیسے آج کل امریکا، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآن میں سورۃ الاحزاب میں ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص ( لفظی معنی "سیسہ پلائی دیوار" یا "آہنی دیوار")، پاکستانی فوج کی طرف سے 2025 کے ہندوستان-پاکستان حملوں کے دوران 10 مئی 2025ء کو ہندوستانی فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کے لیے دیا گیا نام ہے۔ یہ کارروائی 1999ء کے کارگل تنازعہ کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی ہے۔ یہ آپریشن اسلام آباد نے 7 سے 10 مئی تک کے ہندوستانی میزائل اور ڈرون حملوں کے "مناسب جواب" کے طور پر تیار کیا تھا۔
ریاستہائے متحدہ کی ایجادات کی ٹائم لائن (1890–1945)
ریاستہائے متحدہ کی ایجادات کی ایک ٹائم لائن (1890–1945) ایک تاریخی تناظر میں ریاستہائے متحدہ کی ہوشیاری اور جدید پیشرفتوں کا احاطہ کرتی ہے ، جو ترقی پسند دور سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک ہے ، جو موجدوں نے حاصل کی ہے جو یا تو مقامی ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے پیدائشی یا قدرتی شہری ۔ کاپی رائٹ کے تحفظ سے کسی فرد کے اپنے اصل ایجاد کے بارے میں سوالات میں ہونے والے پہلے ایجاد کے دعوے کا حق محفوظ ہوتا ہے ، جس کو ریاستہائے متحدہ امریکا کے آئین کے آرٹیکل I ، سیکشن 8 ، شق 8 میں روشنی ڈالی گئی ہے جو ریاستہائے متحدہ کانگریس کو درج ذیل طاقت فراہم کرتی ہے:
محمد اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اگر چاہیں تو اس کے جواب میں صرف ایک لفظ ”خودی“ کہہ سکتے ہیں اس لیے کہ یہی ان کی فکر و نظر کے جملہ مباحث کا محور ہے اور انھوں نے اپنے پیغام یا فلسفہ حیات کو اسی نام سے موسوم کیا ہے۔ اس محور تک اقبال کی رسائی ذات و کائنات کے بارے میں بعض سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ہوئی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کائنات اور اس کی اصل کیا ہے؟ آیا یہ فی الواقع کوئی وجود رکھتی ہے یا محض فریب نظر ہے؟ اگر فریب نظر ہے تو اس کے پس پردہ کیاہے؟ اس طرح کے اور جانے کتنے سوالات ہیں جن کے جوابات کی جستجو میں انسان شروع سے سرگرداں رہا ہے۔ اس طرح کے سوالات جن سے انسان کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں اقبال سے پہلے غالب نے بھی اُٹھائے تھے۔
دبئی (/duːˈbaɪ/، doo-BY؛ عربی: دبي، رومانی: Dubayy، IPA: [dʊˈbajj]، خلیج عربی تلفظ: [dəˈbaj]) متحدہ عرب امارات (UAE) کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے اور اس کا دار الحکومت ہے۔ امارات دبئی، متحدہ عرب امارات کے 7 امارات میں سب سے زیادہ آبادی والا۔ 18ویں صدی میں ایک چھوٹے سے ماہی گیری گاؤں کے طور پر قائم کیا گیا، شہر نے 21ویں صدی کے اوائل میں سیاحت اور عیش و آرام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کی، جس میں دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ فائیو اسٹار ہوٹل ہیں اور دنیا کی بلند ترین عمارت برج ہے۔ خلیفہ، جو 828 میٹر (2,717 فٹ) اونچا ہے۔
بچوں کا بچوں سے جنسی استحصال ایک قسم کا بچوں کا جنسی استحصال ہے جس میں سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے ہی کسی بچے کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور یہ ایک یا اس سے زیادہ بچوں یا نواجوانوں کی جانب سے کیا جاتا ہے جس میں راست طور پر کوئی بالغ شامل نہیں ہوتا ہے۔ اس اصطلاح کو اس جنسی سرگرمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو "بغیر رضامندی، بغیر مساوات یا پھر زبردستی کے نتیجے میں انجام پائے۔ اس میں یہ شکل بھی شامل ہے جب ایک بچہ جسمانی زبردستی، دھمکی، دھوکے بازی یا جذباتی چالبازی کا استعمال کرتے ہوئے تعاون حاصل کرے۔ بچوں کے بچوں سے جنسی استحصال کو مزید روایتی جنسی کھیل یا جسم کی ساخت کو جاننے کے تجسس سے اور ایسی کوششوں سے مختلف بتایا گیا ہے (مثلًا "ڈاکٹر کھیلنا") کیوں کہ بچوں کا بچوں سے جنسی استحصال ایک صاف طور ظاہر اور جنسی شہوت کی جانب دانستہ طور مرکوز ہے اور اس میں اباضہ بھی شامل ہے۔ کئی واقعات میں ایسا شخص جو دوسرے کو جنسی عمل کے لیے ابھارتا ہے، بچے کی معصومیت کا کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور کم عمر مظلوم ان پر ہونے والے ظلم کی حقیقی نوعیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جب جنسی استحصال ایک بھائی یا بہن کی جانب سے اپنے ہی بھائی یا بہن (وہی صنف یا مخالف صنف، دونوں ہی صورتوں میں) انجام پاتا ہے، تو اسے بین الاولاد استحصال کہتے ہیں۔
سال1857کے ہنگامے کے بعد ملک میں ایک تعطل پیدا ہو گیا تھا۔ اس تعطل کودور کرنے اور زندگی کو ازسر نو متحرک کرنے کے لیے حکومت کے ایماءپر مختلف صوبوں اور شہروں میں علمی و ادبی سوسائٹیاں قائم کی گئیں ہیں۔ سب سے پہلے بمبئی، بنارس ،لکھنؤ، شاہ جہاں پور، بریلی اور کلکتہ میں ادبی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ایسی ہی ایک انجمن لاہور میں قائم کی گئی جس کا پور ا نام ”انجمن اشاعت مطالب ِ مفیدہ پنجاب “ تھا جو بعد میں انجمن پنجاب کے نام سے مشہور ہوئی۔
محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
جوزف وجے چندر شیکھر (پیدائش 22 جون 1974ء)(تمل:விஜய்) جو وجے کے نام سے مشہور ہیں، ایک بھارتی تمل فلم اداکار ہیں جو ہندوستانی سنیما میں ایک آرٹسٹ کے ساتھ ساتھ ایک گلوکار اور بھارت میں بہت سے کمپنیوں کے لیے ایک ترجمان (برانڈ ایمبیسڈر)بھی رہے ہیں۔ ان کے والد کا نام ایس اے چندر شیکھر ہے جو ایک مشہور ہدایت کار ہیں۔ وجے اپنے شائقین میں تھلپتھی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
ستارہ شجاعت ( اردو: ستارہِ شجاعت )، جسے کبھی کبھی ستارہ شجاعت بھی کہا جاتا ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے دیا جانے والا بہادری کا دوسرا سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے۔ یہ عام طور پر پاکستانی شہریوں جیسے شہریوں، انسانی حقوق کے محافظوں ، فوجی یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ملک کے قومی مفاد میں ان کی بہادری کی شراکت کے لیے دیا جاتا ہے، اور جب کہ یہ ایوارڈ "بہادری کی خدمات کو تسلیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ "، یہ ہر سال یوم پاکستان پر صدر کی طرف سے بعد از مرگ بھی دیا جاتا ہے۔ سیکورٹی ، دفاع اور صحت میں کسی شہری کی شراکت کو تسلیم کرنے کے بعد، چاہے یہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری فرض، متعلقہ ریاستی حکومتیں حتمی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات کی فہرست تیار کرتی ہیں۔ حکومت کو بھیجے جانے کے بعد، وزیر اعظم ایوارڈ یافتہ افراد کی فہرست صدر کو تجویز کرتا ہے یا مشورہ دیتا ہے۔ اس کا سرکاری طور پر یوم آزادی پر اعلان کیا جاتا ہے اور ہر سال یوم پاکستان پر پیش کیا جاتا ہے۔ اہل افراد کو نوازنے سے پہلے، اسے 15 اپریل تک پاکستان کی کابینہ کو بھیجا جاتا ہے۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
مشت زنی، جسے جلق، استمناء بالید، مٹھولا، ہتھ رس، ہتھ لس یا مٹھ مارنا بھی کہا جاتا ہے، ایک انسانی شہوانی عمل ہوتی ہے، جس میں ایک مرد یا عورت بغیر کسی دوسرے انسان کے اپنی شرمگاہ کو ہاتھ، انگلیاں یا کسی اور چیز کی مدد سے متحرک رکھے اور جس میں انسان کی شرمگاہ سے منی نکل آئے۔ اس کا ارتکاب انسان عام طور پر اس وقت کرتا ہے جب وہ اپنی شہوت کے دباؤ کو نہ سنبھال سکے۔
اردو زبان میں سینتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔
فریج (refrigerator) ایک ایسی جگہ یا برقی نفاذیہ (appliance) (جو عموماً الماری نما ہوتی ہے) کو کہا جاتا ہے کہ جہاں حراری حاجز (thermal insulation) کی موجودگی میں اس کے اندر سے حرارت کو آلات کی مدد سے نکال کر باہر خارج کر دیا جاتا ہے اور اس طرح اس الماری یا صندوق کے اندر کا درجۂ حرارت اس کے محاصری (ambient) درجۂ حرارت سے کم ہو کر اس کے اندر ٹھنڈک پیدا کرتا ہے اور غیر موصل کی موجودگی اس سردی کو طویل عرصے اور کم برقی خرچ پر برقرار کھنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ سے فریج میں موجود خوراک لمبے عرصے تک محفوظ رہتی ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع بلاشبہ انسانی حقوق کا اوّلین اور مثالی منشور اعظم ہے۔ اسے تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کا سب سے پہلامنشور انسانی حقوق ہونے کا اعزاز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو آخری حج کیا اسے دو حوالوں سے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ ایک اس حوالہ سے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری حج وہی کیا اور اس حوالے سے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اس خطبہ میں ارشاد فرمایا :وَاللَّهِ لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا۔ یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے، شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔ خطبہ حجۃ الوداع کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔
مکہ (عربی: مكَّة المُكرَّمَة انگریزی: Makkah / Mecca)، جسے باضابطہ طور پر مکۃ المکرمہ اور عموماً صرف مکہ کہا جاتا ہے، سعودی عرب کے مغرب میں واقع تاریخی خطہ حجاز میں المکہ علاقہ کا دار الحکومت ہے اور یہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ بحیرہ احمر پر واقع جدہ سے 70 کلومیٹر (43 میل) کے فاصلے پر ہے، یہ ایک تنگ وادی میں جو سطح سمندر سے 277 میٹر (909 فٹ) بلند ہے۔ 2022ء میں اس کی میٹروپولیٹن آبادی 2.4 ملین تھی، جو اسے ملکی دار الحکومت ریاض اور جدہ کے بعد سعودی عرب کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بناتا ہے۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
سید عبد اللطیف کاظمی قادری المعروف امام بری کا تعلق قادریہ سلسلہ سے ہے آپ بری امام (امام البر خشکی کے امام)کے لقب سے زیادہ مشہور ہیں آپ کا دربار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پورشاہاں میں واقع ہے اس سے پہلے یہ جگہ چور پور کہلاتی تھی امام بری اسلام آباد کے سرپرست ولی (سینٹ) ہیں۔
دوسری جنگ عظیم (1939 – 1945) کے دوران ، برطانیہ نے ہندوستان پر کنٹرول کیا ، برطانیہ کا ہندوستان میں چھ سو سے زیادہ خود مختار شاہی ریاستوں سمیت ہندوستان کے علاقوں پر کنٹرول تھا۔ برطانوی مقبوضہ ہندوستان نے ستمبر 1939 میں نازی جرمنی کے خلاف باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کیا۔ برطانوی راج نے اتحادی ممالک کے ایک حصے کی حیثیت سے محوری طاقتوں کے خلاف برطانوی کمانڈ کے تحت لڑنے کے لیے ڈھائی لاکھ سے زیادہ فوجی بھیجے۔ برطانوی حکومت نے جنگ کی مالی اعانت کے لیے اربوں پاؤنڈ کا قرض لیا۔ چین نے برما انڈیا تھیٹر میں چین کی حمایت میں امریکی کارروائیوں کا اڈا بھی فراہم کیا۔
اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
خواتین کی تاریخ، عورتوں کی تاریخ یا تاریخ کا نسوانی مطالعہ دراصل تاریخ کے مطالعے کا وہ پہلو اور وہ شاخ ہے جو خواتین کے بارے، ان کے صفحات تاریخ کے ظاہری پس پردہ کرداروں، ان کے سماج حاصل مقام اور حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوکوں کا مطالعہ ہے۔ اسی تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں کئی خواتین قائدانہ کردار نبھا چکی ہیں۔ ان میں کچھ خواتین کی مثالیں رضیہ سلطان، چاند بی بی، رانی لکشمی بائی، ملکہ وکٹوریہ، ملکہ ایلیزبیتھ اول اور ملکہ ایلیزبیتھ دوم رہے۔ کچھ خواتین اگر چیکہ خود فیصلہ سازی نہیں کرتی تھیں، مگر اپنے شوہر یا کسی رشتے دار سے اپنے کام کرواتی تھی۔ کچھ ملکاؤں کا ظاہری یا باطنی کردار نامعلوم ہوتا مگر ایک بادشاہ کے پاس ان کی کیا حیثیٹ رہی ہو گی، یہ کچھ حالات سے ظاہر ہوتا ہے۔ مثلًا مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کے گذر جانے کے بعد تاریخی تاج محل بنوایا جو آج بھی اپنی خوبصورتی اور شان و شوکت کے لیے مشہور ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے سماجی رجحانوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کچھ سماجوں میں، جیسے کہ عرب سماج میں اکثر ازواج ایک عام بات رہی ہے۔ یہ اسلام سے پہلے بھی تھا اور اس کے بعد بھی۔ ہندوستان میں ابتدائی ویدی دور میں صرف ایک شادی سماج میں قابل قبول تھی۔ مگر بعد کے ویدی دور سے تعدد ازواج کی گنجائش دیکھی گئی۔ مسیحی دنیا میں گرجا کے ارباب مجاز نے تعدد ازواج کو کافی پہلے سے ممنوع قرار دیا ہے۔ تاہم دنیا میں تقریبًا ہر دور میں حکمرانوں کی کئی بیویاں رہی ہیں۔ ان میں جو سب سے خاص ہوا کرتی تھی، اسے محل خاص کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بادشاہوں کے حرم ہوا کرتے تھے جن میں کثرت سے باندیاں رہتی تھیں۔ باندیوں کا درجہ کبھی ملکہ کے مساوی نہیں ہوا کرتا تھا۔ نہ باندی سے پیدا ہونے والی اولاد کو پوری طرح سے شاہی خون تسلیم کیا جاتا تھا۔ قدیم یونانیوں کے دور سے جنگوں میں ہارنے والے مفتوحہ لوگوں کی عورتوں کے سلوک ایک موضوع بحث رہا ہے۔ کچھ جگہوں پر ان کے ساتھ ریادتیاں کی جاتی تھی اور کچھ جگہوں پر انھیں باندیاں بھی بنایا جاتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے کئی فوجیوں نے کوریائی خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس بات کے لیے ہر جاپانی وزیر اعظم آج کے دور میں بھی جنوبی کوریا سے معذرت چاہتے رہتا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ کی اوراق پر عورتوں نے کئی نمایاں کام بھی کیے تھے جن کے لیے انھیں یاد کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی مشہور ریاضی دان خاتون لیلاوتی کو اپنی ریاضیاتی اور سائنسی مہارت کے لیے یاد کیا جاتا ہے اور اسی طرح سے کئی دنیا کی اور خواتین کو یاد کیا جاتا ہے۔ حقوق نسواں بھی ایک اہم تاریخی موضوع ہے اور اس کا مطالعہ بھی تاریخی کتب کا اہم حصہ ہے۔
خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد عربوں کی قائم کردہ دو عظیم ترین سلطنتوں میں سے دوسری سلطنت خلافت عباسیہ ہے۔ خاندان عباسیہ کے دو بھائیوں السفاح اور ابو جعفر المنصور نے 750ء (132ھ) خلافت عباسیہ کو قائم کیا اور 1258ء (656ھ) میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ خلافت بنو امیہ کے خلاف ایک تحریک کے ذریعے قائم ہوئی۔ تحریک نے ایک عرصے تک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر بنو امیہ کو شکست دینے کے بعد بر سر اقتدار آگئی۔
منڈی بہاء الدین، صوبہ پنجاب میں ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے اور ضلعی صدر مقام بھی ہے۔ منڈی بہاء الدین کا نام جو قدیم زمانے میں (چک نمبر 51) کے نام سے جانا جاتا تھا، دو ماخذوں سے نکلا، منڈی ایک سابقہ تھا کیونکہ یہ غلہ منڈی تھا اور بہاء الدین ایک صوفی بزرگ تھے۔ جن کا مقبرہ پنڈی بہاؤالدین کے قدیم گاؤں میں یا اس کے قریب ہے۔ یہ شمالی پنجاب، پاکستان کا ایک شہر ہے۔ یہ ضلع منڈی بہاؤالدین کا دار الحکومت بھی ہے۔ منڈی بہاء الدین 2017ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 41 واں بڑا شہر ہے۔ یہ شہر سطح سمندر سے تقریباً 220 میٹر بلند ہے اور وسطی پنجاب میں دریائے جہلم (شمال 12 کلومیٹر) اور چناب (جنوبی 39 کلومیٹر) کے درمیان واقع ہے۔
ابو نجم بدر، جسے بدر الکبیر بھی کہا جاتا ہے، ایک غلام تھا جس نے فاطمی حاکمِ حلب عزیز الدولہ کو قتل کیا اور بعد میں تقریباً تین ماہ (1022ء) تک اس کی جگہ حاکم بن گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قتل ایک باقاعدہ سازش کا نتیجہ تھا جو بدر اور فاطمی دربار، بالخصوص ستّ الملک، کے درمیان طے پائی تھی۔ آخرکار بدر کو اپنے منصب سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا اور کچھ ہی عرصے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔
نوبل انعام ( noh-BELسونسکا:معاونت:بین الاقوامی صوتیاتی ابجد/سونسکا؛نورشک:معاونت:بین الاقوامی اصواتی ابجدیہ برائے نارویجن )، نوبل فاونڈیشن کی جانب سے دیے جاتے ہیں اور یہ اصول پر مبنی ہوتے ہیں کہ "انسانیت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند کام" کو تسلیم کیا جائے۔ انعامات پہلی بار 1901 میں دیے گئے، جو الفریڈ نوبل کی وفات کی پانچویں برسی کا موقع تھا۔ نوبل کی وصیت میں جن پانچ شعبوں کا ذکر تھا وہ تھے: طبیعیات، کیمیا، جسمانیات یا طب، ادب اور امن۔ بعد ازاں 1968 میں سویڈن کے سیورجس رکس بینک (مرکزی بینک) نے الفریڈ نوبل کی یاد میں
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
پیڑو کے فرشی پٹھوں کی ورزش ( پی ایف ایم ای ) جسے کیگل مشقیں بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ مشقیں ہیں جنھیں زیادہ فعال مثانے ، پیشاب کی بے ضابطگی اور پیڑو کے اعضاء کے پھیل جانے کی صورت میں انھیں منظم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تناؤ پیشاب کی بے ضابطگی کے عارضہ میں پہلے علاج کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ عمل جنسی فعل میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان سے مرد اور خواتین دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے اکثر 3 سے 6 ہفتے تک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طریقہ کار میں پیڑو کا فرشی پٹھوں کو بار بار سکیڑنا، ان کو 3 سیکنڈ تک اس حالت میں روکنا اور پھر ان پٹھوں کو آرام دینا شامل ہے۔ اسے بائیو فیڈ بیک آلات اور مثانے کی تربیت کے ساتھ ملا کر کیا جا سکتا ہے۔ لیٹنے، کھڑے ہونے اور بیٹھتے وقت مشقیں کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ مشقیں روزانہ 10 سے 15 دہرائی جانے والی تین سیٹ کے طور پر کی جانی چاہئیں۔ اس بات کی احتیاط کی سفارش کی جاتی ہے کہ مشقوں کے دوران پیٹ کے پٹھوں یا ران کے پٹھوں میں سکڑاؤ نہ ہو۔ ضرورت سے زیادہ ورزش کی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ پیڑو کے فرشی پٹھے، مثانے ، بڑی آنت کے نچلے سرے اور بچہ دانی کو سہارا دیتے ہیں۔ مورس کی طرف سے برطانیہ میں جدید وضاحتیں 1936 سے ملتی ہیں۔۔ بعد ازاں اسے 1948 میں امریکی ماہر امراض نسواں آرنلڈ کیگل نے مقبولیت دی۔ تاہم، پیڑو کی مشقوں کی تفصیل ہزاروں سال پرانی ہے.
فتح مکہ (جسے فتح عظیم بھی کہا جاتا ہے) عہد نبوی کا ایک غزوہ ہے جو 20 رمضان سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی کو پیش آیا، اس غزوے کی بدولت مسلمانوں کو شہر مکہ پر فتح نصیب ہوئی اور اس کو اسلامی قلمرو میں شامل کر لیا گیا۔ اس غزوہ کا سبب قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان میں ہوا تھا، یعنی قریش مکہ نے اپنے حلیف قبیلہ بنو دئل بن بکر بن عبد منات بن کنانہ (اس کی ایک خاص شاخ جسے بنو نفاثہ کہا جاتا ہے) نے بنو خزاعہ کے خلاف قتل و غارت میں مدد کی تھی اور چونکہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا اس لیے اس حملے کو قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی سمجھا گیا جو مسلمانوں اور قریش کے درمیان میں ہوا تھا، یہ معاہدہ "صلح حدیبیہ" کے نام سے معروف ہے۔ اسی معاہدہ کی خلاف ورزی کے جواب میں حضرت محمدﷺ بن عبد اللہ نے ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا جو دس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا؛ لشکر آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا اور بغیر کسی مزاحمت کے مکہ میں پر امن طریقے سے داخل ہو گیا سوائے ایک معمولی سی جھڑپ کے جس کے سپہ سالار خالد بن ولید کو اس وقت سامنا ہوا جب قریش کی ایک ٹولی نے عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسلمانوں سے مزاحمت کی اور پھر خالد بن ولید کو ان سے قتال کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بارہ کفار مارے گئے اور باقی بھاگ گئے، جبکہ دو مسلمان بھی شہید ہوئے۔
گُرجر ،گُجر، گُوجر (سنسکرت: گرجرہ/گرجرا) گوجر ایک ہند-آریائی قبائلی نسل ہے، جو بنیادی طور پر بھارت، پاکستان اور افغانستان میں سکونت پزیر ہے، جو اندرونی طور پر مختلف قبیلچوں میں تقسیم ہے۔ یہ روایتی طور پر زراعت اور زمینداری کی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور انھوں نے ایک بڑا متضاد گروہ تشکیل دیا۔ گرجروں کا تاریخی کردار معاشرے میں کافی متنوع رہا ہے؛ ایک سرے پر وہ کئی سلطنتوں اور شاہی خاندانوں کے بانی رہے ہیں اور دوسرے سرے پر، کچھ اب بھی خانہ بدوش ہیں جن کی اپنی کوئی زمین نہیں ہے۔
پاکستان کا آئین، جسے 1973 کا آئین بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہے۔ یہ دستاویز پاکستان کے قانون، سیاسی ثقافت اور نظام کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ ریاست کا خاکہ، آبادی کے بنیادی حقوق، ریاست کے قوانین اور احکامات اور اداروں اور مسلح افواج کے ڈھانچے اور قیام کو بیان کرتی ہے۔ یہ ذو الفقار علی بھٹو کی حکومت نے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی اضافی مدد سے تیار کیا تھا اور اسے 10 اپریل کو 5ویں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا اور 14 اگست 1973 کو توثیق کی گئی۔ پہلے تین ابواب حکومت کی تین شاخوں کے قواعد، مینڈیٹ اور علاحدہ اختیارات قائم کرتے ہیں: ایک دو ایوانی مقننہ؛ ایک ایگزیکٹو برانچ جسے وزیر اعظم بطور چیف ایگزیکٹو چلاتے ہیں؛ اور ایک اعلیٰ وفاقی عدلیہ جس کی سربراہی سپریم کورٹ کرتی ہے۔ آئین پاکستان کے صدر کو ریاست کے اتحاد کی نمائندگی کرنے والے رسمی سربراہ مملکت کے طور پر نامزد کرتا ہے۔ آئین کے پہلے چھ مضامین سیاسی نظام کو وفاقی پارلیمانی جمہوریہ کے نظام کے طور پر بیان کرتے ہیں؛ اور اسلام کو اس کا ریاستی مذہب بھی قرار دیتے ہیں۔ آئین میں قرآن اور سنت میں موجود اسلامی احکام کی تعمیل کے لیے قانونی نظام کی دفعات بھی شامل ہیں۔
حورِ عین ایک اسلامی عقیدے کے مطابق جنت کی مخلوق ہیں، جو جنتی مردوں کے لیے بطور بیویاں تیار کی گئی ہیں اور ان کا حسن ہر بیان سے بالا تر ہے۔ سنت نبوی میں یہ بات ثابت ہے کہ شہید کو جنت میں بہتر (72) حورِ عین عطا کی جاتی ہیں، جب کہ عام جنتی کو بھی کم از کم دو بیویاں ملتی ہیں اور بعض کو اس سے بھی زیادہ۔ حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شہید کے لیے اللہ کے ہاں چھ انعامات ہیں: . خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، . جنت میں اس کا مقام اسے دکھا دیا جاتا ہے، .
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
عربی (عربی: العربية) بلند میں سب سے بڑی زبان ہے اور عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت ملتی ہے۔ جدید عری یا فصیح عربی کی تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ فصیح عربی قدیم زمانے سے ہی بہت ترقی یافتہ شکل میں تھی اور قرآن کی زبان ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ فصیح عربی اور بولے جانے والی عربی میں بہت فرق نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے بولے جانے والی اردو اور ادبی اردو میں فرق ہے۔ عربی زبان نے اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ تاریخ میں عربی زبان کی اہمیّت کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
ذیل میں اردو کے ان محاوروں کی فہرست بلحاظ حروف تہجی درج ہے جو کثیر الاستعمال ہیں۔ محاورے دوسرے الفاظ میں کسی بھی زبان میں سینہ بسینہ منتقل ہونے والے وہ جملے یا کہاوتیں ہوتی ہیں جو ضرب المثل بن جاتی ہیں ی بھی صورت حال کو چند الفاظ میں بیان کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے بسا اوقات طویل جملوں اور نصائح سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اردو زبان کے محاورے اس کا سب سے دلچسپ حصہ سمجھے جاتے ہیں۔