اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے۔ 1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔
1974ء ميں وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں جن کوقادیانی بھی کہا جاتا ہے، کوغیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا، 30 جون 1974 کو مولانا شاہ احمد نورانی نے بل پیش کیا اور مولانا مفتی محمود قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی کمیٹی کے سربراہ بنے قومی اسمبلی میں چھ بل پیش ہوئے ان میں سے ایک بل مولانا غوث ہزاروی نے پیش کیا اور آخری اور ختمی بل مولانا شاہ احمد نورانی نے پیش کیا جس پر قومی اسمبلی کی کارروائی ہوئی 6 ستمبر 1974ء تک بحث و تمحیص کے بعد اسے ایک قانونی شق کی حیثیت دے دی گئی۔ دوسری آئینی ترمیم کے اس حصے جس میں احمدیوں کو واضح طور پر آئین پاکستان نے غیر مسلم قرار دیا ہے، کو آرڈیننس 20 کہا جاتا ہے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
آیزو 639 (ISO 639) ایک عالمی معیار ہے جو زبانوں کو مختلف رموز رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ پہلے صرف آیزو آیزو 639-1 بنایا گیا۔ لیکن جوں جوں نئی زبانیں دریافت ہوئیں آیزو 639-2 بنایا گیا۔ آیزو 639-1 میں اردو کا مختصر رمز ur ہوگااور انگریزی کا en ہوگا جبکہ آیزو 639-2 میں اردو اور انگریزی کے رموز urd اور eng بالترتیب ہوں گے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
مرزا غلام احمد (13 فروری 1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہی مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہے اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ 1888ء میں، مرزا نے اعلان کیا کہ انھیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے اور اس طرح 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ جسے قادیانیت اور مرزائیت بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
نوڈ ڈاٹ جے ایس (انگریزی: Node.js) ایک آزاد مصدر کراس پلیٹ فارم رن ٹائم انوائرنمنٹ ہے جو سرور سائڈ اور نیٹ ورکنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر یہ سرور سائیڈ اطلاقیوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نوڈ ڈاٹ جے ایس اسکرپٹنگ زبان کے طور پر جاوا سکرپٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں ابتدائی طور پر ایک ایچ ٹی ٹی پی سرور کی لائبریری شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کسی بیرونی سافٹ ویئر کا استعمال کیے بغیر بھی ویب سرور کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس کے ذریعے ویب سرور کے کاموں پر زیادہ کنٹرول ممکن ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
ہندی بھارت میں بولی جانے والی زبان ہے جس کے ماخد وہی ہیں جو اردو کے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی اور اردو ہندوستانی زبان سے نکلے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہندی کا جھکاؤ سنسکرت کی طرف بہت زیادہ ہے۔ اردو عام طور پر ہندی ہیں۔ ہندی کی پراتن کھوپڑی اپبھرانشہ ہے، جو کے شَوراسینی پراکرت کی قسم ہے۔ اردو کو عرب دیشوں میں ہندی زبان مانا جاتا ہے، کیوں کہ وہاں زیادہ تر ہندوستانیوں نے اپنی زبان کو ہندی زبان قرار کیا ہے۔ ہندی کی زیادہ سنسکرِت مند ریجسٹر کو آدھُنِک مانک ہندی (دیوناگری: आधुनिक मानक हिन्दी) کہا جاتا ہے۔
مشعال ملک(نگران وزیر برائے انسانی حقوق)جو مشعال حسین ملک کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہیں،1988ء میں امریکا میں پیدا ہوئیں ۔ امریکی نژاد پاکستانی ہیں۔وہ ایک آرٹسٹ، پینٹر، جدوجہدِ آزادی کے لیے سرگرم خاتون اور امن کی سفیر ہیں۔ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور کامیاب خاندان سے ہے۔ اُن کے پاس بیک وقت پاکستان اور انڈیا کی قومیت ہے۔ویسے وہ چکوال، پاکستان کی رہنے والی ہیں۔یٰسین ملک کی گرفتاری تک وہ اپنے شوہر کے ساتھ سری نگر میں رہتی تھیں۔کشمیری مسلمانوں کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک تنظیم "پیس اینڈ کلچر" کی چیرپرسن ہیں۔ ان کے والد حسین ملک جو 2002ء میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے پیشے کے اعتبار سے اکنامکس کے پروفیسر تھے اور وہ پہلے پاکستانی تھے جنھیں جرمنی میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ ان کی والدہ ریحانہ حسین خواتین ونگ میں پاکستان مسلم لیگ کی سیکرٹری جنرل تھیں جبکہ ان کے بھائی واشنگٹن ڈی سی میں مقیم تھے جہاں انھوں نے غیر ملکی تجزیہ کار کی ملازمت سنبھالی۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
عبد العزیز ثعالبی (15 شعبان 1293ھ / 5 ستمبر 1874ء – یکم اکتوبر 1944ء) تیونسی سیاسی اور مذہبی رہنما تھے۔ وہ ان چند شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی جدوجہد میں سیاسی اور مذہبی، نیز مقامی، علاقائی اور عالمی پہلوؤں کو یکجا کیا۔ ان کا مقصد ایک طرف قبضے اور اس کے مظالم سے نجات حاصل کرنا اور دوسری طرف معاشرے کی ترقی اور سربلندی تھا۔
جنگ یمامہ حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت جمادی الاخری سن 12 ہجری میں یمامہ کے مقام پر پیش آئی یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف کی گئی تھی کیونکہ اس ملعون نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تھا۔ قاتل امیر حمزہ حضرت وحشی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ نام کے صحابی نے اس کو قتل کیا تھا اور ایک انصاری نے بھی قتل کرنے میں شرکت کی تھی۔ مسیلمہ جس دن قتل ہو ا اس کی عمر ڈیڑھ سو سال تھی اس کی پیدائش آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبد اللہ سے بھی پہلے کی تھی۔
سیکس اینڈ دی سٹی (فلم) (انگریزی: Sex and the City (film)) 2008ء میں منظر عام پر آنے والی ایک خواتین دوستوں کی فلم، رومانوی مزاحیہ اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری مائیکل پیٹرک کنگ نے کی۔ اس فلم میں کرس ناتھ، سارہ جیسکا پارکر، سنتھیا نکسن، کرسٹن ڈیوس اور کم کیٹرل نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Darren Star، مائیکل پیٹرک کنگ اور سارہ جیسکا پارکر نے فلم سازی کی، آرون زیگ مین نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
حضور سیدنا زید بن حارثہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے۔ آپ کو بچپن میں اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے خرید لیا اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی نذر کر دیا حضرت خدیجہ نے اس غلام کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نذر کر دیا یہ درحقیقت ایک آزاد عیسائی خاندان کے لڑکے تھے۔ اس دوران آپ کے والد کو بھی آپ کی خبر پہنچ گئی۔ آپ کے والد حارث اور چچا کعبہ آپ کو لینے مکہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو منہ مانگی رقم کی پیشکش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، "اگر زید تمھارے ساتھ جانا چاہے تو میں کوئی رقم نہ لوں گا۔" زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ یہ دیکھ کر آپ کے والد خفا ہوئے اور کہا کہ تم آزادی کی زندگی کو غلامی پر ترجیع دیتے ہو زید نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ بات دیکھی کہ ان کے لیے میں باپ تو کیا کائنات چھوڑ سلتا ہوں۔ یہ سن کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زید کو لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور علان فرما دیا کہ لوگوں سن لو میں زید کو آج سے آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بناتا ہوں.اس کے بعد زید بن حارث کی بجائے زید بن محمد کہا جانے لگا۔ یہ دیکھ کر زید کے چچا اور باپ حارث بہت خوش ہوئے اور بخوشی واپس چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا برتاؤ اپنے ملازموں کے ساتھ بھی کیسا ہوتا ہوگا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے زید ہیں۔آپ تمام غزوات میں شریک تھے۔اور غزوہ مؤتہ میں شہادت نوش فرمائی۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔یہ 1520 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ مِصر پر فرعون بادشاہ’’مرنفتاح ثانی‘‘ کی حکومت تھی۔بعض نے اُس کا نام’’ منفتاح‘‘ بھی لکھا ہے اور وہ والد، رعمسیس کے بڑھاپے کی وجہ سے عملاً حکم ران بنا ہوا تھا۔ خدائی کا دعوے دار یہ بادشاہ بڑا ظالم و جابر تھا۔ اُس نے’’ بنی اسرائیل‘‘ کو اپنا غلام بنا رکھا تھا، حالاں کہ وہ حضرت یوسف کے زمانے سے وہاں رہائش پزیر تھے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے والد، حضرت یعقوبؑ اور اپنے بھائیوں کے لیے ایک قطعۂ زمین اُس وقت کے فرعون بادشاہ ’’ریان بن ولید‘‘ سے حاصل کیا تھا۔ حضرت یعقوبؑ کی یہی نسل’’بنی اسرائیل‘‘ کہلائی، جو مِصر میں خُوب پَھلی پُھولی۔ یہ لوگ حضرت یعقوبؑ کے دین کے پیروکار تھے، چناں چہ اُس وقت اللہ کے نزدیک یہ سب سے بہتر جماعت تھی۔ انھوں نے فرعون کو سجدہ کرنے اور اُسے اپنا ربّ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ اور اُس کے حواری ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتے اور اُن سے گھٹیا کام کرواتے۔ یاد رہے، فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں، بلکہ مِصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ تاریخی حقائق کے مطابق، 31فراعنہ خاندانوں نے مِصر پر یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ سب سے آخری خاندان نے 332قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کے ہاتھوں شکست کھائی۔
ہر سال 5 ستمبر کا دن بھارت کے لیے خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی دن ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی کے مد نظر اس دن کو پورے ملک میں ’’یوم اساتذہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پورے ملک میں اس سلسلے میں تقریبات کے انعقاد ہوتے ہیں۔ طلبہ اس دن اساتذہ کو گلدستے اور تحائف پیش کرتے ہیں جبکہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے عمدہ خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو خصوصی انعامات دیے جاتے ہیں۔ (لیکن یہ رواج اب اکثر جگہوں میں باقی نہیں ہے)
راولپنڈی (انگریزی: Rawalpindi), صوبہ پنجاب، پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوہار پر واقع ایک اہم شہر ہے۔ یہ شہر افواجِ پاکستان کا صدر مقام بھی ہے اور 1960ء میں جب موجودہ دار الحکومت اسلام آباد زیر تعمیر تھا انہی دنوں میں قائم مقام دار الحکومت کا اعزاز راولپنڈی کو ہی حاصل تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سماجی اور اقتصادی روابط کو مشترکہ طور پر " جڑواں شہر " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق راولپنڈی میٹروپولیٹن کی آبادی 3،461،806 افراد پر مشتمل ہے اور یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ راولپنڈی کی مشہور سڑک مری روڈ ہمیشہ ہی سے سیاسی جلسوں کا مرکز رہی ہے۔ 1765ء میں اس علاقے کے حکمران گکھڑوں کو شکست ہوئی اور یہ شہر سکھوں کی حکمرانی کے تحت آگیا۔ 1849ء میں اس شہر کو برطانوی راج نے فتح کر لیا۔ راولپنڈی کی آب و ہوا برطانوی حکام کو بہت پسند آئی جس کی وجہ سے 19ویں صدی کے آخر میں یہ شہر برطانوی انڈین آرمی کی شمالی کمان کا سب سے بڑا گیریژن شہر بن گیا۔ برطانوی فوج نے 1921ء تک اس شہر کو ایک چھوٹے سے قصبے سے پنجاب کے تیسرے بڑے شہر میں تبدیل کر دیا۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
قرآن کریم، قرآن مجید یا قرآن شریف (عربی: القرآن الكريم) دین اسلام کی مقدس و مرکزی کتاب ہے جس کے متعلق ہم اسلام کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ یہ کلام الہی ہے اور اسی بنا پر یہ انتہائی محترم و قابل عظمت کتاب ہے۔ اسے ہمارے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے ذریعے اتارا گیا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے جیسے جیسے قرآن مجید کی آیات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتیں آپ صلی علیہ وآلہ وسلم اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سناتے اور ان آیات کے مطالب و معانی سمجھا دیتے۔ کچھ صحابہ کرام تو ان آیات کو وہیں یاد کر لیتے اور کچھ لکھ کر محفوظ کر لیتے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ہر قسم کی تاریف بیان کرتا ہے پاک ہے محفوظ ہے ، قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ افضل کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔ اور صحف ابراہیم، زبور اور تورات و انجیل کے بعد آسمانی کتابوں میں یہ سب سے آخری اور افضل کتاب ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اب اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے پیش نظر اسے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ نیز عربی زبان و ادب اور اس کے نحوی و صرفی قواعد کی وحدت و ارتقا میں بھی قرآن کا خاصا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے وضع کردہ عربی زبان کے قواعد بلند پایہ عرب محققین اور علمائے لغت مثلاً سیبویہ، ابو الاسود الدؤلی اور خلیل بن احمد فراہیدی وغیرہ کے یہاں بنیادی ماخذ سمجھے گئے ہیں۔
اردو زبان میں سینتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
مسیلمہ (حقیقی نام مسیلمہ بن حبیب) عرب میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں ہی نبوت کے مدعی کے طور پر سامنے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں یہ معاملہ جیسے تیسے چلتا رہا، مسیلمہ نے آپ کو مکتوب بھی لکھا اور اپنی نبوت میں شریک کرنے کو کہا جسے آپ نے یکسر مسترد کیا اور اس کا علمی رد کر کے اسے کذاب ثابت کیا۔ آپ کے وصال کے بعد خلیفہ اول ابوبکر صدیق کے دور میں جب مسلمان دیگر مرتدین کے خاتمے میں مصروف تھے اس دوران مسیلمہ اپنا دعویٰ نبوت عام کرنے میں مصروف رہا اور اس نے اتنی طاقت حاصل کر لی کہ اس کا چالیس ہزار کا لشکر یمامہ کی وادیوں میں پھیل گیا۔ اس نے باقاعدہ خلافت کی عملداری کو چیلنج کیا اور بغاوت پر اتر آیا اور اپنی نبوت نہ ماننے والوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ اس کی سرکوبی ناگزیر ہو گئی تھی۔ ابوبکر صدیق نے مسیلمہ کے مقابلے لیے عکرمہ بن ابی جہل کو یمامہ کی طرف روانہ کیا اور عکرمہ کی مدد کے لیے شرجیل کو بھی روانہ کیا۔ شرجیل کے پہنچنے سے قبل ہی عکرمہ نے لڑائی کا آغاز کر دیا لیکن انھیں شکست ہوئی۔ اس عرصے میں شرجیل بھی مدد کو آ پہنچے لیکن دشمن کی قوت بہت بڑھ چکی تھی۔ مسیلمہ کی نبوت کی تائید بنی حنیفہ نے بھی کی اس وقت ان کا بہت زور تھا۔ شرجیل نے بھی پہنچتے ہی دشمن سے مقابلہ شروع کر دیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت خالد بن ولید دیگر مرتدین سے نمٹ چکے تھے۔ حضرت ابو بکر نے انھیں عکرمہ اور شرجیل کی مدد کے لیے یمامہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔ خالد بن ولید اپنا لشکر لے کر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مسیلمہ بھی خالد کی روانگی کی اطلاع سن کر مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہوا اور یمامہ سے باہر صف آرائی کی۔ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی۔ ۔ فریقین میں نہایت سخت مقابلہ ہوا۔ پہلا مقابلہ بنو حنیفہ سے ہوا۔ اسلامی لشکر نے اس دلیری سے مقابلہ کیا کہ بنو حنیفہ بد حواس ہو کر بھاگ نکلے اور مسیلمہ کے باقی آدمی ایک ایک کر کے خالد کی فوجوں کا نشانہ بنتے رہے۔ جب مسیلمہ نے لڑائی کی یہ صورت حال دیکھی تو وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ نکلا اور میدان جنگ سے کچھ دور ایک باغ میں پناہ لی لیکن مسلمانوں کو تو اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنا تھا اس لیے خالد بن ولید نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔ باغ کی دیوار اتنی اونچی تھی کے اس کو کوئی بھی پار نہیں کر سکتا تھا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت زید بن قیس نے حضرت خالد بن ولید کو فرمایا میں یہ دیوار پار کر کے تمھارے لیے دروازے کو کھول دوں گا گر تم میرے لیے ایک اونچی سیڑھی بنا دو حضرت خالد بن ولید راضی ہو گئے۔ اگلے دن حضرت زید بن قیس سیڑھی کے ساتھ باغ میں اتر گئے۔ تب مسیلمہ کذاب نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ اس کو قتل کر دو۔ تب اس کے فوجیوں نے حضرت زید بن قیس کے ساتھ لڑائی شروع کردی۔ لڑائی میں حضرت زید بن قیس کا کندھا کٹ گیا۔ پھر بھی انھوں نے دروازے کو کھول دیا۔ ادھر مسلمان صف بندی کرچکے تھے۔ مسلمان اندر داخل ہونا شروع ہو گئے اور ایک دفعہ پھر گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اچانک حضرت خالد بن ولید نیزہ لے کر مسیلمہ کو پکارنے لگے،یا عدو الله!اور مسیلمہ پر پھینک دیا، مگر اس کے محافظوں نے ڈھال بن کر اس کو بچالیا۔ اس وقت اس کے محافظ غیر حتمی طور پر اسے چھوڑ کے چلے گئے۔ پھر اسے حضرت حمزہ کے قاتل وحشی بن حرب(جو مسلمان ہو چکے تھے) نے ایسا نیزہ مارا کہ مسیلمہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس طرح اس نے حضرت حمزہ کو شہید کرنے کا کفارہ ادا کیا۔ اس کے لشکر کے نصف آدمی مارے گئے۔ تقریباً یمامہ کے ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد خالد بن ولید نے اہل یمامہ سے صلح کرلی۔ یہ جنگ جنگ یمامہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مسیلمہ اور دیگر مدعیان نبوت کے خاتمے سے اسلامی سلطنت کے لیے ایک بہت بڑا خطرے کا خاتمہ ہو گیا جس میں اہم کردار حضرت ابوبکر کی دینی و سیاسی بصیرت کا تھا۔ اسلام کو انتشار سے بچانے کے لیے یہ آپ کا نہایت اہم کارنامہ ہے۔اسلامی تاریخ کے یہ جہادی واقعات سبق دیتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیے گئے دین اور پیغام کی ان کے ساتھیوں یعنی صحابہ کرام نے کتنی کاوشوں سے حفاظت کر کے اگلی نسلوں تک پہنچایا اور دنیا اور آخرت میں اپنے لیے سرمایہ بنایا.
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔
مشال حسین ملک (پیدائش 23 اکتوبر 1986ء) ایک پاکستانی مصور اور سماجی کارکن ہیں، جو اس وقت 17 اگست 2023ء سے انوارالحق کاکڑ کی سربراہی میں نگراں حکومت کے تحت انسانی حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں مشال حسین ملک ایک امن کارکن، مخیر، مصور، تحفظ پسند، جنگ/تنازع والے علاقوں میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ وہ خواتین کی ترقی میں مدد کے لیے اپنا آرٹ ورک چیریٹی کے لیے فروخت کرتی ہے۔ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما اور سربراہ محمد یاسین ملک کی اہلیہ ہیں۔ ایک این جی او پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن کے طور پر، وہ عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے کام کرتی ہیں اور کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل کے لیے مہم چلاتی ہیں۔ سیاسی معیشت میں اس کی دلچسپی نے اسے کشمیر کے ثقافتی ورثے کو فروغ دینے اور اس کے تحفظ کی طرف راغب کیا۔
ہجرت مدینہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے صحابہ کی طرف سے مکہ مکرمہ سے یثرب (جسے اس ہجرت کے بعد مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام دیا گیا) منتقل ہوجانے کے عمل کو کہتے ہیں جو 12ربیع الاول 13نبوی (جو بعد میں پہلا ہجری سال کہلایا)، بمطابق 24 ستمبر 622ء عیسوی بروز جمعہ کو ہوئی، بعد میں اسی دن کی نسبت سے ہجری تقویم کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں نے قمری ہجری تقویم اور شمسی ہجری تقویم دونوں کا آغاز اسی واقعہ کی بنیاد پر کیا۔
سید کا لفظ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خاتونِ جنت سیدۃ نساء العالمين حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد سے ہیں۔ عربی میں ان کے لیے شریف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سید کا لفظی مطلب سردار کا ہے جو احتراماً ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ سادات ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی زیادہ تعداد عرب علاقوں، ایران، پاکستان، ہندوستان، ترکی اور وسط ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ سادات سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں میں پائے جاتے ہیں۔ سادات حقیقی وہ ہیں جن سے برصغیر میں یہ خاندان پھیلا آئین اکبری کے مطابق سادات بارہہ، سادات اچ ،سادات بخاری ،سادات مشہد اور سادات امروہہ ہیں جن سے برصغیر میں ان کی آمد ہوئی
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان میں ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ اِس سے پہلے اگست 1965ء میں ہونے والا پاکستان کا آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 17 روزہ اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام ، اللہ کے اولین پیغمبر ہیں۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب ۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اس رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے : اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔ اس لیے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے (روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) ۔ اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کے لیے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبرائیل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کیے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمۃ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔ اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔ مجاہد بن جبیر نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نام سکھائے ۔ مجاہد نے مزید کہا:ہر جانور ، پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔ سعید بن جبیر ، قتادہ بن دعامہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم!
اسماعیلیہ زاویہ، جسے پہلے مدرسہ البای یا سیدی عبد اللہ بوجمرہ جامع کے نام سے جانا جاتا تھا، تیونس کے جنوب مغربی حصے میں واقع شہر توزر کی ایک زاویہ اور مسجد ہے۔ یہ شیخ اسماعیل ہادفی سے منسوب ہے، جو اسماعیلیہ سلسلے کے مشائخ میں سے ایک تھے۔ اسماعیلیہ سلسلہ صوفی علاویہ صوفی سلسلے کی ایک شاخ ہے، جس کی اصل الجزائر میں ہے۔
ڈھول پورے برصغیر پاک و ہند میں علاقائی تغیرات کے ساتھ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے دوہرے سر والے ڈھول کی متعدد اقسام میں سے کسی ایک کا حوالہ دے سکتا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں اس کی تقسیم کی حد میں بنیادی طور پر شمالی علاقہ جات جیسے پنجاب، ہریانہ، دہلی، کشمیر، سندھ، آسام وادی، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، اڈيشا، گجرات، مہاراشٹر، کوکن، گوا، کرناٹک، راجستھان، بہار شامل ہیں۔ جھارکھنڈ اور اتر پردیش۔ یہ سلسلہ مغرب کی طرف مشرقی افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک متعلقہ ساز ڈھولک یا ڈھولکی ہے۔ اس کی اصل بھارت اور پاکستان کے پنجاب کے علاقے میں ہے۔
حضرت محمدﷺ بن عبد الله بن عبد المطلب اور آخر نبی ازماں ہیں حضرت محمدؐ خاتم النبین ہیں اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا ہے اور اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور نہ آ سکتا ہے جو نبوت کا دعوہ کرے گا وہ جھوٹا ہو گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اسلام میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسلام کا بانی نہیں بلکہ اسلام کا آخری نبی مانتے ہیں۔ کیونکہ اسلامی عقیدہ کے مطابق آدم علیہ السلام سے لے کے عیسیٰ علیہ السلام تک اور پھرحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، یہ سبھی انبیا اللہ کی طرف سے ایک ہی سلسلہ اور ایک ہی عقیدہ و دین کی تعلیم دینے آئے۔ جس کا ابتدا حضرت آدم سے ہوئی اور انتہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہو چکی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسلمانوں اللہ تعالیٰ کا آخری رسول اور نبی مانتے ہے ، وجہ تخلیق کائنات، رحمت اللعالمین اور سارے دنیا کے لیے آخری نبی مانتے ہیں۔ اور ان پر نازل کردہ کلام قرآن کو اللہ کا آخری پیغام قرار دیتے ہیں جس نے پہلی نازل کردہ کتب کو منسوخ کر دیا، اب وہ ناقابل عمل دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب نجات صرف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری نبی ماننے اور قرآن کو اللہ کا کلام ماننے پر ہے۔
روس(روسی: Россия) (انگریزی: Russia) (اردو: روس)، جسے باضابطہ طور پر روسی وفاق کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو مشرقی یورپ اور شمالی ایشیا پر محیط ہے۔ روس کی زمینی حدود 17,098,246 مربع کلومیٹر (6,601,668 مربع میل) پر پھیلی ہوئی ہیں، جو اسے رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بناتی ہیں اور یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ روس کی آبادی تقریباً 146 ملین ہے، جو اسے یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے، جب کہ اس کی دار الحکومت ماسکو، یورپ کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ روس کے اہم شہر ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔
فاطمہ بنت محمد بن عبد اللہ جن کا معروف نام فاطمۃ الزہراء ہے حضرت محمد بن عبد اللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی علی ابن ابی طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد بن عبد اللہ کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے بہت سے القابات مشہور ہیں۔
عبد المطلب (پیدائش: 480ء، مدینہ منورہ – وفات: 578ء، مکہ) (عربی میں عبد المطّلب ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا تھے ان کا اصل نام شیبہ تھا (شیبہ بن ھاشم عربی میں شيبة ابن هاشم یا شیبۃ الحمد)۔ ان کو عبد المطلب (درست تلفظ: عبد المطَلِّب) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کو ان کے چچا مطلب نے پالا تھا۔ کیونکہ ان کے والد ھاشم کی وفات ان کی پیدائش سے کچھ ماہ پیشتر ہو گئی تھی۔ حضرت عبد المطلب دینِ ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے اور ایسی کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انھوں نے کبھی بت پرستی کی ہو۔
عیسیٰ ابن مریم ( عربی: عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ) ' تورات کے مطابق عیسیٰ ابن مریم ' کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے خدا کے آخری نبی اور رسول ہیں اور بنی اسرائیل ( Banī Isra'īl ) کی رہنمائی کے لیے انجیل نامی کتاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے مسیحا ہیں ۔ قرآن میں، یسوع کو المسیح ( al-Masīḥ ) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جو معجزانہ طور پر ایک کنواری سے پیدا ہوئے، اپنے شاگردوں کے ساتھ معجزات دیکھاتے تھے،اور اللہ نے معجزانہ طور پر ان کو بچایا زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ یہودی مذہبی مُقتَدِرَہ نے مسترد کر دیا ہے، لیکن صلیب پر مرنے کے طور پر نہیں (اور نہ دوبارہ زندہ کیے جانے پر) ، بلکہ جیسا کہ خدا نے ان کو معجزانہ طور پر بچایا اور آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ قرآن واضح طور پر اور بار بار اس خیال کو مسترد کرتا ہے کہ عیسیٰ کو ( یہودی یا رومی ) حکام نے نہ قتل کیا تھا اور نہ وہ مصلوب کیے گئے تھے۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عظیم ترین نبیوں میں شمار کیا ہے اور ان کا ذکر مختلف القابات سے کیا ہے۔ عیسیٰ کی نبوت سے پہلے یحییٰ علیہ السلام کی نبوت ہے اور محمد ﷺ کی جانشینی ہے، جن کے بعد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ عیسیٰ نے احمد کا نام استعمال کرکے پیشین گوئی کی تھی۔ یسوع مسیح کے بارے میں اسلام میں مختلف قسم کی متغیر تشریحات موجود ہیں۔ قرآن کی مرکزی دھارے کی تشریحات میں آرتھوڈوکس عیسائی فلسفہ الہی ہائپوسٹاسس کے بارے میں کرسٹولوجی کے نظریاتی تصورات کا فقدان ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کے لیے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مسیح کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یسوع مسیح کی الوہیت کے نظریے کے مسیحی نقطہ نظر میں ایک یہودی مسیحی خدا کے اوتار ہونے کے ناطے انسان یا انسانی جسم میں خدا کے لفظی بیٹے کے طور پر، جیسا کہ یہ ظاہری طور پر متعدد آیات میں یسوع کے خدا کے طور پر الہامی انسانیت کے نظریے کی تردید کرتا ہے اور اس بات پر بھی تاکید کرتا ہے کہ یسوع مسیح نے ذاتی طور پر خدا ( خدا باپ ) ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصل پیغام ( taḥrīf ) میں ان کے زندہ ہونے کے بعد تبدیلی کی گئی تھی۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توحید پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں تمام انبیا کی طرح، عیسیٰ کو بھی رسول کہا جاتا ہے، جیسا کہ انھوں نے تبلیغ کی کہ ان کے پیروکاروں کو ' صراط المستقیم ' اختیار کرنا چاہیے۔ اسلامی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت سارے معجزات سے منسوب کیا گیا ہے۔ روایتی اسلامی تعلیمات میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عیسیٰ مسیح امام مہدی کے ساتھ دوسری آمد میں مسیح الدجال ('جھوٹا مسیح') کو قتل کرنے کے لیے واپس آئیں گے، جس کے بعد قدیم قبائل یاجوج ماجوج ( Yaʾjūj Maʾjūj ) کے ساتھ۔ منتشر ہو جائیں گے.
دعوۃ الحق ایک عربی رسالہ تھا جو دار العلوم دیوبند نے 1965 سے 1975 تک محمد طیب قاسمی کی نگرانی میں شائع ہوتا رہا، بعد میں اس کی جگہ الداعی نے لے لی۔ وحید الزماں کیرانوی کی جانب سے قائم اور ترقی یافتہ، یہ دار العلوم دیوبند کا پہلا عربی رسالہ بنا، جس کا اصل مقصد عربی بولنے والے علاقوں کو دار العلوم دیوبند سے روشنا کرنا اور اس کے تعلیمی مواد کا عربی زبان میں ترجمہ کرنا تھا۔ اس تحریر کا مقصد اسلام کو ایک متحرک اور متعلقہ عقیدے کے طور پر پیش کرنا تھا، تاناز کو حل کرنا اور اس بات پر زور دینا کہ قرآن اور اسلام رکاوٹوں کی بجائے ترقی کی بنیاد کے طور پر کام کرتے راہے ۔ اس ماگزین کا مقصد ہندوستان و عرب میں عربی زبان اور ادب کو بلند کرنا تھا۔ سعید احمد اکبر آبادی اور محمد سالم قاسمی نے اس اشاعت سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا تھا ۔
حليمہ بنت ابی ذؤيب (وفات: 8ھ/ 629ء) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں، بی بی ثویبہ کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ نے ہی آخر تک دودھ پلایا، اس وقت آپ کے ساتھ عبد اللہ ابن حارث کو بھی دودھ پلایا، آپ کی بڑی بیٹی شیما حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گود میں کھلاتی لوریاں دیتی تھیں۔ چار پانچ سال حلیمہ کے پاس بادیہ بنو سعد میں مقیم رہے۔ پھر آپ کی والدہ حضرت آمنہ کے پاس پہنچا گئیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ کی تربیت بنو سعد میں ہوئی تھی اس لیے آپ کی زبان بالکل بے عیب ہے ۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
عالمی یوم اساتذہ دنیا کے کئی ممالک میں "اساتذہ کا عالمی دن" یا "ورلڈ ٹیچرزڈے" ہرسال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگرکرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں کئی سیمینارز، کانفرنسیں اورتقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 2009ء میں عالمی یوم اساتذہ کے حوالے سے یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2015ء تک دنیابھر میں تعلیم کو عام کیا جائے گااور بلند معیار تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں پیشہ ور اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اورانہیں دورجدید میں نظام تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وقتًا فوقتًا باخبر کیا جائے۔
امام محمد بن ادریس شافعی (پیدائش: 28 اگست 767ء— وفات: 30 رجب 204ھ/19 جنوری 820ء) جو امام شافعی کے لقب سے معروف ہیں، سنی فقہی مذہب شافعی کے بانی ہیں۔ ان کے فقہی پیروکاروں کو شافعی (جمع شوافع) کہتے ہیں۔ امام شافعی کا عرصہ حیات مسلم دنیا کے عروج کا دور یعنی اسلامی عہد زریں ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ عروج میں بغداد میں مسلک شافعی کا بول بالا اور بعد ازاں مصر سے عام ہوا۔ مذہب شافعی کے پیروکار زیادہ تر مشرقی مصر، صومالیہ، ارتریا، ایتھوپیا، جبوتی، سواحلی ساحل، یمن، مشرق وسطیٰ کے کرد علاقوں میں، داغستان، فلسطین، لبنان، چیچنیا، قفقاز، انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا کے کچھ ساحلی علاقوں میں، مالدیپ، سنگاپور، بھارت کے مسلم علاقوں، میانمار، تھائی لینڈ، برونائی اور فلپائن میں پائے جاتے ہیں۔
مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی، جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر ان کا دور دورہ تھا۔ مغل سلطنت کی بنیاد 1526ء میں بابر نے رکھی، جو آج کے ازبکستان سے ایک سردار تھا، جس نے ہمسایہ صفوی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ سے ہندوستان پر حملہ کے لیے مدد لی۔ مغل شاہی ڈھانچہ بابر سے شروع ہوتا ہے۔ اور 1720ء تک قائم رہا۔ مغل سلطنت کے آخری طاقتور شہنشاہ، اورنگ زیب کے دور حکومت میں سلطنت نے اپنی زیادہ سے زیادہ جغرافیائی حد تک رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد 1760ء تک پرانی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے میں کمی واقع ہوئی، سلطنت کو 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے بعد برطانوی راج نے باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا۔ 17ویں صدی میں بحر ہند میں بڑھتی ہوئی یورپی موجودگی اور ہندوستانی خام اور تیار مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ نے مغل دربار کے لیے بہت زیادہ دولت پیدا کی۔ مغل دور میں مصوری، ادبی شکلوں، پارچہ اور فن تعمیر کی زیادہ سرپرستی ہوئی، خاص طور پر شاہ جہاں کے دور حکومت میں۔ جنوبی ایشیا میں مغل یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات میں درج ذیل جگہیں شامل ہیں: آگرہ کا قلعہ، فتح پور سیکری، لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، لاہور کا قلعہ، شالامار باغات اور تاج محل، جسے "ہندوستان میں مسلم فن کا زیور" کہا جاتا ہے۔ دنیا کے ورثے کے عالمی طور پر قابل تعریف شاہکاروں میں سے ایک ہے۔
ڈونلڈ جان ٹرمپ (پیدائش 14 جون 1946ء) ایک امریکی سیاست دان، میڈیا شخصیت اور تاجر ہیں جو جنوری 2025ء سے ریاستہائے متحدہ کے موجودہ صدر ہیں۔ وہ ریاستہائے متحدہ کے 47 ویں صدر ہوں گے اور اس سے قبل 2017ء سے 2021ء تک ریاستہائے متحدہ کے 45 ویں صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ امریکی تاریخ میں دوسرے صدر ہیں جو 120 سال قبل گروور کلیولینڈ کے بعد مسلسل دو بار منتخب ہوئے ہیں۔
2018ء ویمنز کاؤنٹی ون ڈے چیمپئن شپ 22 ویں کرکٹ ویمنز کاؤنٹی چیمپئن شپ سیزن تھی۔ یہ مئی کے آغاز سے جون کے آغاز تک جاری رہا اور اس میں 33 کاؤنٹی ٹیمیں اور ٹیمیں سکاٹ لینڈ ویلز اور نیدرلینڈز کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈویژنوں کی ایک سیریز میں مقابلہ کرتی نظر آئیں۔ ہیمپشائر ویمن نے ٹاپ ڈویژن کے فاتح کے طور پر کاؤنٹی چیمپئن شپ جیتی جس میں یارکشائر رنر اپ رہا۔ چیمپئن شپ ہیمپشائر کی پہلی تھی اور ٹاپ ڈویژن میں ان کے پہلے سیزن میں حاصل کی گئی تھی۔
سعودی عرب (رسمی نام : المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
محمد جلال الدین رومی (پیدائش:1207ء) ایک مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز(یہ اصل میں مولانا کا ہی دیوان ہے لیکن اشعار میں زیادہ تر شمس تبریز کا نام آتا ہے اس لیے اسے انھی کا دیوان سمجھا جاتا ہے) ان کی معروف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، ان کا مکان پیدائش ایران ہے اور ان کا مزار قونیہ،ترکی میں واقع ہے۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) برصغیر کے معروف و مشہور عالم دین، مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحریکات کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا اور بیسویں صدی کے مجدد اسلام ثابت ہوئے۔ مولانا مودودی وہ دوسرے شخص تھے جن کی غائبانہ نماز جنازہ کعبہ میں ادا کی گئی، پہلے نجاشی تھے۔