اردو ویکیپیڈیا Top 100

اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔

  1. 1

    ایوا سکس

    ایوا سکس

    ایوا سکس (انگریزی: Eva Six) ایک اداکارہ ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    627 ملاحظات (↑62 گزشتہ کل)0,0,0,0,662,638,666,675,565, 627

    6 فرق

    🔍 🗞️
  2. 2

    سیکسی (ناول)

    سیکسی (ناول)

    سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔

    482 ملاحظات (↓39 گزشتہ کل)417,534,565,433,528,517,519,470,521, 482

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  3. 3

    لندن

    لندن

    لندن (یا لنڈن) انگلستان اور مملکت متحدہ کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔

    210 ملاحظات (↑64 گزشتہ کل)0,45,0,30,0,55,69,44,146, 210

    5 فرق

    🔍 🗞️
  4. 4

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔

    189 ملاحظات (↑62 گزشتہ کل)174,179,179,142,135,186,207,139,127, 189

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  5. 5

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت میں ہر سال 15 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سنہ 1947 میں اسی تاریخ کو ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد مملکت متحدہ کے استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے قانون آزادی ہند 1947ء کا بل منظور کر کے قانون سازی کا اختیار مجلس دستور ساز کو سونپ دیا تھا۔ یہ آزادی تحریک آزادی ہند کا نتیجہ تھی جس کے تحت انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں پورے ہندوستان میں تحریک عدم تشدد اور سول نافرمانی میں عوام نے حصہ لیا اور اس جدوجہد میں ہر کس و ناکس نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کا واقعہ بھی پیش آیا اور برطانوی ہند کو مذہبی بنیادوں پر دو ڈومینین میں تقسیم کر دیا گیا؛ بھارت ڈومینین اور پاکستان ڈومنین۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں دونوں طرف خطرناک مذہبی فسادات ہوئے جن میں تقریباً 1.5 کروڑ لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے۔ 15 اگست سنہ 1947ی کو بھارت کے وزیر اعظم بھارت جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر بھارت کا نیا پرچم لہرایا۔ اسی دن ہر سال بھارت کا وزیر اعظم بھارتی پرچم لہراتا ہے اور ملک کو خطاب کرتا ہے۔

    115 ملاحظات (↑24 گزشتہ کل)0,39,50,41,69,72,44,87,91, 115

    9 فرق

    🔍 🗞️
  6. 6

    کاغذی کرنسی

    کاغذی کرنسی

    کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی ایجاد کے بعد دھاتی کرنسی آہستہ آہستہ کاغذی کرنسی میں تبدیل ہو گئی جبکہ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ کرنسی نہ صرف انسانوں کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ حکومتوں کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے۔ ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی، 1275ء میں مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں: جلنے والا پتھر (کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس)، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ مارکو پولو لکھتا ہے: "آپ کہہ سکتے ہیں کہ قبلائی خان کو کیمیا گری (یعنی سونا بنانے کے فن) میں مہارت حاصل تھی۔ بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی"۔ لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی۔ جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگوڈا نے جاری کی تھی۔ موجودہ زمانے میں کاغذی کرنسی سینٹرل بینک جاری کرتا ہے۔ مارکوپولو وہ پہلا آدمی تھا جس نے چین میں سینٹرل بینکنگ سیکھی اور وینس واپس آ کر یورپ والوں کو سکھائی۔ یعنی مارکوپولو صرف سیاح نہیں تھا بلکہ مغربی دنیا کا پہلا اصولی سینٹرل بینکر بھی تھا۔ اس طرح یورپ میں سینٹرل بینکنگ کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ سوئیڈن میں سولہویں صدی میں منظم بینکنگ سسٹم قائم ہو چکا تھا اور 1661ء میں سرکاری سطح پر کاغذی کرنسی کا اجرا شروع ہو چکا تھا۔ برطانیہ میں سرکاری کاغذی کرنسی 1694ء سے شائع ہونا شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ "For over a century, the global financial system has been increasingly built on papered-over leverage, fiat expansion, and financial engineering. Since 1913, governments, financial institutions, and central banks have systematically distorted money and markets, creating an unsustainable system of derivatives, credit expansion, and hidden leverage." کرنسی تخلیق کرنا اور عوام کو اس کے استعمال پر مجبور کرنا حکومت یا مرکزی بینک کو بہت بڑی طاقت عطا کرتا ہے۔ "سینٹرل بینکنگ (خفیہ) چوری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔" Central banking is the greatest engine of theft جولائی، 2006ء کے ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک "فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے"۔ مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔ 1927ء میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ ( جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا ) نے کہا تھا کہ"جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔..

    107 ملاحظات (↑107 گزشتہ کل)85,84,58,0,41,0,0,0,0, 107

    1 فرق

    🔍 🗞️
  7. 7

    سکینہ بنت حسین

    سکینہ بنت حسین

    سکینہ بنت حسین (پیدائش: 7 نومبر 676ء 24 ذوالحجہ 56ھ— وفات: 12 نومبر 680ء 13 صفر 61ھ بروز پیر) یا رقیہ بنت حسین امام حسین بن علی کی بیٹی تھیں۔

    100 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل)44,46,51,34,41,57,64,72,59, 100

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  8. 8

    فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی

    فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی

    فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (انگریزی: Faisalabad Electric Supply Company) پاکستان کی ایک کمپنی ہے۔

    100 ملاحظات (↑100 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 100

    1 فرق

    🔍 🗞️
  9. 9

    عقبہ بن نافع

    عقبہ بن نافع

    کام جاری

    91 ملاحظات (↑91 گزشتہ کل)0,0,0,31,120,85,111,51,0, 91

    1 فرق

    🔍 🗞️
  10. 10

    عمر بن خطاب

    عمر بن خطاب

    ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

    85 ملاحظات (↑4 گزشتہ کل)101,113,89,88,96,92,114,62,81, 85

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  11. 11

    پاکستان

    پاکستان

    پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔

    82 ملاحظات (↓61 گزشتہ کل)63,67,71,86,71,90,63,91,143, 82

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  12. 12

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا (انگریزی: Sexy Cora) ایک اگزوٹک رقاصہ، ریالٹی ٹی وی شریک، فحش اداکارہ، فلمی اداکارہ، ماڈل اور گلو کار تھیں جن کا تعلق جرمنی سے تھا۔

    73 ملاحظات (↑4 گزشتہ کل)87,66,75,89,131,90,93,63,69, 73

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  13. 13

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ (پیدائش: 10 فروری 1993ء) جو میا کالیستا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، لبنانی نزاد امریکی سوشل میڈیا شخصیت، کھیلوں کی مبصر اور ویب کیم ماڈل ہے۔ میا 2014ء سے 2015ء تک پورنوگرافک اداکارہ رہی۔

    71 ملاحظات (↓18 گزشتہ کل)77,88,90,97,125,116,95,103,89, 71

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  14. 14

    مکہ

    مکہ

    مکہ (عربی: مكَّة المُكرَّمَة انگریزی: Makkah / Mecca)، جسے باضابطہ طور پر مکۃ المکرمہ اور عموماً صرف مکہ کہا جاتا ہے، سعودی عرب کے مغرب میں واقع تاریخی خطہ حجاز میں المکہ علاقہ کا دار الحکومت ہے اور یہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ بحیرہ احمر پر واقع جدہ سے 70 کلومیٹر (43 میل) کے فاصلے پر ہے، یہ ایک تنگ وادی میں جو سطح سمندر سے 277 میٹر (909 فٹ) بلند ہے۔ 2022ء میں اس کی میٹروپولیٹن آبادی 2.4 ملین تھی، جو اسے ملکی دار الحکومت ریاض اور جدہ کے بعد سعودی عرب کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بناتا ہے۔

    69 ملاحظات (↑21 گزشتہ کل)0,0,0,31,33,0,30,29,48, 69

    4 فرق

    🔍 🗞️
  15. 15

    عبد الکلام

    عبد الکلام

    عبدالکلام (15 اکتوبر 1931 – 27 جولائی 2015) ایک بھارتی ایرو اسپیس سائنس دان اور سیاستدان تھے جنھوں نے 2002 سے 2007 تک بھارت کے 11ویں صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ تمل ناڈو کے رامیشورم میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ انھوں نے طبیعیات اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے اگلے چار دہائیوں تک ایک سائنس دان اور سائنس ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کیا، زیادہ تر دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (DRDO) اور بھارتی خلائی تحقیق تنظیم (ISRO) میں۔ وہ بھارت کے سول اسپیس پروگرام اور فوجی میزائل ترقی کی کوششوں میں گہرائی سے شامل رہے۔ اس طرح انھیں بھارت کے میزائل مین کے طور پر جانا جانے لگا۔ انھوں نے 1998 میں بھارت کے پوکھران-II نیوکلیئر ٹیسٹ میں بھی ایک اہم تنظیمی، تکنیکی اور سیاسی کردار ادا کیا، جو 1974 کے اصل نیوکلیئر ٹیسٹ کے بعد پہلا تھا۔

    69 ملاحظات (↑69 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 69

    1 فرق

    🔍 🗞️
  16. 16

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔

    66 ملاحظات (↓33 گزشتہ کل)54,55,58,46,67,69,52,62,99, 66

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  17. 17

    علی بن ابی طالب

    علی بن ابی طالب

    ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

    65 ملاحظات (↑13 گزشتہ کل)69,54,51,81,59,65,72,77,52, 65

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  18. 18

    اردو حروف تہجی

    اردو حروف تہجی

    اردو زبان میں سینتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔

    64 ملاحظات (↑64 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,33,47,0, 64

    1 فرق

    🔍 🗞️
  19. 19

    محمد بن عبد اللہ

    محمد بن عبد اللہ

    ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔

    63 ملاحظات (↑4 گزشتہ کل)68,55,63,49,68,78,63,65,59, 63

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  20. 20

    جنریشن زی

    جنریشن زی

    جنریشن زی یا جین زی (Generation Z) 1990 کی دہائی کے آخر اور 2010 کے وسط کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی نئی نسل ہے۔ یہ پہلی نسل ہے جو اپنے ابتدائی بچپن سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی اور روزمرہ کی زندگی کے ایک حصے کے طور پر ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ جین زی ڈیجیٹل طور پر مقامی افراد کی ایک نسل ہے جو اپنے متنوع پس منظر، منفرد شناخت اور عالمی تناظر کے لیے مشہور ہیں۔ وہ پچھلی نسلوں کے مقابلے ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ اور سیاسی طور پر مصروف ہیں اور موسمیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف جیسے اسباب کے بارے میں پرجوش ہیں۔

    63 ملاحظات (↓60 گزشتہ کل)0,0,0,0,34,54,85,153,123, 63

    6 فرق

    🔍 🗞️
  21. 21

    اردو

    اردو

    اُردُو، برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔

    59 ملاحظات (↓3 گزشتہ کل)38,35,46,37,53,54,38,36,62, 59

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  22. 22

    سیکس ایجوکیشن (سیزن)

    سیکس ایجوکیشن (سیزن)

    سیکس ایجوکیشن ایک برطانوی طربیہ ڈراما ویب ٹیلی ویژن سیریل ہے جو لوری نان نے تخلیق کیا ہے۔ آسا بٹرفیلڈ ایک عدم تحفظ کے شکار نوجوان کے طور پر اور گیلین اینڈرسن اس کی ماں ہے، جو ایک نفسیاتی جنسی مسائل کی معالجہ ہے، پریمئیر 11 جنوری 2019 کو نیٹ فلکس پر نشر ہوا۔ شوتی گٹوا، ایما میکی، کانر سوینڈلز، ایمی لو ووڈ اور کیدار ولیم اسٹرلنگ معاون اداکار ہیں۔ نشر ہونے کے بعد ہی فلمی نقادوں نے اسے سراہا جس سے یہ جلد ہی یہ سیزن نیٹ فلکس کے لیے تجارتی کامیابی کے طور پر

    58 ملاحظات (↑58 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,32,0,0,0, 58

    1 فرق

    🔍 🗞️
  23. 23

    اردن

    اردن

    اردن جسے سرکاری طور پر اردنی مملکت ہاشمی (عربی: المملکۃ الأردنیۃ الہاشمیۃ) بھی کہا جاتا ہے، دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر واقع مغربی ایشیا کا ملک ہے۔ اس کے مشرق میں سعودی عرب اور مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔ اردن اور اسرائیل بحیرہ مردار کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اردن کی واحد بندرگاہ اس کے جنوبی سرے پر خلیج عقبہ پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کو اسرائیل، مصر اور، سعودی عرب بھی مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اردن کا زیادہ تر حصہ صحرائے عرب پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال مغربی سرے پر ہلال نما زرخیز علاقہ موجود ہے۔ اس کا دار الحکومت عمان ہے۔

    55 ملاحظات (↑7 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,48, 55

    2 فرق

    🔍 🗞️
  24. 24

    تجربہ بیرون جسم

    تجربہ بیرون جسم

    تجربۂ بیرونِ جسم (out of body experience) کو يحرِّر الجسم اور خروج الجسد بھی کہا جاتا ہے جہاں يحرِّر بمعنی آزادی (جسم سے ) اور خروج بمعنی اخراج کے آتا ہے اور انگریزی میں اس کا اختصار بشکلِ اوائل الکلمات، OBE دیکھنے میں آتا ہے۔ علم نفسیات و طب میں تجربۂ بیرونِ جسم سے مراد اس احساس، کیفیت یا مظہر کی لی جاتی ہے کہ جب کوئی شخصیت اپنا آپ (یعنی ذات) یا یوں کہہ لیں کہ اپنا مرکزِ آگاہی و ادراک اپنے طبیعی جسم (physical body) یعنی مادی وجود سے باہر کسی مقام (جو عام طور پر طبیعی جسم سے کچھ اونچائی پہ بیان کیا جاتا ہے) پر محسوس کرے۔ یہاں مرکزِ فہم سے مراد حقیقتاً جسمانی وجود میں سوچ سمجھ (بالفاظ دیگر مذہبی نظریہ کی رو سے روح) کی ہوا کرتی ہے جس کے لیے نفسیاتی اصطلاح، فہم الذات (self-awareness) کی بھی مستعمل ہے جو فی الحقیقت یہاں مذہبی نظریہ کی رو سے، تجربۂ بیرون جسم میں بیان کردہ مرکزِ فہم بمعنی روح سے تھوڑا سا انحراف رکھتی ہے جبکہ ماہرین نفسیات کے نزدیک اس مرکزِ فہم سے مراد وہ مرکز یا شعوری کیفیت (دماغ) ہوتی ہے کہ جو ادراک کرسکے اور ایسا اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ تجربۂ بیرون جسم میں وہ شخصیت خود اپنا جسمانی وجود کسی دوسرے مقام پر کھڑے ہو کر ایسے ہی دیکھتی ہے جیسے کوئی دوسرے انسان کو دیکھتا ہو اور چونکہ وہ شخصیت سوچ سمجھ رہی ہوتی ہے جبکہ اس کا وجود محض مختلف کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اس لیے اسے مرکزِ فہم کا جسم سے اخراج کہا جاتا ہے۔

    53 ملاحظات (↑53 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 53

    1 فرق

    🔍 🗞️
  25. 25

    حسین بن علی

    حسین بن علی

    حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ ‎ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    53 ملاحظات (↑53 گزشتہ کل)49,48,31,33,50,57,53,32,0, 53

    1 فرق

    🔍 🗞️
  26. 26

    منگل

    منگل

    منگل یا سہشنبہ اسلامی حساب سے ہفتے کا تيسرا دن، يورپی و امريکی حساب سے دوسرا اور يہودی اور قديم مصری حساب سے تيسرا دن ہے۔

    52 ملاحظات (↑52 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 52

    1 فرق

    🔍 🗞️
  27. 27

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس (انگریزی: Ira Sachs) ایک فلم ساز، فلم مصنف، فلم ہدایت کار، مصنف اور منظر نویس ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    52 ملاحظات (↓22 گزشتہ کل)78,65,91,50,66,74,72,65,74, 52

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  28. 28

    انگریزی زبان

    انگریزی زبان

    انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

    51 ملاحظات (↓63 گزشتہ کل)68,62,78,60,79,71,68,69,114, 51

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  29. 29

    احمد رضا خان

    احمد رضا خان

    ((امام احمد رضا خان|اعلحضرت)) (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقہیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔

    51 ملاحظات (↓6 گزشتہ کل)40,35,39,32,42,50,64,59,57, 51

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  30. 30

    محمد اقبال

    محمد اقبال

    ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

    50 ملاحظات (↓12 گزشتہ کل)0,0,49,57,63,45,48,34,62, 50

    8 فرق

    🔍 🗞️
  31. 31

    سعد بن معاذ

    سعد بن معاذ

    سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ(32ق.ھ/ 5ھ) قبیلہ بنو اشہل کے سردار اورمعزز صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے رہنے والے تھے ۔آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لے جانے سے پہلے ہی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ بھیج دیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دیں اور غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرتے رہیں۔ چنانچہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دامن اسلام میں آگئے اور خود اسلام قبول کرتے ہی یہ اعلان فرما دیا کہ میرے قبیلہ بنو عبدالاشہل کا جو مرد یا عورت اسلام سے منہ موڑے گا میرے لیے حرام ہے کہ میں اس سے کلام کروں۔آپ کا یہ اعلان سنتے ہی قبیلہ عبدالاشہل کا ایک ایک بچہ دولت اسلام سے مالا مال ہو گیا۔ اس طرح آپ کا مسلمان ہو جانا مدینہ منورہ میں اشاعت اسلام کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادر اور انتہائی نشانہ باز تیر انداز بھی تھے ۔ غزوہ بدر اور غزوۂ احد میں خوب خوب دادِ شجاعت دی،مگرغزوہ خندق میں زخمی ہو گئے اور اسی زخم میں شہادت سے سر فراز ہو گئے۔آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے نیزہ لے کر جوش جہاد میں لڑنے کے لیے میدان جنگ میں جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام ”اکحل”ہے کٹ گئی ۔آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آپ کے ليے مسجد نبوی شریف میں ایک خیمہ گاڑا اور آپ کا علاج شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے دو مرتبہ ان کے زخم کو داغا اور ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن آپ نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی : ”یا اللہ! تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے مجھے جنگ کرنے کی اتنی تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنھوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا، اے اللہ ! عزوجل میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے زندہ رکھنا تاکہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جنگ کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے شہادت عطا فرما دے ۔ ” خدا کی شان کہ آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہہ کر مسجد نبوی میں بنی غفار کے خیمے کے اندر پہنچ گیا۔ ان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو!یہ کیسا خون ہے جو تمھاری طرف سے بہ کر ہماری طرف آرہا ہے؟ جب لوگوں نے دیکھا تو سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون جاری تھا اسی زخم میں آپ کی شہادت ہو گئی ۔ عین وفات کے وقت ان کے سرہانے حضور انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ جان کنی کے عالم میں انھوں نے آخری بار جمال نبوت کا دیدار کیا اور کہا : السلام علیک یا رسول اللہ!

    50 ملاحظات (↓164 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,214, 50

    2 فرق

    🔍 🗞️
  32. 32

    محمد علی جناح

    محمد علی جناح

    محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

    49 ملاحظات (↑49 گزشتہ کل)0,0,0,0,42,40,0,40,0, 49

    1 فرق

    🔍 🗞️
  33. 33

    رقص

    رقص

    جو حرکات بے ساختہ فرطِ جذبات کے تحت ہم آہنگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء سے سرزد ہوتی ہیں انھیں رقص یا ناچ کا نام دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے بعض اساتذہ فن رقص کو مصوری سے زیادہ قدیم سمجھتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ رقص کو ڈراما، فن آرائش اور موسیقی جیسے فنون لطیفہ کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

    49 ملاحظات (↑49 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 49

    1 فرق

    🔍 🗞️
  34. 34

    کوس

    کوس

    کوس (انگریزی: Kos) یونان کا ایک جزیرہ جو جزائر دؤدیکانیز میں واقع ہے۔عثمانی دور میں اس جزیرہ کا نام اِستان کوئے (ترکی: Istanköy) تھا۔

    48 ملاحظات (↑48 گزشتہ کل)40,0,0,40,0,38,53,40,0, 48

    1 فرق

    🔍 🗞️
  35. 35

    احمد سرہندی

    احمد سرہندی

    شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبد الا حد فاروقی) (پیدائش: 26 جون 1564ء— وفات: 10 دسمبر 1624ء) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے۔ جو مجدد الف ثانی اور قیوم اول سے معروف ہیں۔ آپ کے مشہور خلیفہ سید آدم بنوری ہیں۔

    48 ملاحظات (↑48 گزشتہ کل)0,41,30,0,33,0,55,0,0, 48

    1 فرق

    🔍 🗞️
  36. 36

    بھارت

    بھارت

    بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔

    48 ملاحظات (↓45 گزشتہ کل)50,52,34,33,46,50,59,68,93, 48

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  37. 37

    خالد بن ولید

    خالد بن ولید

    خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔

    48 ملاحظات (↑1 گزشتہ کل)54,40,0,0,42,42,66,31,47, 48

    6 فرق

    🔍 🗞️
  38. 38

    محمد علی جوہر

    محمد علی جوہر

    محمد علی جوہر (10 دسمبر 1878ء - 4 جنوری 1931ء) ، تحریک آزادی کے کارکن، انڈین نیشنل کانگریس کے ممتاز رکن، صحافی اور شاعر تھے۔ وہ تحریک خلافت کے سرکردہ شخصیت اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔

    47 ملاحظات (↑47 گزشتہ کل)37,37,37,30,0,0,0,0,0, 47

    1 فرق

    🔍 🗞️
  39. 39

    پاکستان میں ٹیلی فون نمبر

    پاکستان میں ٹیلی فون نمبر

    47 ملاحظات (↑47 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 47

    1 فرق

    🔍 🗞️
  40. 40

    سوریہ

    سوریہ

    سوریہ، باضابطہ طور پر عرب جمہوریہ سوریہمغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو مشرقی بحیرۂ متوسط اور سرزمینِ شام میں واقع ہے۔ یہ مغرب میں بحیرۂ متوسط، شمال میں ترکیہ، مشرق اور جنوب مشرق میں عراق، جنوب میں اردن، اور جنوب مغرب میں اسرائیل اور لبنان سے گھرا ہوا ہے۔ فی الحال یہ ایک عبوری حکومت کے تحت ہے اور اس میں 14 محافظات (صوبہ جات) شامل ہیں۔ دمشق دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی 25 ملین ہے اور رقبہ 185،180 مربع کلومیٹر (71،500 مربع میل) ہے، جو اسے 57واں سب سے زیادہ آبادی والا اور 87واں سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔

    47 ملاحظات (↓10 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,57, 47

    2 فرق

    🔍 🗞️
  41. 41

    مصر

    مصر

    اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، مصری (ضدابہام)

    46 ملاحظات (↓5 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,51, 46

    2 فرق

    🔍 🗞️
  42. 42

    حسن ابن علی

    حسن ابن علی

    حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل)41,48,41,56,47,76,49,39,0, 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  43. 43

    غزوہ بدر

    غزوہ بدر

    بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔

    46 ملاحظات (↓11 گزشتہ کل)45,55,41,33,46,39,53,41,57, 46

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  44. 44

    آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو خود مختار خطہ ہے لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام ہے۔ اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین متنازع ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دار الحکومت مظفرآباد ہے اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازہ 40 لاکھ ہے۔ اور یہاں پہاڑی زبان، ہندکو، گوجری، پنجابی اور کشمیری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی شرح تعلیم 65 فیصد ہے۔

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  45. 45

    دریائے سندھ

    دریائے سندھ

    دریائے سندھ یا سِندھُو دریا جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا دریا جو دنیا کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے۔ اس کی لمبائی 2000 ہزار میل یا 3200 کلومیٹر ہے۔ اس کا مجموعی نکاسی آب کا علاقہ 450,000 مربع میل یا 1,165,000 مربع کلومیٹر ہے۔ جس میں سے یہ پہاڑی علاقہ ( قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش) میں 175,000 مربع میل یا 453,000 مربع کلومیٹر بہتا ہے اور باقی پاکستان کے میدانوں میں بہتا ہے۔

    45 ملاحظات (↑45 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 45

    1 فرق

    🔍 🗞️
  46. 46

    سید احمد خان

    سید احمد خان

    احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔

    45 ملاحظات (↑45 گزشتہ کل)0,0,38,0,41,0,0,0,0, 45

    1 فرق

    🔍 🗞️
  47. 47

    عبد اللہ بن رواحہ

    عبد اللہ بن رواحہ

    سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ انصاری صحابی اور اپنے قبیلے کے سردار تھے ،آپ کی کُنیت، ابو محمد، ابو رواحہ اور ابو عمرو ہے۔آپ نے بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد ہی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ میں تبلیغِ اسلام کے نتیجے میں دعوتِ حق قبول کر لی تھی ،آپ پڑھنا لکھنا جانتے تھے ، آپ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہونے والے اور مدینہ منورہ کے بارہ نقیبوں میں سے ایک نقیب ہیں۔ آپ نے اعلانِ نبوت کے تیرھویں سال حج کے موقع پر منٰی کی گھاٹی میں بیعت عقبہ ثانیہ میں مدینہ منورہ کے تقریباً 70 لوگوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست ِ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ تجربہ کار شاعر بھی تھے ، اسی لیے مشرف با اسلام ہونے کے بعد اپنی شاعری کا رُخ مدحت ِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کفار کی مذمت کی جانب موڑ دیا تھا۔ آپ نے غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ احزاب اور غزوہ خیبر سے جنگِ موتہ تک تمام غزوات میں شرکت کی۔ غزوہ سویق میں جانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو مدینہ منورہ کا امیر مقرر فرمایا۔ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو تیس صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ اسیر بن عوام کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔آپ ہر معرکے میں روانگی کے وقت سب سے آگے ہوتے لیکن جب محاذ سے واپسی ہوتی تو سب سے پیچھے رہ جاتے ۔6ھ میں آپ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے چودہ سو مجاہدین ِاسلام کو ’’اصحاب الشجرۃ‘‘ کے مبارک لقب سے سرفراز فرمایا۔ 7ھ میں جب خیبر فتح ہوا تو بہت سا مالِ غنیمت، زرعی زمینیں، کھیت کھلیان اور باغات مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔اس موقع پر آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے تمام مالی وسائل کا تخمینہ لگانے کی ذمہ داری آپ ہی کو سونپی جوآپ نے اچھے طریقے سے سر انجام دی۔جب خیبر کی اجناس پک جاتیں اور غلہ تیار ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو خیبر بھیج دیتے ۔ آپ کھجور اور اناج کے ڈھیر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیتے ، پھر اختیار دیتے ہوئے فرماتے : اے یہودیو! جو حصہ تم کو پسند ہو، وہ لے لو۔ ایک مرتبہ یہودیوں نے اپنی عورتوں کے زیورات جمع کیے اور آپ کو دیتے ہوئے کہا: ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں اور تقسیم میں ہاتھ ہلکا رکھیں، یہ سن کر آپ جلال میں آگئے اور فرمایا:’’ اے یہودیو! جو (زیورات) تم دے رہے ہو وہ رشوت ہے اور رشوت مالِ حرام ہے جس کو ہم مسلمان نہیں کھاتے ۔‘‘ ذوالقعدہ سن 7ھ میں عمرہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی مہار تھامے ہوئے اشعار پڑھ رہے تھے ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منع کیا تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ اے عمر!

    44 ملاحظات (↑2 گزشتہ کل)54,39,0,0,0,0,0,0,42, 44

    2 فرق

    🔍 🗞️
  48. 48

    کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ

    کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ

    کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ (انگریزی: Creative Commons license) عوامی حقوق نشر و اشاعت اجازت ناموں میں سے ایک مشہور سافٹ ویئر اجازت نامہ ہے جسے معروف ویب سائٹس مثلاً ویکیپیڈیا اور فری بیس وغیرہ استعمال کرتی ہیں۔ اس اجازت نامہ کو ایک امریکی غیر منفعت بخش تنظیم کریئیٹیو کامنز نے ترتیب دیا ہے۔

    44 ملاحظات (↑44 گزشتہ کل)60,73,46,0,0,46,47,53,0, 44

    1 فرق

    🔍 🗞️
  49. 49

    حرف

    حرف

    قواعد زبان میں حرف سے مراد حروفِ ابجد کے کسی ایک رکن کی ہوتی ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو تنہا اپنے پورے معانی نہ دے بلکہ اسما، افعال یا دو جملوں کے ساتھ مل کر اپنے پورے معنی ظاہر کرے۔ حرف کے کام دو اسما کو ملانا، دو افعال کو ملانا، دو چھوٹے جملوں کو ملا کر ایک جملہ بنانا اور اسما اور افعال کا ایک دوسرے سے تعلق ظاہر کرنا ہے۔ استعمال کے لحاظ سے حروف کو چار بڑے گروہوءءئءحئئئیییئں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

    44 ملاحظات (↑44 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 44

    1 فرق

    🔍 🗞️
  50. 50

    راجہ محمد سرور

    راجہ محمد سرور

    کیپٹن راجا محمد سرور بھٹی پاک فوج میں کپتان تھے۔ یہ تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10نومبر 1910 میں ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام راجا محمد حیات خاں بھٹی تھا۔

    44 ملاحظات (↑44 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 44

    1 فرق

    🔍 🗞️
  51. 51

    صحیح بخاری

    صحیح بخاری

    صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔

    44 ملاحظات (↑44 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 44

    1 فرق

    🔍 🗞️
  52. 52

    واقعہ کربلا

    واقعہ کربلا

    سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔

    43 ملاحظات (0 گزشتہ کل)153,130,89,63,68,69,70,41,43, 43

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  53. 53

    موسی ابن عمران

    موسی ابن عمران

    موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔

    43 ملاحظات (↑43 گزشتہ کل)0,0,0,38,32,0,30,0,0, 43

    1 فرق

    🔍 🗞️
  54. 54

    عمار بن یاسر

    عمار بن یاسر

    عمار بن یاسر (56 ق.ھ-37ھ) (کنیت ابو یقظان ) جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ قدیم الاسلام اور مہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کو کفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنھیں سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا، چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پر پیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یا رسول اللہ!

    43 ملاحظات (↑3 گزشتہ کل)57,37,0,42,93,174,350,93,40, 43

    7 فرق

    🔍 🗞️
  55. 55

    ڈان (اخبار)

    ڈان (اخبار)

    ڈان (DAWN) پاکستان کے مشہور انگریزی زبان کے اخبارات میں سے ایک ہے۔ یہ کاغذی صورت میں اور آن لائن پڑھا جا سکتا ہے۔

    42 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 42

    1 فرق

    🔍 🗞️
  56. 56

    اسلام آباد

    اسلام آباد

    اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔

    42 ملاحظات (↓36 گزشتہ کل)130,50,37,32,0,0,36,48,78, 42

    4 فرق

    🔍 🗞️
  57. 57

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔

    41 ملاحظات (↓23 گزشتہ کل)57,50,65,49,45,97,78,48,64, 41

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  58. 58

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔

    41 ملاحظات (↑1 گزشتہ کل)50,61,41,74,46,41,30,35,40, 41

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  59. 59

    عینا آصف

    عینا آصف

    Aina Asif (Urdu: عینا آصف; born 27 September 2008) is a Pakistani actress who works primarily in Urdu-language television. She began her acting career as a child artist after appearing in television commercials before making her acting debut in Pehli Si Muhabbat (2021). She gained wider recognition for portraying Milli in the Ramadan drama Hum Tum (2022), followed by the lead role of Qurrat-ul-Ain "Annie" in the social drama Mayi Ri (2023), which brought her broader public recognition.

    40 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 40

    1 فرق

    🔍 🗞️
  60. 60

    کوس مینار

    کوس مینار

    کوس مینار شمالی برصغیر میں جرنیلی سڑک کے ساتھ قرون وسطی کے ہندوستانی سنگ میل ہیں، جنھیں 16ویں صدی کے پشتون حکمران شیر شاہ سوری نے متعارف کرایا تھا۔ کوس مینار آگرہ سے اجمیر، آگرہ سے لاہور اور جنوب میں آگرہ سے منڈو تک شاہی راستوں کے ساتھ فاصلے کے نشانات کے طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ زیادہ تر کوس مینار اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور پنجاب میں سڑکوں کے کنارے، ریلوے کی پٹریوں، دھان کے کھیتوں اور بہت سے قصبوں اور دیہاتوں میں موجود ہیں۔

    40 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل)0,0,0,0,46,0,0,43,0, 40

    1 فرق

    🔍 🗞️
  61. 61

    شمس الحق افغانی

    شمس الحق افغانی

    شمس الحق افغانی ایک پاکستانی عالمِ دین تھے۔

    40 ملاحظات (↓13 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,53, 40

    2 فرق

    🔍 🗞️
  62. 62

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔

    40 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل)37,31,0,41,39,45,42,0,0, 40

    1 فرق

    🔍 🗞️
  63. 63

    عبد القادر جیلانی

    عبد القادر جیلانی

    شیخ عبد القادر جیلانی یا شیخ عبد القادر گیلانی (پیدائش: 17 مارچ 1078ء— وفات: 12 فروری 1166ء) جنھیں محی الدین، محبوبِ سبحانی، غوث الثقلین اور غوث الاعظم کے القابات سے بھی جانا جاتا ہے۔ جو سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔

    39 ملاحظات (↑39 گزشتہ کل)0,0,0,37,0,32,0,26,0, 39

    1 فرق

    🔍 🗞️
  64. 64

    جنگ صفین

    جنگ صفین

    جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔

    38 ملاحظات (↓1 گزشتہ کل)44,49,48,40,52,50,55,33,39, 38

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  65. 65

    جیسکا سگس ورتھ

    جیسکا سگس ورتھ

    جیسکا سگس ورتھ (انگریزی: Jessica Sigsworth) ایک ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی ہیں جن کا تعلق مملکت متحدہ سے ہے۔

    38 ملاحظات (↓13 گزشتہ کل)55,33,50,32,42,61,49,62,51, 38

    9+ فرق

    🔍 🗞️
  66. 66

    پھول

    پھول

    پھول (Flower) کچھ پودوں کے ایک حصے کا نام ہے۔ پھول پودے کی افزائش نسل کا کام کرتا ہے۔ یہ عام طور پر نر اور مادہ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  67. 67

    پریم چند

    پریم چند

    منشی پریم چند اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا گاؤں کے پٹواری اور والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور استاد پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  68. 68

    منموہن سنگھ

    منموہن سنگھ

    منموہن سنگھ (26 ستمبر 1932ء - 26 دسمبر 2024ء) ایک بھارتی سیاست دان اور سابق وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی کے بعد برطانیہ کی ممتاز آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے علم معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے آئی- ایم -ایف اور اے ڈی بی کے لیے بھی کام کیا۔ وہ 1991ء میں آسام سے راجیہ سبھا کے رکن بنے اور نرسمہا راؤ حکومت میں وزیرخزانہ بنے۔ 1999ء میں من موہن سنگھ نے لوک سبھا انتخاب لڑے لیکن ہار گئے۔ 2004ء میں کانگریس پارٹی کے اتحاد کو جب حکومت بنانے کا موقع ملا تو پارٹی سربراہ سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کا منصب قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کی رائے سے من موہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔ 2009ء میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس اور اس کی اتحادیوں کو انتخابات میں فتح ہوئی۔ اس طرح من موہن سنگھ دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ انھیں ملک میں معاشی بہتری کا روح رواں مانا جاتا ہے۔ ان کا شمار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے معتمدوں میں ہوتا ہے۔

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  69. 69

    ہجرت حبشہ

    ہجرت حبشہ

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت اسلام سے جب دینِ حق روز بروز پھلنے پھولنے لگا اور حمزہ اور عمر رضی اللہ عنہم اجمعین جیسی جلیل القدر ہستیاں بھی ایمان لے آئیں تو اسلام کو زبردست تقویت ملی لیکن جیسے جیسے اسلام غرباء اور کمزوروں سے بڑھ کر ان معززین میں پھیلا قریش کی مخالفت اسی قدر تیز ہوتی گئی۔ اب انھوں نے غریب مسلمانوں کو مشق ستم بنایا جسے مسلمان تو اسلام کی خاطر برداشت کرتے رہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان بے گناہوں پر ظلم و ستم برداشت نہ کر سکے اور مسلمانوں کو سکون کی خاطر حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا جو ایک مسیحی ملک تھا۔ یہاں کا بادشاہ نجاشی رحمدل تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے مسلمانوں نے سکون کی خاطر نبوت کے پانچویں سال ہجرت کی جس میں 11 مرد اور 4 عورتیں شامل تھیں۔ ان میں عثمان رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ اور رقیہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ حبشہ کی طرف دو ہجرتیں ہوئیں

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل)0,0,35,0,0,0,0,0,0, 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  70. 70

    عثمان بن عفان

    عثمان بن عفان

    ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ ‏سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل)145,130,92,64,46,58,54,55,0, 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  71. 71

    سائنس

    سائنس

    سائنس ایک منظم شعبہ ہے جو فطرت، اس کے ضوابط اور معاشرے کے بارے میں قابلِ آزمائش وضاحتوں کی صورت میں علم کی تشکیل اور تنظیم کرتا ہے۔ اس کی بنیاد سائنسی طریقے پر ہے: ایک تجربی سلسلہ جس میں مشاہدات اور حقائق کو سامنے لانا، مفروضات پیدا کرنا، انھیں ثبوت سے آزمانا اور ایک نتیجے تک پہنچنا شامل ہیں۔ سائنس اس عمل اور اس سے پیدا ہونے والے علم پر محیط ہے، جسے سائنسی برادری مسلسل اعتراض کرتی، تصدیق کرتی اور منظم کرتی ہے۔

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,29,0,0, 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  72. 72

    محمد بن اسماعیل بخاری

    محمد بن اسماعیل بخاری

    محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,32,0,0,0, 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  73. 73

    سید آدم بنوری

    سید آدم بنوری

    سید معزالدین ابو عبد للہ آدم بن سید اسماعیل مشوانی (1506ء۔ 1643ء) معروف بہ قطب الاقطاب سید آدم بنوری مجدد الف ثانی کے اجل خلفاء میں سے تھے۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  74. 74

    اہل تشیع

    اہل تشیع

    اہل تشیع یا شیعیت (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت و خلافت کے قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,26,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  75. 75

    کارلائل اینڈ فنچ

    کارلائل اینڈ فنچ

    کارلائل اینڈ فنچ (انگریزی: Carlisle & Finch) ریاستہائے متحدہ امریکا کے شہر سنسیناٹی میں واقع ایک گیم صنعت ہے۔ کھلونا اس کی ایک قابل ذکر اور نمایاں پیداوار ہے۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  76. 76

    مدھیہ پردیش

    مدھیہ پردیش

    مدھیہ پردیش (ہندی: मध्य प्रदेश) بھارت کی ایک ریاست ہے۔ اس کے نام کا مطلب "وسط والی ریاست" ہے۔ اس کا دار الحکومت بھوپال ہے۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  77. 77

    ابراہیم (اسلام)

    ابراہیم (اسلام)

    ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)0,44,46,51,52,39,0,0,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  78. 78

    جنگ جمل

    جنگ جمل

    جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل)50,33,0,0,46,46,40,28,0, 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  79. 79

    جنگ آزادی ہند 1857ء

    جنگ آزادی ہند 1857ء

    جنگ آزادی ہند 1857ء جو ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ تھی اسے انگریزوں نے "جنگ غدر" کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے۔ دوم یہ کہ ان دنوں جو کارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔ جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں میں بہت سے ایسے تھے جنھوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔

    35 ملاحظات (↓12 گزشتہ کل)0,0,38,0,35,32,0,28,47, 35

    3 فرق

    🔍 🗞️
  80. 80

    خانہ کعبہ

    خانہ کعبہ

    خانہ کعبہ، کعبہ یا بیت اللہ (عربی: الكعبة المشرًفة، البيت العتيق‎ یا البيت الحرام‎) مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف رخ کرکے وہ عبادت کیا کرتے ہیں۔ یہ دین اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  81. 81

    علی ہجویری

    علی ہجویری

    ابو الحسن علی بن عثمان(پیدائش: نومبر 1009ء– وفات: 25 ستمبر 1072ء) جنھیں علی ہجویری لاہور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو امام حسن ابن علی کی براہ راست اولاد تھے۔ ان کا شجرہ نسب آٹھ پشتوں پر حضرت علی تک جاتا ہے۔ 11ویں صدی کے سنی مسلمان، غزنوی سلطنت کے صوفی، عالم دین اور مبلغ تھے، جو کشف المحجوب کی تالیف کے لیے مشہور ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ علی ہجویری نے اپنی تبلیغ کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اسلام کے پھیلاؤ میں "نمایاں" کردار ادا کیا، ایک مورخ نے انھیں "برصغیر پاک و ہند میں اسلام کو پھیلانے والی اہم ترین شخصیات میں سے ایک" کے طور پر بیان کیا۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,62,31,0, 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  82. 82

    محمد بن قاسم

    محمد بن قاسم

    محمد بن قاسم (عربی: محمد بن القاسم الثقفي) کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم تھا، جو بنو امیہ کے ایک ظالم گورنر جس نے عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عمر کو شہید کیا یعنی حجاج بن یوسف کا بھتیجا تھا۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,33,0,0,0, 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  83. 83

    کاکروچ جنتا پارٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی (انگریزی نام: Cockroach Janta Party، مختصراً CJP بمعنی ”لال بیگ عوامی پارٹی“) بھارت کی طنزیہ سیاسی تحریک ہے جس کی بنیاد 16 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے ڈالی۔ وہ سیاسی ابلاغی تزویر کار ہیں جو اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ یہ تحریک 15 مئی 2026ء کو بھارت کے موجودہ چیف جسٹس سوریا کانت کے اس بیان کے ردِ عمل میں سامنے آئی جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں کو ”کاکروچ“ اور ”سماج کے طفیلیے“ قرار دیا تھا۔ قیام کے چند ہی دنوں میں اس تحریک نے 350،000 سے زائد اندراجات اور انسٹاگرام پر 20 ملین سے زیادہ متابعین حاصل کر لیے۔ اس تحریک نے زمینی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جہاں رضاکار لال بیگ کے بھیس میں احتجاجی مظاہروں اور صفائی مہمات میں شریک ہوئے۔

    32 ملاحظات (↓28 گزشتہ کل)0,0,0,0,51,80,58,102,60, 32

    6 فرق

    🔍 🗞️
  84. 84

    زید بن حارثہ

    زید بن حارثہ

    حضور سیدنا زید بن حارثہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے۔ آپ کو بچپن میں اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے خرید لیا اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی نذر کر دیا حضرت خدیجہ نے اس غلام کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نذر کر دیا یہ درحقیقت ایک آزاد عیسائی خاندان کے لڑکے تھے۔ اس دوران آپ کے والد کو بھی آپ کی خبر پہنچ گئی۔ آپ کے والد حارث اور چچا کعبہ آپ کو لینے مکہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو منہ مانگی رقم کی پیشکش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، "اگر زید تمھارے ساتھ جانا چاہے تو میں کوئی رقم نہ لوں گا۔" زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ یہ دیکھ کر آپ کے والد خفا ہوئے اور کہا کہ تم آزادی کی زندگی کو غلامی پر ترجیع دیتے ہو زید نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ بات دیکھی کہ ان کے لیے میں باپ تو کیا کائنات چھوڑ سلتا ہوں۔ یہ سن کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زید کو لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور علان فرما دیا کہ لوگوں سن لو میں زید کو آج سے آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بناتا ہوں.اس کے بعد زید بن حارث کی بجائے زید بن محمد کہا جانے لگا۔ یہ دیکھ کر زید کے چچا اور باپ حارث بہت خوش ہوئے اور بخوشی واپس چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا برتاؤ اپنے ملازموں کے ساتھ بھی کیسا ہوتا ہوگا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے زید ہیں۔آپ تمام غزوات میں شریک تھے۔اور غزوہ مؤتہ میں شہادت نوش فرمائی۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,29,0,0, 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  85. 85

    سعد بن ابی وقاص

    سعد بن ابی وقاص

    سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فاتح ایران کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ننھیالی خاندان ہے اس لیے آپ رشتے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حمزہ بن عبدالمطلب کی والدہ آپ کی سگی پھوپھی تھیں۔ ہجرت مدینہ سے 30 برس پہلے پیدا ہوئے۔ نزول وحی کے ساتویں روز ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ترغیب دلانے پر مشرف با اسلام ہوئے۔ اور عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ خصوصی کے فرائض انجام دیے۔ ، : آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے اور خاندان قریش کے ایک بہت ہی نامور شخص ہيں جو مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔ یہ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں جبکہ ابھی ان کی عمر سترہ برس کی تھی دامن اسلام میں آگئے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ تمام معرکوں میں حاضر رہے۔ یہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کفار پر تیر چلا یا ہم لوگوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہ کر اس حال میں جہاد کیا کہ ہم لوگوں کے پاس سوائے ببول کے پتوں اور ببول کی پھلیوں کے کوئی کھانے کی چیز نہ تھی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے خاص طور پر ان کے لیے یہ دعا فرمائی: ”اَللّٰھُمَّ سَدِّدْ سَھْمَہٗ وَاَجِبْ دَعْوَتَہٗ ” (اے اللہ! عزوجل ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اور ان کی دعا کو مقبول فرما) خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی یہ فارس اور روم کے جہادوں میں سپہ سالار رہے امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا پھر اس عہدہ سے معزول کر دیا اور یہ برابر جہادوں میں کفار سے کبھی سپاہی بن کر اور کبھی اسلامی لشکر کے سپہ سالار بن کر لڑتے رہے۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر المؤمنین ہوئے تو انھوں نے دوبارہ انھیں کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ یہ مدینہ منورہ کے قریب مقام ”عقیق ”میں اپنا ایک گھر بنا کر اس میں رہتے تھے اور 55ھ میں جبکہ ان کی عمر شریف 75 پچھتّر برس کی تھی اسی مکان کے اندر وفات پائی۔ آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں میرا اون کا وہ پراناجبہ ضرور پہنایا جائے جس کو پہن کر میں نے جنگ بدرمیں کفار سے جہاد کیا تھا چنانچہ وہ جبہ آپ کے کفن میں شامل کیا گیا۔ لوگ فرط عقیدت سے آپ کے جنازے کو کندھوں پر اٹھا کر مقام ”عقیق” سے مدینہ منورہ لائے اور حاکم مدینہ مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کی قبر منور بنائی۔ .

    32 ملاحظات (↓11 گزشتہ کل)36,40,0,0,0,0,31,29,43, 32

    4 فرق

    🔍 🗞️
  86. 86

    مرزا غالب

    مرزا غالب

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,35,0,0,41,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  87. 87

    عیسی ابن مریم

    عیسی ابن مریم

    عیسیٰ ابن مریم ( عربی: عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ) ' تورات کے مطابق عیسیٰ ابن مریم ' کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے خدا کے آخری نبی اور رسول ہیں اور بنی اسرائیل ( Banī Isra'īl ) کی رہنمائی کے لیے انجیل نامی کتاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے مسیحا ہیں ۔ قرآن میں، یسوع کو المسیح ( al-Masīḥ ) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جو معجزانہ طور پر ایک کنواری سے پیدا ہوئے، اپنے شاگردوں کے ساتھ معجزات دیکھاتے تھے،اور اللہ نے معجزانہ طور پر ان کو بچایا زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ یہودی مذہبی مُقتَدِرَہ نے مسترد کر دیا ہے، لیکن صلیب پر مرنے کے طور پر نہیں (اور نہ دوبارہ زندہ کیے جانے پر) ، بلکہ جیسا کہ خدا نے ان کو معجزانہ طور پر بچایا اور آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ قرآن واضح طور پر اور بار بار اس خیال کو مسترد کرتا ہے کہ عیسیٰ کو ( یہودی یا رومی ) حکام نے نہ قتل کیا تھا اور نہ وہ مصلوب کیے گئے تھے۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عظیم ترین نبیوں میں شمار کیا ہے اور ان کا ذکر مختلف القابات سے کیا ہے۔ عیسیٰ کی نبوت سے پہلے یحییٰ علیہ السلام کی نبوت ہے اور محمد ﷺ کی جانشینی ہے، جن کے بعد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ عیسیٰ نے احمد کا نام استعمال کرکے پیشین گوئی کی تھی۔ یسوع مسیح کے بارے میں اسلام میں مختلف قسم کی متغیر تشریحات موجود ہیں۔ قرآن کی مرکزی دھارے کی تشریحات میں آرتھوڈوکس عیسائی فلسفہ الہی ہائپوسٹاسس کے بارے میں کرسٹولوجی کے نظریاتی تصورات کا فقدان ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کے لیے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مسیح کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یسوع مسیح کی الوہیت کے نظریے کے مسیحی نقطہ نظر میں ایک یہودی مسیحی خدا کے اوتار ہونے کے ناطے انسان یا انسانی جسم میں خدا کے لفظی بیٹے کے طور پر، جیسا کہ یہ ظاہری طور پر متعدد آیات میں یسوع کے خدا کے طور پر الہامی انسانیت کے نظریے کی تردید کرتا ہے اور اس بات پر بھی تاکید کرتا ہے کہ یسوع مسیح نے ذاتی طور پر خدا ( خدا باپ ) ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصل پیغام ( taḥrīf ) میں ان کے زندہ ہونے کے بعد تبدیلی کی گئی تھی۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توحید پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں تمام انبیا کی طرح، عیسیٰ کو بھی رسول کہا جاتا ہے، جیسا کہ انھوں نے تبلیغ کی کہ ان کے پیروکاروں کو ' صراط المستقیم ' اختیار کرنا چاہیے۔ اسلامی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت سارے معجزات سے منسوب کیا گیا ہے۔ روایتی اسلامی تعلیمات میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عیسیٰ مسیح امام مہدی کے ساتھ دوسری آمد میں مسیح الدجال ('جھوٹا مسیح') کو قتل کرنے کے لیے واپس آئیں گے، جس کے بعد قدیم قبائل یاجوج ماجوج ( Yaʾjūj Maʾjūj ) کے ساتھ۔ منتشر ہو جائیں گے.

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  88. 88

    نوڈ جے ایس

    نوڈ جے ایس

    نوڈ ڈاٹ جے ایس (انگریزی: Node.js) ایک آزاد مصدر کراس پلیٹ فارم رن ٹائم انوائرنمنٹ ہے جو سرور سائڈ اور نیٹ ورکنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر یہ سرور سائیڈ اطلاقیوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نوڈ ڈاٹ جے ایس اسکرپٹنگ زبان کے طور پر جاوا سکرپٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں ابتدائی طور پر ایک ایچ ٹی ٹی پی سرور کی لائبریری شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کسی بیرونی سافٹ ویئر کا استعمال کیے بغیر بھی ویب سرور کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس کے ذریعے ویب سرور کے کاموں پر زیادہ کنٹرول ممکن ہے۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,36,0,26,0, 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  89. 89

    آدم (اسلام)

    آدم (اسلام)

    حضرت آدم علیہ السلام ، اللہ کے اولین پیغمبر ہیں۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب ۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اس رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے : اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔ اس لیے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے (روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) ۔ اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کے لیے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبرائیل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کیے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمۃ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔ اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔ مجاہد بن جبیر نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نام سکھائے ۔ مجاہد نے مزید کہا:ہر جانور ، پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔ سعید بن جبیر ، قتادہ بن دعامہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم!

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,31,0,37,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  90. 90

    سانچو گارسیا، کاؤنٹ قشتالہ

    سانچو گارسیا، کاؤنٹ قشتالہ

    سانچو گارسیا (متوفی 1017ء) 995ء سے اپنی وفات تک قشتالہ اور آلابہ کے کاؤنٹ رہے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  91. 91

    آئین پاکستان

    آئین پاکستان

    پاکستان کا آئین، جسے 1973 کا آئین بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہے۔ یہ دستاویز پاکستان کے قانون، سیاسی ثقافت اور نظام کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ ریاست کا خاکہ، آبادی کے بنیادی حقوق، ریاست کے قوانین اور احکامات اور اداروں اور مسلح افواج کے ڈھانچے اور قیام کو بیان کرتی ہے۔ یہ ذو الفقار علی بھٹو کی حکومت نے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی اضافی مدد سے تیار کیا تھا اور اسے 10 اپریل کو 5ویں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا اور 14 اگست 1973 کو توثیق کی گئی۔ پہلے تین ابواب حکومت کی تین شاخوں کے قواعد، مینڈیٹ اور علاحدہ اختیارات قائم کرتے ہیں: ایک دو ایوانی مقننہ؛ ایک ایگزیکٹو برانچ جسے وزیر اعظم بطور چیف ایگزیکٹو چلاتے ہیں؛ اور ایک اعلیٰ وفاقی عدلیہ جس کی سربراہی سپریم کورٹ کرتی ہے۔ آئین پاکستان کے صدر کو ریاست کے اتحاد کی نمائندگی کرنے والے رسمی سربراہ مملکت کے طور پر نامزد کرتا ہے۔ آئین کے پہلے چھ مضامین سیاسی نظام کو وفاقی پارلیمانی جمہوریہ کے نظام کے طور پر بیان کرتے ہیں؛ اور اسلام کو اس کا ریاستی مذہب بھی قرار دیتے ہیں۔ آئین میں قرآن اور سنت میں موجود اسلامی احکام کی تعمیل کے لیے قانونی نظام کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,31,34,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  92. 92

    عربی زبان

    عربی زبان

    عربی (عربی: العربية) بلند میں سب سے بڑی زبان ہے اور عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت ملتی ہے۔ جدید عری یا فصیح عربی کی تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ فصیح عربی قدیم زمانے سے ہی بہت ترقی یافتہ شکل میں تھی اور قرآن کی زبان ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ فصیح عربی اور بولے جانے والی عربی میں بہت فرق نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے بولے جانے والی اردو اور ادبی اردو میں فرق ہے۔ عربی زبان نے اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ تاریخ میں عربی زبان کی اہمیّت کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔

    29 ملاحظات (↓16 گزشتہ کل)0,0,34,0,0,41,0,0,45, 29

    2 فرق

    🔍 🗞️
  93. 93

    سپاہ صحابہ

    سپاہ صحابہ

    دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کا نام پہلے انجمن سپاہ صحابہ تھا۔ یہ جماعت 1944ء میں امرتسر میں قائم ہونے والی "تنظیم اہلسنت مسلم تنظیم ہے۔ جو مسلمانوں کو شعیت سے بچانے اور ناموس صحابہ کرام کے دفاع کرنے کے لیے بنایی گئی۔جو 1984ء میں دیوبندی عالم نورالحسن بخاری کی وفات کے بعد انجمن سپاہ صحابہ کے نئے نام سے 1985ء میں پاکستانی پنجاب کے شہر جھنگ میں سامنے آئی۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کو 1990ء میں شعیہ کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر شہید کر دیا ۔مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی شہید اس جماعت کے سربراہ بنے، جنھیں 1991ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید نے سپاہ صحابہ کی قیادت سنبھالی لی۔ ضیاء الرحمن فاروقی شہید 18 جنوری 1997ء کو سپاہ محمد پاکستان کے بم حملے میں شہید ہوئے۔اس کے بعد مولانا اعظم طارق شہید اس جماعت کے سربراہ بنے، جو 2003ء میں اسلام آباد میں شہید کر دیے گئے۔ سپاہ صحابہ کے اب تک کم وبیش ایک ہزار کارکن شہید کیے جا چکے ہیں جن میں سے اکثر شیعہ کے ساتھ مقابلوں میں شہید ہوئے۔ 2017ء میں اس جماعت پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی، پھر 26 جون 2018ء کو سپاہ صحابہ رضہ پاکستان سے پابندی ہٹا لی گئی۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  94. 94

    جلال الدین سیوطی

    جلال الدین سیوطی

    امام جلال الدین سیوطی (پیدائش: 2 اکتوبر 1445ء– وفات: 17 اکتوبر 1505ء) اصل نام عبد الرحمان، کنیت ابو الفضل، لقب جلال الدین اور عرف ابن کتب تھا۔ ایک مفسر، محدث، فقیہ اور مورخ تھے۔ آپ کی کثیر تصانیف ہیں، آپ کی کتب کی تعداد 500 سے زائد ہے۔ تفسیر جلالین اور تفسیر درمنثور کے علاوہ قرآنیات پر الاتقان فی علوم القرآن علما میں کافی مقبول ہے اس کے علاوہ تاریخ اسلام پر تاریخ الخلفاء مشہور ہے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  95. 95

    ابو الکلام آزاد

    ابو الکلام آزاد

    ابوالکلام محی الدین احمد آزاد (پیدائش 11 نومبر1888ء - وفات 22 فروری 1958ء) (بنگالی: আবুল কালাম মুহিয়ুদ্দিন আহমেদ আজাদ‏)

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,26,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  96. 96

    شاہ جہاں

    شاہ جہاں

    شہاب الدین محمد شاہ جہاں اول یا مرزا شہاب الدین بیگ محمد خان خرم (پیدائش: 5 جنوری 1592ء— وفات: 22 جنوری 1666ء) سلطنت مغلیہ کا پانچواں شہنشاہ تھا جس نے 1628ء سے 1658ء تک حکومت کی۔ شاہ جہاں کا عہد مغلیہ سلطنت کے عروج کا دَور تھا اور اِس دور کو عہدِ زریں بھی کہا جاتا ہے۔ اکتوبر 1627ء میں جہانگیر کی موت کے بعد شاہ جہاں نے اپنے سب سے چھوٹے بھائی شہریار مرزا کو شکست دی اور آگرہ قلعہ میں خود کو شہنشاہ کا تاج پہنایا۔ انھوں نے لال قلعہ، شاہ جہاں مسجد اور تاج محل سمیت کئی یادگاریں تعمیر کیں۔ ستمبر 1657ء میں شاہ جہاں بیمار تھا اور اس نے اپنے سب سے بڑے بیٹے دارا شکوہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ اس نامزدگی کے نتیجے میں اس کے تین بیٹوں کے درمیان جانشینی کا بحران پیدا ہوا، جس میں سے شاہ جہاں کا تیسرا بیٹا اورنگ زیب (1658–1707) فاتح بن گیا اور ولی عہد دارا شکوہ سمیت اپنے تمام زندہ بھائیوں کو پھانسی دے کر چھٹا شہنشاہ بن گیا۔ جولائی 1658ء میں شاہ جہاں کی بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد اورنگ زیب نے اپنے والد کو جولائی 1658ء سے جنوری 1666ء میں اپنی وفات تک آگرہ قلعہ میں قید کر رکھا۔ انھیں تاج محل میں اپنی بیوی کے بغل میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  97. 97

    معرکہ ردع العدوان، 2024ء

    معرکہ ردع العدوان، 2024ء

    27 نومبر 2024ء کو بشار الاسد حکومت کی مخالف افواج کے گروہوں کے ایک اتحاد، عسکری عملیات کمان جس کی قیادت ہیئت تحریر الشام (HTS) کرتی ہے اور شامی وطنی فوج (SNA) کے اندر موجود ترک حمایت یافتہ اتحادی گروہوں نے شام کے صوبہ ادلب، صوبہ حلب اور صوبہ حماہ میں حکومت نواز شامی عرب افواج (SAA) کے خلاف حملہ آور کارروائیوں کے سلسلہ کا آغاز کیا۔ اس عملیہ (آپریشن) کو تحریر الشام کی جانب سے ردع العدوان (جارحیت کا مقابلہ) کا نام دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ مغربی حلب کے دیہی علاقوں میں شہریوں پر حکومت نواز شامی عرب فوج کی بڑھتی ہوئی گولہ باری کے جواب میں شروع کیا گیا ہے۔ شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد حکومت کی مخالف افواج نے مارچ 2020ء کو ادلب میں جنگ بندی کے بعد پہلی بار اس عسکری حملے کی مہم کا آغاز کیا۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  98. 98

    ابو حنیفہ

    ابو حنیفہ

    نعمان ابن ثابت بن زوطا بن مرزبان (پیدائش: 5 ستمبر 699ء– وفات: 14 جون 767ء) (فارسی: ابوحنیفه،عربی: نعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان)، آپ کے دادا زوطی کا کوفہ میں خلیفہ راشد سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے قریبی تعلق تھا۔ عام طور پر آپکو امام ابو حنیفہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ سنی حنفی فقہ (اسلامی فقہ) کے بانی تھے۔ آپ ایک تابعی، مسلمان عالم دین، مجتہد، فقیہ اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ زیدی شیعہ مسلمانوں کی طرف سے بھی آپ کو ایک معروف اسلامی عالم دین اور شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں عام طور پر "امام اعظم" کہا جاتا ہے۔ مشہور اقوال : جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے (رد المختار حاشیہ از در مختار جلد 1 صفحہ 68) وروي عن أمام أبِي يوسف أنه قال سمعت أمام أبا حنيفة يقول: سيّدنا عليُّ بن ابي طالب كرم اللّٰه وجهه حُجَّتُنا عند اللّٰه يوم القيامة ولولا علي ما عَلِمنا كيف قتالُ أهلِ البغي أو كيف نقاتل أهلَ قبلة. امام اعظم ابو حنیفہ کے خاص شاگرد امام ابو یوسف بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے ہم سے فرمایا قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارا وسیلہ حضرت علی ہیں اور اگر حضرت علی نہ ہوتے تو ہمیں معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ اہل قبلہ باغیوں سے جنگ کیسے کی جاتی ہے .

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل)0,34,0,30,0,0,32,34,0, 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  99. 99

    عائشہ بنت ابی بکر

    عائشہ بنت ابی بکر

    سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    28 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل)0,0,0,0,36,0,0,31,0, 28

    1 فرق

    🔍 🗞️
  100. 100

    فلپائن امیوزمنٹ اینڈ گیمنگ کارپوریشن

    فلپائن امیوزمنٹ اینڈ گیمنگ کارپوریشن

    فلپائن امیوزمنٹ اینڈ گیمنگ کارپوریشن (انگریزی: Philippine Amusement and Gaming Corporation) فلپائن کے شہر پاسای میں واقع ایک جوا ہے۔ اس کا قیام سنہ 1977ء میں عمل میں آیا۔

    28 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل)0,0,0,0,0,0,0,0,0, 28

    1 فرق

    🔍 🗞️