اردو ویکیپیڈیا Top 100

اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔

  1. 1

    ایوا سکس

    ایوا سکس

    ایوا سکس (انگریزی: Eva Six) ایک اداکارہ ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    666 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,662,638, 666

    3 فرق

    🔍 🗞️
  2. 2

    سیکسی (ناول)

    سیکسی (ناول)

    سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔

    519 ملاحظات (↑2 گزشتہ کل)508,450,453,417,534,565,433,528,517, 519

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  3. 3

    عمار بن یاسر

    عمار بن یاسر

    عمار بن یاسر (56 ق.ھ-37ھ) (کنیت ابو یقظان ) جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ قدیم الاسلام اور مہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کو کفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنھیں سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا، چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پر پیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یا رسول اللہ!

    350 ملاحظات (↑176 گزشتہ کل)34,61,80,57,37,0,42,93,174, 350

    4 فرق

    🔍 🗞️
  4. 4

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔

    207 ملاحظات (↑21 گزشتہ کل)206,198,258,174,179,179,142,135,186, 207

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  5. 5

    عمر بن خطاب

    عمر بن خطاب

    ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

    114 ملاحظات (↑22 گزشتہ کل)82,74,100,101,113,89,88,96,92, 114

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  6. 6

    عقبہ بن نافع

    عقبہ بن نافع

    کام جاری

    111 ملاحظات (↑26 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,31,120,85, 111

    4 فرق

    🔍 🗞️
  7. 7

    ابراہیمی معاہدہ

    ابراہیمی معاہدہ

    ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .

    110 ملاحظات (↓263 گزشتہ کل)0,0,0,0,1473,1802,1234,2445,373, 110

    6 فرق

    🔍 🗞️
  8. 8

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ (پیدائش: 10 فروری 1993ء) جو میا کالیستا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، لبنانی نزاد امریکی سوشل میڈیا شخصیت، کھیلوں کی مبصر اور ویب کیم ماڈل ہے۔ میا 2014ء سے 2015ء تک پورنوگرافک اداکارہ رہی۔

    95 ملاحظات (↓21 گزشتہ کل)85,99,98,77,88,90,97,125,116, 95

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  9. 9

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا (انگریزی: Sexy Cora) ایک اگزوٹک رقاصہ، ریالٹی ٹی وی شریک، فحش اداکارہ، فلمی اداکارہ، ماڈل اور گلو کار تھیں جن کا تعلق جرمنی سے تھا۔

    93 ملاحظات (↑3 گزشتہ کل)0,0,67,87,66,75,89,131,90, 93

    8 فرق

    🔍 🗞️
  10. 10

    حفصہ بنت عمر

    حفصہ بنت عمر

    حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا (15ق.ھ / 45ھ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ بعثت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئیں۔

    91 ملاحظات (↓38 گزشتہ کل)0,0,36,52,57,48,56,97,129, 91

    8 فرق

    🔍 🗞️
  11. 11

    جنریشن زی

    جنریشن زی

    جنریشن زی یا جین زی (Generation Z) 1990 کی دہائی کے آخر اور 2010 کے وسط کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی نئی نسل ہے۔ یہ پہلی نسل ہے جو اپنے ابتدائی بچپن سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی اور روزمرہ کی زندگی کے ایک حصے کے طور پر ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ جین زی ڈیجیٹل طور پر مقامی افراد کی ایک نسل ہے جو اپنے متنوع پس منظر، منفرد شناخت اور عالمی تناظر کے لیے مشہور ہیں۔ وہ پچھلی نسلوں کے مقابلے ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ اور سیاسی طور پر مصروف ہیں اور موسمیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف جیسے اسباب کے بارے میں پرجوش ہیں۔

    85 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,34,54, 85

    3 فرق

    🔍 🗞️
  12. 12

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔

    78 ملاحظات (↓19 گزشتہ کل)66,71,83,57,50,65,49,45,97, 78

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  13. 13

    علی بن ابی طالب

    علی بن ابی طالب

    ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

    72 ملاحظات (↑7 گزشتہ کل)57,75,69,69,54,51,81,59,65, 72

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  14. 14

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس (انگریزی: Ira Sachs) ایک فلم ساز، فلم مصنف، فلم ہدایت کار، مصنف اور منظر نویس ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    72 ملاحظات (↓2 گزشتہ کل)73,70,78,78,65,91,50,66,74, 72

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  15. 15

    واٹر پولو

    واٹر پولو

    پانی میں کھیلا جانے والا کھیل ہے۔ پانی کی گہرائی تین فٹ تک ہوتی ہے ایک ٹیم میں سات کھلاڑی ہوتے ہیں جو دوڑ کر یا تیر کر ہاتھوں سے گیند کو مخالف ٹیم کی گول پوسٹ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    70 ملاحظات (↑70 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 70

    1 فرق

    🔍 🗞️
  16. 16

    واقعہ کربلا

    واقعہ کربلا

    سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔

    70 ملاحظات (↑1 گزشتہ کل)94,70,165,153,130,89,63,68,69, 70

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  17. 17

    لندن

    لندن

    لندن (یا لنڈن) انگلستان اور مملکت متحدہ کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔

    69 ملاحظات (↑14 گزشتہ کل)40,0,0,0,45,0,30,0,55, 69

    2 فرق

    🔍 🗞️
  18. 18

    انگریزی زبان

    انگریزی زبان

    انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

    68 ملاحظات (↓3 گزشتہ کل)49,40,61,68,62,78,60,79,71, 68

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  19. 19

    خالد بن ولید

    خالد بن ولید

    خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔

    66 ملاحظات (↑24 گزشتہ کل)52,45,59,54,40,0,0,42,42, 66

    3 فرق

    🔍 🗞️
  20. 20

    احمد رضا خان

    احمد رضا خان

    ((امام احمد رضا خان|اعلحضرت)) (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقہیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔

    64 ملاحظات (↑14 گزشتہ کل)39,46,45,40,35,39,32,42,50, 64

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  21. 21

    طائفہ دانیہ اور مشرقی جزائر

    طائفہ دانیہ اور مشرقی جزائر

    طائفۂ دانیہ اور مشرقی جزائر ملوک طوائف کی ریاستوں میں سے ایک تھی، جس کی بنیاد مجاہد عامری نے 400 ہجری میں مشرقی اندلس میں فتنۂ اندلس کے دوران رکھی، جو اندلس میں اموی خلافت کے زوال سے پہلے برپا ہوا تھا۔

    64 ملاحظات (↑64 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 64

    1 فرق

    🔍 🗞️
  22. 22

    سکینہ بنت حسین

    سکینہ بنت حسین

    سکینہ بنت حسین (پیدائش: 7 نومبر 676ء 24 ذوالحجہ 56ھ— وفات: 12 نومبر 680ء 13 صفر 61ھ بروز پیر) یا رقیہ بنت حسین امام حسین بن علی کی بیٹی تھیں۔

    64 ملاحظات (↑7 گزشتہ کل)0,35,39,44,46,51,34,41,57, 64

    9 فرق

    🔍 🗞️
  23. 23

    پاکستان

    پاکستان

    پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔

    63 ملاحظات (↓27 گزشتہ کل)80,100,109,63,67,71,86,71,90, 63

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  24. 24

    محمد بن عبد اللہ

    محمد بن عبد اللہ

    ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔

    63 ملاحظات (↓15 گزشتہ کل)58,64,65,68,55,63,49,68,78, 63

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  25. 25

    علی ہجویری

    علی ہجویری

    ابو الحسن علی بن عثمان(پیدائش: نومبر 1009ء– وفات: 25 ستمبر 1072ء) جنھیں علی ہجویری لاہور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو امام حسن ابن علی کی براہ راست اولاد تھے۔ ان کا شجرہ نسب آٹھ پشتوں پر حضرت علی تک جاتا ہے۔ 11ویں صدی کے سنی مسلمان، غزنوی سلطنت کے صوفی، عالم دین اور مبلغ تھے، جو کشف المحجوب کی تالیف کے لیے مشہور ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ علی ہجویری نے اپنی تبلیغ کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اسلام کے پھیلاؤ میں "نمایاں" کردار ادا کیا، ایک مورخ نے انھیں "برصغیر پاک و ہند میں اسلام کو پھیلانے والی اہم ترین شخصیات میں سے ایک" کے طور پر بیان کیا۔

    62 ملاحظات (↑62 گزشتہ کل)0,31,0,0,0,0,0,0,0, 62

    1 فرق

    🔍 🗞️
  26. 26

    بھارت

    بھارت

    بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔

    59 ملاحظات (↑9 گزشتہ کل)35,41,39,50,52,34,33,46,50, 59

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  27. 27

    کاکروچ جنتا پارٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی (انگریزی نام: Cockroach Janta Party، مختصراً CJP بمعنی ”لال بیگ عوامی پارٹی“) بھارت کی طنزیہ سیاسی تحریک ہے جس کی بنیاد 16 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے ڈالی۔ وہ سیاسی ابلاغی تزویر کار ہیں جو اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ یہ تحریک 15 مئی 2026ء کو بھارت کے موجودہ چیف جسٹس سوریا کانت کے اس بیان کے ردِ عمل میں سامنے آئی جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں کو ”کاکروچ“ اور ”سماج کے طفیلیے“ قرار دیا تھا۔ قیام کے چند ہی دنوں میں اس تحریک نے 350،000 سے زائد اندراجات اور انسٹاگرام پر 20 ملین سے زیادہ متابعین حاصل کر لیے۔ اس تحریک نے زمینی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جہاں رضاکار لال بیگ کے بھیس میں احتجاجی مظاہروں اور صفائی مہمات میں شریک ہوئے۔

    58 ملاحظات (↓22 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,51,80, 58

    3 فرق

    🔍 🗞️
  28. 28

    احمد سرہندی

    احمد سرہندی

    شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبد الا حد فاروقی) (پیدائش: 26 جون 1564ء— وفات: 10 دسمبر 1624ء) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے۔ جو مجدد الف ثانی اور قیوم اول سے معروف ہیں۔ آپ کے مشہور خلیفہ سید آدم بنوری ہیں۔

    55 ملاحظات (↑55 گزشتہ کل)30,32,44,0,41,30,0,33,0, 55

    1 فرق

    🔍 🗞️
  29. 29

    جنگ صفین

    جنگ صفین

    جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔

    55 ملاحظات (↑5 گزشتہ کل)40,53,68,44,49,48,40,52,50, 55

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  30. 30

    ہجرت مدینہ

    ہجرت مدینہ

    ہجرت مدینہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے صحابہ کی طرف سے مکہ مکرمہ سے یثرب (جسے اس ہجرت کے بعد مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام دیا گیا) منتقل ہوجانے کے عمل کو کہتے ہیں جو 12ربیع الاول 13نبوی (جو بعد میں پہلا ہجری سال کہلایا)، بمطابق 24 ستمبر 622ء عیسوی بروز جمعہ کو ہوئی، بعد میں اسی دن کی نسبت سے ہجری تقویم کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں نے قمری ہجری تقویم اور شمسی ہجری تقویم دونوں کا آغاز اسی واقعہ کی بنیاد پر کیا۔

    55 ملاحظات (↑55 گزشتہ کل)0,0,63,0,0,0,0,0,0, 55

    1 فرق

    🔍 🗞️
  31. 31

    عثمان بن عفان

    عثمان بن عفان

    ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ ‏سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .

    54 ملاحظات (↓4 گزشتہ کل)152,104,147,145,130,92,64,46,58, 54

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  32. 32

    کوس

    کوس

    کوس (انگریزی: Kos) یونان کا ایک جزیرہ جو جزائر دؤدیکانیز میں واقع ہے۔عثمانی دور میں اس جزیرہ کا نام اِستان کوئے (ترکی: Istanköy) تھا۔

    53 ملاحظات (↑15 گزشتہ کل)68,0,0,40,0,0,40,0,38, 53

    2 فرق

    🔍 🗞️
  33. 33

    اسلام

    اسلام

    اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔

    53 ملاحظات (↑53 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 53

    1 فرق

    🔍 🗞️
  34. 34

    غزوہ بدر

    غزوہ بدر

    بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔

    53 ملاحظات (↑14 گزشتہ کل)57,42,62,45,55,41,33,46,39, 53

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  35. 35

    حسین بن علی

    حسین بن علی

    حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ ‎ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    53 ملاحظات (↓4 گزشتہ کل)75,56,68,49,48,31,33,50,57, 53

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  36. 36

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔

    52 ملاحظات (↓17 گزشتہ کل)47,35,53,54,55,58,46,67,69, 52

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  37. 37

    پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز کی فہرست

    پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز کی فہرست

    یہ پاکستان آرمی میں حاضر سروس جنرلوں کی فہرست ہے۔ اس وقت پاک فوج کے پاس 2 جنرلز ، 29 لیفٹیننٹ جنرلز (بشمول 2 اے ایم سی جنرلز) اور 186 میجر جنرلز (بشمول 42 اے ایم سی جنرلز) ہیں۔

    49 ملاحظات (↑49 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 49

    1 فرق

    🔍 🗞️
  38. 38

    حسن ابن علی

    حسن ابن علی

    حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .

    49 ملاحظات (↓27 گزشتہ کل)45,49,65,41,48,41,56,47,76, 49

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  39. 39

    جیسکا سگس ورتھ

    جیسکا سگس ورتھ

    جیسکا سگس ورتھ (انگریزی: Jessica Sigsworth) ایک ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی ہیں جن کا تعلق مملکت متحدہ سے ہے۔

    49 ملاحظات (↓12 گزشتہ کل)150,53,53,55,33,50,32,42,61, 49

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  40. 40

    ام کلثوم بنت علی

    ام کلثوم بنت علی

    زینبِ صغریٰ المعروف کنیّت ام کلثوم علی بن ابی طالب اور فاطمہ بنت محمد کی چوتھی اولاد اور خلیفہ عمر بن خطاب کی زوجہ تھیں۔

    48 ملاحظات (↓7 گزشتہ کل)0,0,38,51,64,54,49,57,55, 48

    8 فرق

    🔍 🗞️
  41. 41

    محمد اقبال

    محمد اقبال

    ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

    48 ملاحظات (↑3 گزشتہ کل)48,51,53,0,0,49,57,63,45, 48

    5 فرق

    🔍 🗞️
  42. 42

    کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ

    کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ

    کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ (انگریزی: Creative Commons license) عوامی حقوق نشر و اشاعت اجازت ناموں میں سے ایک مشہور سافٹ ویئر اجازت نامہ ہے جسے معروف ویب سائٹس مثلاً ویکیپیڈیا اور فری بیس وغیرہ استعمال کرتی ہیں۔ اس اجازت نامہ کو ایک امریکی غیر منفعت بخش تنظیم کریئیٹیو کامنز نے ترتیب دیا ہے۔

    47 ملاحظات (↑1 گزشتہ کل)31,47,39,60,73,46,0,0,46, 47

    2 فرق

    🔍 🗞️
  43. 43

    سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی

    سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی

    سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی جسے ایرانی پاسداران انقلاب بھی کہا جاتا ہے، ایرانی مسلح افواج کی ایک کلیدی اور کثیر شعبہ جاتی شاخ ہے۔ اسے باضابطہ طور پر مئی 1979ء میں انقلابِ ایران کے بعد روح اللہ خمینی نے ایک عسکری شاخ کے طور پر قائم کیا۔ جہاں ایرانی فوج ملک کی خود مختاری کا روایتی دفاع کرتی ہے، وہیں سپاہ پاسداران کا آئینی فریضہ اسلامی جمہوریہ کی سالمیت کا تحفظ ہے۔ اس ذمہ داری کی اکثر توجیہات کے مطابق اس کا مقصد بیرونی مداخلت کو روکنا، روایتی فوج کی جانب سے ممکنہ بغاوت کو ناکام بنانا اور ان منحرف تحریکوں کو کچلنا ہے جو انقلابِ اسلامی کی نظریاتی میراث کے لیے خطرہ بنیں۔

    45 ملاحظات (↑45 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 45

    1 فرق

    🔍 🗞️
  44. 44

    مختار ثقفی

    مختار ثقفی

    مختار بن ابی عبيد ثقفی (1ھ / 622ء – 67ھ / 686ء ) ایک عسکری قائد تھا جس نے امام حسین بن علی کے قاتلوں سے بدلہ لینے کا دعویٰ کیا اور کوفہ اور اس کے گرد و نواح میں موجود ان کے کئی قاتلوں کو قتل کیا، جن میں عمر بن سعد ، عبید اللہ بن زياد ، حرملہ بن كاہل اور شمر بن ذی الجوشن شامل تھے۔

    44 ملاحظات (↑8 گزشتہ کل)0,48,49,0,0,32,0,0,36, 44

    2 فرق

    🔍 🗞️
  45. 45

    غزوہ خیبر

    غزوہ خیبر

    خیبر کی جنگ (عربی: غَزْوَة خَيْبَر) 628 عیسوی میں ابتدائی مسلمانوں اور خیبر کی یہودی برادری کے درمیان ایک مسلح تصادم تھا۔ خیبر، جو مدینہ منورہ سے تقریباً 150 کلومیٹر (93 میل) شمال مغرب میں واقع ہے، یہودی قبائل کی ایک بڑی برادری کا مسکن تھا۔

    44 ملاحظات (↑4 گزشتہ کل)0,0,87,0,0,0,0,0,40, 44

    2 فرق

    🔍 🗞️
  46. 46

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت میں ہر سال 15 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سنہ 1947 میں اسی تاریخ کو ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد مملکت متحدہ کے استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے قانون آزادی ہند 1947ء کا بل منظور کر کے قانون سازی کا اختیار مجلس دستور ساز کو سونپ دیا تھا۔ یہ آزادی تحریک آزادی ہند کا نتیجہ تھی جس کے تحت انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں پورے ہندوستان میں تحریک عدم تشدد اور سول نافرمانی میں عوام نے حصہ لیا اور اس جدوجہد میں ہر کس و ناکس نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کا واقعہ بھی پیش آیا اور برطانوی ہند کو مذہبی بنیادوں پر دو ڈومینین میں تقسیم کر دیا گیا؛ بھارت ڈومینین اور پاکستان ڈومنین۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں دونوں طرف خطرناک مذہبی فسادات ہوئے جن میں تقریباً 1.5 کروڑ لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے۔ 15 اگست سنہ 1947ی کو بھارت کے وزیر اعظم بھارت جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر بھارت کا نیا پرچم لہرایا۔ اسی دن ہر سال بھارت کا وزیر اعظم بھارتی پرچم لہراتا ہے اور ملک کو خطاب کرتا ہے۔

    44 ملاحظات (↓28 گزشتہ کل)42,36,0,0,39,50,41,69,72, 44

    6 فرق

    🔍 🗞️
  47. 47

    منذر بن یحیی تجیبی

    منذر بن یحیی تجیبی

    منذر بن یحییٰ تجیبی فتنۂ اندلس کے دور میں طائفۂ سرقسطہ کے پہلے حکمران اور ملوک طوائف کے عہد میں اس ریاست کے اولین فرمانروا تھے۔

    43 ملاحظات (↑43 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 43

    1 فرق

    🔍 🗞️
  48. 48

    یہودیت

    یہودیت

    یہودیت وہ مذہب ہے جس میں خدا کی وحدانیت اور بنی اسرائیل کی برتری و عظمت کا یقین رکھنا ضروری ہے۔ یہی دو بنیادیں ہیں جس پر یہودی مذہب قائم ہے۔ یہ مذہب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کی مسلسل اور مرتب تاریخ محفوظ ہے۔ اس مذہب کو عالمگیر مذہب کہنا مشکل ہے کیونکہ دنیا کے ہر ایک گوشے میں ہونے کے باوجود اس مذہب میں غیر اسرائیلوں کے داخلے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے اور انھیں بہت مشکل مراحل سے گزار کر ہی یہودیت کے دائرے میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہودیوں کو بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ اسلامی مقدس کتاب قرآن میں بھی ان کے لیے یہی لفظ بکثرت استعمال ہوا ہے۔ اصل میں بنی اسرائیل کے معنی ہیں اسرائیل کی اولاد اور نبی یعقوب کا لقب ہے۔

    43 ملاحظات (↑43 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 43

    1 فرق

    🔍 🗞️
  49. 49

    درود ابراہیمی

    درود ابراہیمی

    درودِ ابراہیمی مع اردو ترجمہ

    42 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل)0,30,48,0,0,0,0,0,0, 42

    1 فرق

    🔍 🗞️
  50. 50

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔

    42 ملاحظات (↓3 گزشتہ کل)42,34,53,37,31,0,41,39,45, 42

    4 فرق

    🔍 🗞️
  51. 51

    سلمان فارسی

    سلمان فارسی

    سلمان فارسی (53ق.ھ / 35ھ) صحابی رسول تھے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ کا تعلق فارس (ایران ) سے تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایران کے مشہور شہر اصفہان کے ایک گائوں روزبہ میں پیدا ہوئے۔ اسلام لانے سے قبل آپ ؓ کا نام مابہ تھا۔ آپ ؓ کے والد کا نام بوذخشان تھا۔ آپ ؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے زرتشت مذہب ( مجوسی) کے پیروکار تھے، لیکن حق کی تلاش میں فارس سے نکلے، اپنا آبائی مذہب مجوسیت چھوڑ کر مسیحیت اختیار کی اور بالآخر نبی اکرم ؐ کی بارگاہ میں پہنچ کر اسلام قبول کر لیا۔ حضرت سلمان فارسی ؓ کی زندگی حق کی تلاش اور جستجو سے عبارت تھی۔ آپ کے قبول اسلام کا واقعہ بھی بہت دلچسپ اور اثر انگیز ہے۔ آپ کا تعلق مجوسیت سے تھا لیکن آپ کے دل میں ایک چنگاری روشن تھی جو انھیں بے چین رکھتی تھی اور وہ سوچتے تھے کہ یہ آگ جسے ہم خود روشن کرتے ہیں یہ ہمارا خدا تو کبھی نہیں ہو سکتی۔ آپ کے والد بوذخشان ایک بڑے آتش کدے کے مہتمم بھی تھے۔ ایک دن انھوں نے حضرت سلمان سے کہا کہ آج میں کھیتوں میں نہیں جا سکوں گا اس لیے آج کھیتوں کی دیکھ بھال تمھارے ذمے ہے۔ حضرت سلمان ؓ نے ہامی بھر لی اور کھیتوں کی طرف چل دیے، راستے میں مسیحیوں کا ایک گرجا نظر آیا۔ آپ وہاں چلے گئے، ان کی عبادت کے طریقے سے بہت متاثر ہوئے اور اسی دن اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر مسیحیت اختیار کرلی۔ ان کے والد کو جب اس بات کا علم ہوا تو انھیں گھر میں قید کر لیا اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پائوں میں بیڑیاں ڈال دیں، لیکن آپ کسی نہ کسی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک قافلے کے ساتھ شامل ہوکر شام پہنچ گئے۔ لیکن حق کی تلاش کا یہ سفر یہیں نہیں رکھا، آپ ؓ حق کی تلاش میں قریہ قریہ، ملکوں ملکوں بھٹکتے رہے، شام سے موصل(عراق)، وہاں سے نصیبین (ترکی) اور پھر عموریہ پہنچے۔ عموریہ پہنچ کر آپؓ وہاں کے بڑے پادری کی خدمت میں رہنے لگے۔ اس پادری کا جب وقتِ اجل آیا تو اس نے حضرت سلمان ؓ کو بلا یا کہا کہ ’’ میرے بیٹے! اب میں اس دنیا سے رخصت ہوتا ہوں۔ اب نبی آخرالزمان کے ظہور کا وقت قریب آ پہنچا ہے، جو صحرائے عرب سے اٹھ کر دینِ حنیف کو زندہ کرے گا اور اس زمین کی طرف ہجرت کرے گا جہاں کھجوروں کی کثرت ہوگی۔ اس کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔ وہ ہدیہ قبول کرے گا لیکن صدقہ کو اپنے لیے حرام سمجھے گا۔ تم جب اس نبی پاک کا زمانہ پائو تو اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا۔ ‘‘ اس مردِ درویش کے انتقال کے بعد حضرت سلمان اسی جستجو میں رہنے لگے کہ کوئی قافلہ حجاز کی طرف جا رہا ہو تو اس میں شامل ہو جائیں۔ آپؓ کی جستجو رنگ لائی اور قبیلہ بنو کلب کا ایک قافلہ عموریہ سے گذرا۔ آپ اس قافلے میں شامل ہو گئے لیکن راستے میں قافلے والوں کی نیت خراب ہو گئی او رجب یہ قافلہ وادی القریٰ پہنچا تو انھوں نے حضرت سلمانؓ کو یہودیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ آپ نے اس کو اپنی قسمت سمجھ لیا لیکن اس کے باجود تلاشِ حق کی جو چنگاری آپ کے سینے میں روشن تھی، وہ موجود رہی۔ ایک دن اس یہودی کا یک رشتہ دار جو یثرب( مدینہ) کا رہنے والا تھا، وہ اس سے ملنے آیا۔ اس کو ایک غلام کی ضرورت تھی۔ اس نے حضرت سلمان ؓ کے مالک سے انھیں خرید لیا اور یثرب لے آیا۔ یہاں جب آپ ؓ نے کھجور کے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو آپ سمجھ گئے کہ اب تلاش ختم ہونے والی ہے۔ ایک دن آپ ایک درخت پر چڑھے کام کر رہے تھے کہ ایک یہودی شہر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ ایک دن آپ ایک درخت پر چڑھے کام کر رہے تھے کہ ایک یہودی شہر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا’’ خدا بنو قیلہ کو غارت کرے، سب کے سب قبا میں ایک شخص کے پاس جا رہے ہیں جو مکہ سے آیا ہے اور خود کو نبی کہتا ہے۔ ‘‘ یہ سنتے ہیں حضرت سلمان ؓ بد حواس ہوکر درخت سے اتر آئے اور اس شخص سے کہنے لگے کہ ’’ کیا کہا تم نے؟ ذرا پھر سے تو کہنا۔ ‘‘ ان کا آقا بہت غصہ ہوا اور ان ایک تھپڑ ما ر کر کہا کہ تم جاکر اپنا کام کرو۔ حضرت سلمان اس وقت تو خاموش ہو گئے لیکن ایک دن آپ ؓ کچھ کھانے کی چیزیں لے کر پیارے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ چیزیں صدقہ کے طور پر پیارے نبی ﷺ کو پیش کر دیں۔ پیارے نبی ﷺ نے وہ چیزیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں لیکن خود کچھ نہ لیا۔ اگلے دن دوبارہ کچھ چیزیں لے حاضر ہو گئے اور اب انھوں کھانے پینے کی چیزیں بطور ہدیہ پیارے نبی کی خدمت میں پیش کر دیں۔ پیارے نبی ؐ نے خود میں وہ چیزیں کھائیں اور صحابہ ؓ میں بھی تقسیم کر دیں۔ حضرت سلمان ؓ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیوں کہ آخری نبی کی بتائی دو نشانیاں تو پوری ہوگئیں تھیں اب آخری نشانی یعنی مہر نبوت کو دیکھنا رہ گیا تھا۔ چند دنوں بعد آپؓ کو پتا چلا کہ نبی اکرم ﷺ ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد تشریف لے گئے ہیں۔ حضرت سلمان ؓ بھی وہاں پہنچ گئے اور پیارے نبی ﷺ کو سلام کرکے آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے کہ موقع ملے تو مہر نبوت کا مشاہدہ کرلوں۔ پیارے نبی ؐ نے آپ ؓ کی کیفیت کو بھانپ لیا اور اپنی پشت سے کپڑا سرکا دیا۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے کانپتے ہونٹوں سے مہر نبوت کو بوسہ دیا اور کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ ایمان قبول کرنے کے بعد نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر رہنے لگے۔ پیارے نبی ؐ نے آپؓ کو یہودی کی غلامی سے نجات دلائی۔ اس کے بعد تو آپؓ سفر و حضر میں پیارے نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ آپ ؓ بہت جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم ؐ نے غزوہ احزاب ( جنگ خندق) میں آپ ؓ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے خندق کھودی اور دفاعی جنگ لڑی۔ جنگ خندق کے موقع پر جب خندق کھودی جا رہی تھی، مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں بحث چھِڑ گئی کہ سلمان ؓ کون ہیں۔ مہاجرین کہتے تھے کہ سلمان ہم میں سے ہیں جب کہ انصار کا کہنا تھا کہ سلمان میں سے ہیں۔ اسی دوران پیارے نبی ؐ تشریف لے آئے۔ آپ ؓ کو جب ساری بات کا علم ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ سلمان میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ آپؓہر وقت عشق نبی میں غرق رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں جہاد کا بھی بہت شوق تھا۔ ان کے عشق رسول اور شوق جہاد کو دیکھ کر پیارے نبی ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جنت تین آدمیوں کا اشتیاق رکھتی ہے۔ علی ؓ، عمارؓ اور سلمان ؓ کا۔ ایک موقع پر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ سلمان علم سے لبریز ہے۔ آپ ؓ بہت قناعت پسند، درویش صفت انسان تھے۔ دنیا داری سے دور بھاگتے تھے۔ حضرت عمر بن ؓخطاب نے ان کو مدائن کا گورنر مقرر کیا۔ اس کی جو تنخواہ ملتی وہ غریبوں، مسکینوں میں تقسیم کردیتے اور خود چٹائی بُن کر کماتے، اس کا بھی ایک تہائی خیرات کردیتے تھے۔ سفر ہمیشہ بغیر زین کے گدھے پر سوا ہوکر کرتے۔ ایک دفعہ اسی طرح آپؓ گدھے پر بغیر زین کے سفر کر رہے تھے اور پیوند لگا کرتا پہنا ہوا تھا۔ ایک شخص نے ان سے پوچھ لیا کہ ’’ اے امیر !

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,32,31,0, 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  52. 52

    صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

    صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

    صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اسلامی مختصر دعا ہے، جو مسلمانوں کے نبی محمّد صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ پر ان کے نام کے ساتھ ان کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچنے کے لیے الله سے کی جاتی ہے۔‌ اس دعا کو درود کہا جاتا ہے اور اس کو لازمی طور پر نام محمد کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔‌

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  53. 53

    یزید بن معاویہ

    یزید بن معاویہ

    یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)49,50,78,49,42,0,0,36,0, 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  54. 54

    یوسف (اسلام)

    یوسف (اسلام)

    یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔

    40 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل)0,39,43,0,35,0,0,35,0, 40

    1 فرق

    🔍 🗞️
  55. 55

    جنگ جمل

    جنگ جمل

    جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔

    40 ملاحظات (↓6 گزشتہ کل)44,54,67,50,33,0,0,46,46, 40

    3 فرق

    🔍 🗞️
  56. 56

    لنکا پریمیئر لیگ 2024ء

    لنکا پریمیئر لیگ 2024ء

    لنکا پریمیئر لیگ 2024 ء جسے 'ایل پی ایل 5' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سری لنکا میں ہونے والے ٹوئنٹی 20 فرنچائز کرکٹ ٹورنامنٹ لنکا پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) کا پانچواں ایڈیشن تھا۔ لیگ کا اہتمام سری لنکا کرکٹ نے کیا تھا۔ ٹورنامنٹ 1 جولائی کو شروع ہوا اور فائنل 21 جولائی 2024 ءکو کھیلا گیا۔ پانچ فرنچائز ٹیموں نے ڈبل راؤنڈ رابن لیگ میں حصہ لیا جس کے بعد پلے آف ہوئے۔ کینڈی فالکنز جو پہلے بی-لو کینڈی کے نام سے جانا جاتا تھا، دفاعی چیمپئن تھے۔

    39 ملاحظات (↑39 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 39

    1 فرق

    🔍 🗞️
  57. 57

    بہاؤ (ناول)

    بہاؤ (ناول)

    بہاؤ ، پاکستان سے شائع ہونے والا اردو ناول ہے جسے اردو کے مشہور و معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ نے تحریر کیا ہے۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  58. 58

    اردو

    اردو

    اُردُو، برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔

    38 ملاحظات (↓16 گزشتہ کل)43,46,40,38,35,46,37,53,54, 38

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  59. 59

    معین الدین چشتی

    معین الدین چشتی

    سُلطان الہند خواجہ سیّد معین الدین چشتی (1142ء-1236ء) فارسی نژاد روحانی پیشوا ، واعظ، عالم، فلسفی، صوفی اور زاہد نیز اجمیری سلسلۂ چشتیہ کے مشہور بزرگ تھے۔ ان کا آبائی وطن سیستان تھا۔ 13ویں صدی کے اوائل میں انھوں نے برصغیر کا سفر کیا اور یہیں بس گئے اور تصوف کے مشہور سلسلہ چشتیہ کو خوب فروغ بخشا۔ تصوف کا یہ سلسلہ قرون وسطی کے ہندوستان میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس طریقت کو کئی سنی اولیا نے اپنایا جن میں نظام الدین محمداولیاء (وفات: 1325) اور امیر خسرو (وفات: 1325) جیسی عظیم الشان شخصیات بھی شامل ہیں۔ معین الدین چشتی کو برصغیر کا سب سے بڑا ولی اور صوفی سمجھا جاتا ہے۔ خواجہ غریب نواز وہ پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے غیر عرب مسلمانوں کو سماع کی طرف راغب کیا اور تقرب الہی کی غرض سے حالت وجد میں سماع کی اجازت دی تاکہ نو مسلموں کو اجنبیت کا احساس نہ ہو اور بھجن اور گیت کے عادی قوالی اور سماع کے ذریعے اللہ سے تقرب حاصل کریں۔ حالانکہ بعض علما کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ صد فیصد درست نہیں تھا کیونکہ انھی کے سلسلہ کے بزرگ نظام الدین اولیاء نے تمام قسم کے آلات موسیقی کو حرام قرار دے دیا تھا۔ معین الدین چشتی کی ابتدائی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں البتہ جب انھوں نے ہندوستان کا سفر کیا تو اس وقت وسط ایشیا میں منگولوں کا قہر برپا تھا لہذا یہ ممکن ہے کہ معین الدین چشتی نے ان سے بچنے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا ہو۔ انھوں نے سلطان التتمش (وفات: 1236ء) نے زمانہ میں دہلی میں قدم رکھا مگر بہت مختصر مدت کے بعد اجمیر تشریف لے گئے۔ اسی مقام پر وہ اہل سنت کے حنبلی مسلک کے عالم اور اہل باطن خواجہ عبد اللہ انصاری (وفات: 1088ء) کی تحریروں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ خواجہ عبد اللہ کی اسلاف صوفیا کی حیات و حالات پر مشہور کتاب طبقات الاولیاء کا خواجہ معین الدین چشتی کی شخصیت اور ان کے ظاہر و باطن کو سنوارنے میں اہم کردار رہا۔ اس کتاب نے انھیں دنیا کو دیکھنے کا نیا نظریہ دیا۔ اسی زمانہ میں وہ اجمیر میں صاحت کرامت بزرگ کے طور پر مشہور ہونے لگے۔ وہ بیک وقت معلم، واعظ، مبلغ، روحانی پیشوا اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ خواجہ معین الدین چشتی اپنی تمام خصوصیات کی بنا پر ہندوستان اور برصغیر کے سب سے بڑے صوفی اور بزرگ کی حیثیت سے جانے لگے۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  60. 60

    عمران خان

    عمران خان

    عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  61. 61

    خدیجہ بنت خویلد

    خدیجہ بنت خویلد

    خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل)0,40,37,0,0,0,0,0,0, 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  62. 62

    آدم (اسلام)

    آدم (اسلام)

    حضرت آدم علیہ السلام ، اللہ کے اولین پیغمبر ہیں۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب ۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اس رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے : اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔ اس لیے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے (روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) ۔ اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کے لیے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبرائیل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کیے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمۃ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔ اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔ مجاہد بن جبیر نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نام سکھائے ۔ مجاہد نے مزید کہا:ہر جانور ، پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔ سعید بن جبیر ، قتادہ بن دعامہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم!

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,31,0, 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  63. 63

    اسلام آباد

    اسلام آباد

    اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل)97,134,217,130,50,37,32,0,0, 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  64. 64

    صلاح الدین ایوبی

    صلاح الدین ایوبی

    الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب‎; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی‏) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

    36 ملاحظات (↓5 گزشتہ کل)30,34,0,45,0,33,0,0,41, 36

    2 فرق

    🔍 🗞️
  65. 65

    خان عبد الغفار خان

    خان عبد الغفار خان

    خان عبد الغفار خان یا باچا خان پشتونوں کے سیاسی راہنما کے طور پر مشہور شخصیت ہیں، جنھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کیا۔ خان عبد الغفار خان زندگی بھر عدم تشدد کے حامی رہے اور مہاتما گاندھی کے بڑے مداحوں میں سے ایک تھے۔ آپ کے مداحوں میں آپ کو باچا خان اور سرحدی گاندھی کے طور پر پکارا جاتا ہے۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  66. 66

    معاویہ بن ابی سفیان

    معاویہ بن ابی سفیان

    معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔

    35 ملاحظات (↓4 گزشتہ کل)40,33,52,37,35,0,0,31,39, 35

    3 فرق

    🔍 🗞️
  67. 67

    ریاستہائے متحدہ

    ریاستہائے متحدہ

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل)0,0,0,0,32,0,30,32,0, 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  68. 68

    اولاد محمد

    اولاد محمد

    عام نظریہ یہ ہے کہ اسلامی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین بیٹے تھے جن کا نام عبد اللہ، ابراہیم اور قاسم تھا اور چار بیٹیاں جن کا نام فاطمہ زہرا ، رقیہ ، ام کلثوم اور زینب تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پہلی بیوی خدیجہ بنت خویلد سے پیدا ہوئے تھے، سوائے ان کے بیٹے ابراہیم کے، جو ماریہ القبطیہ سے پیدا ہوئے تھے۔ محمد کے بیٹے میں سے کوئی بھی بالغ نہیں ہوا، لیکن ان کا ایک بالغ رضاعی بیٹا، زید بن حارثہ تھا۔ ان کی تمام بیٹیاں جوانی کو پہنچیں۔ کچھ شیعہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فاطمہ بنت محمد ان کی اکلوتی حیاتیاتی بیٹی تھیں۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  69. 69

    بی بی پاکدامن

    بی بی پاکدامن

    بی بی پاکدامن لاہور میں واقع ایک مزار کو کہا جاتا ہے جو رقیہ بنت علی کا ہے۔ اس مزار کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اہل بیت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی چھ خواتین کے مزارات یہاں واقع ہیں۔ رقیہ بنت علی ابن ابی طالب چوتھے خلیفہ حضرت علی ان ابو طالب کی بیٹی ہیں۔ آپ حضرت عباس ابن علی کی سگی بہن ہیں اور حضرت مسلم بن عقیل کی زوجہ ہیں۔ دوسری خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسلم بن عقیل کی بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خواتین سانحہ کربلا کے بعد یہاں تشریف لائیں۔ (بتاریخ 10 اکتوبر 680ء کے بعد)۔ بہر حال ان کی بدولت اس مقام پر لاہور کی پہلی مسجد بھی قائم ہوئی۔ بعض علما کے خیال میں رقیہ دراصل سید احمد توختہ (بارہویں صدی عیسوی کے ایک زاہد) کی بیٹی تھیں۔ بی بی پاکدامن گڑھی شاہو اور ریلوے اسٹیشن کے درمیانی علاقہ میں واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کا سب سے آسان راستہ ایمپریس روڈ کی جانب سے ہے جو پولیس لائنز کے بالمقابل ایک چھوٹی سڑک کے بائیں جانب واقع ہے۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,33,55,0,0, 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  70. 70

    اردو حروف تہجی

    اردو حروف تہجی

    اردو زبان میں سینتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل)0,40,0,0,0,0,0,0,0, 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  71. 71

    ذو القرنین

    ذو القرنین

    ذوالقرنین ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جن کا ذکر قرآن پاک میں ایک عادل بادشاہ اور اللہ کے نیک بندے کے طور پر آیا ہے۔ انھوں نے ایک ایسی دیوار (بند) تعمیر کی تھی جس کے ذریعے انھوں نے ایک قوم کو یاجوج اور ماجوج کے شر سے محفوظ رکھا تھا۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  72. 72

    نوح (اسلام)

    نوح (اسلام)

    مکمل

    33 ملاحظات (↓6 گزشتہ کل)36,0,0,0,34,0,0,0,39, 33

    2 فرق

    🔍 🗞️
  73. 73

    بابا فرید الدین گنج شکر

    بابا فرید الدین گنج شکر

    فرید الدین مسعود گنج شکر بارہویں صدی کے مسلمان مبلغ اور صوفی بزرگ تھے۔ ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیا میں سے ایک کہا گیا ہے۔ ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے ہے اور آپ اہل سنت حنفی بزرگ گذرے ہیں۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  74. 74

    ہارون

    ہارون

    ہارون ایک نبی، ایک اعلیٰ کاہن اور موسیٰ کے بڑے بھائی تھے۔ ہارون کے بارے میں معلومات صرف مذہبی متون، جیسے کہ عبرانی بائبل، نئے عہد نامہ (لیوک، اعمال اور عبرانیوں)اور قرآن مجید، سے ملتی ہیں۔ عبرانی بائبل بیان کرتی ہے کہ موسیٰ کے برعکس، جو مصری شاہی دربار میں پلے بڑھے، ہارون اور اس کی بڑی بہن مریم دریائے نیل کے شمال مشرقی علاقے میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہے۔ جب موسیٰ نے پہلی بار مصری بادشاہ سے بنی اسرائیل کی غلامی کے بارے میں سامنا کیا، ہارون نے فرعون کے لیے اپنے بھائی کے ترجمان کے طور پر کام کیا۔ سینا میں موسیٰ کو دیے گئے قانون کے ایک حصے نے ہارون کو اپنے اور اس کی مرد اولاد کے لیے کہانت عطا کی اور وہ بنی اسرائیل کا پہلا اعلیٰ کاہن بن گیا۔ لیویٹیکل پادریوں یا کوہانیم کو روایتی طور پر مانا جاتا ہے اور ان کے لیے ہارون سے براہ راست پٹریلینی نسل کا ہونا ضروری ہے۔ نمبروں کی کتاب کے مطابق، ہارون کی موت 123 سال کی عمر میں، کوہ ہور پر، بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے چالیسویں سال میں ہوئی۔ استثناء، تاہم، ان واقعات کو Moseroth پر رکھتا ہے.

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  75. 75

    حوثی

    حوثی

    تحریک انصار اللہ یا حوثی جماعت یمن کے زیدی شیعوں (جن کے نظریات شیعہ کی نسبت اہل سنت کے قریب ہیں۔) کی ایک تحریک ہے، جو دين و سياست دونوں ميں حزب اللہ کے نقش قدم پر چلتی ہے، جبکہ ان کے کچھ افکار رافضیوں سے بھی ملتے ہیں۔

    32 ملاحظات (↓38 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,30,70, 32

    3 فرق

    🔍 🗞️
  76. 76

    سلطنت عثمانیہ

    سلطنت عثمانیہ

    سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیه عثمانیه"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,29,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  77. 77

    ابولولو فیروز

    ابولولو فیروز

    پیروز نهاوندی یا فیروز جسے ابولؤلؤ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کا اصل تاریخی تعارف خلیفہ دوم عمر بن خطاب کو شہید کرنے کا ہے۔ وہ نہاوند شہر کا ایک مشہور اور ماہر ترین بڑھئی تھا۔ اس نے خلیفہ دوم کو شہید کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ پیروز نهاوندی یا فیروز جسے ابولؤلؤ اور باباشجاع الدین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے رستم فرخ زاد کی زیر کمان ایرانی مجوسی فوج کا سپاہی تھا اور جنگ قادسیہ (نہاوند) میں ساسانی فوج کی شکست کے بعد غلام کے طور پر مدینہ لایا گیا- سن 23 ہجری میں مسجد نبوی میں دوران نماز اس نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا- سیدنا فاروق اعظم کی شہادت کے بعد اسے قصاص میں قتل کیا گیا- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔اس کے بارے میں آتا ہے کہ ایک عمدہ لوہار اور بڑھئی تھا- اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق نہاوند سے تھا- فیروز مجوسی کا مزار قم سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر کاشان - فنس روڈ پر واقع ہے- یہ گیارہویں صدی کے شاہانہ انداز میں تعمیر کی گئی عمارت ہے جو مرکزی ہال، صحن اور نیلے کلر کی ایرانی ٹائلوں سے مزین مخروطی گنبد پر مشتمل ہے- اس کی درست تاریخ بنیاد تو نہیں معلوم مگر چودھویں صدی کے آخری نصف میں اسے پوری طرح بحال کر دیا گیا تھا اور اس پر نیا لوح تربت لگایا گیا تھا- شیعہ اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کرنے کے عوض بابا شجاع الدین (دین کا بہادر سپوت) کا اعزاز دیتے ہیں- حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا دن آج بھی ایران کے دور دراز کے قصبات میں فیروز نہاوندی کی عظمت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو کچھ سال پہلے تک تمام شہروں میں جشن عمر کشی کے نام سے منایا جاتا تھا جو عرب ممالک کے احتجاج پر حکام نے بند کروادیا.

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  78. 78

    ابو حنیفہ

    ابو حنیفہ

    نعمان ابن ثابت بن زوطا بن مرزبان (پیدائش: 5 ستمبر 699ء– وفات: 14 جون 767ء) (فارسی: ابوحنیفه،عربی: نعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان)، آپ کے دادا زوطی کا کوفہ میں خلیفہ راشد سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے قریبی تعلق تھا۔ عام طور پر آپکو امام ابو حنیفہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ سنی حنفی فقہ (اسلامی فقہ) کے بانی تھے۔ آپ ایک تابعی، مسلمان عالم دین، مجتہد، فقیہ اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ زیدی شیعہ مسلمانوں کی طرف سے بھی آپ کو ایک معروف اسلامی عالم دین اور شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں عام طور پر "امام اعظم" کہا جاتا ہے۔ مشہور اقوال : جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے (رد المختار حاشیہ از در مختار جلد 1 صفحہ 68) وروي عن أمام أبِي يوسف أنه قال سمعت أمام أبا حنيفة يقول: سيّدنا عليُّ بن ابي طالب كرم اللّٰه وجهه حُجَّتُنا عند اللّٰه يوم القيامة ولولا علي ما عَلِمنا كيف قتالُ أهلِ البغي أو كيف نقاتل أهلَ قبلة. امام اعظم ابو حنیفہ کے خاص شاگرد امام ابو یوسف بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے ہم سے فرمایا قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارا وسیلہ حضرت علی ہیں اور اگر حضرت علی نہ ہوتے تو ہمیں معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ اہل قبلہ باغیوں سے جنگ کیسے کی جاتی ہے .

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)35,31,0,0,34,0,30,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  79. 79

    ابو سفیان بن حرب

    ابو سفیان بن حرب

    حضرت ابو سفیان بن حرب بن امیہ رضي الله عنه (ت 560ء—653ء) صحابی رسول تھے۔ ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف تھے اور بعد میں، فتح مکہ کے دوران انھوں نے اسلام قبول کیا اور اسلام کے مددگار بن گئے۔قبولِ اسلام کے بعد حضرت ابو سفیان سب سے اول غزوۂ حنین میں شریک ہوئے، آنحضرتﷺ نے حنین کے مالِ غنیمت سے انھیں سو اونٹ مرحمت فرمائے، حنین کے بعد طائف کے محاصرہ میں شرکت کی۔ حضرت عمرؓ فاروق کے عہدِ خلافت میں جنگ یرموک میں شام کی فوج کشی میں اپنے پورے کنبہ کو لے کر شریک ہوئے، خود ان کے بیٹے اور ان کی بیوی سب شریک تھے، یرموک کی جنگ میں انھوں نے بڑا نمایاں حصہ لیا۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  80. 80

    حجاج بن یوسف

    حجاج بن یوسف

    ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی۔ طائف میں پیدا ہوا وہیں اس کی پرورش ہوئی، حجاج بن یوسف طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اس نے اپنے باپ سے حاصل کی۔ جو ایک مدرس تھا۔ حجاج بچپن سے ہی اپنے ہم جماعتوں پر حکومت کرنے کا عادی تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر اس نے اپنے باپ کے ساتھ ہی تدریس کا پیشہ اختیار کیا لیکن وہ اس پیشے پر قطعی مطمئن نہ تھا اور کسی نہ کسی طرح حکمران بننے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ بالاخر وہ طائف چھوڑ کر دمشق پہنچا اور کسی نہ کسی طرح عبدالملک بن مروان کے وزیر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وزیر نے جلدی ہی اس کی انتظامی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اسے ترقی دے کر اپنی جاگیر کا منتظم مقرر کر دیا۔ ایک چیز جس کی وزیر کو ہمیشہ شکایت رہتی تھی اس کی سخت گیری تھی لیکن اس سخت گیری کی وجہ سے وزیر کی جاگیر کا انتظام بہتر ہو گیا تھا۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,30,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  81. 81

    سیکس میڈنس

    سیکس میڈنس

    سیکس میڈنس (انگریزی: Sex Madness) 1938ء میں منظر عام پر آنے والی ایک جنسی استحصال فلم اور ڈراما فلم ہے، جس کی ہدایت کاری Dwain Esper نے کی۔ اس فلم میں روز ٹیپلی نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Dwain Esper نے فلم سازی کی۔

    31 ملاحظات (↓12 گزشتہ کل)0,51,0,0,0,0,0,30,43, 31

    3 فرق

    🔍 🗞️
  82. 82

    سعد بن ابی وقاص

    سعد بن ابی وقاص

    سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فاتح ایران کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ننھیالی خاندان ہے اس لیے آپ رشتے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حمزہ بن عبدالمطلب کی والدہ آپ کی سگی پھوپھی تھیں۔ ہجرت مدینہ سے 30 برس پہلے پیدا ہوئے۔ نزول وحی کے ساتویں روز ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ترغیب دلانے پر مشرف با اسلام ہوئے۔ اور عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ خصوصی کے فرائض انجام دیے۔ ، : آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے اور خاندان قریش کے ایک بہت ہی نامور شخص ہيں جو مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔ یہ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں جبکہ ابھی ان کی عمر سترہ برس کی تھی دامن اسلام میں آگئے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ تمام معرکوں میں حاضر رہے۔ یہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کفار پر تیر چلا یا ہم لوگوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہ کر اس حال میں جہاد کیا کہ ہم لوگوں کے پاس سوائے ببول کے پتوں اور ببول کی پھلیوں کے کوئی کھانے کی چیز نہ تھی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے خاص طور پر ان کے لیے یہ دعا فرمائی: ”اَللّٰھُمَّ سَدِّدْ سَھْمَہٗ وَاَجِبْ دَعْوَتَہٗ ” (اے اللہ! عزوجل ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اور ان کی دعا کو مقبول فرما) خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی یہ فارس اور روم کے جہادوں میں سپہ سالار رہے امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا پھر اس عہدہ سے معزول کر دیا اور یہ برابر جہادوں میں کفار سے کبھی سپاہی بن کر اور کبھی اسلامی لشکر کے سپہ سالار بن کر لڑتے رہے۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر المؤمنین ہوئے تو انھوں نے دوبارہ انھیں کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ یہ مدینہ منورہ کے قریب مقام ”عقیق ”میں اپنا ایک گھر بنا کر اس میں رہتے تھے اور 55ھ میں جبکہ ان کی عمر شریف 75 پچھتّر برس کی تھی اسی مکان کے اندر وفات پائی۔ آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں میرا اون کا وہ پراناجبہ ضرور پہنایا جائے جس کو پہن کر میں نے جنگ بدرمیں کفار سے جہاد کیا تھا چنانچہ وہ جبہ آپ کے کفن میں شامل کیا گیا۔ لوگ فرط عقیدت سے آپ کے جنازے کو کندھوں پر اٹھا کر مقام ”عقیق” سے مدینہ منورہ لائے اور حاکم مدینہ مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کی قبر منور بنائی۔ .

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,36,40,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  83. 83

    اصحاب کہف

    اصحاب کہف

    اصحاب کہف وہ لوگ تھے جن کا ذکر قرآن پاک کی اٹھارویں سورہ کہف میں غار میں عرصۂ دراز تک سونے کا بھی آیا ہے۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  84. 84

    قرآنی سورتوں کی فہرست

    قرآنی سورتوں کی فہرست

    سورۃ، سورت یا سورہ عربی زبان کا لفظ ہے، قرآن مجید میں 114 سورتیں ہیں۔ ہر سورۃ آیات پر مشتمل ہوتی ہے۔ سورتوں کو مکی اور مدنی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مکی سورتیں وہ ہیں جو مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے مکہ شہر میں نازل ہوئیں ان کی تعداد 86 ہے۔ مکی دور کی سورتوں کا تعلق قیامت، جزا، یہودیت اور عیسائیت جیسے موضوعات پر ہے۔ مدنی سورتیں وہ ہیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ان سورتوں کی تعداد 28 ہے۔ مدنی دور کی سورتیں ذاتی معاملات، معاشرے اور ریاست کے قوانین پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ قرآن مجید کی نویں سورت سورہ توبہ کے علاوہ ہر سورت بسم اللہ الرحمن الرحیم (" اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے " ) سے شروع ہوتی ہے۔ انتیس سورتیں حروف مقطعات یعنی انوکھے حروف کے مجموعے وہ ہیں جن کے معانی نامعلوم ہیں سے شروع ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کی پہلی سورت سورہ فاتحہ ہے۔ علمائے شرعی نے قرآن کی سورتوں کو ان کی لمبائی کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، یعنی سات لمبی سورتیں البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف اور التوبہ۔ المئون جو سات لمبے دن ہیں اس کو اس لیے کہا گیا کہ اس کی ہر سورت سو آیات سے زیادہ یا اس کے قریب ہے۔ پہلے دور کے مسلمانوں نے قرآن کی سورتوں کے نام استعمال کی تعدد کے مطابق رکھے تھے، یہ بات مشہور ہے کہ عربوں نے بہت سے ناموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نام کسی نادر یا عجیب چیز سے لیے ہیں جس کی کوئی خصوصیت یا اہمیت ہو۔ جیساکہ اسی مناسبت سے قرآن کی سورتوں کے نام دیے گئے جیسے سورۃ البقرہ میں گائے کے قصے کے ذکر کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا اور سورۃ النساء کو عورتوں کے متعلق بہت سے احکام مذکور ہونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔ سورۃ الانعام کو اس کے حالات کی تفصیل کی وجہ سے کہا گیا ہے اور سورۃ الاخلاص بھی خالص توحید وجہ سے کہی گئی ہے۔ قرآن کی پہلی سورت سورہ فاتحہ ہے، لمبی سورتیں قرآن کے شروع میں اور چھوٹی سورتیں آخر میں جمع کی گئی ہیں، اس لیے سورتوں کی ترتیب ان کی تاریخ کے مطابق نہیں ہے۔ تمام سورتیں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع ہوتی ہیں۔ سورۃ التوبہ جو جنگ کے دوران میں نازل ہوئی تھی اس لیے اس سورت میں بسم اللہ شروع میں نہیں پڑھی جاتی۔ یہ سورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مشرکین کے درمیان عہد کو توڑنے کے لیے نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے علی ابن ابی طالب کے پاس بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پڑھ کر سنایا اور اس پر بسم اللہ نہیں کہی جیسا کہ عربوں کا رواج تھا۔ لیکن اس کے باوجود قرآن میں بسم اللہ کی تعداد 114 تک پہنچ جاتی ہے جو سورتوں کی تعداد کے برابر ہے۔ بسم اللہ سورۃ النمل کی آیت نمبر 30 میں جیسا کہ نبی اور بادشاہ سلیمان شیبہ کی ملکہ بلقیس کو اپنے خطوط شروع کرتے تھے۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,32,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  85. 85

    ایران جنگ 2026ء

    ایران جنگ 2026ء

    28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    31 ملاحظات (↓635 گزشتہ کل)0,29,37,46,4162,3927,3816,5552,666, 31

    9 فرق

    🔍 🗞️
  86. 86

    حذیفہ بن یمان

    حذیفہ بن یمان

    حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (20ق.ھ / 36ھ) کی کنیت عبد اللہ ہے آپ کا مکمل نام ”حذیفہ بن حسل بن جابر“ ہے، ان کے والد کا اصل نام ”حسل“ تھا لیکن وہ ”یمان“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔اس لقب پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان کے والد ”حسل“ انصار کے ایک قبیلہ ”بنو اشہل“ کے حلیف بنے اور وہ قبیلہ چونکہ ملکِ یمن میں رہتا تھا ، لہٰذا اسی کی طرف نسبت کرتے ہوئے انھیں”یمان“ کا لقب دیا گیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد اور والدہ دونوں صحابہ میں سے تھے۔ ان کے والد ”یمان“ کی شہادت غزوہ احد میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئی۔ وہ اس طرح کہ حضرت حذیفہ اور ان کے والد دونوں غزوہ احد میں شریک تھے اور مشرکینِ مکہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور اس زمانے مین چونکہ خود وغیرہ پہن کر لڑتے تھے؛ اس لیے حضرت حذیفہ کے والد حضرت یمان کو صحابہ پہچان نہ سکے اور ان پر حملہ کر دیا،حضرت حذیفہ نے جب یہ دیکھا تو انھیں روکنے لگے؛لیکن تب تک ان کے والد حضرت یمان شہید ہو چکے تھے۔حضرت حذیفہ اور ان کے والد غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہے تھے کہ راستے میں کفار نے انھیں روک لیا اور پوچھا کہ کیا تم محمد (ﷺ) کے پاس جانا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم ان کے پاس نہیں؛ بلکہ صرف مدینے میں جانا چاہتے ہیں، تو کفار نے ان سے اللہ کا نام لے کر عہد و پیماں لیا کہ وہ مدینے جائیں اور حضور ﷺ کے ساتھ ہوکر نہیں لڑیں گے،پھر جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”انصرفا، نفي لہم بعہدہم، ونستعین اللّٰہ علیہم“ تم مدینے چلے جاؤ! ہم ان کا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالی سے مدد چاہیں گے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھیں اپنے جذبات پر مکمل قابو اور کنٹرول تھا، کیسے بھی تکلیف دہ حالات ہوں؛ لیکن حضرت حذیفہ کبھی اپنے جوش وجذبے کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہوئے، جیساکہ درج ذیل دو واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ ان کے والد یمان کو ان کے سامنے شہید کیا گیا؛ لیکن ان کے منہ سے صرف اتنا نکلا:یغفر اللّٰہ لکم“ اللہ تعالی تمھیں بخشے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میں وہ تمام صفات موجود تھیں جوکسی کو رازدار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں اور ان میں بالخصوص اپنے جوش وجذبات پر کنٹرول اور قابو رکھنا ہے؛ چنانچہ انھیں خدادا صلاحیتوں کی بنا پر حضور ﷺ نے انھیں اپنے رازدار بنانے کا شرف بخشا اور فتنوں سے متعلق اور منافقین کے ناموں اور ان کے احوال سے متعلق پوری تفصیل سے حضرت حذیفہ بن یمان کو آگاہ کیا۔حضور ﷺ کے اس رازدار صحابی کا انتقال محرم الحرام، 36ھ میں مدائن میں وفات پائی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد بار بار عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوچھا کرتے تھے، اے حذیفہ!

    31 ملاحظات (↓3 گزشتہ کل)41,0,54,37,51,45,0,35,34, 31

    3 فرق

    🔍 🗞️
  87. 87

    کرکٹ عالمی کپ 2023ء گروپ مرحلہ

    کرکٹ عالمی کپ 2023ء گروپ مرحلہ

    2023ء کرکٹ عالمی کپ کا گروپ مرحلہ راؤنڈ رابن لیگ فارمیٹ میں کھیلا گیا تھا، تمام 10 ٹیمیں ایک ہی گروپ میں ایک بار ایک دوسرے سے کھیلی تھی، جس کے نتیجے میں کل 45 میچ کھیلے گئے تھے۔ گروپ سے سرفہرست چار ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئی۔ یہ فارمیٹ 2019ء کے کرکٹ عالمی کپ سے پہلے کے جیسا ہی تھا اور 1992ء کے کرکٹ عالمی کپ میں بھی استعمال ہوا تھا۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)35,0,0,0,0,0,0,0,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  88. 88

    ارشد القادری

    ارشد القادری

    علامہ ارشد القادری (ولادت: 5 مارچ 1925ء - وفات: 29 اپریل 2002ء) بھارت میں حنفی عالم دین تھے۔ آپ کا تعلق سنی بریلوی مسلک سے تھا۔ آپ کا اصل نام غلام رشید ہے لیکن قلمی نام ارشد القادری سے مشہور ہیں۔ قائد اہل سنت اور رئیس القلم آپ کے القابات ہیں۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  89. 89

    موسی ابن عمران

    موسی ابن عمران

    موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)34,0,0,0,0,0,38,32,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  90. 90

    برانجیہ ریمون اول

    برانجیہ ریمون اول

    برانجیہ ریمون اول (1005ء – 24 مئی 1035ء) 1018ء سے 1035ء تک بارسلونا، جرندہ اور اوسونا کے کاؤنٹ رہے۔ وہ ریمون بورل، کاؤنٹِ بارسلونا، جرندہ اور اوسونا، کے بیٹے تھے، جبکہ ان کی والدہ ارمیسیند قرقشونہ تھیں۔ 1021ء میں انھوں نے سانچو سوم، بادشاہِ ناوار، کی بالادستی تسلیم کر لی۔ بعد ازاں انھوں نے قانونی طور پر سانچا سانچیز، جو سانچو گارسیا، کاؤنٹِ قشتالہ، کی بیٹی تھیں، سے شادی کی۔ اس شادی سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے: سانچو اور ان کے جانشین ریمون برانجیہ اول ، جو 1023ء میں پیدا ہوئے۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  91. 91

    مکہ

    مکہ

    مکہ (عربی: مكَّة المُكرَّمَة انگریزی: Makkah / Mecca)، جسے باضابطہ طور پر مکۃ المکرمہ اور عموماً صرف مکہ کہا جاتا ہے، سعودی عرب کے مغرب میں واقع تاریخی خطہ حجاز میں المکہ علاقہ کا دار الحکومت ہے اور یہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ بحیرہ احمر پر واقع جدہ سے 70 کلومیٹر (43 میل) کے فاصلے پر ہے، یہ ایک تنگ وادی میں جو سطح سمندر سے 277 میٹر (909 فٹ) بلند ہے۔ 2022ء میں اس کی میٹروپولیٹن آبادی 2.4 ملین تھی، جو اسے ملکی دار الحکومت ریاض اور جدہ کے بعد سعودی عرب کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بناتا ہے۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)31,0,0,0,0,0,31,33,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  92. 92

    ٹک ٹاک

    ٹک ٹاک

    ٹک ٹاک (انگریزی: TikTok) 2016 ء میں لانچ ہونے والی موبائل ایپل1122ی کیشن ہے۔

    30 ملاحظات (↓2 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,68,0,0,32, 30

    2 فرق

    🔍 🗞️
  93. 93

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔

    30 ملاحظات (↓11 گزشتہ کل)31,45,0,50,61,41,74,46,41, 30

    7 فرق

    🔍 🗞️
  94. 94

    جہانگیر خان جانی

    جہانگیر خان جانی

    جھانگیر خان جانی ایک پاکستانی فلموں کا مشہور اداکار ہے۔ جھانگیر خان زیادہ تر پشتو فلموں اور ڈراموں میں کام کرتا ہے۔

    29 ملاحظات (↓12 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,41, 29

    2 فرق

    🔍 🗞️
  95. 95

    زید بن حارثہ

    زید بن حارثہ

    حضور سیدنا زید بن حارثہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے۔ آپ کو بچپن میں اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے خرید لیا اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی نذر کر دیا حضرت خدیجہ نے اس غلام کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نذر کر دیا یہ درحقیقت ایک آزاد عیسائی خاندان کے لڑکے تھے۔ اس دوران آپ کے والد کو بھی آپ کی خبر پہنچ گئی۔ آپ کے والد حارث اور چچا کعبہ آپ کو لینے مکہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو منہ مانگی رقم کی پیشکش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، "اگر زید تمھارے ساتھ جانا چاہے تو میں کوئی رقم نہ لوں گا۔" زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ یہ دیکھ کر آپ کے والد خفا ہوئے اور کہا کہ تم آزادی کی زندگی کو غلامی پر ترجیع دیتے ہو زید نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ بات دیکھی کہ ان کے لیے میں باپ تو کیا کائنات چھوڑ سلتا ہوں۔ یہ سن کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زید کو لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور علان فرما دیا کہ لوگوں سن لو میں زید کو آج سے آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بناتا ہوں.اس کے بعد زید بن حارث کی بجائے زید بن محمد کہا جانے لگا۔ یہ دیکھ کر زید کے چچا اور باپ حارث بہت خوش ہوئے اور بخوشی واپس چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا برتاؤ اپنے ملازموں کے ساتھ بھی کیسا ہوتا ہوگا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے زید ہیں۔آپ تمام غزوات میں شریک تھے۔اور غزوہ مؤتہ میں شہادت نوش فرمائی۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  96. 96

    سائنس

    سائنس

    سائنس ایک منظم شعبہ ہے جو فطرت، اس کے ضوابط اور معاشرے کے بارے میں قابلِ آزمائش وضاحتوں کی صورت میں علم کی تشکیل اور تنظیم کرتا ہے۔ اس کی بنیاد سائنسی طریقے پر ہے: ایک تجربی سلسلہ جس میں مشاہدات اور حقائق کو سامنے لانا، مفروضات پیدا کرنا، انھیں ثبوت سے آزمانا اور ایک نتیجے تک پہنچنا شامل ہیں۔ سائنس اس عمل اور اس سے پیدا ہونے والے علم پر محیط ہے، جسے سائنسی برادری مسلسل اعتراض کرتی، تصدیق کرتی اور منظم کرتی ہے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,33,44,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  97. 97

    سید عامر رضا

    سید عامر رضا

    سید عامر رضا (انگریزی: Syed Aamer Raza) ایک سیاست دان ہیں۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  98. 98

    مصعب بن عمیر

    مصعب بن عمیر

    مصعب بن عمیر (پیدائش: 27 ق۔ھ/ 596ء— وفات: 15 شوال 3ھ/ 30 مارچ 625ء) غزوہ بدر میں شامل صحابی رسول تھے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  99. 99

    واقعہ افک

    واقعہ افک

    افک کے لغوی معنی بات کو الٹ دینا ہے۔ حقیقت کے خلاف کچھ بنا دینا اسی مناسبت سے اس کا معنی جھوٹ اور افتراء کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ الزام کسی حوالہ سے بولا جائے تو اس کا معنی بہتان بن جاتا ہے بدترین قسم کا جھوٹ جو حق کو باطل سے اور باطل کو حق سے بدل دے پاکدامن کو فاسق سے اور فاسق کو پاکدامن بنا دے افک کہلاتا ہے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  100. 100

    مالک اشتر

    مالک اشتر

    مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔

    28 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل)36,37,0,0,0,0,0,0,0, 28

    1 فرق

    🔍 🗞️