اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
ایستادگی ایک فعلیاتی عمل ہے جس میں مردوں کے عضو تناسل کی لمبائی اور موٹائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایستادگی بنیادی طور پر جنسی برانگیختی کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن بعض اوقات غیر ارادی طور پر بھی عضو خاص ایستادہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً صبح کے وقت بغیر جنسی رجحان کے ایستادگی کا عمل دیکھنے میں آتا ہے بعض اوقات طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھانے سے بھی عضو ایستادہ ہو سکتا ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
میجر کلب محدود اوور ٹورنامنٹ 2020-21ء
میجر کلب محدود اوور ٹورنامنٹ 2020-21ء ایک لسٹ اے کرکٹ مقابلہ تھا جو سری لنکا میں ہوا تھا۔ یہ 24 مارچ سے 11 اپریل 2021ء تک جاری رہا، جس میں 26 ٹیموں نے حصہ لیا۔ چلاو ماریئنز کرکٹ کلب دفاعی چیمپئن تھے، جنھوں نے 2019-20ء انویٹیشن لمیٹڈ اوور ٹورنامنٹ جیتا۔
محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
تعریف: اسباب نزول سے مراد وہ واقعات، حوادث اور سوالات ہیں جو کسی آیت یا چند آیات کے نزول کا باعث بنے۔ مثلاً قریش نے آنحضرتﷺسے روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا تو ان کے جواب میں سورۃ کہف نازل ہوئی۔ ایسا بھی ہوا کہ آنحضرت ﷺ یا صحابہ ؓ کے دل میں کوئی خیال آیا اور جلد ہی اس کے مطابق کوئی آیت یا آیات نازل ہو گئیں او روہ آرزو ان کا سبب نزول بن گئی۔ مثلاً: آپ ﷺ کا بار بار آسمان کی طرف چہرہ مبارک کو کرنا تاکہ قبلہ تبدیل ہوجائے اور پھر قبلہ تبدیل ہو گیا۔ سیدنا عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کی:یا رسول اللہ!
عراقی پاسپورٹ (کردی: پاسپۆرت عێراقی) عراق کے شہریوں کو بین الاقوامی سفر کے لیے جاری کی جانے والی سفری دستاویز ہے۔ 9 جنوری 2023ء سے عراق نے بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کے منظور شدہ الیکٹرانک اور بایومیٹرک پاسپورٹ کا اجرا شروع کیا۔ اس سے پہلے عراق کے پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹس اور دنیا بھر میں موجود عراقی سفارتی مشنز کی جانب سے مختلف پاسپورٹ جاری کیے جاتے تھے، جن میں S سیریز کے مشینی طور پر ناقابلِ قراءت پاسپورٹ اور G سیریز شامل تھیں۔ G".
جنگ آزادی ہند 1857ء جو ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ تھی اسے انگریزوں نے "جنگ غدر" کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے۔ دوم یہ کہ ان دنوں جو کارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔ جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں میں بہت سے ایسے تھے جنھوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
بَنْدے ماتْرَم (بنگالی: বন্দে মাতরম্ دیوناگری: वन्दे मातरम्، لفظاً "اے مادر وطن میں سرجھکائے ہاتھ جوڑے کھڑا ہو کر تیری تعظیم بجا لاتا ہوں") ایک نظم ہے جو کے بنگالی زبان کے مصنف بنکم چندرا چٹوپادھیائے کی ناول آنند مٹھ سے لی گئی ہے۔ یہ 1882 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ بنگالی اور سنسکرت زبان میں لکھی گئی تھی۔ یہ مادر وطن کو مذہب کا درجہ دیتی ہے۔ اسے تحریک آزادی ہند میں خوب پڑھا گیا اور پہلی دفعہ رابندر ناتھ ٹھاکُر نے 1896ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں اسے گایا۔
شاہ ولی اللہ (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اسلامی مفکر، محدث اور فلسفی تھے، جو مغلیہ سلطنت کے دور میں علم و دانش کا روشن مینار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی اصل روح کے مطابق اصلاح کا بیانیہ پیش کیا اور "تحریک ولی اللہی" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح، اتحاد اور روحانی بیداری تھا۔ شاہ ولی اللہ کا فلسفہ ولی اللہی اسلامی اصولوں، عقل اور اجتہاد کی بنیاد پر استوار تھا، جس میں معاشرتی بگاڑ اور فرقہ واریت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر میں اسلامی احیاء کی ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
میلاد النبی یا جشنِ میلاد النبی (عربی: مَوْلِدُ النَبِيِّ) ایک سالانہ خوشی کا دن ہے جو مسلمان ہر سال اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے مناتے ہیں۔ یہ ربیع الاول کے مہینہ میں آتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتی ہیں، لیکن خاص ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبی کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔ یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پر میلاد النبی اور نعت خوانی (مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن علماے کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعرا اور ثنا خوانِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ 12 ربیع الاول کو کئی اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان، افغانستان، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلاد النبی اور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔
الجزائری پاسپورٹ ایک سرکاری دستاویز ہے جو الجزائر کے حکام کی جانب سے الجزائری شہریوں کو الجزائر سے باہر سفر کرنے کے لیے جاری کی جاتی ہے۔ 2010ء کے آخر میں نئے عالمی معیارات اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے تقاضوں کے مطابق نیا بایومیٹرک پاسپورٹ جاری کرنا شروع کیا گیا۔ نئے پاسپورٹ بہتر سکیورٹی اور جعل سازی کے خلاف زیادہ مؤثر تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ان کی مدتِ میعاد 10 سال ہے۔
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیه عثمانیه"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
بے دخول جنسی عمل (انگریزی: Non-penetrative sex) یا بیرونی/خارجی جنسی عمل (انگریزی: outercourse) سے مراد ایسی جنسی سرگرمی ہے جس میں عموماً جنسی دخول شامل نہیں ہوتا۔ تاہم بعض صورتوں میں خصوصاً جب اسے آؤٹر کورس کہا جائے، اس میں انگشت زنی یا دہنی جماع کی بعض صورتوں کے باعث دخول سے متعلق پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ عموماً اس اصطلاح میں فرجی، دبری یا دہنی جماع کے پہلو شامل نہیں ہوتے بلکہ اس میں مختلف جنسی اور غیر جنسی سرگرمیاں مثلاً فروٹیج، دستی جنسی عمل، باہمی خود لذتی، بوسہ اور معانقہ شامل ہیں۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔
یومِ آزادی، جو ہر سال 14 اگست کو منایا جاتا ہے، پاکستان میں ایک قومی تعطیل ہے۔ یہ دن اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور 14 اور 15 اگست 1947 کے درمیان برطانوی راج کے خاتمے کے بعد ایک خود مختار ریاست قرار پایا. آزادی کے وقت، پاکستان نے بادشاہ جارج ششم کو برقرار رکھا اور 1952 کے بعد ملکہ الزبتھ دوم کو ریاست کا سربراہ رکھا، یہاں تک کہ 1956 میں جمہوریہ میں تبدیل ہو گیا۔ یہ قوم پاکستان تحریک کے نتیجے میں وجود میں آئی، جس کا مقصد برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں میں ایک آزاد مسلم ریاست کا قیام تھا. یہ تحریک آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں محمد علی جناح کی سربراہی میں چلائی گئی۔ یہ واقعہ انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ 1947 کے تحت پیش آیا جس کے تحت برطانوی راج نے ڈومینین آف پاکستان کو آزادی دی، جس میں مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) اور مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) شامل تھے۔ اس سال آزادی کا دن اسلامی کیلنڈر کے 27 رمضان کو آیا، جس کی شام کو لیلتہ القدر کی پانچ راتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب اسلام آباد میں ہوتی ہے، جہاں صدارتی اور پارلیمانی عمارتوں پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد قومی ترانہ اور رہنماؤں کی براہِ راست نشر کی جانے والی تقاریر ہوتی ہیں۔ دن کی عام تقریبات اور جشن میں پرچم کشائی کی تقریبات، پریڈ، ثقافتی پروگرام اور قومی نغمے شامل ہیں۔ اس دن کئی ایوارڈ تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں اور پاکستانی اپنے گھروں پر یا اپنی گاڑیوں اور لباس پر قومی پرچم لہراتے ہیں یا نمایاں طور پر دکھاتے ہیں.
پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔سبز رنگ اسلام اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور الم کو ظاہر کرنا ہے۔کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′، 18′+12′، 10′+6-2/3′، 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لیے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے۔ پاکستانی پرچم کو پاکستانی آئین ساز اسمبلی نے 11 اگست 1947ء کو آزادی سے 3 دن قبل اپنایا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان ایک آزاد ریاست بنا تبھی اسے ڈومنین پاکستان کا قومی پرچم تسلیم کر لیا گیا۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
پاکستان کا قومی ترانہ، جو "پاک سرزمین" بھی کہلاتا ہے، سرکاری طور پر 1954ء میں پاکستان کا قومی ترانہ قرار پایا۔ اس کی دھن احمد جی چھاگلہ نے1949ء میں ترتیب دی جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے 1952ء میں تخلیق کیے۔۔ اس ترانے کو اس وقت کے گیارہ معروف سنگیت کاروں نے گایا جن میں احمد رشدی، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، زوار حسین، اختر عبّاس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وارث علی شامل ہیں۔ قومی ترانے سے قبل پاکستان زندہ باد (فارسی) بطور قومی ترانہ استعمال ہوا کرتا تھا۔
Aina Asif (Urdu: عینا آصف; born 27 September 2008) is a Pakistani actress who works primarily in Urdu-language television. She began her acting career as a child artist after appearing in television commercials before making her acting debut in Pehli Si Muhabbat (2021). She gained wider recognition for portraying Milli in the Ramadan drama Hum Tum (2022), followed by the lead role of Qurrat-ul-Ain "Annie" in the social drama Mayi Ri (2023), which brought her broader public recognition.
خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔
پاکستان کی تاریخ (1947ء - حال)
اسلامی جمہوریۂ پاکستان کی تاریخ کا آغاز 14 اگست 1947 کو ہوا، جب یہ ملک دولتِ مشترکہ کے اندر مملکتِ پاکستان کی صورت میں قائم ہوا۔ اس کا قیام تحریکِ پاکستان اور تقسیمِ ہند کے نتیجے میں عمل میں آیا۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
سعودی عرب (رسمی نام : المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
قومی شناختی کارڈ (CNIC) ایک 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ ہے جو پاکستان کے تمام بالغ شہریوں اور ان کے غیر مقیم ہم منصبوں کے لیے دستیاب ہے، جو رضاکارانہ طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں بائیومیٹرک ڈیٹا جیسے 10 فنگر پرنٹس، 2 آئیرس پرنٹس اور چہرے کی تصویر شامل ہیں۔ نادرا 1998ء میں وزارت داخلہ حکومت پاکستان کے تحت ایک منسلک محکمہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ مارچ 2000ء سے، نادرا نے آزادانہ طور پر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ خود مختاری کے ساتھ ایک آزاد کارپوریٹ ادارے کے طور پر کام کیا ہے۔ سی این آئی سی میں قانونی نام، جنس (مرد، عورت یا خواجہ سرا) والد کا نام (یا شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر کا نام) شناختی نشان، تاریخ پیدائش، قومی شناختی کارڈ نمبر، خاندان نمبر، موجودہ اور مستقل پتے، جاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ، دستخط، تصویر اور انگوٹھے کے نشان (فنگر پرنٹ) جیسی تفصیلات شامل ہیں۔
اَفْغانِسْتان، سرکاری طور پر اِسْلامی اِمارَتِ اَفْغانِسْتان (دری/پشتو: افغانستان، تلفظ: [avɣɒnesˈtɒn]) وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں واقع ایک زمین بند ملک ہے۔ اس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال مشرق میں چین، شمال میں کرغیزستان، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان ہیں۔ اردگرد کے تمام ممالک سے افغانستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلق بہت گہرا ہے۔ اس کے بیشتر لوگ (99 فیصد) مسلمان ہیں اور ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ یہ ملک بالترتیب ایرانیوں، یونانیوں، عربوں، ترکوں، منگولوں، انگریزوں، روسیوں اور امریکا کے قبضے میں رہا ہے۔ مگر اس کے لوگ بیرونی قبضہ کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ ایک ملک کے طور پر اٹھارویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں یہ ابھرا۔ اگرچہ بعد میں درانی سلطنت کے کافی حصے اردگرد کے ممالک کے حصے بن گئے۔
2014ء ویمنز ٹوئنٹی 20 کپ، جو اسپانسرشپ کی وجوہات کی بنا پر 2014ء نیٹ ویسٹ ویمنز ٹوئن 20 کپ کے نام سے جانا جاتا ہے، چھٹا کرکٹ ویمنز ٹوئن ٹی 20 کپ ٹورنامنٹ تھا۔ یہ جولائی اور اگست میں ہوا، جس میں 40 ٹیموں نے حصہ لیا: 36 کاؤنٹی ٹیمیں، اسکاٹ لینڈ آئرلینڈ ویلز اور نیدرلینڈز کے ساتھ۔ ناٹنگھم شائر ویمنز نے اپنا پہلا ٹائٹل حاصل کرتے ہوئے ٹوئنٹی 20 کپ جیتا۔ یہ ٹورنامنٹ 50 اوور 2014ء ویمنز کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ساتھ ساتھ چلا۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
ضلعی ایک روزہ ٹورنامنٹ سری لنکا 2016-17ء
ضلعی ایک روزہ ٹورنامنٹ سری لنکا 2016-17ء ایک لسٹ اے کرکٹ مقابلہ تھا جو سری لنکا میں ہوا۔ نیگمبو کرکٹ کلب کی جانب سے قانونی چیلنج کے بعد، اس نے طے شدہ پریمیئر لمیٹڈ اوورز ٹورنامنٹ کی جگہ لے لی، جب انھیں 2016-17ء پریمیئر لیگ ٹورنامنٹ کے ٹائر بی سے ہٹا دیا گیا۔ اس چیلنج نے پریمیئر لمیٹڈ اوورز ٹورنامنٹ کو ہونے سے روک دیا، لیکن سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) نے اس کی جگہ لینے کے لیے اس ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا۔
موہن داس کرم چند گاندھی (گجراتی: મોહનદાસ કરમચંદ ગાંધી؛ ہندی: मोहनदास करमचंद गांधी؛ انگریزی: Mohandas Karamchand Gandhi؛ 2 اکتوبر، 1869ء تا 30 جنوری 1948ء) بھارت کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ انھوں نے ستیہ گرہ اور اہنسا (عدم تشدد) کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی ہے جو عدم تشدد پر مبنی ہے۔ یہ طریقۂ کار ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنی اور ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔ بھارت میں انھیں احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کہا جاتا ہے۔ بھارت میں وہ بابائے قوم(راشٹر پتا) کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ گاندھی کی یوم پیدائش (گاندھی جینتی) بھارت میں قومی تعطیل کا درجہ رکھتا ہے اور دنیا بھر میں یوم عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 30 جنوری، 1948ء کو ایک ہندو قوم پرست نتھو رام گوڈسے نے ان کا قتل کر دیا۔
لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
69 یا سکسٹی نائن ایک جنسی آسن ہے جس میں دو افراد اس طرح ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں کہ ہر شخص کا منھ دوسرے کے عضو تناسل کے قریب ہوتا ہے جس سے دونوں بیک وقت ایک دوسرے کے لیے دہنی جماع انجام دے سکتے ہیں۔ اس حالت میں دونوں افراد کی وضع عدد 69 (69) سے مشابہ ہوتی ہے، اسی لیے اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ یہاں 6 اور 9 کے ہندسے عددی معنی کی بجائے پکٹو گرافک علامت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جن میں ابھرا ہوا حصہ دونوں افراد کے سروں کی نمائندگی کرتا ہے۔
نعمان ابن ثابت بن زوطا بن مرزبان (پیدائش: 5 ستمبر 699ء– وفات: 14 جون 767ء) (فارسی: ابوحنیفه،عربی: نعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان)، آپ کے دادا زوطی کا کوفہ میں خلیفہ راشد سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے قریبی تعلق تھا۔ عام طور پر آپکو امام ابو حنیفہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ سنی حنفی فقہ (اسلامی فقہ) کے بانی تھے۔ آپ ایک تابعی، مسلمان عالم دین، مجتہد، فقیہ اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ زیدی شیعہ مسلمانوں کی طرف سے بھی آپ کو ایک معروف اسلامی عالم دین اور شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں عام طور پر "امام اعظم" کہا جاتا ہے۔ مشہور اقوال : جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے (رد المختار حاشیہ از در مختار جلد 1 صفحہ 68) وروي عن أمام أبِي يوسف أنه قال سمعت أمام أبا حنيفة يقول: سيّدنا عليُّ بن ابي طالب كرم اللّٰه وجهه حُجَّتُنا عند اللّٰه يوم القيامة ولولا علي ما عَلِمنا كيف قتالُ أهلِ البغي أو كيف نقاتل أهلَ قبلة. امام اعظم ابو حنیفہ کے خاص شاگرد امام ابو یوسف بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے ہم سے فرمایا قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارا وسیلہ حضرت علی ہیں اور اگر حضرت علی نہ ہوتے تو ہمیں معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ اہل قبلہ باغیوں سے جنگ کیسے کی جاتی ہے .
حمزہ بن عبد المطلب (پیدائش: 568ء یا 570ء– وفات: 30 مارچ 625ء) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں دونوں نے ثوبیہ جو ابو لہب کی لونڈی تھی کا دودھ پیا تھا۔ بعثت کے چھ برس بعد جب ابوجہل حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت کے جوش میں اسلام قبول کر لیا۔ بے حد جری اور دلیر تھے۔ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں حصہ لیا اور خوب داد شجاعت دی۔غزوہ احد میں جام شہادت نوش کی۔
پیغمبر محمد کی ولادت کا سال، مہینہ، تاریخ اور دن دیگر قدیم شخصیات کی طرح بعض پہلوؤں سے اختلافی رہے ہیں۔ کیوں کہ قدیم دور میں ایسے ذرائع دستیاب نہیں تھے، نہ سرکاری سطح پر ایسے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی طریقہ کار تھا۔ پیغمبر محمد کی ولادت جزیرہ نما عرب کے شہر مکہ میں ہوئی، جہاں اس وقت قبائلی نظام رائج تھا، وہ لوگ لکھنے کو برا خیال کرتے اور مضبوط حافظے کو ترجیح دیتے، البتہ نسب کو یاد کرنا اور اہمیت دینا ان کا خاصہ تھا۔ پیغمبر محمد کی ولادت کا سال عام طور پر عام الفیل مہینہ ربیع الاول دن پیر (یا جمعہ کا دن بمطابق اہل تشیع) جبکہ تاریخ میں 9 یا 12 (یا 17 اہل تشیع کے نزدیک) کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عیسوی حساب سے قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی تحقیق کے مطابق 22 اپریل 571ء جبکہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق 20 اپریل 571ء ہے۔ عام طور پر دنیا بھر میں مسلمان 12 ربیع الاول ہی کو یوم ولادت قرار دیتے اور محافل، جلوس اور دیگر تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ کئی ممالک میں اس دن سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔
امام محمد بن ادریس شافعی (پیدائش: 28 اگست 767ء— وفات: 30 رجب 204ھ/19 جنوری 820ء) جو امام شافعی کے لقب سے معروف ہیں، سنی فقہی مذہب شافعی کے بانی ہیں۔ ان کے فقہی پیروکاروں کو شافعی (جمع شوافع) کہتے ہیں۔ امام شافعی کا عرصہ حیات مسلم دنیا کے عروج کا دور یعنی اسلامی عہد زریں ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ عروج میں بغداد میں مسلک شافعی کا بول بالا اور بعد ازاں مصر سے عام ہوا۔ مذہب شافعی کے پیروکار زیادہ تر مشرقی مصر، صومالیہ، ارتریا، ایتھوپیا، جبوتی، سواحلی ساحل، یمن، مشرق وسطیٰ کے کرد علاقوں میں، داغستان، فلسطین، لبنان، چیچنیا، قفقاز، انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا کے کچھ ساحلی علاقوں میں، مالدیپ، سنگاپور، بھارت کے مسلم علاقوں، میانمار، تھائی لینڈ، برونائی اور فلپائن میں پائے جاتے ہیں۔
عبد المطلب (پیدائش: 480ء، مدینہ منورہ – وفات: 578ء، مکہ) (عربی میں عبد المطّلب ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا تھے ان کا اصل نام شیبہ تھا (شیبہ بن ھاشم عربی میں شيبة ابن هاشم یا شیبۃ الحمد)۔ ان کو عبد المطلب (درست تلفظ: عبد المطَلِّب) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کو ان کے چچا مطلب نے پالا تھا۔ کیونکہ ان کے والد ھاشم کی وفات ان کی پیدائش سے کچھ ماہ پیشتر ہو گئی تھی۔ حضرت عبد المطلب دینِ ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے اور ایسی کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انھوں نے کبھی بت پرستی کی ہو۔
محمود حسن دیوبندی (معروف بہ شیخ الہند؛ 1851ء – 1920ء) ہندوستان کے ایک نامور عالم دین اور مجاہد آزادی تھے، جنھوں نے دیگر شخصیات کے ساتھ مل کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور آزادی ہند کے لیے تحریک ریشمی رومال کا آغاز کیا۔ وہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے والے پہلے طالب علم تھے۔ ان کے اساتذہ میں محمد قاسم نانوتوی اور محمود دیوبندی شامل ہیں اور وہ تصوف میں امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی کے مجاز تھے۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
نکاح متعہ (عربی : نكاح المتعة ) جسے عرف عام میں متعہ یا صیغہ کہا جاتا ہے؛ ولی (شہادت) کی موجودگی یا غیر موجودگی میں ہونے والا ایک ایسا نکاح ہے جس کی مدت (ایک روز، چند روز، ماہ، سال یا کئی سال) معین ہوتی ہے جو فریقین خود طے کرتے ہیں اور اس مدت کے اختتام پر خود بخود علیحدگی ہو جاتی ہے یا اگر مرد باقی ماندہ مدت بخش دے تب بھی عورت نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے مگر ہر صورت میں عدت اپنی شرائط کے ساتھ پوری کرنی پڑتی ہے ؛ اور اولاد انھیں والدین سے منسوب ہو تی ہے؛ اگر فریقین چاہیں تو مدتِ اختتامِ متعہ پر علیحدگی کی بجائے اسے جاری (یا مستقل) بھی کر سکتے ہیں۔ یہ نکاح ابتدا سے اسلام میں متعدد بار جائز ہوا اور اس سے روکا گیا پھر جائز ہوا۔ تاریخی اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے چند سال قبل تک اس کی موجودگی پر سنی بھی اور شیعہ بھی دونوں اتفاق کرتے ہیں۔ یعنی اس کا اصل میں حلال ہونا مسلم اور مورد اتفاق ہے مگر اکثر شیعہ اور سنی نیز دیگر فرقے اس کے حلیت باقی رہنے یا حرام ہوجانے کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں۔
راولپنڈی (انگریزی: Rawalpindi), صوبہ پنجاب، پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوہار پر واقع ایک اہم شہر ہے۔ یہ شہر افواجِ پاکستان کا صدر مقام بھی ہے اور 1960ء میں جب موجودہ دار الحکومت اسلام آباد زیر تعمیر تھا انہی دنوں میں قائم مقام دار الحکومت کا اعزاز راولپنڈی کو ہی حاصل تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سماجی اور اقتصادی روابط کو مشترکہ طور پر " جڑواں شہر " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق راولپنڈی میٹروپولیٹن کی آبادی 3،461،806 افراد پر مشتمل ہے اور یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ راولپنڈی کی مشہور سڑک مری روڈ ہمیشہ ہی سے سیاسی جلسوں کا مرکز رہی ہے۔ 1765ء میں اس علاقے کے حکمران گکھڑوں کو شکست ہوئی اور یہ شہر سکھوں کی حکمرانی کے تحت آگیا۔ 1849ء میں اس شہر کو برطانوی راج نے فتح کر لیا۔ راولپنڈی کی آب و ہوا برطانوی حکام کو بہت پسند آئی جس کی وجہ سے 19ویں صدی کے آخر میں یہ شہر برطانوی انڈین آرمی کی شمالی کمان کا سب سے بڑا گیریژن شہر بن گیا۔ برطانوی فوج نے 1921ء تک اس شہر کو ایک چھوٹے سے قصبے سے پنجاب کے تیسرے بڑے شہر میں تبدیل کر دیا۔
محمد ضیاء الحق کی موت اور ریاستی جنازہ
جنرل محمد ضیاء الحق کا جنازہ 19 اگست 1988ء کو شاہ فیصل مسجد، اسلام آباد، پاکستان میں پڑھایا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق اپنی موت کے وقت پاکستان کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ ان کی حادثاتی موت 17 اگست 1988ء کو سی 130 ہرکولیس طیارے کے ایک پراسرار حادثے میں ہوئی۔ اس واقعے کے حوالے سے کئی سازشی نظریات موجود ہیں۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
عربی (عربی: العربية) بلند میں سب سے بڑی زبان ہے اور عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت ملتی ہے۔ جدید عری یا فصیح عربی کی تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ فصیح عربی قدیم زمانے سے ہی بہت ترقی یافتہ شکل میں تھی اور قرآن کی زبان ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ فصیح عربی اور بولے جانے والی عربی میں بہت فرق نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے بولے جانے والی اردو اور ادبی اردو میں فرق ہے۔ عربی زبان نے اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ تاریخ میں عربی زبان کی اہمیّت کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے جنگ کی ٹھانی۔ ابوسفیان نے قریش اور دیگر قبائل حتیٰ کہ یہودیوں سے بھی لوگوں کو جنگ پر راضی کیا اور اس سلسلے میں کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی مگر مسلمانوں نے سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوہ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھی۔ جیسے آج کل امریکا، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآن میں سورۃ الاحزاب میں ہے۔
انسانی عضو تناسل ایک بیرونی مذکری جماعی عُضو ہے جو پیشاب کی نالی کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ اہم حصے جڑ (جذر) جسم (جسد) اور عضو تناسل کا ظہارہ بشمول شافٹ کی جلد اور چمڑی (قلفہ) جس میں عضو تناسل کا احاطہ ہوتا ہے۔ عضو تناسل کا جسم عضلات کے تین کالموں سے بنا ہوتا ہے: ڈورسل سائیڈ پر دو کارپورا کیورنوسا اور وینٹرل سائیڈ پر ان کے درمیان کارپس اسپونگیوسم۔ انسانی مرد پیشاب کی نالی پروسٹیٹ غدود سے گزرتی ہے ، جہاں یہ انزال کی نالی سے جڑتی ہے اور پھر عضو تناسل کے ذریعے۔ پیشاب کی نالی کارپس اسپنجیوسم کو پار کرتی ہے اور اس کا افتتاح ، گوشت ، گلان عضو تناسل کی نوک پر ہوتا ہے۔ یہ پیشاب اور منی کے انزال دونوں کے لیے ایک راستہ ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک سہ فریقی اجتماعی دفاعی معاہدہ ہے جس پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ، سعودی عرب میں دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت، تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر مانا جائے گا۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین طے پانے والے دو طرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پر مبنی ہے، جس میں ترکی کو شامل کرنے کے لیے تقابلی باہمی دفاعی عزم میں توسیع کی گئی ہے۔ اس پر فروری 2026 میں شروع ہونے والی ایران پر مشتمل ایک وسیع تر علاقائی جنگ کے پس منظر میں دستخط کیے گئے تھے، جس کے دوران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آئیں۔
ہم جنس پرستی یا ہم جنسیت (انگریزی: Homosexuality) ایک ہی جنس یا صنف کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والی رومانوی کشش، جنسی کشش یا جنسی رویہ ہے۔ ایک جنسی رجحان کے طور پر ہم جنسیت ہم جنس لوگوں کی طرف "جذباتی، رومانوی اور جنسی کشش کی مستقل صورت ہے۔" یہ "ایک شخص کے احساس کی شناخت کا بھی حوالہ ہے جس کی بنیاد ان میلانات، متعلقہ رویوں اور دوسروں کی کمیونٹی کی ر کنیت ہے جو ایک جیسی دلچسپیاں بانٹتے ہیں۔"
جن گن من بھارت کا قومی ترانہ ہے، جو بنگالی زبان میں تھا۔ پھر اس کو سنسکرت کا لہجہ دے کر سنوارا گیا۔ اس کے شاعر نوبل انعام یافتہ رابندرناتھ ٹیگور ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کے 1911ء اجلاس میں یہ پہلی دفعہ گایا گیا۔ 24 جنوری، 1950ء کو بھارت کی قانون ساز کمیٹی نے سرکاری طور پر اس کی منظوری دی اور یہ نظم، بھارت کا قومی ترانہ ہو گئی۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
ابو علی حسین بن عبد اللہ بن حسن بن علی بن سینا بلخی بخاری، جو ابنِ سینا کے نام سے معروف ہیں، ایک مسلمان عالم دین اور طبیب تھے جن کی اصل فارسی تھی۔ وہ طب اور فلسفہ میں مشہور ہوئے اور انہی علوم میں مصروف رہے۔ ، وہ بخارا کے قریب گاؤں افشنہ (موجودہ ازبکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بلخ (موجودہ افغانستان) سے تھے اور والدہ ایک دیہاتی خاتون تھیں۔ ان کی پیدائش 370ھ (980ء) میں ہوئی اور وفات ہمدان (موجودہ ایران) میں 427ھ (1037ء) میں ہوئی۔ انھیں "شیخ الرئیس" کے لقب سے جانا جاتا ہے، جبکہ مغربی دنیا میں انھیں "امیر الاطباء" اور قرونِ وسطیٰ میں "بابائے طب" کہا گیا۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر تقریباً 200 کتابیں تصنیف کیں، جن میں زیادہ تر فلسفہ اور طب پر ہیں۔ ابنِ سینا ان اولین علما میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے طب پر باقاعدہ تصنیف کی اور انھوں نے بقراط اور جالینوس کے طریقۂ کار کی پیروی کی۔ ان کی مشہور ترین تصنیف القانون فی الطب ہے، جو مسلسل سات صدیوں تک علمِ طب کا بنیادی ماخذ رہی اور یورپ کی جامعات میں سترہویں صدی کے وسط تک بطور نصابی کتاب پڑھائی جاتی رہی۔ ابنِ سینا کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے ابتدائی طور پر گردن توڑ بخار (التہابِ سحایا) کی درست تشخیص کی، یرقان (پیلیا) کے اسباب بیان کیے، مثانے کی پتھری کی علامات واضح کیں اور علاج میں نفسیاتی اثرات کی اہمیت کو بھی محسوس کیا۔ ان کی ایک اور اہم تصنیف كتاب الشفاء ہے۔ ، .
پریمیئر محدود اوورز ٹورنامنٹ 2017-18ء
2017-18 پریمیئر لمیٹڈ اوورز ٹورنامنٹ ایک لسٹ اے کرکٹ مقابلہ تھا جو سری لنکا میں ہوا تھا۔ یہ پریمیئر لمیٹڈ اوورز ٹورنامنٹ کا سترھواں ایڈیشن تھا اور 2015-16 ایڈیشن کے بعد پہلا، 2016-17 ٹورنامنٹ کے بعد ایک قانونی چیلنج کے بعد منسوخ کر دیا گیا اور اس کی جگہ ٹورنامنٹ 9 مارچ 2018 کو شروع ہوا اور 25 مارچ 2018 کو ختم ہوا۔ بارش نے ٹورنامنٹ کے پہلے چند دنوں کو متاثر کیا، کئی کھیل بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔
برصیصا ایک ولی یا راہب جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ساٹھ برس تک اُس نے عبادت اور ریاضت کی زندگی بسر کی، لیکن شیطان کے بہکانے پر ایک عورت کو قتل کر دیا اور جب اُسے گرفتار کرکے قتل کیا جانے لگا تو شیطان انسانی شکل میں اُس کے سامنے آیا اور کہنے لگا کہ اگر تم مجھ کو سجدہ کرو تو میں تمھیں رہا کر دوں گا۔ وہ اس پر آمادہ ہو گیا۔ لیکن جب شیطان نے اپنے آپ کو سجدہ کراکے اُسے ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ خداوندی بنا دیا تو یہ کہہ کرچلا گیا کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے میں تو اللہ سے خائف ہوں جو دو جہان کا پروردگار ہے۔ برصیصا کا نام قرآن کریم کی سورۃ الحشرکی آیت 16 کی تفسیر میں آتا ہے :
سیکس ایجوکیشن ایک برطانوی طربیہ ڈراما ویب ٹیلی ویژن سیریل ہے جو لوری نان نے تخلیق کیا ہے۔ آسا بٹرفیلڈ ایک عدم تحفظ کے شکار نوجوان کے طور پر اور گیلین اینڈرسن اس کی ماں ہے، جو ایک نفسیاتی جنسی مسائل کی معالجہ ہے، پریمئیر 11 جنوری 2019 کو نیٹ فلکس پر نشر ہوا۔ شوتی گٹوا، ایما میکی، کانر سوینڈلز، ایمی لو ووڈ اور کیدار ولیم اسٹرلنگ معاون اداکار ہیں۔ نشر ہونے کے بعد ہی فلمی نقادوں نے اسے سراہا جس سے یہ جلد ہی یہ سیزن نیٹ فلکس کے لیے تجارتی کامیابی کے طور پر