اردو ویکیپیڈیا Top 100

اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔

  1. 1

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت

    یوم آزادی بھارت میں ہر سال 15 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سنہ 1947 میں اسی تاریخ کو ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد مملکت متحدہ کے استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے قانون آزادی ہند 1947ء کا بل منظور کر کے قانون سازی کا اختیار مجلس دستور ساز کو سونپ دیا تھا۔ یہ آزادی تحریک آزادی ہند کا نتیجہ تھی جس کے تحت انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں پورے ہندوستان میں تحریک عدم تشدد اور سول نافرمانی میں عوام نے حصہ لیا اور اس جدوجہد میں ہر کس و ناکس نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کا واقعہ بھی پیش آیا اور برطانوی ہند کو مذہبی بنیادوں پر دو ڈومینین میں تقسیم کر دیا گیا؛ بھارت ڈومینین اور پاکستان ڈومنین۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں دونوں طرف خطرناک مذہبی فسادات ہوئے جن میں تقریباً 1.5 کروڑ لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوئے۔ 15 اگست سنہ 1947ی کو بھارت کے وزیر اعظم بھارت جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر بھارت کا نیا پرچم لہرایا۔ اسی دن ہر سال بھارت کا وزیر اعظم بھارتی پرچم لہراتا ہے اور ملک کو خطاب کرتا ہے۔

    909 ملاحظات (↑909 گزشتہ کل), 909

    1 فرق

    🔍 🗞️
  2. 2

    سکس ویز ٹو سنڈے (فلم)

    سکس ویز ٹو سنڈے (فلم)

    سکس ویز ٹو سنڈے (انگریزی: Six Ways to Sunday)

    613 ملاحظات (↑613 گزشتہ کل), 613

    1 فرق

    🔍 🗞️
  3. 3

    سیکسی (ناول)

    سیکسی (ناول)

    سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔

    535 ملاحظات (↑535 گزشتہ کل), 535

    1 فرق

    🔍 🗞️
  4. 4

    جنگ آزادی ہند 1857ء

    جنگ آزادی ہند 1857ء

    جنگ آزادی ہند 1857ء جو ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ تھی اسے انگریزوں نے "جنگ غدر" کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے۔ دوم یہ کہ ان دنوں جو کارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔ جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں میں بہت سے ایسے تھے جنھوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔

    275 ملاحظات (↑275 گزشتہ کل), 275

    1 فرق

    🔍 🗞️
  5. 5

    بندے ماترم

    بندے ماترم

    بَنْدے ماتْرَم (بنگالی: বন্দে মাতরম্ دیوناگری: वन्दे मातरम्، لفظاً "اے مادر وطن میں سرجھکائے ہاتھ جوڑے کھڑا ہو کر تیری تعظیم بجا لاتا ہوں") ایک نظم ہے جو کے بنگالی زبان کے مصنف بنکم چندرا چٹوپادھیائے کی ناول آنند مٹھ سے لی گئی ہے۔ یہ 1882 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ بنگالی اور سنسکرت زبان میں لکھی گئی تھی۔ یہ مادر وطن کو مذہب کا درجہ دیتی ہے۔ اسے تحریک آزادی ہند میں خوب پڑھا گیا اور پہلی دفعہ رابندر ناتھ ٹھاکُر نے 1896ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں اسے گایا۔

    151 ملاحظات (↑151 گزشتہ کل), 151

    1 فرق

    🔍 🗞️
  6. 6

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیه راجعون

    انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔

    139 ملاحظات (↑139 گزشتہ کل), 139

    1 فرق

    🔍 🗞️
  7. 7

    جن گن من

    جن گن من

    جن گن من بھارت کا قومی ترانہ ہے، جو بنگالی زبان میں تھا۔ پھر اس کو سنسکرت کا لہجہ دے کر سنوارا گیا۔ اس کے شاعر نوبل انعام یافتہ رابندرناتھ ٹیگور ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کے 1911ء اجلاس میں یہ پہلی دفعہ گایا گیا۔ 24 جنوری، 1950ء کو بھارت کی قانون ساز کمیٹی نے سرکاری طور پر اس کی منظوری دی اور یہ نظم، بھارت کا قومی ترانہ ہو گئی۔

    132 ملاحظات (↑132 گزشتہ کل), 132

    1 فرق

    🔍 🗞️
  8. 8

    جنگ آزادی کے چند ممتاز قائدین

    جنگ آزادی کے چند ممتاز قائدین

    ہندوستان کی جنگ آزادی میں علماے اسلام نے اہم کردار ادا کیا۔ انگریزوں کے خلاف سنہ ١٨5٧ء کو جامع مسجد دہلی میں فتواے جہاد دینے والے مجاہد اعظم علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ ایک عالم دین ہی تھے، اس فتوے پر اس وقت کے جيد علما مثلا صدر الصدور مفتی صدر الدین آزردہ، علامہ فیض احمد بدایونی اور مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی علیہم الرحمہ وغیرہ نے دست خط ثبت کیے۔ جب اودھ میں بیگم حضرت محل نے حکومت کی بازیافت کے لیے تحریک انقلاب کا پرچم بلند کیا اور انگریزی اقتدار کے خلاف مجاہدین آزادی کو منظم کیا تو علامہ بھی شریک ہوئے، اس تحریک کو کامیابیوں سے ہم كنار کرنے کے لیے مفید مشورے دیے اور بیگم حضرت محل کی کونسل کے اہم ركن مقرر ہوئے۔ آپ نے انگریزوں کے خلاف جو فتواے جہاد دیا تھا اس کی وجہ سے آپ پر مقدمہ چلا اور آپ کو کالا پانی کی سزا ہوئی اور آپ جزیرۂ انڈمان بھیج دیے گئے اور وہیں سنہ ١٨٦١ء میں آپ کا وصال ہوا۔

    127 ملاحظات (↑127 گزشتہ کل), 127

    1 فرق

    🔍 🗞️
  9. 9

    بھارت کا پرچم

    بھارت کا پرچم

    بھارت کا قومی پرچم تین مختلف رنگوں کی افقی مستطیل پٹیوں پر مشتمل ہے، جو زعفرانی، سفید اور سبز رنگوں کی ہیں۔ اس پرچم کے درمیان میں نیلے رنگ کا اشوک چکر ہے جو وسطی سفید پٹی پر نظر آتا ہے۔ اس پرچم کو ڈومنین بھارت کے اجلاس مورخہ 22 جولائی، 1947ء کے موقع پر اختیار کیا گیا اور بعد ازاں جمہوریہ بھارت کے قومی پرچم کے طور پر اسے برقرار رکھا گیا۔ بھارت میں لفظ ترنگا (ہندی: तिरंगा) سے مراد ہمیشہ اسی پرچم کو لیا جاتا ہے۔ یہ پرچم سوراج کے جھنڈے سے مشابہت رکھتا ہے جو انڈین نیشنل کانگریس کا جھنڈا تھا اور اس کے خالق پنگلی ونکیا تھے

    126 ملاحظات (↑126 گزشتہ کل), 126

    1 فرق

    🔍 🗞️
  10. 10

    48 کوس پریکراما

    48 کوس پریکراما

    48 کوس پریکراما (انگریزی: 48 kos parikrama)

    122 ملاحظات (↑122 گزشتہ کل), 122

    1 فرق

    🔍 🗞️
  11. 11

    محمد علی جناح

    محمد علی جناح

    محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

    115 ملاحظات (↑115 گزشتہ کل), 115

    1 فرق

    🔍 🗞️
  12. 12

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا

    سیکسی کورا (انگریزی: Sexy Cora) ایک اگزوٹک رقاصہ، ریالٹی ٹی وی شریک، فحش اداکارہ، فلمی اداکارہ، ماڈل اور گلو کار تھیں جن کا تعلق جرمنی سے تھا۔

    114 ملاحظات (↑114 گزشتہ کل), 114

    1 فرق

    🔍 🗞️
  13. 13

    محمد بن عبد اللہ

    محمد بن عبد اللہ

    ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔

    104 ملاحظات (↑104 گزشتہ کل), 104

    1 فرق

    🔍 🗞️
  14. 14

    بہادر شاہ ظفر

    بہادر شاہ ظفر

    1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے وقت بہادر شاہ ظفر 82 سال کے تھے جب ان کے چار بچوں کا سر قلم کرکے ان کے سامنے انگریز تھال میں سجا کر ان کے سامنے تحفے کی شکل میں لائے تھے۔ میجر ہڈسن نے ان کے چاروں لڑکوں مرزا غلام، مرزا خضر سلطان، مرزا ابوبکر اور مرزا عبد اللہ کوبھی قید کر لیا، میجر ہڈسن نے چاروں صاحبزادوں کا سر کاٹا اور ان کا گرم خون چلو سے پی کر ہندوستان کو آزاد کرنے کی چاہ رکھنے والوں سے انگریزوں نے جنگ اوربغاوت کوجاری رکھنے کا خطرناک وحشیانہ عہد کو جاری رکھا۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کردرد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد شہزادوں کے دھڑ کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ بہادر شاہ ظفر نے انگریزوں کی داستان کے لیے 1857ء کی پہلی ہندوستانی جنگ کی اگوائی کی، انگریز سیناپتی نے انھیں دھوکے سے قتل کرنے کے لیے بلوایا اور گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا۔

    91 ملاحظات (↑91 گزشتہ کل), 91

    1 فرق

    🔍 🗞️
  15. 15

    پاکستان

    پاکستان

    پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔

    89 ملاحظات (↑89 گزشتہ کل), 89

    1 فرق

    🔍 🗞️
  16. 16

    تحریک ریشمی رومال

    تحریک ریشمی رومال

    1914ء میں عالمی جنگ چھڑ جانے کے بعد محمود حسن دیوبندی نے محسوس کیا کہ وقت قریب آگیاہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جنگ شروع کی جا سکتی ہے۔ شیخ الہند نے محسوس کرلیاتھا کہ ہندوستانی عوام اور مشرقِ وسطی کے ممالک خصوصاًافغانستان، ایران اور خلافت عثمانیہ کو متحد کیے بغیر برطانوی حکومت سے ایشیا کو آزاد نہیں کرایا جا سکتا ہے۔ اس وقت خلافت عثمانیہ مشرقی وسطی کے وقار کی محافظ سمجھی جاتی تھی اور ترکی ہی برطانیہ، اٹلی، فرانس، یونان اور روس کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا تھا؛ اس لیے آپ نے مولانا عبیداللہ سندھی کو افغانستان جانے کا حکم دیا اورخود حجاز و خلافت عثمانیہ کا سفر کیا۔

    86 ملاحظات (↑86 گزشتہ کل), 86

    1 فرق

    🔍 🗞️
  17. 17

    فضل حق خیر آبادی

    فضل حق خیر آبادی

    جنگ آزادی ہند 1857ء علامہ فضل حق شہید (1797ء تا 20 اگست 1861ء) بن مولانا فضل امام خیر آبادی مسلم رہنمائے جنگ علمائے اہل سنت میں سے تھے۔ فضل حق خیر آبادی 1857ء کی جنگ آزادی کے روح رواں تھے۔ وہ ایک فلسفی، ایک شاعر، ایک مذہبی عالم تھے، لیکن ان کے شہرت کی بنیادی وجہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں انگریز قبضہ آوروں کے خلاف جہاد کا فتوٰی بنا۔

    83 ملاحظات (↑83 گزشتہ کل), 83

    1 فرق

    🔍 🗞️
  18. 18

    یوم آزادی پاکستان

    یوم آزادی پاکستان

    یومِ آزادی، جو ہر سال 14 اگست کو منایا جاتا ہے، پاکستان میں ایک قومی تعطیل ہے۔ یہ دن اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور 14 اور 15 اگست 1947 کے درمیان برطانوی راج کے خاتمے کے بعد ایک خود مختار ریاست قرار پایا. آزادی کے وقت، پاکستان نے بادشاہ جارج ششم کو برقرار رکھا اور 1952 کے بعد ملکہ الزبتھ دوم کو ریاست کا سربراہ رکھا، یہاں تک کہ 1956 میں جمہوریہ میں تبدیل ہو گیا۔ یہ قوم پاکستان تحریک کے نتیجے میں وجود میں آئی، جس کا مقصد برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں میں ایک آزاد مسلم ریاست کا قیام تھا. یہ تحریک آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں محمد علی جناح کی سربراہی میں چلائی گئی۔ یہ واقعہ انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ 1947 کے تحت پیش آیا جس کے تحت برطانوی راج نے ڈومینین آف پاکستان کو آزادی دی، جس میں مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) اور مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) شامل تھے۔ اس سال آزادی کا دن اسلامی کیلنڈر کے 27 رمضان کو آیا، جس کی شام کو لیلتہ القدر کی پانچ راتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب اسلام آباد میں ہوتی ہے، جہاں صدارتی اور پارلیمانی عمارتوں پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد قومی ترانہ اور رہنماؤں کی براہِ راست نشر کی جانے والی تقاریر ہوتی ہیں۔ دن کی عام تقریبات اور جشن میں پرچم کشائی کی تقریبات، پریڈ، ثقافتی پروگرام اور قومی نغمے شامل ہیں۔ اس دن کئی ایوارڈ تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں اور پاکستانی اپنے گھروں پر یا اپنی گاڑیوں اور لباس پر قومی پرچم لہراتے ہیں یا نمایاں طور پر دکھاتے ہیں.

    80 ملاحظات (↑80 گزشتہ کل), 80

    1 فرق

    🔍 🗞️
  19. 19

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی یا برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانوی شرق الہند کمپنی جسے انگریزی (British East India Company) کہا جاتا ہے، جزائر شرق الہند میں کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے تشکیل دیا گیا ایک تجارتی ادارہ تھا تاہم بعد ازاں اس نے برصغیر میں کاروبار کے علاوہ تخت و تاج پر نظریں مرکوز کر لیں اور یہاں برطانیہ کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ 1857ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں کمپنی کا راج تھا۔ اس کے بعد ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔

    79 ملاحظات (↑79 گزشتہ کل), 79

    1 فرق

    🔍 🗞️
  20. 20

    تمغۂ امتیاز (عسکری اور سول)

    تمغۂ امتیاز (عسکری اور سول)

    تمغۂ امتیاز (انگریزی نام: Medal of Excellence)، پاکستان کا ایک ریاستی منظم اعزاز ہے۔ یہ پاکستان میں کسی بھی شہری کو ان کی کامیابیوں کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔

    76 ملاحظات (↑76 گزشتہ کل), 76

    1 فرق

    🔍 🗞️
  21. 21

    اوشابتی یویا

    اوشابتی یویا

    اوشابتی یویا ان تدفینی مجسموں کا مجموعہ ہے جنھیں خاص طور پر یویا کے لیے بنایا گیا تھا۔ یویا اٹھارہویں شاہی خاندان کے ایک اعلیٰ عہدے دار اور ملکہ تی کے والد تھے، جو فرعون آمنحتپ سوم کی اہلیہ تھیں۔ اس طرح یویا اخناتون کے نانا اور توت عنخ آمون کے نانا تھے۔ یہ مجموعہ ماہرِ آثارِ قدیمہ تھیوڈور ایم.

    74 ملاحظات (↑74 گزشتہ کل), 74

    1 فرق

    🔍 🗞️
  22. 22

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس

    ایرا سیکس (انگریزی: Ira Sachs) ایک فلم ساز، فلم مصنف، فلم ہدایت کار، مصنف اور منظر نویس ہیں جن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکا سے ہے۔

    71 ملاحظات (↑71 گزشتہ کل), 71

    1 فرق

    🔍 🗞️
  23. 23

    محمد علی جوہر

    محمد علی جوہر

    محمد علی جوہر (10 دسمبر 1878ء - 4 جنوری 1931ء) ، تحریک آزادی کے کارکن، انڈین نیشنل کانگریس کے ممتاز رکن، صحافی اور شاعر تھے۔ وہ تحریک خلافت کے سرکردہ شخصیت اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔

    71 ملاحظات (↑71 گزشتہ کل), 71

    1 فرق

    🔍 🗞️
  24. 24

    سارے جہاں سے اچھا (نظم)

    سارے جہاں سے اچھا (نظم)

    سارے جہاں سے اچھا یا ترانۂ ہندی اردو زبان میں لکھی گئی ایک نظم ہے جو تحریک آزادی کے دوران میں برطانوی راج کے خلاف احتجاج کی علامت بنی اور جسے آج بھی عقیدت کے گیت کے طور پر ہندوستان میں گایا جاتا ہے۔ اسے غیر رسمی طور پر بھارت کے قومی گیت کا درجہ حاصل ہے۔ اس نظم کو مشہور شاعر محمد اقبال نے 1904ء میں لکھا تھا جو ہفت روزی اتحاد میں 16 اگست 1904ء کو شائع ہوئی۔ اور سب سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھ کر سنایا تھا۔ یہ اقبال کے پہلے مجموعۂ کلام بانگ درا میں شامل ہے۔ اس وقت اقبال لاہور کے گورنمنٹ کالج لاہور میں استاد تھے۔ انھیں لالہ ہردیال نے ایک اجلاس کی صدارت کرنے کی دعوت دی۔ اقبال نے تقریر کرنے کی بجائے یہ نظم پورے جوش سے گاكر سنائی۔ یہ نظم ہندوستان کی تعریف میں لکھی گئی ہے اور الگ الگ مذاہب کے لوگوں کے درمیان میں بھائی چارے کو بڑھاوا دیتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں ستار نواز پنڈت روی شنکر نے اسے سُر سے آہنگ کر دیا۔ جب اندرا گاندھی نے بھارت کے پہلے خلا باز راکیش شرما سے پوچھا کہ خلا سے بھارت کیسا دکھائی دیتا ہے، تو شرما نے اس نظم کا پہلا مصرع سنایا۔

    67 ملاحظات (↑67 گزشتہ کل), 67

    1 فرق

    🔍 🗞️
  25. 25

    ٹیپو سلطان

    ٹیپو سلطان

    ٹیپو سلطان (پیدائش: سلطان فتح علی صاحب ٹیپو: 20 نومبر، 1750ء - وفات:4 مئی، 1799ء) شیرِ میسور سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، جنھیں میسور کا شیر بھی کہا جاتا ہے , ریاست میسور کے حکمران تھے۔ ہندوستان کے اصلاح و حریت پسندحکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد تھے۔ انھوں نے اپنی حکمرانی کے دوران متعدد انتظامی اختراعات متعارف کروائیں، جن میں ایک نیا سکوں کا نظام اور کیلنڈر اور ایک نیا زمینی محصول کا نظام شامل تھا، جس کی وجہ سے میسور کی ریشم کی صنعت نے ترقی کا آغاز کیا۔ انھوں نے میسوری راکٹ اور فوجی دستہ فتح المجاہدین کو قائم کیا۔ انھوں نے اینگلو میسور جنگوں کے دوران برطانوی افواج اور ان کے اتحادیوں کی پیش قدمی کے خلاف راکٹوں کو استعمال کیا۔

    65 ملاحظات (↑65 گزشتہ کل), 65

    1 فرق

    🔍 🗞️
  26. 26

    نادرا

    نادرا

    نادرا (انگریزی: NADRA) ( جو National Database & Registration Authority کا مخفف ہے) حکومت پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہے جس کا آغاز 2000ء میں کیا گیا۔ اس ادارے کا کام عوام کی رجسٹریشن کرنا اور ان کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنا ہے۔

    64 ملاحظات (↑64 گزشتہ کل), 64

    1 فرق

    🔍 🗞️
  27. 27

    سید کفایت علی کافی

    سید کفایت علی کافی

    مولانا سید کفایت علی کافی مرادآبادی مجاہدِ جنگِ آزادی 1857ء نگینہ ضلع بجنور کے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔

    62 ملاحظات (↑62 گزشتہ کل), 62

    1 فرق

    🔍 🗞️
  28. 28

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ

    میا خلیفہ (پیدائش: 10 فروری 1993ء) جو میا کالیستا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، لبنانی نزاد امریکی سوشل میڈیا شخصیت، کھیلوں کی مبصر اور ویب کیم ماڈل ہے۔ میا 2014ء سے 2015ء تک پورنوگرافک اداکارہ رہی۔

    61 ملاحظات (↑61 گزشتہ کل), 61

    1 فرق

    🔍 🗞️
  29. 29

    چار سلطنتوں کا عقیدہ

    چار سلطنتوں کا عقیدہ

    چار سلطنتوں کا عقیدہ بنیادی طور پر قرونِ وسطیٰ کی مسیحی تشریحات میں کتابِ دانیال کے ابواب 2 اور 7 کی دو تمثیلات کی تشریح ہے۔ ان ابواب میں دانیالؑ یا تو بابلی بادشاہ نبوکدنضر دوم کے مستقبل سے متعلق خواب کی تعبیر بیان کرتے ہیں یا خود ایک الہامی رؤیا دیکھتے ہیں جس میں اس خواب کا مفہوم ظاہر کیا جاتا ہے۔

    59 ملاحظات (↑59 گزشتہ کل), 59

    1 فرق

    🔍 🗞️
  30. 30

    عمر بن خطاب

    عمر بن خطاب

    ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

    59 ملاحظات (↑59 گزشتہ کل), 59

    1 فرق

    🔍 🗞️
  31. 31

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ زہرا

    فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔

    58 ملاحظات (↑58 گزشتہ کل), 58

    1 فرق

    🔍 🗞️
  32. 32

    پاکستان کا پرچم

    پاکستان کا پرچم

    پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔سبز رنگ اسلام اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور الم کو ظاہر کرنا ہے۔کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′، 18′+12′، 10′+6-2/3′، 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لیے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے۔ پاکستانی پرچم کو پاکستانی آئین ساز اسمبلی نے 11 اگست 1947ء کو آزادی سے 3 دن قبل اپنایا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان ایک آزاد ریاست بنا تبھی اسے ڈومنین پاکستان کا قومی پرچم تسلیم کر لیا گیا۔

    54 ملاحظات (↑54 گزشتہ کل), 54

    1 فرق

    🔍 🗞️
  33. 33

    برصغیر اعدادی نظام

    برصغیر اعدادی نظام

    مندرجہ ذیل جدول میں اردو رقم کے نام صرف ان جگہوں پر دیے جا رہے ہیں جہاں پر وہ جدا تلفظ میں داخل ہوں یعنی درمیان میں آنے والے --- دس (ایک صفر) --- کے لاحقے کو نہیں دیا جا رہا۔

    51 ملاحظات (↑51 گزشتہ کل), 51

    1 فرق

    🔍 🗞️
  34. 34

    پاکستان کی تاریخ (1947ء - حال)

    پاکستان کی تاریخ (1947ء - حال)

    اسلامی جمہوریۂ پاکستان کی تاریخ کا آغاز 14 اگست 1947 کو ہوا، جب یہ ملک دولتِ مشترکہ کے اندر مملکتِ پاکستان کی صورت میں قائم ہوا۔ اس کا قیام تحریکِ پاکستان اور تقسیمِ ہند کے نتیجے میں عمل میں آیا۔

    49 ملاحظات (↑49 گزشتہ کل), 49

    1 فرق

    🔍 🗞️
  35. 35

    مقام نبی دانیال (ترکیہ)

    مقام نبی دانیال (ترکیہ)

    مزار دانیال (ترکی: Danyal Makamı) ترکیہ کے شہر طرسوس میں واقع ایک چھوٹا سا مذہبی و تاریخی احاطہ ہے، جس میں ایک مسجد اور ایک قبر شامل ہے۔ مقامی روایت کے مطابق یہ نبی دانیالؑ کی قبر ہے۔ بحالی کے ایک منصوبے کے دوران مسجد اور قبر کے احاطے کے تہ خانے میں رومی دور کے ایک پل کے دو محرابی حصے بھی دریافت ہوئے۔ یہ مزار ایران میں واقع نبی دانیال کے مشہور مزار کے مقابلے میں کم معروف ہے، کیونکہ مسلمانوں میں عمومی طور پر ایران والے مقام کو نبی دانیالؑ کا مزار سمجھا جاتا ہے۔

    49 ملاحظات (↑49 گزشتہ کل), 49

    1 فرق

    🔍 🗞️
  36. 36

    شاہ ولی اللہ

    شاہ ولی اللہ

    شاہ ولی اللہ (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اسلامی مفکر، محدث اور فلسفی تھے، جو مغلیہ سلطنت کے دور میں علم و دانش کا روشن مینار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی اصل روح کے مطابق اصلاح کا بیانیہ پیش کیا اور "تحریک ولی اللہی" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح، اتحاد اور روحانی بیداری تھا۔ شاہ ولی اللہ کا فلسفہ ولی اللہی اسلامی اصولوں، عقل اور اجتہاد کی بنیاد پر استوار تھا، جس میں معاشرتی بگاڑ اور فرقہ واریت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر میں اسلامی احیاء کی ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔

    48 ملاحظات (↑48 گزشتہ کل), 48

    1 فرق

    🔍 🗞️
  37. 37

    قومی شناختی کارڈ (پاکستان)

    قومی شناختی کارڈ (پاکستان)

    قومی شناختی کارڈ (CNIC) ایک 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ ہے جو پاکستان کے تمام بالغ شہریوں اور ان کے غیر مقیم ہم منصبوں کے لیے دستیاب ہے، جو رضاکارانہ طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں بائیومیٹرک ڈیٹا جیسے 10 فنگر پرنٹس، 2 آئیرس پرنٹس اور چہرے کی تصویر شامل ہیں۔ نادرا 1998ء میں وزارت داخلہ حکومت پاکستان کے تحت ایک منسلک محکمہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ مارچ 2000ء سے، نادرا نے آزادانہ طور پر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ خود مختاری کے ساتھ ایک آزاد کارپوریٹ ادارے کے طور پر کام کیا ہے۔ سی این آئی سی میں قانونی نام، جنس (مرد، عورت یا خواجہ سرا) والد کا نام (یا شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر کا نام) شناختی نشان، تاریخ پیدائش، قومی شناختی کارڈ نمبر، خاندان نمبر، موجودہ اور مستقل پتے، جاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ، دستخط، تصویر اور انگوٹھے کے نشان (فنگر پرنٹ) جیسی تفصیلات شامل ہیں۔

    48 ملاحظات (↑48 گزشتہ کل), 48

    1 فرق

    🔍 🗞️
  38. 38

    حسین احمد مدنی

    حسین احمد مدنی

    مولانا سیدحسین احمد مدنی

    48 ملاحظات (↑48 گزشتہ کل), 48

    1 فرق

    🔍 🗞️
  39. 39

    غزوہ بدر

    غزوہ بدر

    بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل), 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  40. 40

    انگریزی زبان

    انگریزی زبان

    انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل), 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  41. 41

    اردو

    اردو

    اُردُو، برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔

    46 ملاحظات (↑46 گزشتہ کل), 46

    1 فرق

    🔍 🗞️
  42. 42

    پاک بھارت تنازع 2025ء

    پاک بھارت تنازع 2025ء

    پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔

    45 ملاحظات (↑45 گزشتہ کل), 45

    1 فرق

    🔍 🗞️
  43. 43

    محمود حسن دیوبندی

    محمود حسن دیوبندی

    محمود حسن دیوبندی (معروف بہ شیخ الہند؛ 1851ء – 1920ء) ہندوستان کے ایک نامور عالم دین اور مجاہد آزادی تھے، جنھوں نے دیگر شخصیات کے ساتھ مل کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور آزادی ہند کے لیے تحریک ریشمی رومال کا آغاز کیا۔ وہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے والے پہلے طالب علم تھے۔ ان کے اساتذہ میں محمد قاسم نانوتوی اور محمود دیوبندی شامل ہیں اور وہ تصوف میں امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی کے مجاز تھے۔

    44 ملاحظات (↑44 گزشتہ کل), 44

    1 فرق

    🔍 🗞️
  44. 44

    محمد بن اسماعیل بخاری

    محمد بن اسماعیل بخاری

    محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔

    44 ملاحظات (↑44 گزشتہ کل), 44

    1 فرق

    🔍 🗞️
  45. 45

    قریشی

    قریشی

    قریشی ایک مسلمان خاندان ہے، جس سے مراد وہ شخص ہے جو قریش سے تعلق رکھتا ہو اور انکا نسب آگے چل کر صدیقی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد ہیں فاروقی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی طری مختلف صحابہ و اہل بیت کی اولادیں قریشی ہیں جس کی اولاد ہوں گے انھی سے منسوب ہوں گے شیخ قریشی ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے قریشی ہیں شیخ انکا لقب ہے جو معزز اور بزرگی کی وجہ سے دیا گیا یہ لوگ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پہلے مریدین میں سے ہیں جب وہ دعوت دین اسلام کے لیے بر صغیر میں تشریف لائے

    43 ملاحظات (↑43 گزشتہ کل), 43

    1 فرق

    🔍 🗞️
  46. 46

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا

    ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔

    43 ملاحظات (↑43 گزشتہ کل), 43

    1 فرق

    🔍 🗞️
  47. 47

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ کی فہرست

    صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔

    43 ملاحظات (↑43 گزشتہ کل), 43

    1 فرق

    🔍 🗞️
  48. 48

    شاہ عبد العزیز دہلوی

    شاہ عبد العزیز دہلوی

    شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (25 رمضان المبارک 1159ھ— 7 شوال 1239ھ / 20 ستمبر 1746ء— 5 جون 1823ء) جو سراج الہند کے لقب سے مشہور ہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فرزندِ اکبر تھے۔ ان کے جد محترم شاہ عبد الرحیم تھے۔ شاہ عبد العزیز کو علم کی وسعت کے ساتھ استحضار میں بھی کمال حاصل تھا۔

    42 ملاحظات (↑42 گزشتہ کل), 42

    1 فرق

    🔍 🗞️
  49. 49

    لال قلعہ

    لال قلعہ

    لال قلعہ، جسے Red Fort بھی کہا جاتا ہے، ایک تاریخی مغلیہ سلطنت کا قلعہ ہے جو دہلی، بھارت میں واقع ہے۔ یہ مغلیہ حکمرانوں کی مرکزی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ شاہ جہاں نے 12 مئی 1639ء کو اس قلعے کی تعمیر کا حکم دیا، جب انھوں نے آگرہ سے دار الحکومت کو دہلی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اصل میں سرخ اور سفید رنگوں سے مزین، اس قلعے کا نقشہ استاد احمد لاہوری نے تیار کیا، جو تاج محل کے معمار بھی تھے۔ لال قلعہ مغلیہ طرز تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے، جو شاہ جہاں کے دور میں ایرانی فنِ تعمیر اور مقامی بھارتی تعمیراتی روایات کا امتزاج پیش کرتا ہے۔

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل), 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  50. 50

    احمد رضا خان

    احمد رضا خان

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل), 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  51. 51

    حضرت فاطمہ کے گھر پر حملہ

    حضرت فاطمہ کے گھر پر حملہ

    حضرت فاطمہ کے گھر پر حملہ اس پرتشدد واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسلامی پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر پر کیا گیا۔ یہ حملہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد 11 ہجری (632 ع.ز) میں ہوا بتایا جاتا ہے اور اس کی تحریک ان کے صحابی حضرت ابوبکر کی طرف سے دی گئی تھی، جبکہ حضرت عمر نے اس کی قیادت کی۔ اس حملے کا مقصد حضرت فاطمہ کے شوہر حضرت علی کو گرفتار کرنا تھا، جنھوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت سے انکار کر رکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حملے میں حضرت فاطمہ کو چوٹیں آئیں، جن کے نتیجے میں ان کا حمل ضائع ہو گیا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد انتقال کر گئیں۔

    41 ملاحظات (↑41 گزشتہ کل), 41

    1 فرق

    🔍 🗞️
  52. 52

    ولیم گفورڈ پالگراو

    ولیم گفورڈ پالگراو

    ولیم گیفورڈ پالگریو (William Gifford Palgrave، 1826ء–1888ء) ایک انگریز ماہرِ لسانیات، مشنری اور جاسوس تھا۔ وہ جزیرۂ عرب کا سفر کرنے والے مشہور سیاحوں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ انگلستان کے شہر ویسٹ منسٹر میں پیدا ہوا۔ اس کے والد مشہور انگریز مورخ سر فرانسس پالگریو تھے۔ اس نے 1846ء میں جامعہ آکسفورڈ کے ہولی ٹرینیٹی کالج سے یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1847ء میں ہندوستان میں برطانوی فوج میں شامل ہوا۔ ہندوستان میں قیام کے دوران اس نے پروٹسٹنٹ مذہب ترک کرکے کیتھولک مذہب اختیار کر لیا، فوج سے استعفیٰ دیا اور راہب بننے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں وہ یسوعی جماعت (Jesuits) میں شامل ہو گیا۔ اس نے ہندوستان اور روم میں جماعت کے لیے خدمات انجام دیں اور اٹلی کے کالج رومانو میں علمِ الٰہیات کی تعلیم حاصل کی۔

    40 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل), 40

    1 فرق

    🔍 🗞️
  53. 53

    قومی ترانہ (پاکستان)

    قومی ترانہ (پاکستان)

    پاکستان کا قومی ترانہ، جو "پاک سرزمین" بھی کہلاتا ہے، سرکاری طور پر 1954ء میں پاکستان کا قومی ترانہ قرار پایا۔ اس کی دھن احمد جی چھاگلہ نے1949ء میں ترتیب دی جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے 1952ء میں تخلیق کیے۔۔ اس ترانے کو اس وقت کے گیارہ معروف سنگیت کاروں نے گایا جن میں احمد رشدی، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، زوار حسین، اختر عبّاس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وارث علی شامل ہیں۔ قومی ترانے سے قبل پاکستان زندہ باد (فارسی) بطور قومی ترانہ استعمال ہوا کرتا تھا۔

    40 ملاحظات (↑40 گزشتہ کل), 40

    1 فرق

    🔍 🗞️
  54. 54

    موہن داس گاندھی

    موہن داس گاندھی

    موہن داس کرم چند گاندھی (گجراتی: મોહનદાસ કરમચંદ ગાંધી؛ ہندی: मोहनदास करमचंद गांधी؛ انگریزی: Mohandas Karamchand Gandhi؛ 2 اکتوبر، 1869ء تا 30 جنوری 1948ء) بھارت کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ انھوں نے ستیہ گرہ اور اہنسا (عدم تشدد) کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی ہے جو عدم تشدد پر مبنی ہے۔ یہ طریقۂ کار ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنی اور ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔ بھارت میں انھیں احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کہا جاتا ہے۔ بھارت میں وہ بابائے قوم(راشٹر پتا) کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ گاندھی کی یوم پیدائش (گاندھی جینتی) بھارت میں قومی تعطیل کا درجہ رکھتا ہے اور دنیا بھر میں یوم عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 30 جنوری، 1948ء کو ایک ہندو قوم پرست نتھو رام گوڈسے نے ان کا قتل کر دیا۔

    39 ملاحظات (↑39 گزشتہ کل), 39

    1 فرق

    🔍 🗞️
  55. 55

    تقسیم ہند

    تقسیم ہند

    برطانوی قانون آزادی ہند 1947ء کے تحت 15 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت کے قیام کو تقسیم ہند کہا جاتا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ اس تقسیم کے نتیجے میں مشرقی بنگال پاکستان اور مغربی بنگال بھارت میں شامل ہوا اور پنجاب بھی پاکستان کے موجودہ صوبہ پنجاب اور بھارت کے مشرقی پنجاب میں تقسیم ہو گیا۔

    39 ملاحظات (↑39 گزشتہ کل), 39

    1 فرق

    🔍 🗞️
  56. 56

    میلاد النبی

    میلاد النبی

    میلاد النبی یا جشنِ میلاد النبی (عربی: مَوْلِدُ النَبِيِّ‎) ایک سالانہ خوشی کا دن ہے جو مسلمان ہر سال اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے مناتے ہیں۔ یہ ربیع الاول کے مہینہ میں آتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتی ہیں، لیکن خاص ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبی کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔ یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پر میلاد النبی اور نعت خوانی (مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن علماے کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعرا اور ثنا خوانِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ 12 ربیع الاول کو کئی اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان، افغانستان، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلاد النبی اور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل), 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  57. 57

    سید احمد خان

    سید احمد خان

    احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل), 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  58. 58

    ریاستہائے متحدہ

    ریاستہائے متحدہ

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل), 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  59. 59

    ابراہیم (اسلام)

    ابراہیم (اسلام)

    ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !

    38 ملاحظات (↑38 گزشتہ کل), 38

    1 فرق

    🔍 🗞️
  60. 60

    عینا آصف

    عینا آصف

    Aina Asif (Urdu: عینا آصف; born 27 September 2008) is a Pakistani actress who works primarily in Urdu-language television. She began her acting career as a child artist after appearing in television commercials before making her acting debut in Pehli Si Muhabbat (2021). She gained wider recognition for portraying Milli in the Ramadan drama Hum Tum (2022), followed by the lead role of Qurrat-ul-Ain "Annie" in the social drama Mayi Ri (2023), which brought her broader public recognition.

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل), 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  61. 61

    ایران جنگ 2026ء

    ایران جنگ 2026ء

    28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل), 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  62. 62

    جنگ پلاسی

    جنگ پلاسی

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل), 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  63. 63

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق

    ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔

    37 ملاحظات (↑37 گزشتہ کل), 37

    1 فرق

    🔍 🗞️
  64. 64

    صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

    صل اللہ علیہ وآلہ وسلم

    صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اسلامی مختصر دعا ہے، جو مسلمانوں کے نبی محمّد صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ پر ان کے نام کے ساتھ ان کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچنے کے لیے الله سے کی جاتی ہے۔‌ اس دعا کو درود کہا جاتا ہے اور اس کو لازمی طور پر نام محمد کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔‌

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل), 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  65. 65

    محسن بن علی

    محسن بن علی

    محسن ابن علی (عربی: ٱلْمُحَسِّنُ بْنُ عَلِيٍّ)، جسے محسن بھی لکھا جاتا ہے، فاطمہ بنت محمد اور علی ابن ابی طالب کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور اس طرح اسلامی نبی محمد کے نواسے تھے۔ وہ حسین اور حسن کے بھائی تھے۔ محسن کے انجام کے بارے میں تنازع پایا جاتا ہے، کیونکہ بعض شیعہ مآخذ کے مطابق، محسن کا حمل ضائع ہو گیا تھا جب عمر، جو محمد کے صحابی تھے، کے قیادت میں فاطمہ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ دوسری طرف، اہل سنت کا ماننا ہے کہ محسن بچپن میں قدرتی وجوہات کی بنا پر انتقال کر گئے تھے۔

    36 ملاحظات (↑36 گزشتہ کل), 36

    1 فرق

    🔍 🗞️
  66. 66

    صحیح بخاری

    صحیح بخاری

    صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل), 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  67. 67

    سراج الدولہ

    سراج الدولہ

    مرزا محمد سراج الدولہ المعروف نواب سراج الدولہ (1733ء – 2 جولائی 1757ء) بنگال، بہار اور اڑیسہ کے آخری صحیح المعنی آزاد حکمران تھے۔ نواب سراج الدولہ اپنے نانا علی وردی خان کی وفات کے بعد 23 سال کے عمر میں تخت نشین ہوئے تھے۔ ان کا دورِ حکمرانی نہایت مختصر تھا۔ 1757ء میں ان کی شکست سے بنگال میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا۔ چوبیس سالہ سراج الدولہ کی کمان میں لڑی گئی جنگ پلاسی کا شمار برصغیر کی ان اہم اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ہندوستان کی تاریخ کا رخ موڑ دیا تھا۔ اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد برصغیر میں انگریزوں کا 190 سالہ تاریک دور شروع ہوا۔ بنگال کے غداروں کی کارستانیوں سے 23 جون 1757ء کو صرف چار گھنٹوں میں میدان پلاسی میں رابرٹ کلائیو کے تین ہزار سپاہیوں کے ہاتھوں سراج الدولہ کی تیس ہزار پیادوں، پندرہ ہزار گھوڑسواروں اور 40 توپوں پہ مشتمل ایک قوی فوجی لشکر کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔

    35 ملاحظات (↑35 گزشتہ کل), 35

    1 فرق

    🔍 🗞️
  68. 68

    نوح (اسلام)

    نوح (اسلام)

    مکمل

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل), 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  69. 69

    ہجرت مدینہ

    ہجرت مدینہ

    ہجرت مدینہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے صحابہ کی طرف سے مکہ مکرمہ سے یثرب (جسے اس ہجرت کے بعد مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام دیا گیا) منتقل ہوجانے کے عمل کو کہتے ہیں جو 12ربیع الاول 13نبوی (جو بعد میں پہلا ہجری سال کہلایا)، بمطابق 24 ستمبر 622ء عیسوی بروز جمعہ کو ہوئی، بعد میں اسی دن کی نسبت سے ہجری تقویم کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں نے قمری ہجری تقویم اور شمسی ہجری تقویم دونوں کا آغاز اسی واقعہ کی بنیاد پر کیا۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل), 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  70. 70

    مزار خواجہ دانیار

    مزار خواجہ دانیار

    مزار خواجہ دانیار سمرقند میں واقع ایک معماری یادگار ہے، جسے 20ویں صدی کے آغاز میں تعمیر کیا گیا۔ یہ افراسیاب قلعے کے مشرقی جانب، سیاب ندی کے کنارے واقع ہے۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل), 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  71. 71

    محمد اقبال

    محمد اقبال

    ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل), 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  72. 72

    بھارت

    بھارت

    بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل), 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  73. 73

    ترکیہ

    ترکیہ

    ترکیہ رسمی طور پر جمہوریہ ترکیہ بنیادی طور پر مغربی ایشیا میں اناطولیہ میں ایک ملک ہے، جس کا ایک چھوٹا حصہ جنوب مشرقی یورپ میں مشرقی تھریس کہلاتا ہے۔

    34 ملاحظات (↑34 گزشتہ کل), 34

    1 فرق

    🔍 🗞️
  74. 74

    بکرمی تقویم

    بکرمی تقویم

    بکرمی تقویم ایک شمسی تقویم ہے جو برصغیر پاکستان اور ہندوستان میں صدیوں سے رائج ہے۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل), 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  75. 75

    انڈین نیشنل کانگریس

    انڈین نیشنل کانگریس

    انڈین نیشنل کانگریس (جسے کانگریس پارٹی اور آئی این سی بھی کہا جاتا ہے) بھارت کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ جماعت کا قیام دسمبر 1885ء میں عمل میں آیا جب ایلن اوکٹیوین ہیوم، دادابھائی نوروجی، ڈنشا واچا، ومیش چندر بونرجی، سریندرناتھ بینرجی، مونموہن گھوش اور ولیم ویڈربرن نے اس کی بنیاد رکھی۔ اپنے قیام کے بعد یہ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کرنے والی ایک اہم جماعت بن گئی اور تحریک آزادی ہند کے دوران اس کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد اراکین تھے۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل), 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  76. 76

    لسٹ اے کرکٹ ریکارڈز کی فہرست

    لسٹ اے کرکٹ ریکارڈز کی فہرست

    یہ لسٹ اے کرکٹ کے ریکارڈز کی فہرست ہے ۔ یعنی لسٹ اے کرکٹ میں عالمی ریکارڈ ٹیم اور انفرادی کارکردگی پر مشتمل اعدادوشمار کا ذلت موجود ہے۔

    33 ملاحظات (↑33 گزشتہ کل), 33

    1 فرق

    🔍 🗞️
  77. 77

    موسی ابن عمران

    موسی ابن عمران

    موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل), 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  78. 78

    شدرک، میشک اور عبدنغو

    شدرک، میشک اور عبدنغو

    شدرک، میشک اور عبدنغو، جن کے اصل نام حننیا، میشائیل اور عزریا تھے، تین یہودی شخصیات ہیں جن کا ذکر کتابِ مقدس کی کتابِ دانیال میں ملتا ہے۔ وہ دانیالؑ کے دوست تھے اور 605 قبل مسیح میں پہلی بابلی اسیری کے دوران دانیال کے ساتھ بابل لائے گئے تھے۔ روایت کے مطابق وہ نبوکدنضر دوم کے شاہی دربار میں خدمات انجام دیتے تھے۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل), 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  79. 79

    مروان بن حکم

    مروان بن حکم

    مروان بن حکم کا تعلق بنو امیہ کی دوسری شاخ بنی عاص سے تھا۔ حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضرت عثمان نے حکم کے بیٹے مروان کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ حضرت عثمان کو اس پر بے حد اعتماد تھا۔ اس لیے مہر خلافت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ جب آپ کے خلاف فسادیوں نے شورش پیدا کی تو حاکم مصر کے نام منسوب خط وغیرہ کی جعلسازی کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی جاتی ہے۔ شہادت عثمان کے بعد مدینہ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کے خلاف لڑا۔ حضرت طلحہ کی شہادت بھی اس کے ہاتھوں ہوئی جو اسی کی فوج کے سربراہ تھے۔ امیر معاویہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اسے مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یزید کی موت کے وقت یہ مدینہ ہی میں مقیم تھا۔ جبیر ابن مطعم سے روایت ہے کہ ہم لوگ پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ادھر سے حکم (مروان کا باپ) گذرا۔ اسے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے صلب میں جو بچہ ہے اس سے میری امت عذاب اور پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ اس روایت بارے ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ روایت منکر ہے۔<ref>أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي ابن أبي حاتم؛ الرازي (1427 هـ - 2006 م)۔ العلل۔ مطابع الحميضي۔ ج 6۔ ص 555 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)</>

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل), 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  80. 80

    علی بن ابی طالب

    علی بن ابی طالب

    ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

    32 ملاحظات (↑32 گزشتہ کل), 32

    1 فرق

    🔍 🗞️
  81. 81

    دار العلوم دیوبند

    دار العلوم دیوبند

    دار العلوم دیوبند بھارت کا ایک اسلامی مدرسہ ہے، جہاں سنی دیوبندی مکتب فکر کا آغاز ہوا۔ یہ ادارہ اترپردیش ضلع سہارنپور کے ایک قصبہ دیوبند میں واقع ہے۔ یہ مدرسہ 1866ء میں محمد قاسم نانوتوی، فضل الرحمن عثمانی، سید محمد عابد دیوبندی اور دیگر حضرات نے قائم کیا تھا۔ محمود دیوبندی اس ادارے کے پہلے استاد اور محمود حسن دیوبندی اس کے پہلے طالب علم تھے۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  82. 82

    پشتو زبان

    پشتو زبان

    پشتو ایک جنوب-مرکز ایشیائی زبان ہے جو پشتون بولتے ہیں۔ یہ فارسی اَدب میں افغانی جبکہ اُردو اور ہندی اَدب میں پٹھانی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اِس زبان کے بولنے والوں کو پشتون یا پختون اور بسا اوقات افغان یا پٹھان بھی کہا جاتا ہے۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  83. 83

    خدیجہ بنت خویلد

    خدیجہ بنت خویلد

    خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  84. 84

    حسن ابن علی

    حسن ابن علی

    حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  85. 85

    عمرو ابن عاص

    عمرو ابن عاص

    عمرو بن عاص صحابی رسول ﷺ تھے، آپ نے فتحِ مکّہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ آپ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دشمن ہرگز نہ تھے، لیکن خارجی مسلمانوں کو صحابہ سے نفرت پر مائل کرنے کے لیے انھیں امیرالمومنین مولائے کائنات حضرت امام علی المرتضیٰ علیہ السلام کے دشمنوں میں شامل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مکّہ کے قرب و جوار میں نصب بُتوں کو گرانے کے لیے مختلف صحابہؓ کو منتخب کیا۔ چناں چہ حضرت خالد ؓبن ولید کو’’ عزیٰ‘‘، حضرت سعد بن زیدؓ کو’’منات‘‘ اور حضرت عمروؓ بن العاص کو ’’سواع‘‘ نامی بُت گرانے کی ذمّے داری دی گئی۔ 8ھ میں جنگِ موتہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ مدینے سے دس دن کی مسافت پر واقع، وادی القریٰ میں مقیم، قبیلہ قفاء کے مشرکین نے مدینے پر حملے کی تیاری کر لی ہے۔ آنحضرتؐ نے اس مہم کے لیے حضرت عمروؓ بن العاص کو منتخب فرمایا، کیوں کہ اُن کی دادی اسی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپؓ تین سو مجاہدین کا لشکر لے کر محاذ پر پہنچے، تو معلوم ہوا کہ مشرکین نے بہت بڑی فوج جمع کی ہوئی ہے۔ آپؓ نے فوری حضور ﷺ کو اطلاع بھجوائی۔ چناں چہ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ مزید دو سو مجاہدین کی کُمک لے کر پہنچے، جن میں سیّدنا ابوبکرؓ، سیّدنا عُمرؓ سمیت سردارانِ انصار بھی تھے۔ کمک آجانے کے بعد حضرت عمروؓ نے ایک بھرپور حملہ کر کے قفاء کے پورے علاقے کو فتح کر لیا۔ محمد ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ’’ مسلمان، قبیلہ جزام کی سر زمین میں واقع ’’سلسل‘‘ نامی ایک چشمے پر اُترے تھے۔ اسی لیے اس مہم کا نام’’ذات السلال‘‘ پڑ گیا۔ ‘‘ اس جنگ میں حضرت عمروؓ کی سیاسی بصیرت اور جنگی حکمتِ عملی کے تین اقدامات کو رسول اللہ ﷺ نے بہت سراہا۔(1) آپؓ راتوں کو سفر کرتے اور دن میں اپنی فوج کو گھاٹیوں میں چُھپا دیا کرتے تاکہ دشمن پر اچانک حملہ آور ہوں۔(2) سخت سردی کے باوجود کسی کو آگ جلانے کی اجازت نہیں دی تاکہ دشمن کو ان کی کم تعداد کا علم نہ ہو سکے۔(3) جنگ جیتنے کے بعد دشمن کے تعاقب سے منع کر دیا تاکہ اَن جان علاقوں میں بھٹک کر مجاہدین کی جانیں تلف نہ ہوں۔ عرب کے جنوب میں واقع ریاست، عمّان میں دو مجوسی بھائیوں کی حکومت تھی، جو آگ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ فتحِ مکّہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمروؓ کو ایک خط دے کر عمّان روانہ کیا۔ حضرت عمروؓ خط لے کر دربار میں پہنچے اور اُن کے سامنے نہایت بصیرت افروز تقریر کی۔ اپنے مکارمِ اخلاق، حُسنِ تدّبر، سیاسی بصیرت اور جہدِ مسلسل کے نتیجے میں چند ہی دنوں میں نہ صرف دونوں بھائی مسلمان ہو گئے، بلکہ پوری رعایا بھی مشرف بہ اسلام ہو گئی۔ حضور اکرم ﷺ نے مسرّت کا اظہار فرما کر انھیں عمّان کا امیر مقرّر کر دیا۔ نبی کریم ﷺ کے رحلت فرمانے تک آپؓ عمان کے امیر کی حیثیت سے اسے علم کا گہوارا بنانے میں مصروف رہے۔ پھر رسول اللہﷺ کی رحلت کے بعد واپس مدینہ آگئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمروؓ کو بنو قضاء کے مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی پر مامور فرمایا، تو آپؓ نے اس معرکے میں بھی کام یابی حاصل کی اور مدینہ تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انھیں دوبارہ عمّان کا حاکم بنا کر واپس بھیج دیا۔ 12 ہجری میں رومی اور ایرانی حکومتوں نے مسلمان علاقوں پر حملوں کا آغاز کیا، تو حضرت ابوبکرؓ نے انھیں عمّان سے واپس بلا کر مجاہدین کے ایک لشکر کا امیر مقرّر کر کے فلسطین روانہ کر دیا۔ جہاں رومیوں کا ایک لشکر اُن کا منتظر تھا، تاہم آپؓ نے صدیقِ اکبرؓ کو خط لکھ کر مزید کمک منگوا لی۔ جلد ہی حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ، حضرت شرجیل ؓ، حضرت یزید بن ابی سفیانؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں اسلامی فوجیں اُن سے آملیں۔ حضرت عمروؓ نے گھمسان کی جنگ میں رومیوں کو شکستِ فاش دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے انتقال کے بعد حضرت عُمرؓ خلیفہ بنے، تو انھیں فوج کا سپہ سالار بنا کر مِصر روانہ کر دیا۔ مِصر دنیا بھر میں رومیوں کی پہچان تھا۔ حضرت عمروؓ نے بہترین حکمتِ عملی اور جنگی بصیرت کی بنا پر بہت جلد پورے مِصر پر قبضہ کر لیا۔ اُنھوں نے ایک نیا شہر بسایا، جس کا نام ’’فسطاط‘‘ رکھا۔ امیر المومنین، سیّدنا عُمر فاروقؓ نے’’ فسطاط‘‘ کو مِصر کا دار الحکومت قرار دے کر حضرت عمروؓ بن عاص کو مِصر کا حاکم مقرّر کر دیا۔ حضرت عمروؓ بن عاص ہی کے دَور میں یہاں دریائے نیل کے خشک ہونے کا مشہور واقعہ پیش آیا، جو عمر فاروقؓ کا خط ڈالنے کے بعد دوبارہ بہنا شروع ہوا۔ حضرت عمروؓ بن عاص نے اپنے دورِ حکومت میں یہاں بہت سی اصلاحات کیں۔ نئے شہر آباد کیے، نہریں کھدوائیں، زراعت کو وسعت دی، مدارس، مساجد، مسافر خانے، سڑکیں، پارک اور باغات بنوائے، جس کی بنا پر مصر خوش حال ممالک میں سرِ فہرست آگیا۔ مصر کے حاکم کی حیثیت سے حضرت عمروؓ نے شہر فسطاط کے قریب دریائے نیل سے بحیرۂ قلزم تک 69 میل لمبی ایک نہر’’نہرِ امیر المومنین ‘‘ تعمیر کروائی۔ سیّدنا فاروق اعظمؓ کی شہادت کے بعد، حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ بنے، تو انھوں نے حضرت عمروؓ بن العاص کو بدستور مِصر کے حاکم کی حیثیت سے برقرار رکھا، بلکہ انھیں دفاع اور خزانے کے محکمے بھی دے دیے۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے اپنی زندگی کا بڑا حصّہ میدانِ جنگ میں گزارا۔ 34ھ میں حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت میں یمن، عراق، شام، فلسطین اور مِصر کے فاتح اور ملّتِ اسلامیہ کے یہ عظیم جرنیل کہ’’جن کے نام سے لرزتے تھے قیصر و کسریٰ‘‘ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے گئے۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  86. 86

    عثمان بن عفان

    عثمان بن عفان

    ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ ‏سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  87. 87

    اشرف علی تھانوی

    اشرف علی تھانوی

    اشرف علی تھانوی (1863ء - 1943ء) ایک بھارتی دیوبندی حنفی عالم، صوفی، چشتی مرشد اور بیان القرآن اور بہشتی زیور جیسی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

    31 ملاحظات (↑31 گزشتہ کل), 31

    1 فرق

    🔍 🗞️
  88. 88

    برصیصا

    برصیصا

    برصیصا ایک ولی یا راہب جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ساٹھ برس تک اُس نے عبادت اور ریاضت کی زندگی بسر کی، لیکن شیطان کے بہکانے پر ایک عورت کو قتل کر دیا اور جب اُسے گرفتار کرکے قتل کیا جانے لگا تو شیطان انسانی شکل میں اُس کے سامنے آیا اور کہنے لگا کہ اگر تم مجھ کو سجدہ کرو تو میں تمھیں رہا کر دوں گا۔ وہ اس پر آمادہ ہو گیا۔ لیکن جب شیطان نے اپنے آپ کو سجدہ کراکے اُسے ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ خداوندی بنا دیا تو یہ کہہ کرچلا گیا کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے میں تو اللہ سے خائف ہوں جو دو جہان کا پروردگار ہے۔ برصیصا کا نام قرآن کریم کی سورۃ الحشرکی آیت 16 کی تفسیر میں آتا ہے :

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  89. 89

    قرارداد پاکستان

    قرارداد پاکستان

    22 مارچ سے 24 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  90. 90

    افغان یوم آزادی

    افغان یوم آزادی

    افغان یوم آزادی 19 اگست کو افغانستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ 1919ء کے اینگلو افغان معاہدے اور برطانوی محافظ ریاست کی حیثیت سے دستبرداری کی یاد منائی جا سکے۔ اس معاہدے نے افغانستان اور برطانیہ کے درمیان مکمل غیر جانبدارانہ تعلقات کی منظوری دی تھی۔ دوسری اینگلو-افغان جنگ میں معاہدہ گندمک (1879ء) پر دستخط ہونے کے بعد افغانستان برطانوی محافظ بن گیا تھا۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  91. 91

    سرفروشی کی تمنا

    سرفروشی کی تمنا

    سرفروشی کی تمنا بسمل عظیم آبادی کی ایک نظم ہے۔ عام طور پر اسے بسمل شاہجہاں پوری (جن کا اصلی نام رام پرساد ) کی تخلیق سمجھا جاتا ہے۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  92. 92

    مینار پاکستان

    مینار پاکستان

    مینار پاکستان لاہور، پاکستان کی ایک قومی یادگار عمارت ہے، جسے لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا جہاں 23 مارچ 1940ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی۔ اسے یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اس میدان کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے، جو سلطنت برطانیہ کا حصہ تھی۔ آج کل اس پارک کو اقبال پارک کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  93. 93

    اے وطن پیارے وطن

    اے وطن پیارے وطن

    اے مرے پیارے وطن

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  94. 94

    برطانوی ہند کی تاریخ

    برطانوی ہند کی تاریخ

    برطانوی راج کی تاریخ سے مراد برصغیر پاک و ہند میں 1757 اور 1947 کے درمیان برطانوی حکمرانی کے دور سے ہے۔ یہ نظام حکومت 1857 میں اس وقت متعارف کرایا گیا تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی برطانوی راج یا ملکہ وکٹوریہ کے حوالے کی گئی تھی۔ اسے 18 ء میں 'ہندوستان کی مہارانی' یا 'ہندوستان کی مہارانی' قرار دیا گیا۔ یہ حکمرانی 1947 تک برقرار رہی جب برصغیر پاک و ہند کے برطانوی صوبوں کو تقسیم کرکے دو تسلط یا تسلط پیدا کیے گئے۔ یہ دونوں بالترتیب ہندوستان کا تسلط اور پاکستان کا تسلط تھے ۔ آبائی ریاستوں کو ان دونوں ممالک کے درمیان انتخاب کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ریاستیں بعد میں جمہوریہ ہند اور اسلامی جمہوریہ پاکستان بن گئیں ۔ پاکستان کا مشرقی حصہ یا مشرقی پاکستان 1971 میں عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی آزاد ریاست بن گیا ۔ مشرقی صوبہ برما 1936 میں ایک علاحدہ کالونی میں تبدیل ہوا۔ 1948 میں برما نے آزادی حاصل کی۔ انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی ، ایک انگریزی اور بعد میں برطانوی مشترکہ اسٹاک کمپنی تھی ۔ یہ بعد میں بحر ہند کے خطے میں تجارت کے لیے تشکیل دی گئی تھی ، ابتدا میں مغل ہندوستان اور ایسٹ انڈیز کے ساتھ اور بعد میں چنگ چین کے ساتھ۔ کمپنی نے برصغیر پاک و ہند کے بڑے حصوں ، جنوب مشرقی ایشیا کے نوآبادیاتی حصوں اور 1858 سے 1947 کے درمیان برصغیر پاک و ہند پر چنگ چین کے ساتھ جنگ کے بعد ہانگ کانگ کی نوآبادیاتی قبضہ کرنا ختم کر دیا۔ گورننس کا نظام 1858 میں قائم کیا گیا تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی ملکہ وکٹوریہ (جسے 1876 میں ہندوستان کی مہارانی قرار دی گئی تھی) کے شخص میں ولی عہد کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ 1947، جب تک چلا برطانوی صوبوں بھارت کے تھے تقسیم : دو خود مختار بادشاہی ریاستوں میں بھارت ڈومنین اور پاکستان ڈومنین چھوڑ نوابی ریاستوں نے ان کے درمیان منتخب کرنے کے لیے.

    30 ملاحظات (↑30 گزشتہ کل), 30

    1 فرق

    🔍 🗞️
  95. 95

    عاصم منیر

    عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ پاکستانی بری افواج کے پانچ ستارہ جنرل، موجودہ اور گیارہویں سربراہ پاک فوج ہیں۔ آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل کمانڈ کر رہے تھے۔ انھوں نے 17 جون 2019ء سے 6 اکتوبر 2021ء تک گوجرانوالہ میں XXX کور (پاکستان) کی کمانڈ کی۔ انھوں نے آئی ایس آئی کے 23 ویں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں یہاں تک کہ ان کی جگہ16 جون 2019ء کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تعینات کیا گیا۔ منیر نے افسران کی تربیت گاہ، منگلا میں کیڈٹ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر "اعزازی تلوار" حاصل کی۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے انھیں 24 نومبر 2022ء کو 3 سال کی مدت کے لیے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر مقرر کیا۔ عاصم منیر وہ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں جو ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں خفیہ اداروں کی سربراہی کر چکے ہیں۔ 20 مئی 2025ء کو عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، یوں وہ پاکستان کی تاریخ میں اس رتبے تک پہنچنے والے دوسرے فرد بنے ان سے پہلے صرف ایوب خان کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔ عاصم پاکستان کے وہ پہلے اور واحد سربراہ پاک فوج بھی بنے جنھوں نے فیلڈ مارشل کے عہدہ کے ساتھ اس منصب پر خدمات انجام دیں۔ فیلڈ مارشل کا درجہ ایک باوقار اور فائیو اسٹار اعزازی عہدہ ہے، جو جنرل کے رینک سے بھی بلند ہوتا ہے۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل), 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  96. 96

    لاہور

    لاہور

    لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ‎؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور‎؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل), 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  97. 97

    درود ابراہیمی

    درود ابراہیمی

    درودِ ابراہیمی مع اردو ترجمہ

    29 ملاحظات (↑29 گزشتہ کل), 29

    1 فرق

    🔍 🗞️
  98. 98

    فرج (عضو)

    فرج (عضو)

    فَرج یا مہبل یا بھگ (عربی جمع: فُرُوج، اردو جمع:فرجیں یا فرجوں؛ عربی سے ماخوذ شگاف یا خلا کے لیے) بیرونی مؤنثی جنسی اعضا پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرج تپۂ عانہ، لبۂ بزرگ ، لبۂ کوچک، بظر، پیاز دہلیزی، دہلیز فرجی ، پیشاب کا گوشت ، افتتاح اندام نہانی ، پردۂ بکارت اور بارتولین اور اسکین کے دہلیزی غدود شامل ہیں۔ پیشاب کا گوشت بھی شامل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ والول ویسٹیبول میں کھلتا ہے۔ فرج کی دیگر خصوصیات میں پوڈینڈل کلفٹ ، سیبیسیئس غدود ، یورجینٹل مثلث (پیرینیم کا پچھلا حصہ) اور شرمگاہی بال شامل ہیں۔ ولوا میں اندام نہانی کا داخلہ شامل ہوتا ہے ، جو بچہ دانی کی طرف جاتا ہے اور بیرونی اور اندرونی لب کی تہوں سے اس کے لیے دوہری پرت فراہم کرتا ہے۔ شرونیی فرش کے پٹھے ولوا کے ڈھانچے کی حمایت کرتے ہیں۔ بول وتناسلی مثلث کے دوسرے عضلات بھی سہارا دیتے ہیں۔

    28 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل), 28

    1 فرق

    🔍 🗞️
  99. 99

    اردو حروف تہجی

    اردو حروف تہجی

    اردو زبان میں سینتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔

    28 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل), 28

    1 فرق

    🔍 🗞️
  100. 100

    اہل تشیع

    اہل تشیع

    اہل تشیع یا شیعیت (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت و خلافت کے قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔

    28 ملاحظات (↑28 گزشتہ کل), 28

    1 فرق

    🔍 🗞️

یہ ڈیٹا بوقت کا ہے۔