اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
سگسی (منگولی: Сагсай) مشرقی منگولیا کے صوبے بیان-اولگی کا ایک ضلع ہے۔ شہر میں زیادہ تر قازق آبادی ہے، یہ علاقہ عقاب سے شکار کرنے والوں کا گھر ہے، جو سنہری عقاب سے خرگوش اور لومڑی کا شکار کرتے ہیں۔ ہر سال سگسی میں، الطائی قازق عقابوں کا سالانہ میلہ ستمبر کے آخری ہفتے میں لگتا ہے، یہ یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
نوڈ ڈاٹ جے ایس (انگریزی: Node.js) ایک آزاد مصدر کراس پلیٹ فارم رن ٹائم انوائرنمنٹ ہے جو سرور سائڈ اور نیٹ ورکنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر یہ سرور سائیڈ اطلاقیوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نوڈ ڈاٹ جے ایس اسکرپٹنگ زبان کے طور پر جاوا سکرپٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں ابتدائی طور پر ایک ایچ ٹی ٹی پی سرور کی لائبریری شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کسی بیرونی سافٹ ویئر کا استعمال کیے بغیر بھی ویب سرور کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس کے ذریعے ویب سرور کے کاموں پر زیادہ کنٹرول ممکن ہے۔
سیزر مانریکے لانثاروٹے ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: ACE، آئی سی اے او: GCRR) (ہسپانوی: Aeropuerto de César Manrique-Lanzarote)، جسے عام طور پر لانثاروٹے ہوائی اڈا اور اریسیف ہوائی اڈا بھی کہا جاتا ہے، جزائرِ کیناری کے جزیرے لانزاروتے کو خدمات فراہم کرنے والا ہوائی اڈا ہے۔ یہ لاس پالماس کے سان بارتولومے میں، جزیرے کے دار الحکومت اریسیف سے 5 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہاں یورپ کے متعدد ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں چلتی ہیں، جن کے ذریعے ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں، جبکہ اسپین کے دیگر ہوائی اڈوں کے لیے ملکی پروازیں بھی چلائی جاتی ہیں۔ 2022ء میں ہوائی اڈے سے 73,50,451 مسافروں نے سفر کیا۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔
سعودی عرب (رسمی نام : المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
لا پالما ہوائی اڈا (ہسپانوی: Aeropuerto de La Palma) (آئی اے ٹی اے: SPC، آئی سی اے او: GCLA) اسپین کے جزائر کیناری کے جزیرے لا پالما میں واقع ایک ہوائی اڈا ہے۔ یہ برینا باخا اور ویلا دے ماثو کی بلدیاتی حدود میں، جزیرے کے شہر سانتا کروز دے لا پالما سے 8 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اس کا انتظام ہسپانوی ہوائی اڈوں اور فضائی آمدورفت کے انتظامی ادارے کے پاس ہے، جو اسپین کے بیشتر شہری ہوائی اڈوں کا انتظام کرتا ہے۔
محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
مریم نواز شریف (پیدائش 28 اکتوبر 1973ء) ایک پاکستانی سیاست دان ہے، جو اس وقت پنجاب کی وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے والی پہلی خاتون ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی ہیں اور ابتدائی طور پر خاندان کی مخیر تنظیموں میں شامل تھیں۔ تاہم، 2012ء میں، وہ سیاست میں داخل ہوئیں اور 2013ء کے عام انتخابات کے دوران انھیں انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا۔ 2013ء میں انھیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ تاہم، انھوں نے 2014ء میں ان کی تقرری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔
سان سیباسچان ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: EAS، آئی سی اے او: LESO) اسپین کے علاقے باسک میں واقع شہر سان سیباسچان کو خدمات فراہم کرنے والا ایک ہوائی اڈا ہے۔ نام کے برخلاف، ہوائی اڈے کی تنصیبات بلدیہ ہوندارّیبیا میں واقع ہیں، جبکہ اس کا رن وے دریائے بیداسوا کے ساتھ ساتھ اسپین اور فرانس کی سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔ 2023ء میں سان سیباستیان ہوائی اڈے سے 662,482 مسافروں نے سفر کیا۔ ہوائی اڈا بنیادی طور پر ملکی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، خصوصاً میڈرڈ کے لیے۔ جولائی 2022ء سے لندن کے لیے بین الاقوامی پروازیں بھی شروع کی گئیں۔ بڑے طیاروں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے رن وے کو طویل کرنے کا ایک منصوبہ 2008ء سے زیرِ غور ہے۔ تاہم ابتدائی منصوبوں کو اب بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے، جبکہ ہوائی اڈا استعمال کرنے والی فضائی کمپنیوں کو درپیش معاشی مشکلات نے اس کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ قریب ترین دیگر ہوائی اڈوں میں بلباؤ ہوائی اڈا شامل ہے، جو سڑک کے ذریعے تقریباً 117 کلومیٹر دور ہے، جبکہ بیاریتز باسک کوسٹ ہوائی اڈا تقریباً 32 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ .
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
ویتوریا ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: VIT، آئی سی اے او: LEVT) اسپین کے علاقے باسک میں ویتوریا-گاستیز کے قریب واقع ایک ہوائی اڈا ہے۔ مقامی طور پر اسے قریبی گاؤں فوروندا کی نسبت سے فوروندا ہوائی اڈا بھی کہا جاتا ہے۔ ہوائی اڈے میں ایک مسافر ٹرمینل ہے، جس میں 3 بورڈنگ گیٹس اور 7 چیک اِن کاؤنٹرز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ درمیانے اور ہلکے طیاروں کے لیے 16 پارکنگ مقامات اور 3.5 کلومیٹر طویل کیٹگری II/III رن وے موجود ہے۔
مڈل سیکس ویمن کرکٹ ٹیم انگلش تاریخی کاؤنٹی مڈل سیکس کے لیے خواتین کی نمائندہ کرکٹ ٹیم ہے۔ وہ اپنے گھریلو کھیل مختلف میدانوں میں کھیلتے ہیں، زیادہ تر مل ہل اسکول میں اور ان کی کپتانی نومی دتانی کرتی ہے۔ انھوں نے 2019ء میں خواتین کی کاؤنٹی چیمپئن شپ کا ڈویژن 2 جیتا اور 2018ء میں خواتین کا ٹوئنٹی 20 کپ جیتا ۔ وہ علاقائی سائیڈ سن رائزرز کے ساتھ شراکت دار ہیں۔
کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی ایجاد کے بعد دھاتی کرنسی آہستہ آہستہ کاغذی کرنسی میں تبدیل ہو گئی جبکہ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ کرنسی نہ صرف انسانوں کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ حکومتوں کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے۔ ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی، 1275ء میں مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں: جلنے والا پتھر (کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس)، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ مارکو پولو لکھتا ہے: "آپ کہہ سکتے ہیں کہ قبلائی خان کو کیمیا گری (یعنی سونا بنانے کے فن) میں مہارت حاصل تھی۔ بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی"۔ لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی۔ جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگوڈا نے جاری کی تھی۔ موجودہ زمانے میں کاغذی کرنسی سینٹرل بینک جاری کرتا ہے۔ مارکوپولو وہ پہلا آدمی تھا جس نے چین میں سینٹرل بینکنگ سیکھی اور وینس واپس آ کر یورپ والوں کو سکھائی۔ یعنی مارکوپولو صرف سیاح نہیں تھا بلکہ مغربی دنیا کا پہلا اصولی سینٹرل بینکر بھی تھا۔ اس طرح یورپ میں سینٹرل بینکنگ کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ سوئیڈن میں سولہویں صدی میں منظم بینکنگ سسٹم قائم ہو چکا تھا اور 1661ء میں سرکاری سطح پر کاغذی کرنسی کا اجرا شروع ہو چکا تھا۔ برطانیہ میں سرکاری کاغذی کرنسی 1694ء سے شائع ہونا شروع ہوئی۔ برطانیہ اور نیدرلینڈ پچھلے پانچ سو سال سے عالمی کیپیٹل منڈی پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ "For over a century, the global financial system has been increasingly built on papered-over leverage, fiat expansion, and financial engineering. Since 1913, governments, financial institutions, and central banks have systematically distorted money and markets, creating an unsustainable system of derivatives, credit expansion, and hidden leverage." کرنسی تخلیق کرنا اور عوام کو اس کے استعمال پر مجبور کرنا حکومت یا مرکزی بینک کو بہت بڑی طاقت عطا کرتا ہے۔ "سینٹرل بینکنگ (خفیہ) چوری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔" Central banking is the greatest engine of theft جولائی، 2006ء کے ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک "فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے"۔ مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔ 1927ء میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ ( جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا ) نے کہا تھا کہ"جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔..
داستان افسانوی ادب کی سب سے قدیم صنف ہے۔اگر یہ کہا جائے تو بجا نہ ہوگا کہ اردوادب میں غزل کے بعد اگر کسی صنف کو مقبولیت ملی ہے تو وہ داستان ہے۔کہتے ہیں کے انسان دور قدیم سے ہی داستان کا دلدادہ رہا ہے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں بھلے ہی اس کی مقبولیت میں کمی ہوگی ہے۔لیکن صدیوں تک اس کا بول بالا رہا ہے۔قصہ انسان کی سرشت میں شامل ہے اور قصہ کہنا اور سننا زمانے قدیم سے بہ حثیت فن رائج ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جسے ملک کے صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبۂ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرۂ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی کراچی میں قائم ہیں۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دار الحکومت منتخب کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی میں اُن علاقوں سے جو بھارت کا حصہ بن گئے تھے، لاکھوں مہاجرین ہجرت کرکے آئے۔ پاکستان کا دار الحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔
اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، محمد ﷺ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
انس بن مالک صحابی رسول تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ یہ ہے : انس بن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام انصاری۔ آپ قبیلہ انصار میں خزرج کی ایک شاخ بنی نجار میں سے ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام ام سلیم بنت ملحان ہے۔آپ کی کنیت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ابو حمزہ رکھی اور آپ کا مشہور لقب ”خادم النبی”ہے اور اس لقب پر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بے حد فخر تھا۔ دس برس کی عمر میں یہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور دس برس تک سفر و وطن ، جنگ و صلح ہر جگہ ہر حال میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت کرتے رہے اور ہر دم خدمت اقدس میں حاضر باش رہتے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے تبرکات میں سے ان کے پاس چھوٹی سی لاٹھی تھی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ اس کو بوقت دفن میرے کفن میں رکھ دیں۔چنانچہ یہ لاٹھی آپ کے کفن میں رکھ دی گئی ۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کے لیے خاص طور پر مال اور اولاد میں ترقی اور برکت کی دعائیں فرمائی تھیں، چنانچہ ان کے مال اور اولاد میں بے حد برکت و ترقی ہوئی ۔ مختلف بیویوں اور باندیوں سے آپ کے 80 لڑکے اور 2 لڑکیاں پید اہوئیں اور جس دن آپ کا وصال ہوا اس دن آپ کے بیٹوں اور پوتوں وغیرہ کی تعداد ایک سو بیس( 120) تھی ۔ بہت زیادہ حدیثیں آپ سے مروی ہیں ۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے حنا کا خضاب سر اور داڑھی میں لگاتے تھے اور خوشبو بھی بکثرت استعمال کرتے ۔ آپ نے وصیت فرمائی کہ میرے کفن میں وہی خوشبو لگائی جائے جس میں حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا ہے ۔ ان کی والدہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پسینہ کو جمع کر کے خوشبو میں ملایا کرتی تھیں ۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
قومی شناختی کارڈ (CNIC) ایک 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ ہے جو پاکستان کے تمام بالغ شہریوں اور ان کے غیر مقیم ہم منصبوں کے لیے دستیاب ہے، جو رضاکارانہ طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں بائیومیٹرک ڈیٹا جیسے 10 فنگر پرنٹس، 2 آئیرس پرنٹس اور چہرے کی تصویر شامل ہیں۔ نادرا 1998ء میں وزارت داخلہ حکومت پاکستان کے تحت ایک منسلک محکمہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ مارچ 2000ء سے، نادرا نے آزادانہ طور پر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ خود مختاری کے ساتھ ایک آزاد کارپوریٹ ادارے کے طور پر کام کیا ہے۔ سی این آئی سی میں قانونی نام، جنس (مرد، عورت یا خواجہ سرا) والد کا نام (یا شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر کا نام) شناختی نشان، تاریخ پیدائش، قومی شناختی کارڈ نمبر، خاندان نمبر، موجودہ اور مستقل پتے، جاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ، دستخط، تصویر اور انگوٹھے کے نشان (فنگر پرنٹ) جیسی تفصیلات شامل ہیں۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجابی کہلاتے ہیں۔ پنجاب جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان، شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں کردستانی ،بلوچوں اور عربی نژادوں کی کافی تعداد ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ چھہتر لاکھ اٹھاسی ہزار نو سو بائیس 127٫688٫922 افراد پر مشتمل ہے۔ پنجاب سب سے بڑا بارہ کروڑ آبادی والا صوبہ ہے۔
راولپنڈی (انگریزی: Rawalpindi), صوبہ پنجاب، پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوہار پر واقع ایک اہم شہر ہے۔ یہ شہر افواجِ پاکستان کا صدر مقام بھی ہے اور 1960ء میں جب موجودہ دار الحکومت اسلام آباد زیر تعمیر تھا انہی دنوں میں قائم مقام دار الحکومت کا اعزاز راولپنڈی کو ہی حاصل تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سماجی اور اقتصادی روابط کو مشترکہ طور پر " جڑواں شہر " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق راولپنڈی میٹروپولیٹن کی آبادی 3،461،806 افراد پر مشتمل ہے اور یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ راولپنڈی کی مشہور سڑک مری روڈ ہمیشہ ہی سے سیاسی جلسوں کا مرکز رہی ہے۔ 1765ء میں اس علاقے کے حکمران گکھڑوں کو شکست ہوئی اور یہ شہر سکھوں کی حکمرانی کے تحت آگیا۔ 1849ء میں اس شہر کو برطانوی راج نے فتح کر لیا۔ راولپنڈی کی آب و ہوا برطانوی حکام کو بہت پسند آئی جس کی وجہ سے 19ویں صدی کے آخر میں یہ شہر برطانوی انڈین آرمی کی شمالی کمان کا سب سے بڑا گیریژن شہر بن گیا۔ برطانوی فوج نے 1921ء تک اس شہر کو ایک چھوٹے سے قصبے سے پنجاب کے تیسرے بڑے شہر میں تبدیل کر دیا۔
سال1857کے ہنگامے کے بعد ملک میں ایک تعطل پیدا ہو گیا تھا۔ اس تعطل کودور کرنے اور زندگی کو ازسر نو متحرک کرنے کے لیے حکومت کے ایماءپر مختلف صوبوں اور شہروں میں علمی و ادبی سوسائٹیاں قائم کی گئیں ہیں۔ سب سے پہلے بمبئی، بنارس ،لکھنؤ، شاہ جہاں پور، بریلی اور کلکتہ میں ادبی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ایسی ہی ایک انجمن لاہور میں قائم کی گئی جس کا پور ا نام ”انجمن اشاعت مطالب ِ مفیدہ پنجاب “ تھا جو بعد میں انجمن پنجاب کے نام سے مشہور ہوئی۔
سندھ سندھی: سنڌ پاکستان کے چارصوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی حصہ ہے۔ سندھ کی صوبائی زبان سندھی اور اردو ہے۔ صوبائی دار الحکومت کراچی ہے۔ سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ چھپن لاکھ چھیانوے ہزار 55,696,147 افراد پر مشتمل ہے۔
سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترکی زبان: "دولت عالیه عثمانیه"، ترکی زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب (عربی: الناصر صلاح الدين يوسف بن أيوب; کرد: سەلاحەدینی ئەییووبی) جنھیں عام طور پر صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانا جاتا ہے ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن و خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی اپنے کارناموں میں نور الدین زنگی پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنھوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی 1193ء میں دمشق میں انتقال کر گئے، انھوں نے اپنی ذاتی دولت کا زیادہ تر حصہ اپنی رعایا کو دے دیا۔ وہ مسجد بنو امیہ سے متصل مقبرے میں مدفون ہیں۔ مسلم ثقافت کے لیے اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ، صلاح الدین کا کرد، ترک اور عرب ثقافت میں نمایاں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر تاریخ کی سب سے مشہور کرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام ، اللہ کے اولین پیغمبر ہیں۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب ۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اس رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے : اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔ اس لیے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے (روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) ۔ اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کے لیے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبرائیل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کیے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمۃ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔ اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔ مجاہد بن جبیر نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نام سکھائے ۔ مجاہد نے مزید کہا:ہر جانور ، پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔ سعید بن جبیر ، قتادہ بن دعامہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم!
سیکس اینڈ دی سٹی (فلم) (انگریزی: Sex and the City (film)) 2008ء میں منظر عام پر آنے والی ایک خواتین دوستوں کی فلم، رومانوی مزاحیہ اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری مائیکل پیٹرک کنگ نے کی۔ اس فلم میں کرس ناتھ، سارہ جیسکا پارکر، سنتھیا نکسن، کرسٹن ڈیوس اور کم کیٹرل نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Darren Star، مائیکل پیٹرک کنگ اور سارہ جیسکا پارکر نے فلم سازی کی، آرون زیگ مین نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔ اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیدہ اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقرہ: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5) اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انھیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “ اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمھیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف) تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں- Book Name: Sahih Muslim, Hadees # 6138 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : يا خَيرَ البرِيّۃِ اے مخلوقات میں سے بہترین انسان !
ریوس ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: REU، آئی سی اے او: LERS)، جسے بارسلونا ریوس یا جنوبی بارسلونا بھی کہا جاتا ہے، اسپین کے علاقے کاتالونیا میں کوستا دورادا کے ساحلوں کے قریب واقع ہے۔ یہ قصبہ کونستانتی اور شہر ریوس سے تقریباً مساوی فاصلے پر، جبکہ شہر تاراغونا کے مرکز سے تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ہوائی اڈا بڑی تعداد میں سیاحتی فضائی آمدورفت سنبھالتا ہے، جن میں سالو اور کامبریلس کے ساحلی تفریحی مقامات کا رخ کرنے والے مسافر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ وسطی بارسلونا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جو ہوائی اڈے سے تقریباً 88 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ ہوائی اڈا یورپ کے بڑے تفریحی مراکز میں سے ایک پورٹ ایونتورا ورلڈ کے قریب واقع ہے۔ اس کے علاوہ یہ پراڈیس پہاڑوں کے بھی نزدیک ہے، جو کومارکا بائیش کامپ کے علاقے میں واقع بحیرۂ روم کے جنگلات پر مشتمل ایک قدرتی علاقہ ہے۔ .
محیی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی (1240ء—1165ء)، دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق، قدوہ علما اور علوم كا بحر بیكنار ہیں۔ اسلامی تصوف میں آپ كو شیخ اکبر کے نام سے یاد كیا جاتا ہے اور تمام مشائخ آپ كے اس مقام پر تمكین كے قائل ہیں۔ مسلم تصوف میں وحدت الوجود کا تصور پہلے سے موجود تھا لیکن اس کو تفصیل سے بیان کرنا انہی کا کام ہے۔ اکثر محدثین اور بعض متکلمین، بالخصوص شیعہ علما، نے ان کے اس عقیدے کو الحاد و زندقہ سے تعبیر کیا ہے۔ مگر صوفیا انھیں شیخ الاکبر کہتے ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ جن میں فصوص الحكم اور الفتوحات المکیہ (4000 صفحات) بہت مشہور ہے۔ فتوحات المكيۃ 560 ابواب پر مشتمل ہے اور کتب تصوف میں اس کا درجہ بہت بلند ہے۔
مرزا غلام احمد (13 فروری 1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہی مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہے اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ 1888ء میں، مرزا نے اعلان کیا کہ انھیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے اور اس طرح 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ جسے قادیانیت اور مرزائیت بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔
محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
فویرتے بینتورا ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: FUE، آئی سی اے او: GCFV)، جسے ایل ماتورال ہوائی اڈا بھی کہا جاتا ہے، اسپین کے جزیرے فویرتے بینتورا کو خدمات فراہم کرنے والا ایک ہوائی اڈا ہے۔ یہ ایل ماتورال میں، جزیرے کے دار الحکومت پوییرتو دل روساریو سے 5 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ ہوائی اڈے سے دنیا بھر میں 80 سے زیادہ مقامات کے لیے پروازیں چلتی ہیں اور 2019ء میں یہاں سے 56 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے سفر کیا۔ 2023ء میں ہوائی اڈے سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔
روس(روسی: Россия) (انگریزی: Russia) (اردو: روس)، جسے باضابطہ طور پر روسی وفاق کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو مشرقی یورپ اور شمالی ایشیا پر محیط ہے۔ روس کی زمینی حدود 17,098,246 مربع کلومیٹر (6,601,668 مربع میل) پر پھیلی ہوئی ہیں، جو اسے رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بناتی ہیں اور یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ روس کی آبادی تقریباً 146 ملین ہے، جو اسے یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے، جب کہ اس کی دار الحکومت ماسکو، یورپ کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ روس کے اہم شہر ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔
عبد المطلب (پیدائش: 480ء، مدینہ منورہ – وفات: 578ء، مکہ) (عربی میں عبد المطّلب ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا تھے ان کا اصل نام شیبہ تھا (شیبہ بن ھاشم عربی میں شيبة ابن هاشم یا شیبۃ الحمد)۔ ان کو عبد المطلب (درست تلفظ: عبد المطَلِّب) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کو ان کے چچا مطلب نے پالا تھا۔ کیونکہ ان کے والد ھاشم کی وفات ان کی پیدائش سے کچھ ماہ پیشتر ہو گئی تھی۔ حضرت عبد المطلب دینِ ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے اور ایسی کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انھوں نے کبھی بت پرستی کی ہو۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
بچوں کا بچوں سے جنسی استحصال ایک قسم کا بچوں کا جنسی استحصال ہے جس میں سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے ہی کسی بچے کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور یہ ایک یا اس سے زیادہ بچوں یا نواجوانوں کی جانب سے کیا جاتا ہے جس میں راست طور پر کوئی بالغ شامل نہیں ہوتا ہے۔ اس اصطلاح کو اس جنسی سرگرمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو "بغیر رضامندی، بغیر مساوات یا پھر زبردستی کے نتیجے میں انجام پائے۔ اس میں یہ شکل بھی شامل ہے جب ایک بچہ جسمانی زبردستی، دھمکی، دھوکے بازی یا جذباتی چالبازی کا استعمال کرتے ہوئے تعاون حاصل کرے۔ بچوں کے بچوں سے جنسی استحصال کو مزید روایتی جنسی کھیل یا جسم کی ساخت کو جاننے کے تجسس سے اور ایسی کوششوں سے مختلف بتایا گیا ہے (مثلًا "ڈاکٹر کھیلنا") کیوں کہ بچوں کا بچوں سے جنسی استحصال ایک صاف طور ظاہر اور جنسی شہوت کی جانب دانستہ طور مرکوز ہے اور اس میں اباضہ بھی شامل ہے۔ کئی واقعات میں ایسا شخص جو دوسرے کو جنسی عمل کے لیے ابھارتا ہے، بچے کی معصومیت کا کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور کم عمر مظلوم ان پر ہونے والے ظلم کی حقیقی نوعیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جب جنسی استحصال ایک بھائی یا بہن کی جانب سے اپنے ہی بھائی یا بہن (وہی صنف یا مخالف صنف، دونوں ہی صورتوں میں) انجام پاتا ہے، تو اسے بین الاولاد استحصال کہتے ہیں۔
جُنْدُب بن جُنَادَة رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات 31ھ) ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے۔آپ اپنی کنیت ابوذرؓ غِفَارِی کے نام سے مشہور ہوئے۔آپ نہ مکہ سے تھے نہ یثرب سے تعلق تھا بلکہ ایک ایسی جگہ سے تھے جو مسافروں کے لیے نہایت ہی خطر ناک جگہ تھی - غِفَار-رہزنی اور تجارتی قافلوں کو لوٹنا بنو غفار کا پیشہ تھا۔جب مکہ میں آفتاب رسالت طلوع ہوا تو یہ خبر بنو غفار کے اس نوجوان تک بھی پہنچی جس کی رنگت میں سرمئی غالب تھی- بلند ترین قد, دبلے اور پھرتیلے جسم کے مالک تھے۔کردار میں سادہ مزاجی اقوال میں بے باکی ان کی شخصیت کو ایک خاص پہچان دیتی تھی۔آپ کبھی بت پرستی کے قریب نہیں گئے۔ابوذرؓ نے اپنے بھائی انیس کو یہ ذمہ دیا کہ مکہ کے حالات معلوم کرے اور اس شخص کے بھی جس نے نبوت کا اعلان کیا اور اک اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ان کے بھائی نے واپس آکر مختصر حالات بیان کیے کیونکہ مشرکین مکہ مکرمہ کی وجہ سے تفصیل معلوم کرنا مشکل کام تھا۔ابو زر غفاری نے کہا اتنا میرے لیے کافی نہیں خود مختصر سامان سفر باندھا اور مکہ کے لیے روانہ ہوئے جاتے وقت بھائی نے آگاہ کیا کہ مکہ کی قوم اس نبی کے خلاف ہیں اور وہ ان کے دشمن ہیں اور انھیں بھی تکلیف دیتے ہیں جو ان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔جب یہ مکہ پہنچے تو اسی الجھن میں رہے کی کس سے ملے اور کس سے نہیں اسی الجھن میں وقت گذرا اور سامان سفر ختم ہو گیا۔اسی حالت میں اک جگہ سے گذر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک معتبر شخصیت پر پڑی جو مسکینوں کو کھانا کھلا رہے تھے دیکھنے پر بہت ہی بھلے آدمی معلوم ہوتے تھے۔ جیسے ابوذرؓ نے غور کیا ویسے ہی انھوں نے بھی بھی ابوذرؓ پر غور کیا۔وہ ابوبکرؓ تھے۔ انھیں ابوبکرؓ اپنے گھر لے گئے اور خوب مہمان نوازی کی تین دن گذر گئے لیکن ابوذرؓ غفاری نے ان کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا کیونکہ ابوذرؓ غفاری اب بھی الجھن میں ہی تھے۔آخر ابوبکرؓ نے ان سے پوچھ لیا نہ تم تاجر نظر آتے ہو نہ تمھارے آمد کی وجہ معلوم ہوتی ہے۔تمھارا مقصد کیا ہے اور تمھاری منزل کیا ہے۔یہ سن کر ابوذرؓ نے ہمت باندھی اور کہا کہ وعدہ کرو کہ جو میں سوال کروں اس کا صحیح جواب دو گے اور مجھے تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اور یہ راز ہی رکھو گے۔ابوبکرؓ صدیق نے وعدہ کیا- ابوذرؓ نے ان سے مکہ آنے کا ارادہ بیان کیا اور یہ اللہ کی منشا تھی کہ آپ ابوبکر صدیقؓ کے مہمان تھے اور ابوبکرؓ بلا تاخیر انھیں آپ ﷺ کے پاس لے کر گئے۔آپ ﷺ نے ان کے سامنے جب قرآن پڑھا تو بے ساختہ ابوذرؓ نے درمیان میں ہی کلمہ پڑھ کر گواہی دی جس سے آپ ﷺ بے حد خوش ہوئے۔ان کی بے باکی کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ ابوذرؓ نے مشرکین مکہ کے درمیان با آواز بلند مسلمان ہونے کا اعلان کیا جس سے مشتعل ہوکر مشرکین نے آپ کو بہت زدوکوب کیا لیکن آپ ﷺ کے چاچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ابھی ایمان نہ لائے تھے درمیان میں حائل ہو گئے اور کہا یامعاشرۃ القریش! یہ شخص بنو غِفَار سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے ہمارے تجارتی قافلوں کا گذر ہوتا ہے یہ سنتے ہی سب خوف سے پیچھے ہٹ گئے اس طرح ابوذرؓ مشرکین کے چنگل سے چھوٹے آپ اسلام لانے والے پانچویں یا چھٹے شخص تھے اور بیرون مکہ سے آکر اسلام لانے والے پہلے شخص تھے آپ ﷺ سے پہلی ملاقات میں السلام علیکہ یا رسول اللہ یہ الفاظ سب سے پہلے ابوذرؓ نے استعمال کیے آپ ﷺ کے کہنے پر آپ نے اپنے علاقے میں جاکر دعوت دی آپ کے خاندان سمیت اکثر لوگ ایمان لے آے- بقیہ تب ایمان لائے جب آپ ﷺ مدینہ میں تھے آپ ﷺ نے بنو غفار کے لیے دعا فرمائی غِفٰارُُ غَفَرَالَلہُ لَہُمْ اے اللہ بنو غفار کو بخش دے دنیا اور مال سے بے رغبتی: ایک دفع ایک صحابی ابوذرؓ کے کمرے میں آے تو حیران رہ گئے سارا حجرہ خالی پڑا ہے تو پوچھا آپ کی ضروریات کا سامان کہاں ہے تو آپ نے فرمایا وہ سب سامان میں نے اپنے محل میں محفوظ رکھا ہے!
سمرسیٹ ویمن کرکٹ ٹیم سمرسیٹ کی انگریزسمی کاؤنٹی کے لیے خواتین کی نمائندہ کرکٹ ٹیم ہے۔ وہ سمرسیٹ کے مختلف میدانوں میں اپنے میچز کھیلتے ہیں، اکثر ٹاونٹن میں اور ان کی کپتانی ایملی ایج کامبی کرتی ہے۔ سمرسیٹ نے خواتین کی کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ڈویژن 1 یا ڈویژن 2 میں مسلسل حصہ لیا اور 2019ء میں خواتین کے ٹوئنٹی 20 کپ کا ڈویژن 2 جیتا 2021ء میں، انھوں نے ٹوئنٹی 20 کپ کا ویسٹ مڈلینڈز گروپ جیتا تھا۔ وہ علاقائی ٹیم ویسٹرن سٹورم کے ساتھ شراکت دار ہیں۔
ابو حامد محمد بن محمد غزالی طوسی شافعی (450ھ – 505ھ / 1058ء – 1111ء) پانچویں صدی ہجری کے ممتاز ترین علما میں سے ایک اور اپنے زمانے کے عظیم ترین مسلم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ، وہ ایک جلیل القدر فقیہ ، اصولی ، فلسفی اور صوفی تھے۔ فقہ میں ان کا تعلق شافعی مذہب سے تھا اور اپنے زمانے کے آخری دور میں شافعیہ میں ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ عقیدہ کے اعتبار سے وہ اشعری مکتبِ فکر کے پیرو تھے اور علمِ کلام میں اشعری مدرسے کے نمایاں ستونوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھیں ابو الحسن اشعری کے بعد اشعری مکتب کے تین بڑے اصولی ائمہ میں شمار کیا جاتا ہے، جن میں الباقلانی ، امام الحرمین جوینی اور امام غزالی شامل ہیں۔ امام غزالی کو اپنی زندگی میں متعدد القابات سے نوازا گیا، جن میں سب سے مشہور لقب “حجۃ الاسلام” ہے۔ اس کے علاوہ انھیں زین الدین، محجۃ الدین، العالم الاوحد، مفتی الامۃ، برکۃ الانام، امام ائمۃ الدین اور شرف الائمہ جیسے القابات بھی دیے گئے۔ .
جج یا قاضی وہ عُہدیدار جو قانون کے اعلیٰ امتحانات پاس کرنے کے بعد قانون سے کماحقہ واقفیت رکھتا ہو اور اسے کسی دیوانی یا فوجداری عدالت کی صدارت پر فائز کیا گیا ہو۔ پاکستان میں دیوانی عدالتوں کے جج سول جج کہلاتے ہیں۔ اور فوجداری، ماتحت عدالتوں کے جج مجسٹریٹ۔ البتہ فوجداری عدالت بالا سیشن جج کی عدالت ہوتی ہے۔ اور سیشن جج کو دیوانی اختیارات کی عدالت بالا کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ جج کہتے ہیں۔تمام سول جج سینئر سول جج کے ماتحت کام کرتے ہیں۔تمام ایڈیشنل سیشن جج ایک سیشن جج کے ماتحت سب کام کرتے ہیں ہیں ان کا دائرہ اختیار سیشن جتنا ہی ہوتا ہے۔سب سے پہلے سیول جج بھرتی کیے جاتے ہیں اور ہائی کورٹ خود ایڈیشنل سیشن جج بھرتی کرتی ہے۔سول جج بھرتی ہونے کے لیے یے کم ذات کم دو سال کا تجربہ وکالت میں ہونا لازمی ہے۔اس کا امتحان ان سے پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن لیتیآرکائیو شدہ بذریعہ ppscpastpapers.com تھی پر اب لاہورہائیکورٹ سیول جج کے امتحان خود لیتی ہے۔در جائے اول میں بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سورج قابلیت کے لحاظ سے ایڈیشنل سیشن جج تک ریٹائر ہو سکتا ہے۔
بلد الولید ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: VLL، آئی سی اے او: LEVD) اسپین کے علاقے قشتالہ و لیون کی بلدیہ فیلا نوبلا میں واقع ایک ہوائی اڈا ہے، جو شہر بلد الولید سے 10 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ شہری ہوائی اڈا فیلانوبلا فضائی اڈا کے نام سے معروف ہسپانوی فضائی و خلائی فوج کے ایک فضائی اڈے کے ساتھ ایک ہی علاقے میں قائم ہے۔ یہ آج قشتالہ و لیون کا سب سے بڑا اور مصروف ترین ہوائی اڈا ہے اور لیون، سلامانکا اور بورغوس کے ہوائی اڈوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ فضائی آمدورفت رکھتا ہے۔
قرآن واضح طور پر گواہى ديتا ہے كہ يہ دو وحشى خونخوار قبيلوں كے نام تھے، وہ لوگ اپنے ارد گرد رہنے والوں پر بہت زيادتياں اور ظلم كرتے تھے۔ مفسر علامہ طباطبائی نے الميزان ميں لكھا ہے كہ توريت كى سارى باتوں سے مجموعى طور پر معلوم ہوتا ہے كہ ماجوج يا ياجوج و ماجوج ایک يا كئى بڑے بڑے قبيلے تھے، يہ شمالى ايشيا كے دور دراز علاقے ميں رہتے تھے۔ يہ جنگجو، غارت گر اور ڈاكو قسم كے لوگ تھے۔
خیرِیز بین الاقوامی ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: XRY، آئی سی اے او: LEJR) اسپین کا ایک ہوائی اڈا ہے، جو خیرِیز دے لا فرونتیرہ کے شمال مشرق میں، شہر کے مرکز سے 9 کلومیٹر اور قادس شہر سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ صوبہ قادس کا واحد شہری ہوائی اڈا ہے اور صوبے میں سیاحت کے فروغ کے اہم عوامل میں شمار ہوتا ہے۔
گنیش چترتھی (ہندی: गणेश चतुर्थी) (جسے ونایک چترتھی بھی کہتے ہیں) ہندوؤں کا ایک مذہبی تہوار جو ان کے ایک دیوتا گنیش کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کا سر ہاتھی جیسا تھا۔ شکلا چترتھی سے شروع ہونے والا یہ تہوار ہندو تقویم کے بھادوں مہینا میں منایا جاتا ہے۔ تہوار کی تاریخیں عموماً اگست اور ستمبر کے مہینوں میں آتی ہیں، یہ تہوار دس دنوں تک جاری رہتا ہے اور اننت چتردشی (अनंत चतुर्दशी) کو اختتام پزیر ہوجاتا ہے۔
2022ء خواتین ٹوئنٹی 20 کپ، جسے اسپانسرشپ کی وجوہات کی بنا پر 2022ء وائٹلٹی ویمنز کاؤنٹی ٹی 20 کے نام سے جانا جاتا ہے، ویمنز ٹوئٹی 20کپ کا 13 واں ایڈیشن تھا جو انگریزی خواتین کا کرکٹ ٹوئنٹی 20 گھریلو مقابلہ ہے۔ یہ اپریل اور مئی 2022ء میں ہوا جس میں 35 ٹیموں نے حصہ لیا جسے 8 علاقائی گروپوں میں منظم کیا گیا۔ مجموعی طور پر کوئی فاتح نہیں تھا، لنکاشائر ورسٹر شائر وارکشائر سفولک لیسٹر شائر اور رٹ لینڈ سسیکس مڈل سیکس اور ڈیون نے اپنے انفرادی گروپ جیتے۔
برکس (BRICS) برازیل ، روس ، بھارت ، چین اور جنوبی افریقہ کا ایک گروپ ہے جو 2010 میں جنوبی افریقہ کو پیشرو برک (BRIC) میں شامل کرنے سے تشکیل دیا گیا تھا۔ اصل مخفف "BRIC" یا "The BRICs"، 2001 میں گولڈمین ساسچ کے ماہر اقتصادیات جم او نیل نے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں کو بیان کرنے کے لیے وضع کیا تھا جس کی اس نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ 2050 تک عالمی معیشت پر اجتماعی طور پر غالب ہوجائینگی۔
خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
سید کا لفظ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خاتونِ جنت سیدۃ نساء العالمين حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد سے ہیں۔ عربی میں ان کے لیے شریف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سید کا لفظی مطلب سردار کا ہے جو احتراماً ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ سادات ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی زیادہ تعداد عرب علاقوں، ایران، پاکستان، ہندوستان، ترکی اور وسط ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ سادات سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں میں پائے جاتے ہیں۔ سادات حقیقی وہ ہیں جن سے برصغیر میں یہ خاندان پھیلا آئین اکبری کے مطابق سادات بارہہ، سادات اچ ،سادات بخاری ،سادات مشہد اور سادات امروہہ ہیں جن سے برصغیر میں ان کی آمد ہوئی
بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔
میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار 2013ء تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔