اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
شہدائے کربلا وہ مظلوم افراد ہیں جو واقعہ کربلا میں ایک غیر منصفانہ جنگ میں شہید کر دیے گئے۔ جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اس وقت کے مسلم دنیا کے حاکم یزید بن معاویہ کو ایک خلیفہ کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یزید اسلام کی ہدایت ، یعنی شورائی نظام سے نہیں بلکہ ایک ملوکیت سے مکرّر کردہ شخص تھا اور اس کے کردار میں بہت سی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ اور ان لوگوں کا خیال تھا جس کو ایسے غیر اسلامی طریقے سے مقرّر کیا گیا ہو اور جس شخص کی شخصیت میں ایسی خرابیاں یا برائیاں پائی جائیں وہ امّتِ مسلمہ کا خلیفہ بننے کا اہل نہیں ہے۔ شہدائے کربلا کے سالار نواسہ رسول حسین بن علی تھے۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
تاسوعا 9 محرم الحرام کا دن اور اس سے مراد واقعۂ کربلا کی تاسوعا (٩محرم سنہ 61ھ قمری) ہے۔ اسی دن سنہ 61ھ میں شمر، عبید اللہ بن زیاد کا خط لے کر کربلا میں داخل ہوا جس میں عمر بن سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا گیا تھا کہ یا تو وہ امام حسین کے ساتھ سخت رویہ اپنائے یا پھر لشکر کی قیادت شمر کے سپرد کر دے۔ عمر بن سعد نے لشکر کی کمان شمر کو سپرد کرنے سے اجتناب کیا اور امام حسین کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہوا۔ اس دن عمر بن سعد کے لشکر نے خیام حسینی کی طرف یلغار کرنے کا ارادہ کیا تو امام حسین نے اپنے بھائی عباس کو ابن سعد کی طرف بھیجا کہ وہ انھیں ایک رات کی مہلت دے۔
وینزویلا (انگریزی:Venezuela)، (لاطینی امریکی ہسپانوی: [beneˈswela] ⓘ)، باضابطہ طور پر بولیویرین جمہوریہ وینزویلا (ہسپانوی: República Bolivariana de Venezuela) براعظم جنوبی امریکا کے شمال میں واقع ایک ملک ہے[2]، بحیرہ کیریبین میں ایک براعظمی زمینی ٹکڑے کے علاوہ بہت سے جزائر اور جزیرچوں پر مشتمل ہے۔ اس کے دار الحکومت کا نام کاراکاس ہے۔ وینزویلا کی کرنسی کا نام بولیوار ہے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ شماریات کے مطابق 2012 میں وینزویلا کی آبادی 29,954,782 تھی۔ وینزویلا کا رقبہ 916,445 مربع کلومیٹر (353,841 مربع میل) ہے۔ وینزویلا ایک مرکزی آمرانہ ریاستی حکمرانی کے تحت ایک وفاقی صدارتی جمہوریہ ہے۔ اس کے موجودہ صدر نکولس مدورو ہیں اور نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز ہیں۔
گورنر کوفہ، پورا نام عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ جسے ابن مرجانہ یا ابن زیاد کے نام سے پہچانا جاتا ہے (28 ہجری - 67 ہجری) بنو امیہ کا ایک مشہور فوجی کمانڈر تھا اور امام حسین بن علی رضی اللہ تعالی علیہ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے اہم عوامل میں سے ایک تھا۔ وہ مرجانہ نامی لونڈی سے پیدا ہوا۔ بعض نے طنزیہ انداز میں ابن زیاد کو اس کی والدہ سے منسوب کیا ہے اور اسے "ابن مرجانہ" کہا جانے لگا، جس سے مراد عبید اللہ کی پیدائشی ناپاکی ہے۔ مسلم بن عقیل نے کوفے میں امام حسین رضی اللہ تعالی علیہ کے حق میں زمین ہموار کرنا شروع کی تو یزید بن معاویہ نے ابن زیاد کو بصرے سے تبدیل کرکے کوفے کا گورنر مقرر کر دیا۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
یزید کے دربار میں زینب بنت علی کا خطبہ
واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ قیدی بنا کر کئی شہروں سے گزار کردمشق لے جائی گئیں۔ انھوں اس سفر اسیری میں کئی خطبے دیے ان میں سے ایک خطبہ یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا۔ ان کے دیگر فصاحت و بلاغت سے بھرپور خطبات کی طرح ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس نے یزید کے دربار پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔ یزید کی محفل میں جب بی بی زینب (سلام اللہ علیہا) کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انھوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ”اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!“ پھر یہ معروف خطبہ دیا جس نے دشمن حسین کے مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔ راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔“ یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: ”اے یزید!
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
واقعہ کربلا، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رشتہ دار اور غلاموں کو 10 محرم الحرام، 61ھ میں عراق کے شہر کربلا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بے دردی سے شہید کیا گيا۔ اس واقعے نے آنے والی صدیوں میں اسلامی تاریخ پر دور رس اثرات مرتب کیے؛ جو ہنوز جاری ہیں۔ واقعہ کربلا کے پس منظر، عوامل اور تفصیلات میں تاریخی بنیادوں پر اہل سنت و جماعت اور اہل تشیع کے درمیان میں کئی باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ یہ واقعہ 10 محرم 61ھ کو کربلا میں پیش آیا اور اس میں حسین ابن علی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا۔ اس واقعہ سے متعلق تاریخی اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔
اہل تشیع یا شیعیت (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت و خلافت کے قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔
علی الاکبر بن حسين (پیدائش: 11 شعبان المعظم 33 ہجری، 6 مارچ 654ء— وفات: 10 اکتوبر 680ء) وہ نواسۂ پیغمبر اسلام، تیسرے شیعہ امام حسین ابن علی اور لیلیٰ بنت ابی مرہ کے بیٹے تھے۔ علی اکبر 26 برس کی عمر میں 10 محرم کو کربلا میں شہید ہوئے۔ دائرۃ المعارف ایرانیکا میں جین کارمراڈ نے لکھا ہے کہ علی اکبر اہل بیت میں ایک نہایت بہادر جوان مشہور تھے۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔
عاشورا یا یوم عاشورا اسلامی تقویم کے مہینے محرم الحرام کے دسویں دن کو کہا جاتا ہے۔ اس دن شیعہ مسلمانوں کی اکثریت اور کچھ سنی مسلمان پیغمبر اسلام محمد کے نواسے حسین ابن علی کی شہادت کو مختلف طریقوں سے یاد کرتے ہیں۔ شہادت کے واقعہ پر کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا، اہل سنت اور اہل تشیع دونوں متفق ہیں۔ واقعہ کربلا کے تقریباً فوری بعد ہی نوحہ گری شروع ہو گئی تھی۔ واقعہ کربلا کی یاد میں اموی اور عباسی دور میں مشہور مرثیے تحریر کے گئے اور ابتدائی ترین عزاداری سنہ 963ء میں بویہ سلطنت کے دور میں ہوئی۔ افغانستان، ایران، عراق، لبنان، آذربائیجان، بحرین، بھارت اور پاکستان میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے اور کئی دوسری نسلی و مذہبی برادریاں اس دن جلوس میں شریک ہوتی ہیں۔
بی بی پاکدامن لاہور میں واقع ایک مزار کو کہا جاتا ہے جو رقیہ بنت علی کا ہے۔ اس مزار کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اہل بیت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی چھ خواتین کے مزارات یہاں واقع ہیں۔ رقیہ بنت علی ابن ابی طالب چوتھے خلیفہ حضرت علی ان ابو طالب کی بیٹی ہیں۔ آپ حضرت عباس ابن علی کی سگی بہن ہیں اور حضرت مسلم بن عقیل کی زوجہ ہیں۔ دوسری خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسلم بن عقیل کی بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خواتین سانحہ کربلا کے بعد یہاں تشریف لائیں۔ (بتاریخ 10 اکتوبر 680ء کے بعد)۔ بہر حال ان کی بدولت اس مقام پر لاہور کی پہلی مسجد بھی قائم ہوئی۔ بعض علما کے خیال میں رقیہ دراصل سید احمد توختہ (بارہویں صدی عیسوی کے ایک زاہد) کی بیٹی تھیں۔ بی بی پاکدامن گڑھی شاہو اور ریلوے اسٹیشن کے درمیانی علاقہ میں واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کا سب سے آسان راستہ ایمپریس روڈ کی جانب سے ہے جو پولیس لائنز کے بالمقابل ایک چھوٹی سڑک کے بائیں جانب واقع ہے۔
یَا حُسَیْن عربی نعرہ ہے جسے شیعہ مسلمان حسین بن علی کی یاد یا ان کی شفاعت کے لیے کہتے ہیں۔ یہ نعرہ خاص طور پر محرم کی عزاداری کے ایام کے سیاق میں استعمال ہوتا ہے اور عمومی طور پر جھنڈوں پر لکھا نظر آتا ہے۔ شیعیت میں حسین کو بلند مرتبہ حاصل ہے اور وہ تیسرے امام تصور کیے جاتے ہیں۔ برطانوی اہلکاروں نے نو آبادیاتی ہندوستان میں محرم کی عزاداری کے دوران شیعوں کو ”یا حسین!
قصر الجب ایک قدیم رومی قلعہ ہے۔ یہ مصر کے مغربی صحرا میں واقع واحة خارجہ کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ یہ قلعہ شہر خارجہ سے تقریباً 45 کلومیٹر شمال کی طرف ہے۔ یہ وادی کا سب سے بڑا رومی قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ قصر الجب ایک اونچی ٹیلہ نما جگہ پر بنایا گیا ہے اور یہ قصر سميرہ سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ رومی دور میں قصر الجب واحة خارجہ میں پانی کا آخری اہم ذریعہ تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ قلعہ نگرانی کے برج اور رہنمائی کے مینار کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا، تاکہ مسافر صحرا میں راستہ پہچان سکیں۔ اس قلعے سے مشرقی اور مغربی پہاڑی کناروں کے درمیان پورا صحرا دیکھا جا سکتا ہے۔ .
کربلا (عربی میں كربلاء) عراق کا ایک مشہور شہر ہے جو بغداد سے 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں صوبہ کربلا میں واقع ہے۔ یہ واقعۂ کربلا اور حسین ابن علی کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے پرانے ناموں میں نینوا اور الغادریہ شامل ہیں۔ اس کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے جو محرم اور صفر کے مہینوں میں زائرین کی وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ تر زائرین ایران، کوردستان، آذربائیجان، بحرین، ہندوستان اور پاکستان سے آتے ہیں.
بنو امیہ قریش کا ایک ممتاز اور دولت مند قبیلہ تھا۔ اسی خاندان نے خلافت راشدہ کے بعد تقریباً ایک صدی تک ملوکیت سنبھالی اور اسلامی فتوحات کو بام عروج پر پہنچایا۔ جس کی سرحدیں ایک طرف چین اور دوسری طرف اسپین تک پھیلی ہوئی تھیں۔ البتہ مرکزی خلافت کے خاتمے کے باوجود اس خاندان کا ایک شہزادہ عبدالرحمن الداخل اسپین میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ جہاں 1492ء تک اموی سلطنت قائم رہی۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .
مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) علی ابن ابی طالب کے بھائی عقیل ابن ابو طالب کے بیٹے تھے یعنی حسین ابن علی کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین اور غریبِ کوفہ (کوفہ کے مسافر) تھا۔ واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ پہلے جب کوفہ کے لوگوں نے حسین ابن علی کو خطوط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی تو انھوں نے مسلم ابن عقیل کو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر انھیں صورت حال مناسب لگی اور انھوں نے امام حسین کو خط بھیج دیا کہ کوفہ آنے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر بعد میں یزید بن معاویہ نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حکمران بنا کر بھیجا جس نے مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کروا دیا۔
حُمَید بن مسلم ازدی واقعہ کربلا کی روایات نقل کرنے والوں میں سے ہے۔ یہ روز عاشورا عمر بن سعد کا وہ سپاہی تھا جس نے شمر بن ذی الجوشن کو حضرت امام سجاد کو قتل کرنے کے ارادہ سے باز رکھا اور خیام کو آگ لگانے میں آڑے آیا۔ عمر بن سعد کے حکم سے وہ حضرت امام حسین ؑ کا سر خولی کے ہمراہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے کر گیا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
صلح حسن و معاویہ یا صلح حسن وہ سیاسی صلح نامہ تھا جو 661ء میں حسن بن علی اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد پہلی خانہ جنگی (فتنۂ اوّل) کو ختم کرنا تھا جو کئی برس سے جاری تھی۔ اس معاہدے کے تحت حسن نے خلافت معاویہ کے حوالے کر دی اس شرط پر کہ وہ قرآن اور سنت کے مطابق حکومت کریں گے، اپنے بعد جانشین کے انتخاب کے لیے مشاورت کی جائے گی اور حسن کے ساتھیوں اور حامیوں کو کسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد مُعاویہ نے کھلے طور پر ان وعدوں کی پابندی نہیں کی۔ حسن نے اس کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور مدینہ میں گوشہ نشین ہو گئے۔ معاویہ کے دور میں حسن اور ان کے والد علی کے کئی معروف حامیوں کے خلاف سخت اقدامات بھی کیے گئے۔
شہر بانو یا شہربانو پیغمبر اسلام کے نواسے اور تیسرے شیعہ امام حسین ابن علی کی زوجہ اور چوتھے شیعہ امام اور جانشین حسین ابن علی زین العابدین کی والدہ تھی۔ مبینہ طور پر شہربانو خاندان ساسان کی شہزادی تھی جو ساسانی سلطنت، ایران کے آخری بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھی۔ شہربانو کا ذکر مصنفین نے کئی دیگر ناموں سے بھی کیا ہے جیسے : شہرباونیہ، شہرناز، شاہزنان، شاہجہان، جہانشاہ، جہان بانو، خولہ، سلافہ، سلامہ، غزالہ، حرار اور سدرہ۔
حضرت ابو سفیان بن حرب بن امیہ رضي الله عنه (ت 560ء—653ء) صحابی رسول تھے۔ ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف تھے اور بعد میں، فتح مکہ کے دوران انھوں نے اسلام قبول کیا اور اسلام کے مددگار بن گئے۔قبولِ اسلام کے بعد حضرت ابو سفیان سب سے اول غزوۂ حنین میں شریک ہوئے، آنحضرتﷺ نے حنین کے مالِ غنیمت سے انھیں سو اونٹ مرحمت فرمائے، حنین کے بعد طائف کے محاصرہ میں شرکت کی۔ حضرت عمرؓ فاروق کے عہدِ خلافت میں جنگ یرموک میں شام کی فوج کشی میں اپنے پورے کنبہ کو لے کر شریک ہوئے، خود ان کے بیٹے اور ان کی بیوی سب شریک تھے، یرموک کی جنگ میں انھوں نے بڑا نمایاں حصہ لیا۔
کسی کے مرنے پر صبر کی تلقین اور اظہار ہمدردی کرناتعزیت کہلاتا ہے۔ (عربی تعزیة) اہل تشیع کے نزدیک شہید کربلا اور دیگر شہدا کا ماتم جو ان کے روضے پر، گھروں یا امام بارگاہوں میں محرم کی پہلی تاریخ سے دسویں تک کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر کہیں تابوت، کہیں ان کے روضے کی تصویر، جسے تعزیہ کہتے ہیں، کہیں دُلدُل یا علم نکالے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ شہدا کا ماتم بھی کرتے ہیں۔ مجالس عزا میں مرثیہ، نوحہ، سلام پڑھتے اور شہادت کا حال بیان کرتے ہیں۔ ہرملک میں تعزیت کے مختلف طریق رائج ہیں۔ اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں شہدا کا ماتم ضرور کیا جاتا ہے۔
شام غریباں دراصل اس شام کو کہتے ہیں جو معرکہ کربلا کی پہلی شام تھی، جس شام کو یزیدی فوجوں نے شہداء کربلا کی نعشوں کی بے حرمتی کی تھی۔ انھیں شہید کرنے کے بعد ان کی نعشوں پر گھوڑے دوڑائے تھے اور ان کا مُثْلَہ کیا تھا۔ یزیدیوں نے اپنے مقتولین کو دفن کر دیا لیکن شہداء کربلا دو دن تک بے گور و کفن کربلا کے تپتے میدان میں پڑے رہے۔ پھر تیسرے دن ایک قبیلے والوں نے ان پر نماز جنازہ ادا کر کے انھیں دفن کیا۔ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمات کو سرعام گلی کوچوں میں پھیرایا گیا۔ یہ کربلا کی پہلی شام تھی جس میں خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد بن جعفر بن ربيعہ بن الوحيد بن عامر بن كعب بن كلاب حضرت علی کی اہلیہ جو حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد آپ کے نکاح میں آئیں۔ ام البنین کے چار فرزند عباس بن علی جعفر بن علی، عثمان بن علی، عبد الله بن علی تھے جن میں حضرت عباس لشکرِ حسینی کے علمدار تھے اور سبھی واقعۂ کربلا میں 10 محرم 61ھ کو شہید ہوئے۔
مروان بن حکم کا تعلق بنو امیہ کی دوسری شاخ بنی عاص سے تھا۔ حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضرت عثمان نے حکم کے بیٹے مروان کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ حضرت عثمان کو اس پر بے حد اعتماد تھا۔ اس لیے مہر خلافت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ جب آپ کے خلاف فسادیوں نے شورش پیدا کی تو حاکم مصر کے نام منسوب خط وغیرہ کی جعلسازی کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی جاتی ہے۔ شہادت عثمان کے بعد مدینہ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کے خلاف لڑا۔ حضرت طلحہ کی شہادت بھی اس کے ہاتھوں ہوئی جو اسی کی فوج کے سربراہ تھے۔ امیر معاویہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اسے مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یزید کی موت کے وقت یہ مدینہ ہی میں مقیم تھا۔ جبیر ابن مطعم سے روایت ہے کہ ہم لوگ پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ادھر سے حکم (مروان کا باپ) گذرا۔ اسے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے صلب میں جو بچہ ہے اس سے میری امت عذاب اور پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ اس روایت بارے ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ روایت منکر ہے۔<ref>أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي ابن أبي حاتم؛ الرازي (1427 هـ - 2006 م)۔ العلل۔ مطابع الحميضي۔ ج 6۔ ص 555 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)</>
عام نظریہ یہ ہے کہ اسلامی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین بیٹے تھے جن کا نام عبد اللہ، ابراہیم اور قاسم تھا اور چار بیٹیاں جن کا نام فاطمہ زہرا ، رقیہ ، ام کلثوم اور زینب تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پہلی بیوی خدیجہ بنت خویلد سے پیدا ہوئے تھے، سوائے ان کے بیٹے ابراہیم کے، جو ماریہ القبطیہ سے پیدا ہوئے تھے۔ محمد کے بیٹے میں سے کوئی بھی بالغ نہیں ہوا، لیکن ان کا ایک بالغ رضاعی بیٹا، زید بن حارثہ تھا۔ ان کی تمام بیٹیاں جوانی کو پہنچیں۔ کچھ شیعہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فاطمہ بنت محمد ان کی اکلوتی حیاتیاتی بیٹی تھیں۔
دمشق میں علی ابن حسین زین العابدین کا خطبہ وہ خطبہ ہے جسے انھوں نے واقعہ عاشورا کے بعد دمشق میں یزید بن معاویہ کے دربار میں ارشاد فرمایا۔ زین العابدین اور اسیران کربلا کی موجودگی میں یزید کے حکم پر ایک خطیب نے منبر سے بنی امیہ کی مدح اور علی بن ابی طالب اور ان کے اہل بیت کی مذمت میں ایک تقریر کی۔ زین العابدین نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خطیب کے جواب میں علی بن ابی طالب کے فضائل بیان فرمائے۔ یہ خطبہ جس کے اکثر مطالب علی بن ابی طالب کی مدح اور فضیلت پر مشتمل ہیں شام میں وسیع اثرات کا حامل رہا اور یزید بن معاویہ کی ظاہری سیاست میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
مہرنگ بلوچ یا ماہ رنگ بلوچ بلوچستان، پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بلوچ انسانی حقوق کی کارکن جن کے والد ریاست مخالف دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ تھے ۔ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور حکام کی جانب سے ماورائے عدالت قتل جیسے ظلم کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔https://urdu.samaa.tv/208736781ان کے والد عبد الغفار لانگوواپڈا میں ملازمت کیساتھ کالعدم تنظیم بلوچ لبیریشن آرمی کے رکن تھے۔ جنھیں سنہ 2006 میں پہلی مرتبہ اٹھایا گیا جس کے کچھ عرصے بعد وہ واپس آگئے تھے۔ پھر وہ 2009 میں لاپتہ ہوئے اور 2011 میںایک بی ایل اے کیخلاف کارروائی میں مارے گئے۔ڈاکٹر ماہ رنگ لانگوکے والد بی ایل اے کا سرغنہ اور ریاستی اداروں پر لاتعداد حملوں میں ملوث تھا۔
کوفہ (عربی میں كوفة ) عراق کا ایک شہر ہے جو دریائے فرات کے کنارے آباد ہے۔ یہ صوبہ نجف میں شامل ہے۔ نجف سے صرف 10 کلومیٹر اور بغداد سے جنوب میں 170 کلومیٹر اور نجف سے 10 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ 2003ء میں اس کی آبادی تقریباً 110,000 تھی۔ کوفہ اور نجف دونوں شہر وسیع تر ہونے کی وجہ سے اب ایک شہر معلوم ہوتے ہیں جسے دنیا میں نجف کے نام سے جانا جاتا ہے کوفہ میں سامراء، کربلا، کاظمین اور نجف کی وجہ سے یہ اہل تشیع کے نزدیک عراق کے مقدس شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر کو 638ء مطابق 17 ہجری میں خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب کی آمد پر بسایا گیا تھا۔
رائٹنگ تھراپی اظہاری تھراپی کی ایک شکل ہے جو تحریری لفظ کو لکھنے اور پروسیس کرنے کے عمل کو بطور تھراپی استعمال کرتی ہے۔ رائٹنگ (تحریری) تھراپی کا مؤقف ہے کہ کسی کے جذبات کو لکھنا آہستہ آہستہ جذباتی صدمے کے احساسات کو کم کرتا ہے۔ علاج کے طور پر لکھنا انفرادی طور پر یا ایک گروپ میں ہو سکتا ہے اور اس کا انتظام کسی معالج کے ساتھ ذاتی طور پر یا میلنگ یا انٹرنیٹ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمرو بن عاص صحابی رسول ﷺ تھے، آپ نے فتحِ مکّہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ آپ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دشمن ہرگز نہ تھے، لیکن خارجی مسلمانوں کو صحابہ سے نفرت پر مائل کرنے کے لیے انھیں امیرالمومنین مولائے کائنات حضرت امام علی المرتضیٰ علیہ السلام کے دشمنوں میں شامل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مکّہ کے قرب و جوار میں نصب بُتوں کو گرانے کے لیے مختلف صحابہؓ کو منتخب کیا۔ چناں چہ حضرت خالد ؓبن ولید کو’’ عزیٰ‘‘، حضرت سعد بن زیدؓ کو’’منات‘‘ اور حضرت عمروؓ بن العاص کو ’’سواع‘‘ نامی بُت گرانے کی ذمّے داری دی گئی۔ 8ھ میں جنگِ موتہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ مدینے سے دس دن کی مسافت پر واقع، وادی القریٰ میں مقیم، قبیلہ قفاء کے مشرکین نے مدینے پر حملے کی تیاری کر لی ہے۔ آنحضرتؐ نے اس مہم کے لیے حضرت عمروؓ بن العاص کو منتخب فرمایا، کیوں کہ اُن کی دادی اسی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپؓ تین سو مجاہدین کا لشکر لے کر محاذ پر پہنچے، تو معلوم ہوا کہ مشرکین نے بہت بڑی فوج جمع کی ہوئی ہے۔ آپؓ نے فوری حضور ﷺ کو اطلاع بھجوائی۔ چناں چہ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ مزید دو سو مجاہدین کی کُمک لے کر پہنچے، جن میں سیّدنا ابوبکرؓ، سیّدنا عُمرؓ سمیت سردارانِ انصار بھی تھے۔ کمک آجانے کے بعد حضرت عمروؓ نے ایک بھرپور حملہ کر کے قفاء کے پورے علاقے کو فتح کر لیا۔ محمد ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ’’ مسلمان، قبیلہ جزام کی سر زمین میں واقع ’’سلسل‘‘ نامی ایک چشمے پر اُترے تھے۔ اسی لیے اس مہم کا نام’’ذات السلال‘‘ پڑ گیا۔ ‘‘ اس جنگ میں حضرت عمروؓ کی سیاسی بصیرت اور جنگی حکمتِ عملی کے تین اقدامات کو رسول اللہ ﷺ نے بہت سراہا۔(1) آپؓ راتوں کو سفر کرتے اور دن میں اپنی فوج کو گھاٹیوں میں چُھپا دیا کرتے تاکہ دشمن پر اچانک حملہ آور ہوں۔(2) سخت سردی کے باوجود کسی کو آگ جلانے کی اجازت نہیں دی تاکہ دشمن کو ان کی کم تعداد کا علم نہ ہو سکے۔(3) جنگ جیتنے کے بعد دشمن کے تعاقب سے منع کر دیا تاکہ اَن جان علاقوں میں بھٹک کر مجاہدین کی جانیں تلف نہ ہوں۔ عرب کے جنوب میں واقع ریاست، عمّان میں دو مجوسی بھائیوں کی حکومت تھی، جو آگ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ فتحِ مکّہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمروؓ کو ایک خط دے کر عمّان روانہ کیا۔ حضرت عمروؓ خط لے کر دربار میں پہنچے اور اُن کے سامنے نہایت بصیرت افروز تقریر کی۔ اپنے مکارمِ اخلاق، حُسنِ تدّبر، سیاسی بصیرت اور جہدِ مسلسل کے نتیجے میں چند ہی دنوں میں نہ صرف دونوں بھائی مسلمان ہو گئے، بلکہ پوری رعایا بھی مشرف بہ اسلام ہو گئی۔ حضور اکرم ﷺ نے مسرّت کا اظہار فرما کر انھیں عمّان کا امیر مقرّر کر دیا۔ نبی کریم ﷺ کے رحلت فرمانے تک آپؓ عمان کے امیر کی حیثیت سے اسے علم کا گہوارا بنانے میں مصروف رہے۔ پھر رسول اللہﷺ کی رحلت کے بعد واپس مدینہ آگئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمروؓ کو بنو قضاء کے مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی پر مامور فرمایا، تو آپؓ نے اس معرکے میں بھی کام یابی حاصل کی اور مدینہ تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انھیں دوبارہ عمّان کا حاکم بنا کر واپس بھیج دیا۔ 12 ہجری میں رومی اور ایرانی حکومتوں نے مسلمان علاقوں پر حملوں کا آغاز کیا، تو حضرت ابوبکرؓ نے انھیں عمّان سے واپس بلا کر مجاہدین کے ایک لشکر کا امیر مقرّر کر کے فلسطین روانہ کر دیا۔ جہاں رومیوں کا ایک لشکر اُن کا منتظر تھا، تاہم آپؓ نے صدیقِ اکبرؓ کو خط لکھ کر مزید کمک منگوا لی۔ جلد ہی حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ، حضرت شرجیل ؓ، حضرت یزید بن ابی سفیانؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں اسلامی فوجیں اُن سے آملیں۔ حضرت عمروؓ نے گھمسان کی جنگ میں رومیوں کو شکستِ فاش دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے انتقال کے بعد حضرت عُمرؓ خلیفہ بنے، تو انھیں فوج کا سپہ سالار بنا کر مِصر روانہ کر دیا۔ مِصر دنیا بھر میں رومیوں کی پہچان تھا۔ حضرت عمروؓ نے بہترین حکمتِ عملی اور جنگی بصیرت کی بنا پر بہت جلد پورے مِصر پر قبضہ کر لیا۔ اُنھوں نے ایک نیا شہر بسایا، جس کا نام ’’فسطاط‘‘ رکھا۔ امیر المومنین، سیّدنا عُمر فاروقؓ نے’’ فسطاط‘‘ کو مِصر کا دار الحکومت قرار دے کر حضرت عمروؓ بن عاص کو مِصر کا حاکم مقرّر کر دیا۔ حضرت عمروؓ بن عاص ہی کے دَور میں یہاں دریائے نیل کے خشک ہونے کا مشہور واقعہ پیش آیا، جو عمر فاروقؓ کا خط ڈالنے کے بعد دوبارہ بہنا شروع ہوا۔ حضرت عمروؓ بن عاص نے اپنے دورِ حکومت میں یہاں بہت سی اصلاحات کیں۔ نئے شہر آباد کیے، نہریں کھدوائیں، زراعت کو وسعت دی، مدارس، مساجد، مسافر خانے، سڑکیں، پارک اور باغات بنوائے، جس کی بنا پر مصر خوش حال ممالک میں سرِ فہرست آگیا۔ مصر کے حاکم کی حیثیت سے حضرت عمروؓ نے شہر فسطاط کے قریب دریائے نیل سے بحیرۂ قلزم تک 69 میل لمبی ایک نہر’’نہرِ امیر المومنین ‘‘ تعمیر کروائی۔ سیّدنا فاروق اعظمؓ کی شہادت کے بعد، حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ بنے، تو انھوں نے حضرت عمروؓ بن العاص کو بدستور مِصر کے حاکم کی حیثیت سے برقرار رکھا، بلکہ انھیں دفاع اور خزانے کے محکمے بھی دے دیے۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے اپنی زندگی کا بڑا حصّہ میدانِ جنگ میں گزارا۔ 34ھ میں حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت میں یمن، عراق، شام، فلسطین اور مِصر کے فاتح اور ملّتِ اسلامیہ کے یہ عظیم جرنیل کہ’’جن کے نام سے لرزتے تھے قیصر و کسریٰ‘‘ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے گئے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
عمار بن یاسر (56 ق.ھ-37ھ) (کنیت ابو یقظان ) جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ قدیم الاسلام اور مہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کو کفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنھیں سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا، چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پر پیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یا رسول اللہ!
عبد اللہ ابن عمیر ابو وہب کلبی
عبد اللہ ابن عمیر ابو وہب الکلبی امام حسین کے کربلا میں ساتھی تھے اور ان کے ساتھ کربلا کی لڑائی میں شہید ہوئے آپ کربلا سے گزرتے ہوئے امام سے ملے اور پھر ان کے ساتھ ہی ٹھہر گئے، آپ قبیلہ بنو کلب سے تعلق رکھتے تھے جو اس وقت زیادہ تر عیسائی تھا آپ بھی پہلے عیسائی تھے امام سے ملاقات کے بعد اپنی بیوی اور ماں کے ساتھ اسلام قبول کیا۔
امیر المؤمنین اور مسلمانوں کے خلیفہ عبد اللہ بن زبیر بن عوام اسدی قرشی (1ھ – 73ھ) کم عمر صحابہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ وہ صحابی زبیر بن عوام کے بیٹے اور اسماء بنت ابی بکر صدیق کے صاحبزادے تھے۔ ہجرتِ نبوی کے بعد مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے۔ اپنے زمانے میں قریش کے بہادر شہسوار شمار ہوتے تھے اور ان کی کنیت ابو بکر اور ابو خبیب تھی۔
ابو مخنف لوط بن یحییٰ غامدی ازدی کوفی (تقریباً 110ھ–170ھ / 728ء–787ء) ایک مؤرخ تھا اور عرب کے قدیم ترین مؤرخین میں شمار ہوتا ہے۔ وہ ایک شیعہ مسلمان تھا، کوفہ کا رہنے والا اور عراق کے باشندوں میں سے تھا۔، حدیث کی روایت میں اس پر جرح کی گئی ہے اور اس کی بعض تاریخی روایات پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ شمس الدین ذہبی نے اس کے بارے میں کہا: “یہ ایک اخباری (تاریخ بیان کرنے والا) ہے، ضعیف ہے اور اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔” جبکہ فرقد قزوینی نے کہا: “ابو مخنف کی کتاب مقتل الحسین معرکہ کربلا کے بارے میں بعد کے لوگوں کے لیے بنیادی ماخذ رہی ہے، لیکن ہم نے اس کا مطالعہ اور تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس میں بیان کردہ باتیں درست نہیں ہیں۔” ابو مخنف اپنے اساتذہ محمد بن اسحاق اور سيف بن عمر کی تصانیف کے اسلوب سے متاثر تھا اور انہی سے روایت بھی کرتا تھا۔
معاویہ بن یزید اموی خلیفہ یزید کے جانشین تھے۔ یزید نے اپنی زندگی میں انھیں جانشین مقرر کر دیا۔ چنانچہ 683ء میں باپ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ 21 سال کا یہ نوجوان عادات وخصائل میں اپنے باپ کی ضد تھا۔ عبادت اور ریاضت اس کا معمول تھا۔ امام حسین کی شہادت کے بعد اسے کاروبار حکومت سے اس قدر نفرت ہو چکی تھی کہ 3 ماہ کی حکومت کے بعد ازخود خلافت سے یہ کہہ کر دست بردار ہو گیا۔ کہ
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فاتح ایران کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ننھیالی خاندان ہے اس لیے آپ رشتے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حمزہ بن عبدالمطلب کی والدہ آپ کی سگی پھوپھی تھیں۔ ہجرت مدینہ سے 30 برس پہلے پیدا ہوئے۔ نزول وحی کے ساتویں روز ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ترغیب دلانے پر مشرف با اسلام ہوئے۔ اور عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ خصوصی کے فرائض انجام دیے۔ ، : آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے اور خاندان قریش کے ایک بہت ہی نامور شخص ہيں جو مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔ یہ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں جبکہ ابھی ان کی عمر سترہ برس کی تھی دامن اسلام میں آگئے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ تمام معرکوں میں حاضر رہے۔ یہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کفار پر تیر چلا یا ہم لوگوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہ کر اس حال میں جہاد کیا کہ ہم لوگوں کے پاس سوائے ببول کے پتوں اور ببول کی پھلیوں کے کوئی کھانے کی چیز نہ تھی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے خاص طور پر ان کے لیے یہ دعا فرمائی: ”اَللّٰھُمَّ سَدِّدْ سَھْمَہٗ وَاَجِبْ دَعْوَتَہٗ ” (اے اللہ! عزوجل ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اور ان کی دعا کو مقبول فرما) خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی یہ فارس اور روم کے جہادوں میں سپہ سالار رہے امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا پھر اس عہدہ سے معزول کر دیا اور یہ برابر جہادوں میں کفار سے کبھی سپاہی بن کر اور کبھی اسلامی لشکر کے سپہ سالار بن کر لڑتے رہے۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر المؤمنین ہوئے تو انھوں نے دوبارہ انھیں کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ یہ مدینہ منورہ کے قریب مقام ”عقیق ”میں اپنا ایک گھر بنا کر اس میں رہتے تھے اور 55ھ میں جبکہ ان کی عمر شریف 75 پچھتّر برس کی تھی اسی مکان کے اندر وفات پائی۔ آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں میرا اون کا وہ پراناجبہ ضرور پہنایا جائے جس کو پہن کر میں نے جنگ بدرمیں کفار سے جہاد کیا تھا چنانچہ وہ جبہ آپ کے کفن میں شامل کیا گیا۔ لوگ فرط عقیدت سے آپ کے جنازے کو کندھوں پر اٹھا کر مقام ”عقیق” سے مدینہ منورہ لائے اور حاکم مدینہ مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کی قبر منور بنائی۔ .
کوفیوں کے خطوط امام حسین کے نام
کوفیوں کے خطوط امام حسین کے نام سے مراد کوفیوں کے وہ خطوط ہیں جو کوفہ کے رہنے والوں نے معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد، یزید کے تخت نشین ہونے پر فرزند رسول حضرت امام حسین کو لکھے ۔کوفہ کے بزرگوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کے بعد یہ خطوط اس وقت امام حسین کو لکھے جب آپ مکہ میں قیام پزیر تھے اور ان خطوط میں امام کو کوفہ آنے کی دعوت دی نیز ان خطوط میں اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی۔ان خطوط کے لکھنے والوں میں سلیمان بن صرد خزاعی، حبیب بن مظاہر اور رفاعہ بن شداد جیسے کوفہ کے اشراف اور شیعہ شامل تھے۔لیکن عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ میں آنے کے بعد کوفہ کے لوگوں پر نہایت سختی گیری کی اور کوفہ میں خوف وہراس کو پھیلا دیا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے امام کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا جس کے نتیجے میں واقعۂ کربلا رونما ہوا اور فرزند رسول کو ان کے اہل خانہ اور ان کے اصحاب کے ہمراہ شہید کر دیا گیا۔
اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔