اردو ویکیپیڈیا Top 100

اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔

  1. 1

    ایران جنگ 2026ء

    ایران جنگ 2026ء

    28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    5.6K ملاحظات (↑1.7K گزشتہ کل)0,0,0,29,37,46,4162,3927,3816, 5552

    7 فرق

    🔍 🗞️
  2. 2

    ابراہیمی معاہدہ

    ابراہیمی معاہدہ

    ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .

    2.4K ملاحظات (↑1.2K گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,1473,1802,1234, 2445

    4 فرق

    🔍 🗞️
  3. 3

    پاک بھارت تنازع 2025ء

    پاک بھارت تنازع 2025ء

    پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔

    2.4K ملاحظات (↑1.9K گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,658,2531,527, 2378

    4 فرق

    🔍 🗞️
  4. 4

    ایپسٹین فائلز

    ایپسٹین فائلز

    ایپسٹین فائلیں چھ ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز کا مجموعہ ہیں، جو امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ طفلی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور اس کے عوامی شخصیات پر مشتمل سماجی حلقے کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیل پیش کرتی ہیں، جن میں سیاست دان اور مشہور شخصیات شامل تھیں۔

    2.4K ملاحظات (↑1.2K گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,1057,1479,1210, 2369

    4 فرق

    🔍 🗞️
  5. 5

    یمنی خانہ جنگی (2015–تاحال)

    یمنی خانہ جنگی (2015–تاحال)

    یمنی خانہ جنگی ( عربی: الحرب الأهلية اليمنية ) ایک جاری تنازع ہے جو 2015 میں دو دھڑوں کے مابین شروع ہوا تھا: عبدربہ منصور ہادی کے زیرقیادت یمنی حکومت اور حوثی مسلح تحریک ، اپنے حامیوں اور اتحادیوں کے ساتھ۔ دونوں ہی یمن کی سرکاری حکومت تشکیل دینے کا دعوی کرتے ہیں۔

    2.1K ملاحظات (↑928 گزشتہ کل)0,0,0,983,111,93,1311,1626,1146, 2074

    7 فرق

    🔍 🗞️
  6. 6

    ترکیہ

    ترکیہ

    ترکیہ رسمی طور پر جمہوریہ ترکیہ بنیادی طور پر مغربی ایشیا میں اناطولیہ میں ایک ملک ہے، جس کا ایک چھوٹا حصہ جنوب مشرقی یورپ میں مشرقی تھریس کہلاتا ہے۔

    1.9K ملاحظات (↑842 گزشتہ کل)0,0,98,0,0,0,1116,1700,1062, 1904

    4 فرق

    🔍 🗞️
  7. 7

    337ء

    337ء

    718 ملاحظات (↑83 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,787,574,635, 718

    4 فرق

    🔍 🗞️
  8. 8

    ایوا سکس

    ایوا سکس

    ایوا سکس (انگریزی: Eva Six) ایک اداکارہ ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    662 ملاحظات (↑662 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 662

    1 فرق

    🔍 🗞️
  9. 9

    سیکسی (ناول)

    سیکسی (ناول)

    سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔

    528 ملاحظات (↑95 گزشتہ کل)489,390,508,450,453,417,534,565,433, 528

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  10. 10

    پانچ ککے

    پانچ ککے

    سکھ مت کے پانچ امتیازی نشان جن کے نام کا پہلا حرف ککا (کاف) ہے۔

    524 ملاحظات (↑524 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 524

    1 فرق

    🔍 🗞️
  11. 11

    روم

    روم

    روما (اطالوی اور لاطینی: Roma صوتی تلفظ: [ˈroːma] ( سنیے)) جسے انگریزی زبان میں روم (انگریزی: Rome) کہا جاتا ہے اور یہی نام دنیا میں عمومی طور پر مستعمل ہے۔ یہ اطالیہ کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔

    375 ملاحظات (↑375 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,82,0, 375

    1 فرق

    🔍 🗞️
  12. 12

    طوفان

    طوفان

    312 ملاحظات (↑178 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,267,367,374,134, 312

    5 فرق

    🔍 🗞️
  13. 13

    علی اکبر

    علی اکبر

    علی الاکبر بن حسين‎ (پیدائش: 11 شعبان المعظم 33 ہجری، 6 مارچ 654ء— وفات: 10 اکتوبر 680ء) وہ نواسۂ پیغمبر اسلام، تیسرے شیعہ امام حسین ابن علی اور لیلیٰ بنت ابی مرہ کے بیٹے تھے۔ علی اکبر 26 برس کی عمر میں 10 محرم کو کربلا میں شہید ہوئے۔ دائرۃ المعارف ایرانیکا میں جین کارمراڈ نے لکھا ہے کہ علی اکبر اہل بیت میں ایک نہایت بہادر جوان مشہور تھے۔

    246 ملاحظات (↑134 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,237,288,305,112, 246

    5 فرق

    🔍 🗞️
  14. 14

    ماہنامہ دار العلوم

    ماہنامہ دار العلوم

    ماہنامہ دار العلوم ایک ماہانہ اردو رسالہ ہے جو دار العلوم دیوبند سے 1941ء سے شائع ہو رہا ہے۔ اس رسالے کے مدیرِ اول عبد الوحید صدیقی غازی پوری تھے، جبکہ محمد طیب قاسمی بہ حیثیت مہتمم اس کے نگراں تھے۔ فی الحال، اس کے مدیر محمد سلمان بجنوری اور موجودہ مہتممِ دار العلوم دیوبند ابو القاسم نعمانی اس کے نگراں ہیں۔ اس رسالے میں زیادہ تر مضامین دار العلوم کے اساتذہ یا فارغ التحصیل افراد کے تحریر کردہ ہوتے ہیں۔

    193 ملاحظات (↑70 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,205,185,319,123, 193

    5 فرق

    🔍 🗞️
  15. 15

    واصف علی واصف

    واصف علی واصف

    واصف علی واصف (15 جنوری 1929ء تا 18 جنوری 1993ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، کالم نگاراورمسلم صوفی تھے۔

    182 ملاحظات (↑84 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,67,221,98, 182

    4 فرق

    🔍 🗞️
  16. 16

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔

    135 ملاحظات (↓7 گزشتہ کل)204,180,206,198,258,174,179,179,142, 135

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  17. 17

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا (انگریزی: Sexy Cora) ایک اگزوٹک رقاصہ، ریالٹی ٹی وی شریک، فحش اداکارہ، فلمی اداکارہ، ماڈل اور گلو کار تھیں جن کا تعلق جرمنی سے تھا۔

    131 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل)0,51,0,0,67,87,66,75,89, 131

    6 فرق

    🔍 🗞️
  18. 18

    عبدالرحمن کیلانی

    عبدالرحمن کیلانی

    مولانا عبد الرحمن کیلانی (پیدائش: 11 نومبر 1923ء— وفات: 18 دسمبر 1995ء) ماہر خطاط، عالم دین اور مصنف تھے۔ آپ کا تعلق کیلیانوالہ کے اہل حدیث اور خطاط سپرا (قوم) گھرانے سے تھا۔ آپ نے پورے قرآن کی خطاطی کی۔ آپ خط نسخ میں مہارت تامہ رکھتے تھے.

    129 ملاحظات (↑82 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,110,137,147,47, 129

    5 فرق

    🔍 🗞️
  19. 19

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ (پیدائش: 10 فروری 1993ء) جو میا کالیستا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، لبنانی نزاد امریکی سوشل میڈیا شخصیت، کھیلوں کی مبصر اور ویب کیم ماڈل ہے۔ میا 2014ء سے 2015ء تک پورنوگرافک اداکارہ رہی۔

    125 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل)84,93,85,99,98,77,88,90,97, 125

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  20. 20

    عقبہ بن نافع

    عقبہ بن نافع

    کام جاری

    120 ملاحظات (↑89 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,31, 120

    2 فرق

    🔍 🗞️
  21. 21

    ابراہیم زید کیلانی

    ابراہیم زید کیلانی

    شیخ ابراہیم زید کیلانی (1937-2 اپریل 2013) اردن کے ایک مسلمان عالم اور سیاست دان تھے۔ انھوں نے 1990 میں وزیر اوقاف اور اسلامی امور کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 1993 سے 1997 کے درمیان اردن کے ایوان نمائندگان کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    113 ملاحظات (↑75 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,91,127,136,38, 113

    5 فرق

    🔍 🗞️
  22. 22

    مفتی عبد الرحیم

    مفتی عبد الرحیم

    مفتی عبد الرحیم جامعۃ الرشید کراچی کے سربراہ اور مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان کے صدر ہیں۔ وہ الغزالی یونیورسٹی کے موجودہ چانسلر بھی ہیں۔

    107 ملاحظات (↑107 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,65,108,92,0, 107

    1 فرق

    🔍 🗞️
  23. 23

    حفصہ بنت عمر

    حفصہ بنت عمر

    حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا (15ق.ھ / 45ھ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ بعثت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئیں۔

    97 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)0,0,0,0,36,52,57,48,56, 97

    6 فرق

    🔍 🗞️
  24. 24

    عمر بن خطاب

    عمر بن خطاب

    ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

    96 ملاحظات (↑8 گزشتہ کل)67,61,82,74,100,101,113,89,88, 96

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  25. 25

    ترکیہ کے صوبے

    ترکیہ کے صوبے

    جمہوریہ ترکیہ، 81 صوبوں (ترکی: il/vilayet) میں منقسم ہے۔ ہر صوبہ مختلف تعداد میں اضلاع میں منقسم ہے۔ صوبائی گورنر صوبہ کے مرکزی ضلع میں ہوتا ہے۔ مرکزی ضلع کا نام عام طور پر صوبے کے نام پر ہوتا ہے۔ صوبہ مقرر کردہ گورنر کے زیر انتظام ہوتا ہے۔ سلطنت عثمانیہ اور ابتدائی ترک جمہوریہ میں متعلقہ اکائی ولایت تھی۔

    93 ملاحظات (↑93 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 93

    1 فرق

    🔍 🗞️
  26. 26

    عمار بن یاسر

    عمار بن یاسر

    عمار بن یاسر (56 ق.ھ-37ھ) (کنیت ابو یقظان ) جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ قدیم الاسلام اور مہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کو کفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنھیں سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا، چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پر پیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یا رسول اللہ!

    93 ملاحظات (↑51 گزشتہ کل)0,0,34,61,80,57,37,0,42, 93

    2 فرق

    🔍 🗞️
  27. 27

    گیانا

    گیانا

    گیانا سرکاری طور پر کوآپریٹو جمہوریہ گیانا، جنوبی امریکا کی شمالی سرزمین پر ایک ملک ہے۔ گیانا ایک مقامی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "بہت سے پانیوں کی سرزمین"۔ ساحل پر ایک خود مختار ریاست ہے۔ گیانا کی سرحد شمال میں بحر اوقیانوس جنوب اور جنوب مغرب میں برازیل، مغرب میں وینزویلا اور مشرق میں سرینام سے ملتی ہے۔ 215,000 مربع کلومیٹر (83,000 مربع میل) کے زمینی رقبے کے ساتھ، گیانا یوراگوئے اور سورینام کے بعد سرزمین جنوبی امریکا میں رقبے کے لحاظ سے تیسری سب سے چھوٹی خود مختار ریاست ہے اور سرینام کے بعد جنوبی امریکا میں دوسری سب سے کم آبادی والی خود مختار ریاست ہے۔ دار الحکومت جارج ٹاؤن ہے۔

    91 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,74,133,155,51, 91

    5 فرق

    🔍 🗞️
  28. 28

    موسی بن جعفر

    موسی بن جعفر

    موسیٰ الکاظم، امام جعفر صادق کے فرزند اور اہل تشیع کے ساتویں امام تھے۔

    84 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,54, 84

    2 فرق

    🔍 🗞️
  29. 29

    انگریزی زبان

    انگریزی زبان

    انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

    79 ملاحظات (↑19 گزشتہ کل)0,0,49,40,61,68,62,78,60, 79

    8 فرق

    🔍 🗞️
  30. 30

    لامین یامال

    لامین یامال

    لامین یامال (انگریزی: Lamine Yamal) ایک ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی ہیں جن کا تعلق ہسپانیہ سے ہے۔

    76 ملاحظات (↓86 گزشتہ کل)0,0,40,0,0,0,84,342,162, 76

    4 فرق

    🔍 🗞️
  31. 31

    کنز الایمان

    کنز الایمان

    کنز الایمان امام احمد رضا خان کا اردو ترجمۂ قرآن ہے، جو انھوں نے 1911ء میں مکمل کیا۔ یہ ترجمہ اردو زبان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور مقبول تراجم قرآن میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا ترجمہ ہندی، سندھی، انگریزی، ڈچ، گجراتی، پشتو اور بنگلہ سمیت کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ کنز الایمان پر مختلف جامعات میں متعدد تحقیقی مقالات و مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں۔

    75 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,91,96,87,42, 75

    5 فرق

    🔍 🗞️
  32. 32

    ہارمون

    ہارمون

    انگیزہ یا ہارمون(جمع: انگیزات) دراصل انسان، حیوان اور نباتات سمیت تمام اقسام کے حیاتی اجسام کے خلیات سے افراز (secrete) ہونے والے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو خلیے سے نکل کر خون کے ذریعہ سے سفر کرتے ہوئے تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں اور اپنے مقام افراز (اخراج) سے دور دراز موجود خلیات، اعضاء اور دیگر انگیزہ پیدا کرنے والے داخلی غدد (endocrine glands) کے افعال کو تضبیط (control) کرتے ہیں۔ ان کو انگریزی میں Hormones کہا جاتا ہے۔

    75 ملاحظات (↑24 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,70,67,104,51, 75

    5 فرق

    🔍 🗞️
  33. 33

    پاکستان

    پاکستان

    پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔

    71 ملاحظات (↓15 گزشتہ کل)75,91,80,100,109,63,67,71,86, 71

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  34. 34

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت میں ہر سال 15 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سنہ 1947 میں اسی تاریخ کو ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد مملکت متحدہ کے استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے قانون آزادی ہند 1947ء کا بل منظور کر کے قانون سازی کا اختیار مجلس دستور ساز کو سونپ دیا تھا۔ یہ آزادی تحریک آزادی ہند کا نتیجہ تھی جس کے تحت انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں پورے ہندوستان میں تحریک عدم تشدد اور سول نافرمانی میں عوام نے حصہ لیا اور اس جدوجہد میں ہر کس و ناکس نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کا واقعہ بھی پیش آیا اور برطانوی ہند کو مذہبی بنیادوں پر دو ڈومینین میں تقسیم کر دیا گیا؛ بھارت ڈومینین اور پاکستان ڈومنین۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں دونوں طرف خطرناک مذہبی فسادات ہوئے جن میں تقریباً 1.5 کروڑ لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے۔ 15 اگست سنہ 1947ی کو بھارت کے وزیر اعظم بھارت جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر بھارت کا نیا پرچم لہرایا۔ اسی دن ہر سال بھارت کا وزیر اعظم بھارتی پرچم لہراتا ہے اور ملک کو خطاب کرتا ہے۔

    69 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل)0,54,42,36,0,0,39,50,41, 69

    4 فرق

    🔍 🗞️
  35. 35

    محمد بن عبد اللہ

    محمد بن عبد اللہ

    ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔

    68 ملاحظات (↑19 گزشتہ کل)68,92,58,64,65,68,55,63,49, 68

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  36. 36

    واقعہ کربلا

    واقعہ کربلا

    سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔

    68 ملاحظات (↑5 گزشتہ کل)95,81,94,70,165,153,130,89,63, 68

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  37. 37

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔

    67 ملاحظات (↑21 گزشتہ کل)0,0,47,35,53,54,55,58,46, 67

    8 فرق

    🔍 🗞️
  38. 38

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس (انگریزی: Ira Sachs) ایک فلم ساز، فلم مصنف، فلم ہدایت کار، مصنف اور منظر نویس ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    66 ملاحظات (↑16 گزشتہ کل)98,59,73,70,78,78,65,91,50, 66

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  39. 39

    چین

    چین

    چِین (چینی: 中国) کو چائنا یا کتھے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جب کہ جمہوریہ چین سے مراد تائیوان اور اس سے ملحقہ علاقے ہیں۔

    64 ملاحظات (↑64 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 64

    1 فرق

    🔍 🗞️
  40. 40

    محمد اقبال

    محمد اقبال

    ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

    63 ملاحظات (↑6 گزشتہ کل)0,60,48,51,53,0,0,49,57, 63

    3 فرق

    🔍 🗞️
  41. 41

    یونائیٹڈ سکس

    یونائیٹڈ سکس

    یونائیٹڈ سکس (انگریزی: United Six) 2011ء میں منظر عام پر آنے والی ایک فلم ہے، جس کی ہدایت کاری Vishal Aryan Singh نے کی۔ اس فلم میں پاروتی اوماناکوٹن نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، پریتم نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔

    60 ملاحظات (↓148 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,62,32,0,208, 60

    2 فرق

    🔍 🗞️
  42. 42

    علی بن ابی طالب

    علی بن ابی طالب

    ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

    59 ملاحظات (↓22 گزشتہ کل)74,0,57,75,69,69,54,51,81, 59

    8 فرق

    🔍 🗞️
  43. 43

    ام کلثوم بنت علی

    ام کلثوم بنت علی

    زینبِ صغریٰ المعروف کنیّت ام کلثوم علی بن ابی طالب اور فاطمہ بنت محمد کی چوتھی اولاد اور خلیفہ عمر بن خطاب کی زوجہ تھیں۔

    57 ملاحظات (↑8 گزشتہ کل)0,0,0,0,38,51,64,54,49, 57

    6 فرق

    🔍 🗞️
  44. 44

    جہلم

    جہلم

    جہلم، پنجاب، پاکستان کا ایک اہم تاریخی شہر ہے۔ یہ دریائے جہلم اور جی ٹی روڈ کے سنگم پر واقع ہے۔ جہلم دو لفظوں سے مل کر بنا ہے جل یعنی پانی اور ہم یا مم سے مراد میٹھے کو کہتے ہیں جہلم کے پاس ملوٹ فائرنگ رینج بھی ہے جہاں سے پہلے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر نظر ایا بات کی جائے جلم کے مشہور گاؤں کی تو بدلوٹ وٹالیاں علی اصغر اباد ٹلا جوگیاں دارا پور سر فہرست ہیں دریا کے دوسرى طرف سرائے عالمگير واقع ہے۔ جو مغلیہ دور کی یاد دلاتی ہے۔ بابر، ہمایوں، جلال الدین محمد اکبر شہنشاہ جہانگیر شیر شاہ سوری کے روٹ جرنیلی سڑک پر واقعہ سرائے عالمگیر اپنی ایک پہچان رکھتا ہے جہاں ملٹری کالج جہلم واقع ہے۔ جسے برٹش دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ برٹش دور حکومت میں جہلم کے عین وسط میں ایک چرچ بھی قائم کیا گیا۔ 1860 جی ٹی روڈ ان دونوں آبادیوں سے گذرتا ہے۔ جہلم کی اہم مقامات میں تاریخی قلعہ رہتاس، ٹلہ جوگیاں، سالٹ رینج اور منگلا بند ہیں۔ یہاں ایک گولف کھیلنے کا میدان بھی ہے جہاں قومی گولف ٹورنامنٹ منعقد ہوتے ہیں۔

    55 ملاحظات (↑12 گزشتہ کل)0,0,0,150,110,92,44,0,43, 55

    2 فرق

    🔍 🗞️
  45. 45

    بہاء الدین زکریا ملتانی

    بہاء الدین زکریا ملتانی

    شیخ الاسلام بہاؤ الحق و الدین زکریا ملتانی سُہروردی سلسلہ سہروردیہ کے بڑے بزرگ اور عارف کامل گذرے ہیں۔سلسلہ سہروردیہ کے صاحبِ کمال بزرگ جن کا پورا نام الشیخ الکبیر شیخ الاسلام مخدوم بہاؤ الدین ابو محمد زکریا الاسدی ہے۔ حافظ‘ قاری‘ محدث‘ مفسر‘ عالم‘ فاضل‘ عارف‘ ولی سب کچھ تھے‘۔ شیخ الشیوخ ابوحفص شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ تھے۔ ساتویں صدی ہجری کے مجدد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار تھے، اسلام کے عظیم مبلغ تھے۔ آپ کے جد امجد مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے، پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ یہیں 578ھ میں پیدا ہوئے، ہیں۔

    54 ملاحظات (↑11 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,43, 54

    2 فرق

    🔍 🗞️
  46. 46

    معبد عمدا

    معبد عمدا

    معبد عمدا کو نوبیہ کا قدیم ترین مصری معبد سمجھا جاتا ہے۔ اسے اٹھارہویں سلطنت کے فرعون تحتمس سوم نے تعمیر کرایا اور آمون اور رع-ہوراختی کے نام وقف کیا۔ بعد ازاں ان کے بیٹے اور جانشین آمنحتپ سوم نے معبد کی آرائش مکمل کرائی۔ بعد میں تحتمس چہارم نے بیرونی ہال کی چھت تعمیر کرائی اور وہاں ستونوں کی قطاروں والا طرزِ تعمیر اختیار کیا۔ ، .

    53 ملاحظات (↑53 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 53

    1 فرق

    🔍 🗞️
  47. 47

    اردو

    اردو

    اُردُو، برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔

    53 ملاحظات (↑16 گزشتہ کل)0,57,43,46,40,38,35,46,37, 53

    9 فرق

    🔍 🗞️
  48. 48

    ابراہیم (اسلام)

    ابراہیم (اسلام)

    ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !

    52 ملاحظات (↑1 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,44,46,51, 52

    4 فرق

    🔍 🗞️
  49. 49

    جنگ صفین

    جنگ صفین

    جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔

    52 ملاحظات (↑12 گزشتہ کل)0,0,40,53,68,44,49,48,40, 52

    8 فرق

    🔍 🗞️
  50. 50

    کاکروچ جنتا پارٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی (انگریزی نام: Cockroach Janta Party، مختصراً CJP بمعنی ”لال بیگ عوامی پارٹی“) بھارت کی طنزیہ سیاسی تحریک ہے جس کی بنیاد 16 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے ڈالی۔ وہ سیاسی ابلاغی تزویر کار ہیں جو اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ یہ تحریک 15 مئی 2026ء کو بھارت کے موجودہ چیف جسٹس سوریا کانت کے اس بیان کے ردِ عمل میں سامنے آئی جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں کو ”کاکروچ“ اور ”سماج کے طفیلیے“ قرار دیا تھا۔ قیام کے چند ہی دنوں میں اس تحریک نے 350،000 سے زائد اندراجات اور انسٹاگرام پر 20 ملین سے زیادہ متابعین حاصل کر لیے۔ اس تحریک نے زمینی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جہاں رضاکار لال بیگ کے بھیس میں احتجاجی مظاہروں اور صفائی مہمات میں شریک ہوئے۔

    51 ملاحظات (↑51 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 51

    1 فرق

    🔍 🗞️
  51. 51

    حسین بن علی

    حسین بن علی

    حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ ‎ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    50 ملاحظات (↑17 گزشتہ کل)0,0,75,56,68,49,48,31,33, 50

    8 فرق

    🔍 🗞️
  52. 52

    ہسپانیہ

    ہسپانیہ

    ہسپانیہ (ہسپانوی: España‏؛ اسپانیا) سرکاری طور پر مملکت ہسپانیہ کاستین، کتالان، باسک سمیت بہت سی قدیم قوموں کا ملک ہے۔ مغرب کی جانب يہ پرتگال، جنوب ميں جبل الطارق، اور مراکش اور شمال مشرق ميں انڈورا اور فرانس کے ساتھ ملتا ہے۔

    48 ملاحظات (↓33 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,55,213,81, 48

    4 فرق

    🔍 🗞️
  53. 53

    حسن ابن علی

    حسن ابن علی

    حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .

    47 ملاحظات (↓9 گزشتہ کل)0,81,45,49,65,41,48,41,56, 47

    9 فرق

    🔍 🗞️
  54. 54

    جنگ جمل

    جنگ جمل

    جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل)0,56,44,54,67,50,33,0,0, 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  55. 55

    غزوہ بدر

    غزوہ بدر

    بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔

    46 ملاحظات (↑13 گزشتہ کل)0,52,57,42,62,45,55,41,33, 46

    9 فرق

    🔍 🗞️
  56. 56

    کوس مینار

    کوس مینار

    کوس مینار شمالی برصغیر میں جرنیلی سڑک کے ساتھ قرون وسطی کے ہندوستانی سنگ میل ہیں، جنھیں 16ویں صدی کے پشتون حکمران شیر شاہ سوری نے متعارف کرایا تھا۔ کوس مینار آگرہ سے اجمیر، آگرہ سے لاہور اور جنوب میں آگرہ سے منڈو تک شاہی راستوں کے ساتھ فاصلے کے نشانات کے طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ زیادہ تر کوس مینار اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور پنجاب میں سڑکوں کے کنارے، ریلوے کی پٹریوں، دھان کے کھیتوں اور بہت سے قصبوں اور دیہاتوں میں موجود ہیں۔

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  57. 57

    بھارت

    بھارت

    بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔

    46 ملاحظات (↑13 گزشتہ کل)0,0,35,41,39,50,52,34,33, 46

    8 فرق

    🔍 🗞️
  58. 58

    عثمان بن عفان

    عثمان بن عفان

    ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ ‏سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .

    46 ملاحظات (↓18 گزشتہ کل)79,88,152,104,147,145,130,92,64, 46

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  59. 59

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔

    46 ملاحظات (↓28 گزشتہ کل)62,61,31,45,0,50,61,41,74, 46

    5 فرق

    🔍 🗞️
  60. 60

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔

    45 ملاحظات (↓4 گزشتہ کل)84,62,66,71,83,57,50,65,49, 45

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  61. 61

    احمد رضا خان

    احمد رضا خان

    ((امام احمد رضا خان|اعلحضرت)) (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقہیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔

    42 ملاحظات (↑10 گزشتہ کل)0,0,39,46,45,40,35,39,32, 42

    8 فرق

    🔍 🗞️
  62. 62

    کسیلہ

    کسیلہ

    کُسیلہ یا کُسیلہ بن ملزم (بربر: ⴰⴾⵙⵉⵍ، معروف باسم اکسل) (وفات: 71 ہجری / 688ء) اسلامی فتوحاتِ مغرب کے دور میں ایک مسلمان امازیغ (بربر) حکمران تھے۔ بعض مؤرخین کے مطابق وہ مملکتِ الطافہ کے فرمانروا، قبیلہ اوربہ کے سردار اور بعض روایات کے مطابق صنہاجہ کے بھی قائد تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں ان کی سلطنت مغرب میں ولیلی سے مشرق میں اوراس تک اور بعد ازاں قیروان اور افریقیہ کے اندرونی علاقوں تک پھیل گئی۔ کُسیلہ زیادہ تر اس وجہ سے مشہور ہیں کہ انھوں نے ساتویں صدی عیسوی کے آخری عشروں میں اسلامی فتوحاتِ مغرب کے دوران بربر افواج کی قیادت کرتے ہوئے فوجی مزاحمت کی۔ وہ 688ء میں انہی لڑائیوں میں سے ایک معرکے میں مارے گئے۔ انھیں قبائل اوربہ اور صنہاجہ کا سردار سمجھا جاتا ہے اور چند برسوں تک افریقیہ کے حکمران بھی رہے۔ مؤرخین کے درمیان کُسیلہ کے نسب، اصل اور اسلامی فتوحات میں ان کے کردار کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ عربی تاریخی مصادر اس بارے میں متضاد روایات پیش کرتے ہیں۔ ان تمام روایات میں ابن خلدون کی روایت سب سے زیادہ معروف اور بعض اہلِ تحقیق کے نزدیک زیادہ قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہے۔ ابن خلدون کے مطابق کُسیلہ کا پہلی مرتبہ ذکر اس وقت سامنے آتا ہے جب ان کی ملاقات ابو المہاجر دینار سے ہوئی، جو عقبہ بن نافع کی معزولی کے بعد 56 ہجری میں افریقیہ کے گورنر اور مغرب میں اسلامی افواج کے سپہ سالار مقرر ہوئے تھے۔ کُسیلہ نے ابو المہاجر پر اعتماد کیا اور 59 ہجری میں اسلام قبول کر لیا، جس کے بعد قبیلہ اوربہ بھی مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔ .

    42 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 42

    1 فرق

    🔍 🗞️
  63. 63

    جیسکا سگس ورتھ

    جیسکا سگس ورتھ

    جیسکا سگس ورتھ (انگریزی: Jessica Sigsworth) ایک ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی ہیں جن کا تعلق مملکت متحدہ سے ہے۔

    42 ملاحظات (↑10 گزشتہ کل)0,54,150,53,53,55,33,50,32, 42

    9 فرق

    🔍 🗞️
  64. 64

    محمد علی جناح

    محمد علی جناح

    محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

    42 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل)0,0,30,0,36,0,0,0,0, 42

    1 فرق

    🔍 🗞️
  65. 65

    خالد بن ولید

    خالد بن ولید

    خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔

    42 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل)0,0,52,45,59,54,40,0,0, 42

    1 فرق

    🔍 🗞️
  66. 66

    22 جولائی

    22 جولائی

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  67. 67

    سید احمد خان

    سید احمد خان

    احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)0,0,39,32,0,0,0,38,0, 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  68. 68

    کاغذی کرنسی

    کاغذی کرنسی

    کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی ایجاد کے بعد دھاتی کرنسی آہستہ آہستہ کاغذی کرنسی میں تبدیل ہو گئی جبکہ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ کرنسی نہ صرف انسانوں کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ حکومتوں کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے۔ ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی، 1275ء میں مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں: جلنے والا پتھر (کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس)، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ مارکو پولو لکھتا ہے: "آپ کہہ سکتے ہیں کہ قبلائی خان کو کیمیا گری (یعنی سونا بنانے کے فن) میں مہارت حاصل تھی۔ بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی"۔ لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی۔ جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگوڈا نے جاری کی تھی۔ موجودہ زمانے میں کاغذی کرنسی سینٹرل بینک جاری کرتا ہے۔ مارکوپولو وہ پہلا آدمی تھا جس نے چین میں سینٹرل بینکنگ سیکھی اور وینس واپس آ کر یورپ والوں کو سکھائی۔ یعنی مارکوپولو صرف سیاح نہیں تھا بلکہ مغربی دنیا کا پہلا اصولی سینٹرل بینکر بھی تھا۔ اس طرح یورپ میں سینٹرل بینکنگ کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ سوئیڈن میں سولہویں صدی میں منظم بینکنگ سسٹم قائم ہو چکا تھا اور 1661ء میں سرکاری سطح پر کاغذی کرنسی کا اجرا شروع ہو چکا تھا۔ برطانیہ میں سرکاری کاغذی کرنسی 1694ء سے شائع ہونا شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ "For over a century, the global financial system has been increasingly built on papered-over leverage, fiat expansion, and financial engineering. Since 1913, governments, financial institutions, and central banks have systematically distorted money and markets, creating an unsustainable system of derivatives, credit expansion, and hidden leverage." کرنسی تخلیق کرنا اور عوام کو اس کے استعمال پر مجبور کرنا حکومت یا مرکزی بینک کو بہت بڑی طاقت عطا کرتا ہے۔ "سینٹرل بینکنگ (خفیہ) چوری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔" Central banking is the greatest engine of theft جولائی، 2006ء کے ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک "فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے"۔ مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔ 1927ء میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ ( جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا ) نے کہا تھا کہ"جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔..

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)0,0,42,44,107,85,84,58,0, 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  69. 69

    سکینہ بنت حسین

    سکینہ بنت حسین

    سکینہ بنت حسین (پیدائش: 7 نومبر 676ء 24 ذوالحجہ 56ھ— وفات: 12 نومبر 680ء 13 صفر 61ھ بروز پیر) یا رقیہ بنت حسین امام حسین بن علی کی بیٹی تھیں۔

    41 ملاحظات (↑7 گزشتہ کل)0,0,0,35,39,44,46,51,34, 41

    7 فرق

    🔍 🗞️
  70. 70

    فضل الرحمٰن (سیاست دان)

    فضل الرحمٰن (سیاست دان)

    مولانا فضل الرحمن (قائدِ جمعیت علماء اسلام) پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی امیر ہیں اور اپوزیشن تحریک (موجودہ حکومتی اتحادی جماعتوں) سابقہ پاکستان ڈیمو کریٹ مومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ ہیں۔ پاکستان میں وہ عالم اسلام کے عظیم رہنما اور قائد ہیں۔

    40 ملاحظات (↓8 گزشتہ کل)0,58,86,86,74,43,55,47,48, 40

    9 فرق

    🔍 🗞️
  71. 71

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔

    39 ملاحظات (↓2 گزشتہ کل)0,0,42,34,53,37,31,0,41, 39

    2 فرق

    🔍 🗞️
  72. 72

    شاہ محمد سلیمان تونسوی

    شاہ محمد سلیمان تونسوی

    خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی برصغیر پاک و ہند میں بارہویں صدی ہجری کے آخر ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا تھے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشد و ہدایت سے برصغیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصغیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجاز مقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  73. 73

    سگسی

    سگسی

    سگسی (منگولی: Сагсай) مشرقی منگولیا کے صوبے بیان-اولگی کا ایک ضلع ہے۔ شہر میں زیادہ تر قازق آبادی ہے، یہ علاقہ عقاب سے شکار کرنے والوں کا گھر ہے، جو سنہری عقاب سے خرگوش اور لومڑی کا شکار کرتے ہیں۔ ہر سال سگسی میں، الطائی قازق عقابوں کا سالانہ میلہ ستمبر کے آخری ہفتے میں لگتا ہے، یہ یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  74. 74

    عائشہ بنت ابی بکر

    عائشہ بنت ابی بکر

    سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  75. 75

    یزید بن معاویہ

    یزید بن معاویہ

    یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل)0,0,49,50,78,49,42,0,0, 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  76. 76

    یوسف (اسلام)

    یوسف (اسلام)

    یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)67,0,0,39,43,0,35,0,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  77. 77

    حذیفہ بن یمان

    حذیفہ بن یمان

    حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (20ق.ھ / 36ھ) کی کنیت عبد اللہ ہے آپ کا مکمل نام ”حذیفہ بن حسل بن جابر“ ہے، ان کے والد کا اصل نام ”حسل“ تھا لیکن وہ ”یمان“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔اس لقب پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان کے والد ”حسل“ انصار کے ایک قبیلہ ”بنو اشہل“ کے حلیف بنے اور وہ قبیلہ چونکہ ملکِ یمن میں رہتا تھا ، لہٰذا اسی کی طرف نسبت کرتے ہوئے انھیں”یمان“ کا لقب دیا گیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد اور والدہ دونوں صحابہ میں سے تھے۔ ان کے والد ”یمان“ کی شہادت غزوہ احد میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئی۔ وہ اس طرح کہ حضرت حذیفہ اور ان کے والد دونوں غزوہ احد میں شریک تھے اور مشرکینِ مکہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور اس زمانے مین چونکہ خود وغیرہ پہن کر لڑتے تھے؛ اس لیے حضرت حذیفہ کے والد حضرت یمان کو صحابہ پہچان نہ سکے اور ان پر حملہ کر دیا،حضرت حذیفہ نے جب یہ دیکھا تو انھیں روکنے لگے؛لیکن تب تک ان کے والد حضرت یمان شہید ہو چکے تھے۔حضرت حذیفہ اور ان کے والد غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہے تھے کہ راستے میں کفار نے انھیں روک لیا اور پوچھا کہ کیا تم محمد (ﷺ) کے پاس جانا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم ان کے پاس نہیں؛ بلکہ صرف مدینے میں جانا چاہتے ہیں، تو کفار نے ان سے اللہ کا نام لے کر عہد و پیماں لیا کہ وہ مدینے جائیں اور حضور ﷺ کے ساتھ ہوکر نہیں لڑیں گے،پھر جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”انصرفا، نفي لہم بعہدہم، ونستعین اللّٰہ علیہم“ تم مدینے چلے جاؤ! ہم ان کا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالی سے مدد چاہیں گے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھیں اپنے جذبات پر مکمل قابو اور کنٹرول تھا، کیسے بھی تکلیف دہ حالات ہوں؛ لیکن حضرت حذیفہ کبھی اپنے جوش وجذبے کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہوئے، جیساکہ درج ذیل دو واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ ان کے والد یمان کو ان کے سامنے شہید کیا گیا؛ لیکن ان کے منہ سے صرف اتنا نکلا:یغفر اللّٰہ لکم“ اللہ تعالی تمھیں بخشے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میں وہ تمام صفات موجود تھیں جوکسی کو رازدار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں اور ان میں بالخصوص اپنے جوش وجذبات پر کنٹرول اور قابو رکھنا ہے؛ چنانچہ انھیں خدادا صلاحیتوں کی بنا پر حضور ﷺ نے انھیں اپنے رازدار بنانے کا شرف بخشا اور فتنوں سے متعلق اور منافقین کے ناموں اور ان کے احوال سے متعلق پوری تفصیل سے حضرت حذیفہ بن یمان کو آگاہ کیا۔حضور ﷺ کے اس رازدار صحابی کا انتقال محرم الحرام، 36ھ میں مدائن میں وفات پائی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد بار بار عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوچھا کرتے تھے، اے حذیفہ!

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)103,76,41,0,54,37,51,45,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  78. 78

    جنگ آزادی ہند 1857ء

    جنگ آزادی ہند 1857ء

    جنگ آزادی ہند 1857ء جو ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ تھی اسے انگریزوں نے "جنگ غدر" کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے۔ دوم یہ کہ ان دنوں جو کارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔ جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں میں بہت سے ایسے تھے جنھوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,38,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  79. 79

    آئین پاکستان

    آئین پاکستان

    پاکستان کا آئین، جسے 1973 کا آئین بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہے۔ یہ دستاویز پاکستان کے قانون، سیاسی ثقافت اور نظام کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ ریاست کا خاکہ، آبادی کے بنیادی حقوق، ریاست کے قوانین اور احکامات اور اداروں اور مسلح افواج کے ڈھانچے اور قیام کو بیان کرتی ہے۔ یہ ذو الفقار علی بھٹو کی حکومت نے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی اضافی مدد سے تیار کیا تھا اور اسے 10 اپریل کو 5ویں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا اور 14 اگست 1973 کو توثیق کی گئی۔ پہلے تین ابواب حکومت کی تین شاخوں کے قواعد، مینڈیٹ اور علاحدہ اختیارات قائم کرتے ہیں: ایک دو ایوانی مقننہ؛ ایک ایگزیکٹو برانچ جسے وزیر اعظم بطور چیف ایگزیکٹو چلاتے ہیں؛ اور ایک اعلیٰ وفاقی عدلیہ جس کی سربراہی سپریم کورٹ کرتی ہے۔ آئین پاکستان کے صدر کو ریاست کے اتحاد کی نمائندگی کرنے والے رسمی سربراہ مملکت کے طور پر نامزد کرتا ہے۔ آئین کے پہلے چھ مضامین سیاسی نظام کو وفاقی پارلیمانی جمہوریہ کے نظام کے طور پر بیان کرتے ہیں؛ اور اسلام کو اس کا ریاستی مذہب بھی قرار دیتے ہیں۔ آئین میں قرآن اور سنت میں موجود اسلامی احکام کی تعمیل کے لیے قانونی نظام کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    34 ملاحظات (↑3 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,31, 34

    2 فرق

    🔍 🗞️
  80. 80

    اوزیریون

    اوزیریون

    اوزیریون (جسے اوزوریون یا اوزیرون بھی کہا جاتا ہے) مصر کے شہر ابیدوس میں دیوتا اوزیریس کے اعزاز میں تعمیر کیا گیا ایک چھوٹا مذہبی معبدی مجموعہ ہے۔ یہ سیتی اول کے تدفینی معبد کے عین جنوب مغرب میں واقع ہے اور مصر کی انیسویں سلطنت کے دور، یعنی عہدِ سلطنتِ جدید میں تعمیر کیا گیا۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  81. 81

    جنریشن زی

    جنریشن زی

    جنریشن زی یا جین زی (Generation Z) 1990 کی دہائی کے آخر اور 2010 کے وسط کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی نئی نسل ہے۔ یہ پہلی نسل ہے جو اپنے ابتدائی بچپن سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی اور روزمرہ کی زندگی کے ایک حصے کے طور پر ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ جین زی ڈیجیٹل طور پر مقامی افراد کی ایک نسل ہے جو اپنے متنوع پس منظر، منفرد شناخت اور عالمی تناظر کے لیے مشہور ہیں۔ وہ پچھلی نسلوں کے مقابلے ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ اور سیاسی طور پر مصروف ہیں اور موسمیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف جیسے اسباب کے بارے میں پرجوش ہیں۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  82. 82

    احمد سرہندی

    احمد سرہندی

    شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبد الا حد فاروقی) (پیدائش: 26 جون 1564ء— وفات: 10 دسمبر 1624ء) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے۔ جو مجدد الف ثانی اور قیوم اول سے معروف ہیں۔ آپ کے مشہور خلیفہ سید آدم بنوری ہیں۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل)0,0,30,32,44,0,41,30,0, 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  83. 83

    غزوہ احد

    غزوہ احد

    جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔

    33 ملاحظات (↑2 گزشتہ کل)0,0,35,35,36,51,0,34,31, 33

    3 فرق

    🔍 🗞️
  84. 84

    ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ (18ق.ھ / 59ھ)حدیث کے سب سے بڑے راوی سلطان الحدیث اور سر خیل اصحابِ صفہ کہلاتے ہیں۔ یمن کے قبیلہ دوس سے ان کاخاندانی تعلق ہے۔زمانہ،جاہلیت میں آپ کا نام”عبد شمس” تھا مگرجب یہ 7ھ میں جنگ خیبر کے بعد دامن اسلام میں آگئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کا نام عبد الرحمن رکھ دیا۔ ایک دن حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی آستین میں ایک بلی دیکھی تو آپ نے ان کو یَا اَبَاھُرَیْرَۃَ!

    33 ملاحظات (0 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,33, 33

    2 فرق

    🔍 🗞️
  85. 85

    مکہ

    مکہ

    مکہ (عربی: مكَّة المُكرَّمَة انگریزی: Makkah / Mecca)، جسے باضابطہ طور پر مکۃ المکرمہ اور عموماً صرف مکہ کہا جاتا ہے، سعودی عرب کے مغرب میں واقع تاریخی خطہ حجاز میں المکہ علاقہ کا دار الحکومت ہے اور یہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ بحیرہ احمر پر واقع جدہ سے 70 کلومیٹر (43 میل) کے فاصلے پر ہے، یہ ایک تنگ وادی میں جو سطح سمندر سے 277 میٹر (909 فٹ) بلند ہے۔ 2022ء میں اس کی میٹروپولیٹن آبادی 2.4 ملین تھی، جو اسے ملکی دار الحکومت ریاض اور جدہ کے بعد سعودی عرب کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بناتا ہے۔

    33 ملاحظات (↑2 گزشتہ کل)0,0,31,0,0,0,0,0,31, 33

    2 فرق

    🔍 🗞️
  86. 86

    مرزا غلام احمد

    مرزا غلام احمد

    مرزا غلام احمد (13 فروری 1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہی مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہے اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ 1888ء میں، مرزا نے اعلان کیا کہ انھیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے اور اس طرح 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ جسے قادیانیت اور مرزائیت بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  87. 87

    وکٹوریہ بیکہم

    وکٹوریہ بیکہم

    وکٹوریہ کیرولین بیکہم (انگریزی: Victoria Caroline Beckham)

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  88. 88

    مروان بن حکم

    مروان بن حکم

    مروان بن حکم کا تعلق بنو امیہ کی دوسری شاخ بنی عاص سے تھا۔ حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضرت عثمان نے حکم کے بیٹے مروان کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ حضرت عثمان کو اس پر بے حد اعتماد تھا۔ اس لیے مہر خلافت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ جب آپ کے خلاف فسادیوں نے شورش پیدا کی تو حاکم مصر کے نام منسوب خط وغیرہ کی جعلسازی کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی جاتی ہے۔ شہادت عثمان کے بعد مدینہ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کے خلاف لڑا۔ حضرت طلحہ کی شہادت بھی اس کے ہاتھوں ہوئی جو اسی کی فوج کے سربراہ تھے۔ امیر معاویہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اسے مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یزید کی موت کے وقت یہ مدینہ ہی میں مقیم تھا۔ جبیر ابن مطعم سے روایت ہے کہ ہم لوگ پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ادھر سے حکم (مروان کا باپ) گذرا۔ اسے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے صلب میں جو بچہ ہے اس سے میری امت عذاب اور پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ اس روایت بارے ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ روایت منکر ہے۔<ref>أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي ابن أبي حاتم؛ الرازي (1427 هـ - 2006 م)۔ العلل۔ مطابع الحميضي۔ ج 6۔ ص 555 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)</>

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,41,32,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  89. 89

    موسی ابن عمران

    موسی ابن عمران

    موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔

    32 ملاحظات (↓6 گزشتہ کل)0,0,34,0,0,0,0,0,38, 32

    2 فرق

    🔍 🗞️
  90. 90

    ریاستہائے متحدہ

    ریاستہائے متحدہ

    32 ملاحظات (↑2 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,32,0,30, 32

    2 فرق

    🔍 🗞️
  91. 91

    زین العابدین

    زین العابدین

    علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔

    32 ملاحظات (↓2 گزشتہ کل)73,61,57,46,71,43,46,0,34, 32

    2 فرق

    🔍 🗞️
  92. 92

    معاویہ بن ابی سفیان

    معاویہ بن ابی سفیان

    معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)63,0,40,33,52,37,35,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  93. 93

    رموز اوقاف

    رموز اوقاف

    رموز اوقاف (انگریزی: Punctuation) وہ علامتیں اور نشانیاں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عبارت میں کس جگہ اور کس طرح وقف کرنا ہے۔ رموز، رمز کی جمع ہے جس کا مطلب ہے علامت یا اشارہ جبکہ اوقاف، وقف کی جمع ہے جس کے معنی ٹھہرنے یا رکنے کے ہیں، یعنی رموز اقاف یا علامات وقف اُن اشاروں یا علامتوں کو کہتے ہیں جو کسی عبارت کے ایک جملے کے ایک حصے کو اس کے باقی حصوں سے علاحدہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اردو، انگریزی یا دوسری زبانوں کے قواعد میں ان اوقاف اور علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مفہوم کچھ سے کچھ بلکہ بعض اوقات تو اس کے بالکل اُلٹ ہو جاتا ہے جہاں ٹھہرنا یا وقفہ کرنا ہو ان کے لیے اردو میں درج ذیل رموز اوقاف استعمال ہوتے ہیں۔ ختمہ (۔)، سوالیہ (؟)، سکتہ (،) تفصیلہ (:_)، قوسین () واوین (” “) ندائیہ یا فجائیہ (!) علامت شعر(؎) علامت مصرع (؏) علامت وغیرہ۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  94. 94

    آدم (اسلام)

    آدم (اسلام)

    حضرت آدم علیہ السلام ، اللہ کے اولین پیغمبر ہیں۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب ۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اس رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے : اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔ اس لیے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے (روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) ۔ اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کے لیے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبرائیل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کیے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمۃ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔ اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔ مجاہد بن جبیر نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نام سکھائے ۔ مجاہد نے مزید کہا:ہر جانور ، پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔ سعید بن جبیر ، قتادہ بن دعامہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم!

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  95. 95

    سلمان فارسی

    سلمان فارسی

    سلمان فارسی (53ق.ھ / 35ھ) صحابی رسول تھے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ کا تعلق فارس (ایران ) سے تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایران کے مشہور شہر اصفہان کے ایک گائوں روزبہ میں پیدا ہوئے۔ اسلام لانے سے قبل آپ ؓ کا نام مابہ تھا۔ آپ ؓ کے والد کا نام بوذخشان تھا۔ آپ ؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے زرتشت مذہب ( مجوسی) کے پیروکار تھے، لیکن حق کی تلاش میں فارس سے نکلے، اپنا آبائی مذہب مجوسیت چھوڑ کر مسیحیت اختیار کی اور بالآخر نبی اکرم ؐ کی بارگاہ میں پہنچ کر اسلام قبول کر لیا۔ حضرت سلمان فارسی ؓ کی زندگی حق کی تلاش اور جستجو سے عبارت تھی۔ آپ کے قبول اسلام کا واقعہ بھی بہت دلچسپ اور اثر انگیز ہے۔ آپ کا تعلق مجوسیت سے تھا لیکن آپ کے دل میں ایک چنگاری روشن تھی جو انھیں بے چین رکھتی تھی اور وہ سوچتے تھے کہ یہ آگ جسے ہم خود روشن کرتے ہیں یہ ہمارا خدا تو کبھی نہیں ہو سکتی۔ آپ کے والد بوذخشان ایک بڑے آتش کدے کے مہتمم بھی تھے۔ ایک دن انھوں نے حضرت سلمان سے کہا کہ آج میں کھیتوں میں نہیں جا سکوں گا اس لیے آج کھیتوں کی دیکھ بھال تمھارے ذمے ہے۔ حضرت سلمان ؓ نے ہامی بھر لی اور کھیتوں کی طرف چل دیے، راستے میں مسیحیوں کا ایک گرجا نظر آیا۔ آپ وہاں چلے گئے، ان کی عبادت کے طریقے سے بہت متاثر ہوئے اور اسی دن اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر مسیحیت اختیار کرلی۔ ان کے والد کو جب اس بات کا علم ہوا تو انھیں گھر میں قید کر لیا اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پائوں میں بیڑیاں ڈال دیں، لیکن آپ کسی نہ کسی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک قافلے کے ساتھ شامل ہوکر شام پہنچ گئے۔ لیکن حق کی تلاش کا یہ سفر یہیں نہیں رکھا، آپ ؓ حق کی تلاش میں قریہ قریہ، ملکوں ملکوں بھٹکتے رہے، شام سے موصل(عراق)، وہاں سے نصیبین (ترکی) اور پھر عموریہ پہنچے۔ عموریہ پہنچ کر آپؓ وہاں کے بڑے پادری کی خدمت میں رہنے لگے۔ اس پادری کا جب وقتِ اجل آیا تو اس نے حضرت سلمان ؓ کو بلا یا کہا کہ ’’ میرے بیٹے! اب میں اس دنیا سے رخصت ہوتا ہوں۔ اب نبی آخرالزمان کے ظہور کا وقت قریب آ پہنچا ہے، جو صحرائے عرب سے اٹھ کر دینِ حنیف کو زندہ کرے گا اور اس زمین کی طرف ہجرت کرے گا جہاں کھجوروں کی کثرت ہوگی۔ اس کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔ وہ ہدیہ قبول کرے گا لیکن صدقہ کو اپنے لیے حرام سمجھے گا۔ تم جب اس نبی پاک کا زمانہ پائو تو اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا۔ ‘‘ اس مردِ درویش کے انتقال کے بعد حضرت سلمان اسی جستجو میں رہنے لگے کہ کوئی قافلہ حجاز کی طرف جا رہا ہو تو اس میں شامل ہو جائیں۔ آپؓ کی جستجو رنگ لائی اور قبیلہ بنو کلب کا ایک قافلہ عموریہ سے گذرا۔ آپ اس قافلے میں شامل ہو گئے لیکن راستے میں قافلے والوں کی نیت خراب ہو گئی او رجب یہ قافلہ وادی القریٰ پہنچا تو انھوں نے حضرت سلمانؓ کو یہودیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ آپ نے اس کو اپنی قسمت سمجھ لیا لیکن اس کے باجود تلاشِ حق کی جو چنگاری آپ کے سینے میں روشن تھی، وہ موجود رہی۔ ایک دن اس یہودی کا یک رشتہ دار جو یثرب( مدینہ) کا رہنے والا تھا، وہ اس سے ملنے آیا۔ اس کو ایک غلام کی ضرورت تھی۔ اس نے حضرت سلمان ؓ کے مالک سے انھیں خرید لیا اور یثرب لے آیا۔ یہاں جب آپ ؓ نے کھجور کے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو آپ سمجھ گئے کہ اب تلاش ختم ہونے والی ہے۔ ایک دن آپ ایک درخت پر چڑھے کام کر رہے تھے کہ ایک یہودی شہر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ ایک دن آپ ایک درخت پر چڑھے کام کر رہے تھے کہ ایک یہودی شہر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا’’ خدا بنو قیلہ کو غارت کرے، سب کے سب قبا میں ایک شخص کے پاس جا رہے ہیں جو مکہ سے آیا ہے اور خود کو نبی کہتا ہے۔ ‘‘ یہ سنتے ہیں حضرت سلمان ؓ بد حواس ہوکر درخت سے اتر آئے اور اس شخص سے کہنے لگے کہ ’’ کیا کہا تم نے؟ ذرا پھر سے تو کہنا۔ ‘‘ ان کا آقا بہت غصہ ہوا اور ان ایک تھپڑ ما ر کر کہا کہ تم جاکر اپنا کام کرو۔ حضرت سلمان اس وقت تو خاموش ہو گئے لیکن ایک دن آپ ؓ کچھ کھانے کی چیزیں لے کر پیارے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ چیزیں صدقہ کے طور پر پیارے نبی ﷺ کو پیش کر دیں۔ پیارے نبی ﷺ نے وہ چیزیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں لیکن خود کچھ نہ لیا۔ اگلے دن دوبارہ کچھ چیزیں لے حاضر ہو گئے اور اب انھوں کھانے پینے کی چیزیں بطور ہدیہ پیارے نبی کی خدمت میں پیش کر دیں۔ پیارے نبی ؐ نے خود میں وہ چیزیں کھائیں اور صحابہ ؓ میں بھی تقسیم کر دیں۔ حضرت سلمان ؓ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیوں کہ آخری نبی کی بتائی دو نشانیاں تو پوری ہوگئیں تھیں اب آخری نشانی یعنی مہر نبوت کو دیکھنا رہ گیا تھا۔ چند دنوں بعد آپؓ کو پتا چلا کہ نبی اکرم ﷺ ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد تشریف لے گئے ہیں۔ حضرت سلمان ؓ بھی وہاں پہنچ گئے اور پیارے نبی ﷺ کو سلام کرکے آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے کہ موقع ملے تو مہر نبوت کا مشاہدہ کرلوں۔ پیارے نبی ؐ نے آپ ؓ کی کیفیت کو بھانپ لیا اور اپنی پشت سے کپڑا سرکا دیا۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے کانپتے ہونٹوں سے مہر نبوت کو بوسہ دیا اور کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ ایمان قبول کرنے کے بعد نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر رہنے لگے۔ پیارے نبی ؐ نے آپؓ کو یہودی کی غلامی سے نجات دلائی۔ اس کے بعد تو آپؓ سفر و حضر میں پیارے نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ آپ ؓ بہت جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم ؐ نے غزوہ احزاب ( جنگ خندق) میں آپ ؓ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے خندق کھودی اور دفاعی جنگ لڑی۔ جنگ خندق کے موقع پر جب خندق کھودی جا رہی تھی، مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں بحث چھِڑ گئی کہ سلمان ؓ کون ہیں۔ مہاجرین کہتے تھے کہ سلمان ہم میں سے ہیں جب کہ انصار کا کہنا تھا کہ سلمان میں سے ہیں۔ اسی دوران پیارے نبی ؐ تشریف لے آئے۔ آپ ؓ کو جب ساری بات کا علم ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ سلمان میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ آپؓہر وقت عشق نبی میں غرق رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں جہاد کا بھی بہت شوق تھا۔ ان کے عشق رسول اور شوق جہاد کو دیکھ کر پیارے نبی ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جنت تین آدمیوں کا اشتیاق رکھتی ہے۔ علی ؓ، عمارؓ اور سلمان ؓ کا۔ ایک موقع پر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ سلمان علم سے لبریز ہے۔ آپ ؓ بہت قناعت پسند، درویش صفت انسان تھے۔ دنیا داری سے دور بھاگتے تھے۔ حضرت عمر بن ؓخطاب نے ان کو مدائن کا گورنر مقرر کیا۔ اس کی جو تنخواہ ملتی وہ غریبوں، مسکینوں میں تقسیم کردیتے اور خود چٹائی بُن کر کماتے، اس کا بھی ایک تہائی خیرات کردیتے تھے۔ سفر ہمیشہ بغیر زین کے گدھے پر سوا ہوکر کرتے۔ ایک دفعہ اسی طرح آپؓ گدھے پر بغیر زین کے سفر کر رہے تھے اور پیوند لگا کرتا پہنا ہوا تھا۔ ایک شخص نے ان سے پوچھ لیا کہ ’’ اے امیر !

    31 ملاحظات (↓1 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,32, 31

    2 فرق

    🔍 🗞️
  96. 96

    فہد مصطفی

    فہد مصطفی

    فہد صلاح الدین (سندھی: فھد صلاح الدين، اردو: فہد صلاح الدین؛ پیدائش 26 جون 1983ء)، جنھیں پیشہ ورانہ طور پر فہد مصطفیٰ (اردو: فہد مصطفیٰ) کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک پاکستانی اداکار، پروڈیوسر اور ٹیلی ویژن میزبان ہیں جو اردو فلموں اور ٹیلی ویژن میں کام کرتے ہیں۔ انھیں 2019ء سے 2022ء کے دوران ملک کے مہنگے ترین اداکاروں میں سے ایک تسلیم کیا گیا ہے۔ بطور پروڈیوسر انھوں نے متعدد ایسے ڈرامے تیار کیے ہیں جنھیں عوامی سطح پر بہت پزیرائی ملی۔ وہ جیتو پاکستان کی میزبانی بھی کرتے ہیں، جو 2014ء سے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہو رہا ہے اور اسے پاکستان کا سب سے بڑا گیم شو قرار دیا جاتا ہے۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  97. 97

    سیکس میڈنس

    سیکس میڈنس

    سیکس میڈنس (انگریزی: Sex Madness) 1938ء میں منظر عام پر آنے والی ایک جنسی استحصال فلم اور ڈراما فلم ہے، جس کی ہدایت کاری Dwain Esper نے کی۔ اس فلم میں روز ٹیپلی نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Dwain Esper نے فلم سازی کی۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,51,0,0,0,0,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  98. 98

    حوثی

    حوثی

    تحریک انصار اللہ یا حوثی جماعت یمن کے زیدی شیعوں (جن کے نظریات شیعہ کی نسبت اہل سنت کے قریب ہیں۔) کی ایک تحریک ہے، جو دين و سياست دونوں ميں حزب اللہ کے نقش قدم پر چلتی ہے، جبکہ ان کے کچھ افکار رافضیوں سے بھی ملتے ہیں۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  99. 99

    سلطنت عثمانیہ

    سلطنت عثمانیہ

    سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیه عثمانیه"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  100. 100

    محمد یوسف بنوری

    محمد یوسف بنوری

    محمد یوسف بنوری یا علامہ سید یوسف بنوری (ولادت: 7 مئی 1908ء - وفات: 17 اکتوبر 1977ء) پاکستانی عالم دین، جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بانی اور 30 مئی 1973ء سے 17 اکتوبر 1977ء تک وفاق المدارس العربیہ کے صدر اور نائب صدر تھے۔ جس جگہ آپ کا مدرسہ واقع ہے اس جگہ کا نام کا سرکاری طور پر اندراج آپ کے نام نامی پر علامہ بنوری ٹاؤن کیا گیا۔اور آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پانچویں امیر نامزد ہوئے ، آپ ہی قیادت میں تحریک ختم نبوت 1974 چلی ، جس کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں 13 کی بحث ومباحثہ کے بعد، 7 ستمبر 1974 ء کو سرکاری اور آئینی پر قادیانی اور مرزائی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ، جو آج بھی پاکستان کے آئین کا حصہ ہے- اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو مرحوم تھے-

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️