اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
9 ذی الحج کو یوم عرفہ کہتے ہیں غیر حاجی کے لیے اس دن روزے کی فضیلت ہے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے اور دوسری جگہوں میں اس دن روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا : ابو قتادہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲﷺسے یوم عرفہ کے بارے دریافت کیا گیا تو فرمایا یہ سال گذشتہ اور آئندہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے علامہ شرنبلالی نے لکھا ہے کہ حدیث صحیح میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یوم عرفہ افضل الایام ہے اور جب یہ دن جمعہ کا ہو تو یہ ستر حجوں سے افضل ہے۔ عرفہ کو عرفہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام کو اس سوال کے جواب مین فرمایا کہ : ھل عرفت ما رائیتک ؟ قال نعم عرفتُ !
تکبیرات تشریق: عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کی فجر سے 13ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز کے ساتھ ایک بار اَ للہُ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبراللہ اکبر ولِلّٰہ الْحَمْد پڑھنا۔ تکبیرات تشریق یعنی ہر فرض نماز کے بعد فرض نماز پڑھنے والے کے ایک مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر و للہ الحمد کہنا واجب ہے ۔ یہ تکبیر عرفہ یعنی ذو الحجہ کی نویں تاریخ کی فجر سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک کہنا چاہیے۔ یہ تکبیر عورتوں پر واجب نہیں ہے ہاں ایک صورت ہے جس میں عورت پر بھی واجب ہو جاتی ہے وہ یہ کہ عورت مقتدیہ ہو اور اس کا امام یہ جانتا ہو۔ عورتوں کے لیے تکبیرات تشریق کا حکم ایامِ تشریق میں تکبیراتِ تشریق کا پڑھنا جس طرح مردوں پر واجب ہے اسی طرح عورتوں پر بھی واجب ہے،یہی احناف کا مفتی بہ قول ہے،البتہ مرد ہر فرض نمازکے بعد بآوازِ بلند اور عورتیں آہستہ آواز سے یہ تکبیرات پڑھیں گی۔ در مختار میں ہے کہ: "ووجوبه ( على إمام مقيم ) بمصر ( و ) على مقتد ( مسافر أو قروي أو امرأة ) بالتبعية لكن المرأة تخافت ويجب على مقيم اقتدى بمسافر ( وقالا بوجوبه فور كل فرض مطلقًا) ولو منفردا أو مسافرا أو امرأة لأنه تبع للمكتوبة." الجوہرۃ النیرۃ شرح قدوری میں ہے کہ: "(قوله: والتكبير عقيب الصلوات المفروضات ) هذا على الإطلاق إنما هو قولهما ؛ لأن عندهما التكبير تبع للمكتوبة فيأتي به كل من يصلي المكتوبة وأما عند أبي حنيفة لا تكبير إلا على الرجال الأحرار المكلفين المقيمين في الأمصار إذا صلوا مكتوبة بجماعة من صلاة هذه الأيام وعلى من يصلي معهم بطريق التبعية ، وقوله المفروضات يحترز به من الوتر وصلاة العيد ويكبر عقيب صلاة الجمعة ؛ لأنها مفروضة وفي الخجندي التكبير إنما يؤدى بشرائط خمسة على قول أبي حنيفة يجب على أهل الأمصار دون الرساتيق وعلى المقيمين دون المسافرين إلا إذا اقتدوا بالمقيم في المصر وجب عليهم على سبيل المتابعة وعلى من صلى بجماعة لا من صلى وحده وعلى الرجال دون النساء وإن صلين بجماعة إلا إذا اقتدين برجل ونوى إمامتهن وفي الصلوات الخمس دون النوافل والسنن والوتر والعيد واختلفوا على قول أبي حنيفة في العيد إذا صلوا خلف عبد ، والأصح الوجوب وإذا أم العبد قوما في هذه الأيام فعلى قول من شرط الحرية لا تكبير عليهم وعلى قول من لم يشرطها يكبرون والمسافرون إذا صلوا بجماعة في مصر فيه روايتان عن أبي حنيفة في رواية لا تكبير عليهم وفي رواية يكبرون. وقال أبو يوسف و محمد: التكبير يتبع الفريضة فكل من أدى فريضة فعليه التكبير والفتوى على قولهما حتى يكبر المسافر وأهل القرى ومن صلى وحده." تکبیر تشریق کہنا واجب ہے ایّامِ تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق ہر عاقل، بالغ، مسلمان مرد پر ایک دفعہ پڑھنا شرعاً واجب ہے اور ایک قول کے مطابق اس کا بآواز بلند ہونا بھی ضروری ہے، چاہے مرد ہو یا عورت، شہر کا رہنے والا ہو یا دیہات کا اور اس کو نہ پڑھنے والا ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، لہٰذا مذکور علاقہ کے لوگوں پر لازم ہے کہ اس کے ترک سے احتراز کریں اور اب تک اس کے ترک کی صورت میں جو گناہ ہوا ہے، اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار بھی کریں۔ و فی حاشية ابن عابدين: (قوله صفته إلخ) فهو تهليلة بين أربع تكبيرات ثم تحميدة و الجهر به واجب و قيل سنة قهستاني اھ (2/ 178)۔ وجہ تسمیہ ( تشریق کا مفہوم) چوں کہ یہ تکبیرات "الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد"نو ذی الحجہ کی فجر سے ایامِ تشریق کے آخری دن یعنی 13 ذی الحجہ کی شام تک پڑھی جاتی ہیں، ان ایام میں 9تاریخ کے سوا باقی سارے ایام ایامِ تشریق ہیں، اس لیے تغلیباً ان تکبیرات کو تکبیراتِ تشریق کہتے ہیں، اگرچہ ان تکبیرات کے حکم میں ایک دن ایامِ تشریق سے پہلے کا(یعنی نو ذی الحجہ ) بھی شامل ہے۔یہی (یعنی 9 ذو الحجہ کی فجر سے تکبیراتِ تشریق کا آغاز کرنا) احناف کامفتی بہ قول ہے۔ نیز ایامِ تشریق کو تشریق کہنے کی مختلف توجیہات نیز ایامِ تشریق کو تشریق کہنے کی مختلف توجیہات فقہا نے لکھی ہیں، جن میں سے مشہور یہ ہے کہ یہ ’’تشریق اللحم‘‘ (گوشت خشک کرنے) سے ماخوذہے، ان دنوں میں جانور ذبح کرکے اس کا گوشت خشک کیا جاتاتھا یا ’’شروق الشمس‘‘ سے ہے، یعنی نمازِ عید کے لیے سورج چڑھنے کا انتظار کرناوغیرہ۔ لیکن یاد رہے کہ ان تکبیرات کے اوقات کی تعیین میں اصل ایامِ تشریق ہی نہیں، بلکہ وہ صریح احادیث ہیں جن میں رسول کریم ﷺسے یہ ثابت ہے کہ آپ یومِ عرفہ کی فجر سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی عصر تک یہ تکبیرات ادافرماتے تھے۔اس لیے احناف کا مفتی بہ قول ان روایات کی بناپریہی ہے کہ ان تکبیرات کا وقت یومِ عرفہ کی فجر سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی عصر کی نماز تک ہے۔ذیل میں وہ احادیث ذکر کی جارہی ہیں جن سے ان تکبیرات سے متعلق یومِ عرفہ سے ابتدا کرنا ثابت ہے: سنن الدارقطنی میں ہے : "عن جابر عن أبي الطفيل عن علي وعمار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر في المكتوبات بـ {بسم الله الرحمن الرحيم}، وكان يقنت في الفجر، وكان يكبر يوم عرفة صلاة الغداة ويقطعها صلاة العصر آخر أيام التشريق".(2/389) السنن الکبری للبیہقی میں ہے : "عن عبد الرحمن بن سابط عن جابر : قال كان النبى صلى الله عليه وسلم يكبر يوم عرفة صلاة الغداة إلى صلاة العصر آخر أيام التشريق."(3/315) وفیہ ایضاً : "عن أبى إسحاق قال : اجتمع عمر وعلي وابن مسعود رضي الله عنهم على التكبير في دبر صلاة الغداة من يوم عرفة. فأما أصحاب ابن مسعود فإلى صلاة العصر من يوم النحر، وأما عمر وعلي رضى الله عنهما فإلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق." (3/314) المستدرک علی الصحیحین للحاکم میں ہے : "عن أبي الطفيل عن علي و عمار : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يجهر في المكتوبات ببسم الله الرحمن الرحيم، و كان يقنت في صلاة الفجر، و كان يكبر من يوم عرفة صلاة الغداة و يقطعها صلاة العصر آخر أيام التشريق".(1/439) شرح السنۃ میں ہے : "وذهب أكثر أهل العلم إلى أنه يبتدئ التكبير عقيب صلاة الصبح من يوم عرفة ، ويختم بعد العصر من آخر أيام التشريق، وهو قول عمر وعلي، وبه قال مكحول، لما روي عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي صلاة الغداة يوم عرفة، ثم يستند إلى القبلة، فيقول : الله أكبر ، الله أكبر ، الله أكبر ، لا إله إلا الله ، والله أكبر ، الله أكبر ولله الحمد ، ثم يكبر دبر كل صلاة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق."(7/146) فتح الباری لابن رجب میں ہے : "فأما علي، فكان يكبر من صبح يوم عرفة إلى العصر من آخر أيام التشريق ." (6/126) فتح الباری میں ہے : "والفقه أن أيام التشريق ما بعد يوم النحر على اختلافهم هل هي ثلاثة أو يومان لكن ما ذكروه من سبب تسميتها بذلك يقتضى دخول يوم العيد فيها وقد حكى أبو عبيد أن فيه قولين أحدهما لأنهم كانوا يشرقون فيها لحوم الأضاحي أي يقددونها ويبرزونها للشمس ثانيهما لأنها كلها أيام تشريق لصلاة يوم النحر فصارت تبعا ليوم النحر قال وهذا أعجب القولين إلى وأظنه أراد ما حكاه غيره أن أيام التشريق سميت بذلك لأن صلاة العيد إنما تصلى بعد أن تشرق الشمس وعن بن الأعرابي قال سميت بذلك لأن الهدايا والضحايا لاتنحر حتى تشرق الشمس وعن يعقوب بن السكيت قال هو من قول الجاهلية أشرق ثبير كيما نغير أي ندفع لننحر انتهى وأظنهم أخرجوا يوم العيد منها لشهرته بلقب يخصه وهو يوم العيد وإلا فهي في الحقيقة تبع له في التسمية كما تبين من كلامهم ومن ذلك حديث على لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع أخرجه أبو عبيد بإسناد صحيح إليه موقوفا".(2/457) عمدۃ القاری میں ہے : "الثاني في وقت التكبير: فعند أصحابنا يبدأ بعد صلاة الفجر يوم عرفة ويختم عقيب العصر يوم النحر عند أبي حنيفة وهو قول عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه وعلقمة والأسود والنخعي وعند أبي يوسف ومحمد يختم عقيب صلاة العصر من آخر أيام التشريق وهو قول عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب وعبد الله بن عباس وبه قال سفيان الثوري وسفيان بن عيينة وأبو ثور وأحمد والشافعي في قول وفي (التحرير) ذكر عثمان معهم وفي (المفيد) وأبا بكر، وعليه الفتوى".(10/308) تکبیراتِ تشریق کا ثبوت قرآن وحدیث اور آثارِ صحابہ سے ہے ۔ ایام تشریق اور تکبیرات تشریق کا ثبوت قرآن سے قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : {وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ}ترجمہ: اور تم اللہ کو یاد کرو مخصوص چند دنوں میں۔ (البقرۃ : 203) ایام تشریق اور تکبیرات تشریق کا ثبوت قرآن و حدیث سے تفسیر ابن کثیر میں ہے : "قال ابن عباس : " الأيام المعدودات " أيام التشريق، و " الأيام المعلومات " أيام العشر.
مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) علی ابن ابی طالب کے بھائی عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی حسین ابن علی کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین اور غریبِ کوفہ (کوفہ کے مسافر) تھا۔ واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ پہلے جب کوفہ کے لوگوں نے حسین ابن علی کو خطوط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی تو انھوں نے مسلم ابن عقیل کو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر انھیں صورت حال مناسب لگی اور انھوں نے امام حسین کو خط بھیج دیا کہ کوفہ آنے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر بعد میں یزید بن معاویہ نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حکمران بنا کر بھیجا جس نے مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کروا دیا۔
خطبہ حجۃ الوداع بلاشبہ انسانی حقوق کا اوّلین اور مثالی منشور اعظم ہے۔ اسے تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کا سب سے پہلامنشور انسانی حقوق ہونے کا اعزاز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو آخری حج کیا اسے دو حوالوں سے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ ایک اس حوالہ سے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری حج وہی کیا اور اس حوالے سے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اس خطبہ میں ارشاد فرمایا :وَاللَّهِ لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا۔ یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے، شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔ خطبہ حجۃ الوداع کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔
بابر سلیم خان سواتی ایک پاکستانی سیاست دان اور زمیندار ہیں۔ جو 29 فروری 2024ء سے خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔ وہ حلقہ پی کے-37 (مانسہرہ-2) سے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ اس سے قبل وہ 2018ء سے 2022ء تک صوبائی اسمبلی کے رکن رہے اور اکتوبر 2022ء سے جنوری 2023ء تک وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور رہے۔ ان کا تعلق مانسہرہ کے سواتی قبیلے کے جہانگیری خاندان سے ہے۔
کونسل آف انڈیا (1858–1935ء) سیکرٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا کی ایک مشاورتی کونسل تھی، جو 1858ء میں ’’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1858‘‘ کے ذریعے قائم کی گئی تھی۔ یہ لندن میں واقع تھی اور شروع میں اس کے 15 ارکان ہوتے تھے۔ ’’کونسل آف انڈیا‘‘ کو 1935 میں ’’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935‘‘ کے تحت تحلیل کر دیا گیا۔ یہیہ کونسل ’’وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل‘‘ سے مختلف تھی، جو بھارت میں قائم تھی اور گورنر جنرل/وائسرائے کی مشاورتی کونسل اور کابینہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ یہ کونسل اصل میں 1773ء میں چار اراکین پر مشتمل ’’کونسل آف فور‘‘ کے طور پر قائم کی گئی تھی۔
جمباران جنوبی بالی میں ایک ماہی گیری گاؤں اور سیاحتی مقام ہے، جو بڈونگ ریجنسی کے جنوبی کوٹا ضلع کے زیر انتظام ہے۔ نگورہ رائے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے جنوب میں بکیت جزیرہ نما کے "گردن" پر واقع، یہ گاؤں ایک پکوان کی منزل کے طور پر مشہور ہے، جہاں سمندری غذا فروخت کرنے والے اسٹال اس علاقے کو سیر کرتے ہیں۔ کھانے والے زندہ سمندری غذا کا انتخاب کرتے ہیں جسے وہ کھانا چاہتے ہیں اور اسے فوری طور پر تیار کیا جاتا ہے، عام طور پر چارکول کی بجائے ناریل کی بھوسی کی آگ پر گرل کیا جاتا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
میدان عرفات میں واقع ایک پہاڑ جسے جبل عرفہ بھی کہا جاتا ہے۔ عرفہ عربی میں اونچی اور نمایاں جگہ کو کہتے ہیں اس لیے اس پہاڑی کا نام یہی پڑ گیا۔ جبل رحمت کا قطر تقریباً 100میٹر ہے اور یہ 60 میٹر بلند ہے۔ یہ پہاڑی ہلکے سبزی مائل چھوٹے بڑے پتھروں اور بھربھری مٹی سے بنی ہے۔ جبل رحمت پر سفید لوح عین اس جگہ ایستادہ کی گئی ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی قصواء حجۃ الوداع کے روز کھڑی تھی۔ جبل رحمت کے چاروں جانب میدان عرفات ہے۔
علمی کتاب خانہ پاکستان کا ایک اشاعتی ادارہ ہے جس کا صدر دفتر لاہور میں ہے۔ یہ پاکستان کے اشاعتی اداروں میں قدیم ترین اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ادارہ خاص طور پر درسی کتب کی اشاعت کرتا ہے۔ اس کی اشاعت میں سائنسی، فنی، طبی اور قانونی کتابیں شامل ہیں جن کی ایف اے، بی اے کے طلبہ کے لیے اشاعت کی جاتی ہے۔
القانون فی الطب علم طب، جراحی اور علم الابدان پر حکیم بوعلی سینا یا ابن سینا کی ایک مشہور تصنیف اور طبی معلومات کا سرچشمہ۔ اصل کتاب عربی میں ہے دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ اس کتاب میں علاوہ جراحی و علاج معالجہ کے طب کے دیگر علوم (مثلا تشریح، فعلیات وغیرہ) کے ابواب بھی جابجا دیے گئے ہیں۔
شیعہ فرقہ اسمعیلیوں کی شاخ دعوت طیبی کے پیرو کار ہیں ۔ مگر عموماً یہ بوہرے کہلاتے ہیں جو بیوپار کا گجراتی تلفظ ہے اور بوہرے عموماً تجارت پیشہ ہیں ۔ خیال رہے برہمنوں کی ایک گوت بوہرہ ہے اور یہ بھی تجارت پیشہ ہیں ۔ بیشتر بوہرے گجرات ، بمبئی ، برہانپور ، مالوہ ، راجپوتانہ اور کراچی میں رہتے ہیں ۔ جب کہ ان کا داعی پہلے سورت میں رہتا تھا اور بمبئی میں رہتا ہے ۔بوہرہ اسماعیلی فرقے کے مستعلیہ طیبیہ کو کہتے ہیں مستعلیہ کا یہ گروہ یمن، بھارت، افریقا، الجزائر اور پاکستان میں غیر آغا خانی اسماعیلی ہیں یہ وہ اسماعیلی ہیں جو ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ بوہرہ گجراتی لفظ ووہرہ جو ایک ہندو ذات تھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ مغربی ہند میں ہندو بوہرے بھی ہیں اور سنی بوہرے بھی۔ بالعموم یہ بیوپاری ہیں اور شہروں میں رہتے ہیں۔ افریقا اور الجزائر میں بھی تجارت کرتے ہیں اور عرب و مسقط میں پھیلے ہوئے ہیں۔ احمد، عبد اللہ وغیرہ ان کے مشہور رہنما داعی مطلق تھے۔ جن کے مزارات قدیم شہر کھنبات ’’بھارت‘‘ میں ہیں۔
سعودی عرب کے میدان عرفات میں واقع ایک اہم مسجد ہے جہاں 9 ذی الحج کو امام حج کا خطبہ پڑھا جاتا ہے اور اس کے بعد ظہر اور عصر کی نمازوں کے دو دو فرض قصر پڑھے جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 10ھ (7 مارچ 632ء) کو حجۃ الوداع کے موقع پر دوپہر کو ایک خیمے میں آرام فرمایا تھا۔ جب دوپہر ڈھلی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریبی پہاڑی پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا اسی لیے اس پہاڑی کو جبل رحمت کہتے ہیں جبکہ اس خطبے کو خطبہ حجۃ الوداع کہتے ہیں۔
تحویل قبلہ کا حکم رجب یا شعبان 2ھ میں نازل ہوا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بشر بن براء بن معرور رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔
مخدوم فقیہ علی مہائمی شافعی(پیدائش: 21 جون 1374ء— وفات: 7 فروری 1432ء) آٹھویں صدی ہجری میں ہندوستان کے نامور صوفی بزرگ تھے۔مخدوم علی مہائمی پندرہویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں فقہ شافعی سے استدلال کرنے والے پہلے جید عالم، محقق تھے۔ فتاویٰ بھی اِن کی وجہ شہرت ہیں۔ علاوہ ازیں کثیرالتصانیف تھے جن میں سے اکیس کے قریب تصانیف ہنوز باقی ہیں۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
رباعی عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار چار کے ہیں۔ رباعی کی جمع رباعیات ہے۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کا وزن مخصوص ہے، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔ تیسرے مصرعے میں اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں۔ اس کے موضوعات مقرر نہیں۔ اردو فارسی کے شعرا نے ہر نوع کے خیال کو اس میں سمویا ہے۔ رباعی کے آخری دو مصرعوں خاص کر چوتھے مصرع پر ساری رباعی کا حسن و اثر اور زور کا انحصار ہے۔ چنانچہ علمائے ادب اور فصحائے سخن نے ان امور کو ضروری قرار دیا ہے۔ بعض نے رباعی کے لیے چند معنوی و لفظی خصوصیات کو بھی لازم گردانا ہے۔ عروض کی مختلف کتابوں میں رباعی کے مختلف نام ہیں۔ رباعی، ترانہ اور دو بیتی بعض نے چہار مصرعی، جفتی اور خصی بھی لکھا ہے۔رباعی کا موجد فارسی شاعر رودکی کو مانا جاتا ہے۔
بنیامین نیتن یاہو (; عبرانی:; پیدائش: 21 اکتوبر 1949ء) ایک اسرائیلی سیاست دان ہیں، جو 2022 سے اسرائیل کے وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ 1996-1999 اور 2009-2021 کے دوران بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ لیکود جماعت کے چیئرمین ہیں۔ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے سیاست دان ہیں، جنھوں نے مجموعی طور پر 16 سال سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔ بنجمن نیتن یاہو سیکولر یہودی والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش مغربی یروشلم اور امریکا میں ہوئی. وہ 1967 میں اسرائیل واپس آئے اور اسرائیلی دفاعی افواہج میں شامل ہو گئے، جہاں انھوں نے سیرت متکل خصوصی فورسز میں کپتان کے طور پر خدمات انجام دیں اور اعزازی طور پر فارغ ہوئے. میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے گریجویشن کے بعد، نیتن یاہو نے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے لیے کام کیا اور 1978 میں اسرائیل واپس آ کر یوناتن نیتن یاہو اینٹی ٹیرر انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی.
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
پاکستان کی تاریخ (1947ء - حال)
اسلامی جمہوریۂ پاکستان کی تاریخ کا آغاز 14 اگست 1947 کو ہوا، جب یہ ملک دولتِ مشترکہ کے اندر مملکتِ پاکستان کی صورت میں قائم ہوا۔ اس کا قیام تحریکِ پاکستان اور تقسیمِ ہند کے نتیجے میں عمل میں آیا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
مزدلفہ (عربی: مزدلفة) حج سے متعلقہ ایک کھلی جگہ ہے۔ یہ منی کے جنوب مشرق میں منی اور عرفات کے درمیان میں واقع ہے۔ ہر سال مسلمان حج کے موقع پر 9 ذوالحجہ کو مغرب کے بعد عرفات سے یہاں آتے ہیں اور رات کھلے آسمان کے نیچے بسر کرتے ہیں۔ یہاں سے ہی شیطانوں یا جمرات کو مارنے کے لیے کنکریاں بھی چنی جاتی ہیں۔ اگلے دن فجر کے بعد حجاج منی کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔
الہٰ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سید اکبر حسین رضوی تھا اور تخلص اکبر۔ آپ 16 نومبر1846ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی اور محکمہ تعمیرات میں ملازم ہو گئے۔ 1869ء میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوئے۔ 1870ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ 1872ء میں وکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء تک وکالت کرتے رہے۔ پھر منصف مقرر ہوئے۔ 1894ء میں عدالت خفیفہ کے جج ہو گئے۔ 1898ء میں خان بہادر کا خطاب ملا۔ 1903ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ انھوں نے جنگ آزادی ہند 1857ء، پہلی جنگ عظیم اور گاندھی کی امن تحریک کا ابتدائی حصہ دیکھا تھا۔
عمر خیام کا پورا نام ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری ہے۔ عمر خیام کے بارے میں متعدد سوانح نگاروں نے اس کا سال پیدائش 408 ھ یا 410 ھ لکھتا ہے اور سال وفات کے متعلق بھی کوئی فیصلہ کن بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس نے 526ھ میں وفات پائی۔ عمر خیام علم ہیت اور علم ریاضی کا بہت بڑا فاضل تھا۔ ان علوم کے علاوہ شعر و سخن میں بھی اس کا پایا بہت بلند ہے اس کے علم و فضل کا اعتراف اہل ایران سے بڑھ کر اہل یورپ نے کیا۔
لالی پاپ ایک قسم کی میٹھی چیز ہے جسے عمومًا بچے شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ سخت کینڈی ہو سکتی ہے یا ایک چھوٹی لکڑی پر برف کے گولے کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر چوسا یا چاٹا جاتا ہے۔ اس کے لیے عالمی سطح مختلف اصطلاحات وضع کیے گئے ہیں جیسے کہ لالی، سکر، اسٹیکی پاپ۔ لالی پاپ مختلف ذائقوں اور شکلوں میں دست یاب ہیں۔
اسماعیل علیہ السلام اللہ کے نبی، ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ قرآن نے انھیں صادق الوعد کا لقب دیاحضرت ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ بچے ہی تھے کہ ابراہیم علیہ السلام ان کو ان کی والدہ ہاجرہ کو اس بنجر اور ویران علاقے میں چھوڑ آئے جو اب مکہ معظمہ کے نام سے مشہور ہے۔ اور عالم اسلام کا قبلہ ہے۔ ایک دن ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمھیں ذبح کر رہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمھاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدیم پائیں گے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی۔ اے ابراہیم!
چین کی آزادی کے بارے میں ہم میں سے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ چین کب اور کیسے آزاد ہوا؟؟، کیسے اس نے اتنی ترقی کی؟؟ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوا کہ بس چین بنا اور ترقی کرنے لگا اس کے پیچھے مختلف عوامل کار فرما ہے۔ چین دنیا کی سب سے قدیم تہذيبوں میں سے ایک ہے، لیکن یہ حال ہی میں ایک 'جدید' ملک بن گیا ہے۔ گذشتہ 20 سالوں میں، چین دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین کی تاریخ شاہی خاندانوں میں تقسیم کی گئی ہے، جن میں سے ہر ایک اس دور کی نشان دہی کرتا ہے جب شہنشاہوں کے ایک حکمران نے حکومت کی۔ پہلی سلطنت "کن خاندان" (Qin dynasty) کی تھی، جو قبل مسیح 221 (221 B.C.) میں شروع ہوئی۔ 1912ء میں آخری سلطنت کا دور ختم ہوا اور چین ایک جمہوری ملک بن گیا۔
وڑائچ جٹوں کی ایک انتہائی ممتاز اور نمایاں قوم ہے۔ یہ قوم بہت بہادر اور جنگجو واقع ہوئی ہے۔وضع داری، مہمان نوازی اور دوستوں کے ساتھ خلوص ان کی چند نہائت قابل قدر اور نمایاں خوبیاں ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے یہ لوگ زمیندار اور کاشتکار ہیں۔ زبان کے اعتبار سے یہ قوم پنجابی اور سرائیکی مشہور ہیں۔ جٹوں کی 150 سے زیادہ ذیلی قومیں ہیں ۔ جن میں سے وڑائچ چند سب سے بڑی اور مشہور قوموں میں سے ایک ہے۔
بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ ہیں۔ ان کی پیدائش21ستمبر 1988کو کراچی کے لیڈی ڈفرن اسپتال میں ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری سابق وزیر اعظم پاکستان شہید محترمہ بے نظیر بھٹواور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذو الفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔ ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔
عبد ربہ بن اعین (80ھ - 150ھ) ابو حسن عبد ربہ بن عیان بن سنسن شیبانی کوفی ہے، جس کا نام زرارہ ہے، وہ شیعہ اثنا عشریہ کے بڑے راویوں میں سے ایک ہے جس نے امامی شیعوں کے پانچویں امام محمد بن علی باقر اور چھٹے امام جعفر بن محمد صادق سے روایت کی ہے۔ آپ کی ولادت 80ھ میں ہوئی اور ممکن ہے کہ آپ کی پیدائش شہر کوفہ میں ہوئی ہو جیسا کہ انھوں نے ایک کوفی کا ذکر کیا ہے اور وہ صاحب اجماع والوں میں سے ہیں۔
شیعہ مخالف سے مراد شیعہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد، تاریخ یا ثقافتی ورثے کی وجہ سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت، ان کے خلاف تعصب، امتیازی سلوک، ظلم و ستم اور تشدد ہے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے شیعہ رائٹس واچ نے 2011 میں استعمال کی تھی، لیکن یہ غیر رسمی تحقیق میں استعمال ہوتی رہی ہے اور کئی دہائیوں سے علمی مضامین میں لکھی جاتی رہی ہے۔ محمد کا صحیح جانشین کون تھا اس تنازع کے نتیجے میں دو اہم فرقے، سنی اور شیعہ بن گئے۔ سنی یا طریقہ کے پیروکاروں نے خلافت کی پیروی کی اور اس بنیاد کو برقرار رکھا کہ قبیلہ قریش کا کوئی بھی فرد ممکنہ طور پر پیغمبر کا جانشین بن سکتا ہے اگر اسے سنی مسلمانوں کی اکثریت قبول کر لے۔ تاہم شیعوں نے یہ نظریہ برقرار رکھا کہ صرف وہی شخص جسے خدا نے پیغمبر کے ذریعے منتخب کیا ہو ( حدیث خم کی حدیث ) جسے غدیر خم بھی کہا جاتا ہے اس کا جانشین بن سکتا ہے، اس طرح علی شیعہ لوگوں کے لیے مذہبی حاکم بن گئے۔ .
لذريق/راڈرک، (ہسپانوی / پرتگالی: Rodrigo، عربی:”لذريق“، Ludharīq، وفات 711ء / 712ء)، ہسپانیہ میں 710 سے 712 تک، ایک گوتھ بادشاہ تھا۔ وہ تاریخ میں گوتھ کے آخری بادشاہ کے لقب سے مشہور ہیں۔۔ تاریخ میں، وہ دراصل ایک انتہائی غیر واضح اعداد و شمار، جن کے بارے میں کچھ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے جزیرہ نما آئبیریا پر دوسرے مخالفین حکمرانوں کے ساتھہ حکومت کی۔ مسلمانوں نے اس سے جنگ کی اور اسے
پشتو کے عظیم صوفی شاعر عبد الرحمن(1632-1711ء) مہمند قبیلے کی ایک شاخ غوریہ خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ پشاور کے قریب بہادر کلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے معتبر علما سے فقہ اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ پشتون شاعری کے حافظ شیرازی کہلاتے ہیں۔ آ پ کا کلام تصوف کے رموز و عوامض سے مملو ہے۔ مجموعہ کلام دیوان کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں پانچ ہزار کے قریب اشعار ہیں۔ مزار پشاور کے جنوب میں ہزار خوانی کے مقام پر واقع ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
سپین بولدک، افغانستان کا سرحدی شہر ہے جو پاکستان کے شہر چمن کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ سپین بولدک پشتو لفظ ہے جو سپین یعنی سفید اور بولدک یعنی صحرا کا مرکب ہے یعنی لفظی معنی سفید صحرا کے ہیں۔ سپین بولدک اس سڑک پر واقع ہے جو افغانستان کو صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ سے ملاتی ہے۔ اس شہر میں بڑی تعداد میں نورزئی اور اچگزئی قبیلے موجود ہیں۔ بولدک ویش باڈر اور چمن شہر کے آر پار نورزئی اور اچگزئی قبیلے سینکڑوں سال سے آباد ہے ایک طرح سے دونوں قبیلوں کی جنم بھومی ہے یہاں سے نورزئی قبیلے کے لوگ افغانستان پاکستان اور ایران کے دوسرے علاقوں میں ہجرت کر گئے۔
دومبی سٹی (انگریزی: Phalaris minor) گندم کی فصل میں اگنے والی یہ جڑی بوٹی گھاس کی ایک قسم ہے جو آبائی طور پر شمالی افریقہ، یورپ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا سائنسی نام (Phalaris minor) ہے۔ انگریزی میں اس کے عام نام (little seed canary grass)، (small-seeded canary grass)، (lesser-canary grass) اور (small canary grass) ہیں۔ ہندی میں اسے گلی ڈنڈا اور اردو میں سٹی بوٹی یا دومبی سٹی کہتے ہیں۔
پاکستان میں خواتین متعلقہ قوانین
ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے، پاکستان کو نظریاتی طور پر خواتین کے بہت سارے حقوق کا احترام کرنا چاہیے، لیکن 1947ء سے ہی، اس کے بنیادی طور پر پدر شاہی معاشرے میں، اس طرح کے قوانین ترقی اور مختلف قسم کے دباؤ میں رہے ہیں۔
مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی زیارت کے لیے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادت انجام دیتے ہیں، اس مجموعہ عبادات کو اسلامی اصطلاح میں حج اور ان انجام دی جانے والی عبادات کو مناسک حج کہتے ہیں۔ دین اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے، جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے: وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۔ حج اسلام کے 5 ارکان میں سب سے آخری رکن ہے، جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے: «اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زكوة دينا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔» مناسک حج کی ابتدا ہر سال 8 ذوالحجہ سے ہوتی ہے، حاجی متعین میقات حج سے احرام باندھ کر کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوتے ہیں، وہاں پہنچ کر طواف قدوم کرتے ہیں، پھر منی روانہ ہوتے ہیں اور وہاں یوم الترویہ گزار کر 9 ذو الحجہ کو عرفات آتے ہیں اور یہاں ایک دن کا وقوف ہوتا ہے، اس دن کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔ اسی دن مغرب کی اذان کے بعد حاجی میدان عرفات سےمزدلفہ چلے جاتے ہیں۔ مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرتے ہیں۔ 10 ذو الحجہ کو سورج بلند ہونے پر حجاج مزدلفہ سے منی آتے ہیں اور رمی جمار (کنکریاں پھینکنے) کے لیے جمرہ عقبہ جاتے ہیں، قربانی (جسے دمِ شکرانہ بھی کہا جاتا ہے) کرتے ہیں، سر کا حلق یا قصر کرواتے ہیں۔ اس دن کو یوم سعی، عید قربانی، یوم حلق و قصر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ واپس آکر طواف افاضہ کرتے ہیں۔ حج کی عبادت اسلام سے قبل بھی موجود تھی، مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حج گذشتہ امتوں پر بھی فرض تھا، جیسے ملت حنیف (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکاروں) کے متعلق قرآن میں ذکر ہے: وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ،۔ حضرت ابراہیم اور ان کے بعد بھی لوگ حج کیا کرتے تھے، البتہ جب جزیرہ نما عرب میں عمرو بن لحی کے ذریعہ بت پرستی کا آغاز ہوا تو لوگوں نے مناسک حج میں حذف و اضافہ کر لیا تھا۔ ہجرت کے نویں سال حج فرض ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو "امیر حج" بنا کر مسلمانوں کے قافلے کو حج کے لیے بھیجا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنہ 10ھ میں واحد حج کیا جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس حج میں حج کے تمام مناسک کو درست طور پر کر کے دکھایا اور اعلان کیا کہ: « خذوا عني مناسككم» ترجمہ: اپنے مناسک حج مجھ سے لے لو۔ نیز اسی حج کے دوران میں اپنا مشہور خطبہ حجۃ الوداع بھی دیا اور اس میں دین اسلام کی جملہ اساسیات و قواعد اور اس کی تکمیل کا اعلان کیا۔ زندگی میں ایک بار صاحب استطاعت پر حج فرض ہے اور اس کے بعد جتنے بھی حج کیے جائیں گے ان کا شمار نفل حج میں ہوگا؛ ابو ہریرہ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے: «لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، چناں چہ حج ادا کرو»، صحابہ نے سوال کیا: "یا رسول اللہ!
سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ حلالہ کسی صورت بھی شرعا مستحسن نہیں ہے۔ اور اسلام میں اس کو کوٸ ثواب کا کام نہیں سمجھا گیا بلکہ حدیث نبویﷺ میں بالکل صاف ارشاد ہے کہ اللہ کی لعنت ہو حلال کرنے اور کروانے والے پر۔۔۔ لہذا جو بھی شہوت پرست اسے کار ثواب بتائے یا اسے شرعی طور پر مستحسن بتائے وہ نبیﷺ کی لعنت کا مستحق ہے اور نبیﷺ سے بغاوت کررہا ہے۔
الجفر شیعہ حضرات کے نزدیک ایک روحانی کتاب ہے جس کے دو حصے ہیں 1۔ الجفر اکبر 2۔ الجفر اصغر۔ اسے حضرت محمد ﷺ نے بیان کیا اور علیؑ نے قلمبند کیا۔ ان کے نزدیک یہ چمڑے کے دو صندوقچوں میں محفوظ تھا، جس میں گذشتہ انبیاؑ کی کتابیں اور رسول اللہ کی تلواریں شامل ہیں۔ نیز ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ کتاب ایک امام سے دوسرے امام کے پاس منتقل ہوتے ہوتے امام مہدی کے پاس پہنچتی ہے۔ تمام ائمہ اپنی دینی رہنمائی اور معارف کے لیے اس کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عطش درانی (22 جنوری 1952ء – 30 نومبر 2018ء) پاکستان کے ایک ماہر لسانیات، محقق، تنقید نگار، مصنف، ماہر تعلیم اور ماہر علم جوہریات تھے۔ انھوں نے 275 کتابیں لکھیں اور متعدد اطلاقیے بنائے۔ نیز اردو اور انگریزی میں 500 مقالے لکھے۔ عطش درانی کی ان علمی و تحقیقی خدمات پر انھیں تمغہ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
علی بن عبد الرحمن حذیفی (عربی: علي بن عبد الرحمن الحذيفي) مسجد نبوی مدینہ منورہ کے موجودہ امام و خطیب اور اس سے پہلے مسجد قباء کے امام تھے۔ آپ سعودی عرب اسلامی یونیورسٹی میں فقہ اسلامی اور توحید کے لیکچرار تھے۔ آپ مشرق وسطی کے بہترین قاریوں میں سے ایک جانے جاتے ہیں اور ان کی تلاوت کی صوت بندی پوری دنیا میں نشر کی جاتی ہے۔ آپ کا آہستہ اور ترتیل کے ساتھ تلاوت قرآن کا طریقہ بہت معروف ہے۔
2500 قبل مسیح کے قریب ہندوستان پر آریہ نسل کے لوگوں نے حملہ کیا۔ اس وقت پورے ہندوستان میں دراوڑ نامی نسل کے لوگ آباد تھے۔ آریاؤں نے ان کو جنوب کی جانب دھکیل دیا اور انھوں نے وہاں اپنی بستیاں بسا لیں۔ دراوڑ ہی ہندوستان کے اصل باشندے ہیں جبکہ آریہ تو وسطی ایشیا کی جانب سے ہندوستان میں آئے تھے۔ یہ لوگ بہت سے قبائل میں منقسم ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اپنی زبان ہے۔ لیکن بنیاد مشترک ہے۔
اسماعیلی اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت جعفر صادق (پیدائش 702ء) کی امامت تک اثنا عشریہ سے اتفاق پایا جاتا ہے اور یوں ان کے لیے بھی اثنا عشریہ کی طرح جعفری کا لفظ بھی مستعمل ملتا ہے جبکہ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اکثر کتب و رسائل میں عام طور پر جعفری کا لفظ اثنا عشریہ اہل تشیع کے لیے بطور متبادل آتا ہے۔ 765ء میں حضرت جعفر صادق کی وفات کے بعد ان کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر (721ء تا 755ء) کو سلسلۂ امامت میں مسلسل کرنے والے جعفریوں کو اسماعیلی جبکہ موسی بن جعفر (745ء تا 799ء) کی امامت تسلیم کرنے والوں کو اثنا عشریہ کہا جاتا ہے۔ اسماعیلی تفرقے والے حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، زین العابدین، محمد باقر اور جعفر صادق علیہم السلام کو اہل تشیع کی طرح اپنے ائمہ مانتے ہیں اور ان کے بعد ساتویں امام اسماعیل بن جعفر صادق اور ان کے بعد محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق (746ء تا 809ء) کو اپنے آٹھویں امام کا درجہ دیتے ہیں۔
بی بی پاکدامن لاہور میں واقع ایک مزار کو کہا جاتا ہے جو رقیہ بنت علی کا ہے۔ اس مزار کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اہل بیت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی چھ خواتین کے مزارات یہاں واقع ہیں۔ رقیہ بنت علی ابن ابی طالب چوتھے خلیفہ حضرت علی ان ابو طالب کی بیٹی ہیں۔ آپ حضرت عباس ابن علی کی سگی بہن ہیں اور حضرت مسلم بن عقیل کی زوجہ ہیں۔ دوسری خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسلم بن عقیل کی بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خواتین سانحہ کربلا کے بعد یہاں تشریف لائیں۔ (بتاریخ 10 اکتوبر 680ء کے بعد)۔ بہر حال ان کی بدولت اس مقام پر لاہور کی پہلی مسجد بھی قائم ہوئی۔ بعض علما کے خیال میں رقیہ دراصل سید احمد توختہ (بارہویں صدی عیسوی کے ایک زاہد) کی بیٹی تھیں۔ بی بی پاکدامن گڑھی شاہو اور ریلوے اسٹیشن کے درمیانی علاقہ میں واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کا سب سے آسان راستہ ایمپریس روڈ کی جانب سے ہے جو پولیس لائنز کے بالمقابل ایک چھوٹی سڑک کے بائیں جانب واقع ہے۔
داوٴدی بوہرہ، اسلام كے شیعہ فرقے کی اسماعیلی شاخ کاایک مذہبی گروہ ہے۔ دنیا بھر میں ان کی تعداد تقریباً ایک ملین ہے اور یہ 40 سے زائد ممالک میں آباد ہیں۔ داوٴدی بوہرہ برادری کی اکثریت ہندوستان میں رہتی ہے، جبکہ پاکستان، یمن، مشرقی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی يہ بڑی تعداد ميں موجود ہیں۔ اور ان کی موجودگی یورپ، شمالی امریکا اور آسٹریلیا میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
عامر ملک (پیدائش: 3جنوری 1963ء منڈی بہاؤالدین) ایک پاکستانی سابق کرکٹ کھلاڑی تھے، جنھوں نے 1987ء سے 1994ء تک 14 ٹیسٹ اور24 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے۔ وہ دائیں ہاتھ کے ایک بلے باز اور دائیں ہاتھ ہی کے باولر تھے تاہم ان کا بیٹنگ رول بطور وکٹ کیپر تھا انھوں نے پاکستان کے علاوہ زرعی ترقیاتی بینک اف پاکستان، لاہور، پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز اور پاکستان ریلویز کی طرف سے بھی کرکٹ مقابلوں میں حصہ لیا
حسن علی شاہ آغاخان آول 1817ء میں مسندِ امامت پر جلوہ افروز ہوئے۔آپ حسن الحسینی کے نام سے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔اور آغاخان آوّل کے نام سے بھی آغاخان آپ کا لقب تھا۔۔آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق تھوڑی سی معلومات ملتی ہیں۔مثلاً آپ کی پیدائش 1800ء میں محلات میں ہوا تھا۔آپ کی والدہ کا نام بی بی سرکار تھی۔اور بہت ہی زہین اور دل کی مہربان خاتون تھیں۔آپ محلات میں رہتی تھیں۔جہان آپ کے والد صاحب رہتے تھے۔جب اسماعیلیوں کے پنتالیس وان امام خلیل اللہ یزد میں رہنے گئے تھے۔تو بی بی سرکار محلات میں ٹھہری ہوئی تھیں۔کیونکہ وہ آپنے فرزند حسن کی تعلیم و تربیت کرتی تھیں۔لیکن محلات میں بہت سے دشمن سیاسی اسباب کی بنا پر آپ کو تنگ کرتے تھے۔ اس لیے آپ قم شہر میں رہنے لگیں۔جہان امام حسن علی شاہ کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔۔ امام حسن علی شاہ بچپن سے دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔اور صوفی شعرا کے اشعار بھی پڑھتے تھے۔اور اپنے لیے کئی کتابیں جمع کی تھیں۔اورملاعلیٰ محمد آپ کو تعلیم دیتے تھے۔محلاتاور قم کے گورنر امام کے خاندان سے عدوت رکھتے تھے۔کیونکہ امام کو آپنے مریدوں کی طرف سے بہت عزت ملتی تھی۔جسے حاکم پسند نہیں کرتے تھے۔جب امام شاہ خلیل اللہ کی شہادت کی خبر حضرت بی بی سرکار کو ہوئی تو وہ آپنے بیٹے امام حسن علی شاہ کو لے کر تہران میں فتح علی شاہ قاچار بادشاہ کے دربار میں گئیں۔اور حاکم کے ظلم اور امام کی شہادت کے متعلق بادشاہ کو اگاہ کیا۔بادشاہ نے آپنے بیٹے ظلّ السلطان کو بلایا۔جو اُن علاقوں کا محافظ تھا۔ اور امام شاہ خلیل اللہ کے قاتل کو دربار میں طلب کرنے کا حکم جاری کیا۔چنانچہ قاتل کو لایا گیا۔ اور ظلّ السلطان نے حاکم کو امام کے خاندان سے اچھا سلوک کرنے کا حکم صادر کیا۔
کیوبا کا انقلاب ( ہسپانوی: Revolución Cubana ) کیوبا کے صدر فولخنسیو باتیستا کی فوجی آمریت کے خلاف فیڈل کاسترو اور 26 جولائی کی تحریک کے ساتھی انقلابیوں اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے کی گئی مسلح بغاوت تھی۔ انقلاب جولائی 1953 میں شروع ہوا، اور وقفے وقفے سے اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ باغیوں نے بالآخر 31 دسمبر 1958 کو بتسٹا کی حکومت کی جگہ لے لی۔ 26 جولائی 1953 کو کیوبا میں Día de la Revolución کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ( ہسپانوی سے: "یوم انقلاب")۔ 26 جولائی کی تحریک نے بعد میں مارکسسٹ-لیننسٹ خطوط پر اصلاح کی، اکتوبر 1965 میں کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی بن گئی
کبھی خوشی کبھی غم، جسے" کے تھری جی" بھی کہا جاتا ہے ، 2001 کی ایک ہندوستانی خاندانی ڈراما فلم ہے جس کی تصنیف اور ہدایت کاری کرن جوہرنے کی اور یش جوہر نے اسے پروڈیوس کیا۔ اس فلم میں امیتابھ بچن، جیا بچن، شاہ رخ خان، کاجول، ہریتک روشن اور کرینہ کپور شامل ہیں، جس میں رانی مکھرجی ایک خصوصی کردار میں دکھائی دیتی ہیں۔ فلم میں ایک ایسے ہندوستانی کنبہ کی کہانی بیان کی گئی ہے، جس میں ان کے مقابلے میں ایک کم معاشرتی اور معاشی گروہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے ان کے بیٹے کی شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خفگیوں، پریشانیوں اور غلط فہمیوں کو دکھایا گیا ہے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
مڈل سیکس کاؤنٹی کرکٹ کلب انگلینڈ اور ویلز کے مقامی کرکٹ ڈھانچے کے اندر اٹھارہ اول درجہ کاؤنٹی کلبوں میں سے ایک ہے۔ یہ مڈل سیکس کی تاریخی کاؤنٹی کی نمائندگی کرتا ہے جس کو مؤثر طریقے سے گریٹر لندن کی رسمی کاؤنٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کلب کی بنیاد 1864ء میں رکھی گئی تھی لیکن کاؤنٹی کی نمائندگی کرنے والی ٹیمیں 18ویں صدی کے اوائل سے اعلیٰ درجے کی کرکٹ کھیل رہی ہیں اور کلب نے ہمیشہ فرسٹ کلاس کا درجہ حاصل کیا ہے۔ مڈل سیکس نے 1890ء میں مقابلے کے باضابطہ آغاز کے بعد سے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں حصہ لیا ہے اور انگلینڈ میں ہر اعلیٰ سطح کے گھریلو کرکٹ مقابلے میں کھیلا ہے۔ یہ کلب اپنے زیادہ تر مقامی کھیل لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلتا ہے، جو سینٹ جانز ووڈ میں میریلیبون کرکٹ کلب کی ملکیت ہے۔ یہ کلب اکسبرج کرکٹ کلب گراؤنڈ (تاریخی طور پر مڈل سیکس) اور رچمنڈ (تاریخی طور پر سرے) کے اولڈ ڈیئر پارک میں بھی کچھ کھیل کھیلتا ہے۔اکتوبر 2014ء تک، کلب نے مڈل سیکس پینتھرز کے طور پر محدود اوورز کی کرکٹ کھیلی، مسلمانوں اور یہودیوں کی شکایات کے بعد 2009ء میں مڈل سیکس کروسیڈرز سے تبدیل ہو گیا 24 اکتوبر 2014ء کو، کلب نے اعلان کیا کہ وہ مڈل سیکس کاؤنٹی کرکٹ کلب کا نام فوری طور پر کھیل کی تمام شکلوں میں استعمال کریں
”صحاح“ صحیح کی جمع ہے۔ محسوسات اور معنویات میں استعمال ہوتا ہے اگر محسوسات میں استعمال ہوتو لغتاً اس کا معنی ہوگا ”الشیء السلیم من الأمراض والعیوب“ یعنی وہ چیز جو امراض وعیوب سے صحیح سالم ہو، اس سے معلوم ہوا کہ واضعِ لغت نے اس لفظ کو سلامت من العیوب ہی کے لیے وضع کیا ہے؛ لہٰذا یہی اس کا معنی حقیقی ہے اور معنویات میں یہ جس معنی کے لیے مستعمل ہے، وہ اس کا معنی مجازی ہے۔ مثلاً قول وحدیث کی صفت صحیح آتی ہے تواس وقت ترجمہ ہوگا ”مَا اعتُمد علیہ“ یعنی قول صحیح وہ ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ اور اصطلاح میں صحیح خبرواحد کی ایک قسم ہے۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
دعائے عرفہ امام حسینؑ کے نزدیک بالخصوص اہلِ تشیع میں نہایت اہم دعا ہے، جو 9 ذی الحجۃ کو میدانِ عرفات اور دیگر مقامات پر پڑھی جاتی ہے۔ یہ دعا بلند عرفانی اور عقیدتی مضامین پر مشتمل ہے اور روایت ہے کہ امام حسینؑ نے اسے عرفات میں اپنے اہلِ خانہ اور اصحاب کے ساتھ نہایت خضوع و خشوع کے عالم میں قبلۂ رخ ہو کر پڑھا۔ غالب اسدی کے بیٹوں بشر و بشیر کے مطابق آپؑ نے غروب کے قریب ہاتھ بلند کر کے یہ دعا ارشاد فرمائی۔ کفعمی کی روایت کے مطابق دعا کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: "لا اله الا انت وحدک لا شریک لک لک الملک و لک الحمد و انت علی کل شیء قدیر. یا رب یا رب یا رب" (تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، بادشاہی تیرے لیے ہے اور حمد تیرے لیے ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے پروردگار، اے پروردگار، اے پروردگار)۔ جبکہ سید بن طاؤس کے مطابق اس کے بعد یہ جملے بھی آتے ہیں: "الہی انا الفقیر فی غنای فکیف لا اکون فقیرا فی فقری" (اے میرے معبود!