اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے۔ 1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔
1974ء ميں وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں جن کوقادیانی بھی کہا جاتا ہے، کوغیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا، 30 جون 1974 کو مولانا شاہ احمد نورانی نے بل پیش کیا اور مولانا مفتی محمود قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی کمیٹی کے سربراہ بنے قومی اسمبلی میں چھ بل پیش ہوئے ان میں سے ایک بل مولانا غوث ہزاروی نے پیش کیا اور آخری اور ختمی بل مولانا شاہ احمد نورانی نے پیش کیا جس پر قومی اسمبلی کی کارروائی ہوئی 6 ستمبر 1974ء تک بحث و تمحیص کے بعد اسے ایک قانونی شق کی حیثیت دے دی گئی۔ دوسری آئینی ترمیم کے اس حصے جس میں احمدیوں کو واضح طور پر آئین پاکستان نے غیر مسلم قرار دیا ہے، کو آرڈیننس 20 کہا جاتا ہے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان میں ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ اِس سے پہلے اگست 1965ء میں ہونے والا پاکستان کا آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 17 روزہ اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔
عمر بن حفصون (وفات 306ھ/918ء) اندلس میں اموی ریاست کی حاکمیت کے مشہور ترین مخالفین میں سے ایک تھا۔ ابن حفصون نے اپنی بغاوت کے دوران چار اموی حکمرانوں کے عہد دیکھے۔ اس کی بغاوت 267ھ میں امیر محمد بن عبد الرحمٰن کے عہد میں شروع ہوئی اور عبد الرحمٰن الناصر لدین اللہ کے عہد تک جاری رہی۔ اس دوران اس نے جنوبی اندلس کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کی تحریک کو ان علاقوں کے مولدین اور مستعربین کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوئی۔ ریاستی حکام نے اس تحریک کے خلاف سخت مزاحمت کی، یہاں تک کہ عبد الرحمٰن الناصر لدین اللہ نے عمر بن حفصون اور اس کے جانشینوں کی تحریک کو 316ھ میں مکمل طور پر ختم کر دیا، یعنی عمر بن حفصون کی وفات کے دس سال بعد۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
انگریزی (English) انگلستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے، جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، جبکہ عمومی طور پر یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔
پرنب کر ناتھ (پیدائش: 18 دسمبر 1991) ایک بھارتی اداکار، فلم ساز، موسیقار اور ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کار ہیں۔ وہ بھارت کی ریاست تریپورہ کے سب روم میں پیدا ہوئے۔ وہ اداکاری، مختصر فلموں، میوزک ویڈیوز اور ڈیجیٹل مواد کی تخلیق سے وابستہ ہیں۔ ان کے کام میں تریپورہ اور شمال مشرقی بھارت کی مقامی زندگی، سماجی موضوعات اور انسانی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔
قدیس سمعان الخراز، جنھیں سمعان الدباغ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دسویں صدی میں مصر میں فاطمی خلیفہ المعز لدین اللہ کے دورِ حکومت اور قبطی پادری ابرام سریانی (975ء–979ء) کے عہد میں زندگی گزارتے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ قبطی آرتھوڈوکس کلیسیا کے مقدسین میں شمار ہوتے ہیں۔ کلیسائی روایت کے مطابق ان سے جبل مقطم کو منتقل کرنے یا اپنی جگہ سے ہٹانے کا معجزہ منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے ذرائع عمومی طور پر قبطی کلیسائی ماخذ ہیں۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
سیکس اینڈ دی سٹی (فلم) (انگریزی: Sex and the City (film)) 2008ء میں منظر عام پر آنے والی ایک خواتین دوستوں کی فلم، رومانوی مزاحیہ اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری مائیکل پیٹرک کنگ نے کی۔ اس فلم میں کرس ناتھ، سارہ جیسکا پارکر، سنتھیا نکسن، کرسٹن ڈیوس اور کم کیٹرل نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Darren Star، مائیکل پیٹرک کنگ اور سارہ جیسکا پارکر نے فلم سازی کی، آرون زیگ مین نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
مرزا غلام احمد (13 فروری 1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہی مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہے اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ 1888ء میں، مرزا نے اعلان کیا کہ انھیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے اور اس طرح 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ جسے قادیانیت اور مرزائیت بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
راچیل ہیہو فلنٹ ٹرافی 2020ء انگریز خواتین کے گھریلو کرکٹ مقابلے، راچیل ہہو فلنٹ ٹرفی کا پہلا ایڈیشن تھا، جو 29 اگست اور 27 ستمبر 2020ء کے درمیان ہوا۔ اس میں دو گروپوں میں آٹھ ٹیمیں شامل تھیں اور اس کا فائنل تھا۔ اس ٹورنامنٹ کا نام انگلینڈ کی سابق کپتان راچیل ہیہو فلنٹ، بیرونس ہیہو فلینٹ کے نام پر رکھا گیا تھا، جن کا 2017ء میں انتقال ہو گیا تھا۔
محمد بن اسماعيل بخاری (پیدائش: 19 جولائی 810ء، بخارا - وفات: 1 ستمبر 870ء) مشہور ترین محدث اور حدیث کی سب سے معروف کتاب صحیح بخاری کے مولف تھے۔ ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصحیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
اللہ کے ذاتی نام 'اللہ' کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ انھیں کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے اچھے ناموں سے پکارا جائے۔ روایات میں بکثرت نیچے دیے گئے ننانوے صفاتی نام ملتے ہیں جن کے ساتھ ان کا اردو ترجمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔
مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی، جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر ان کا دور دورہ تھا۔ مغل سلطنت کی بنیاد 1526ء میں بابر نے رکھی، جو آج کے ازبکستان سے ایک سردار تھا، جس نے ہمسایہ صفوی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ سے ہندوستان پر حملہ کے لیے مدد لی۔ مغل شاہی ڈھانچہ بابر سے شروع ہوتا ہے۔ اور 1720ء تک قائم رہا۔ مغل سلطنت کے آخری طاقتور شہنشاہ، اورنگ زیب کے دور حکومت میں سلطنت نے اپنی زیادہ سے زیادہ جغرافیائی حد تک رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد 1760ء تک پرانی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے میں کمی واقع ہوئی، سلطنت کو 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے بعد برطانوی راج نے باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا۔ 17ویں صدی میں بحر ہند میں بڑھتی ہوئی یورپی موجودگی اور ہندوستانی خام اور تیار مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ نے مغل دربار کے لیے بہت زیادہ دولت پیدا کی۔ مغل دور میں مصوری، ادبی شکلوں، پارچہ اور فن تعمیر کی زیادہ سرپرستی ہوئی، خاص طور پر شاہ جہاں کے دور حکومت میں۔ جنوبی ایشیا میں مغل یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات میں درج ذیل جگہیں شامل ہیں: آگرہ کا قلعہ، فتح پور سیکری، لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، لاہور کا قلعہ، شالامار باغات اور تاج محل، جسے "ہندوستان میں مسلم فن کا زیور" کہا جاتا ہے۔ دنیا کے ورثے کے عالمی طور پر قابل تعریف شاہکاروں میں سے ایک ہے۔
صحابہ (عربی: الصحابۃ، "پیروکار") اسلام میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کے ان پیرو کاروں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے ان کی اپنی حیات میں اسلام قبول کیا اور ان کو کچھ وقت کی صحبت ملی۔ اور اسی ایمان کی حالت میں وہ دنیا سے گئے۔ بعض صحابہ نابینا بھی تھے اور بعض لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور یا بعد میں پھر مرتد ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات کے بعد) تو ان کو صحابی نہیں کہا جاتا۔
مولانا قاری حنیف ملتانی رحمۃ اللہ علیہ 1930 پیدائش اور وفات 1995 عمر 65 سال اسلام کے بہترین خطیبوں مین ان کا شمار ہوتا تھا۔ نہائت میٹھی زبان کے ساتھ ساتھ غلط عقائد پر مدلل گفتگو فرماتے۔ ان کی تقاریر سننے والے کے دل پر اثر کرتی ہیں ۔ دوران تقریر مجزوب رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار بڑی خوبصورتی کے ساتھ پڑھتے تھے۔ مولانا قاری حنیف ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ایک نابینا خطیب تھے۔ لوگون کا خیال ہے کہ وہ پیدائشی نابینا تھے ایسا ہرگز نہیں وہ 14 سال کی عمر میں کسی مہلک بیماری سے نابینا ہو گئے تھے۔ ان کے آبا و اجداد انڈیا ضلع کرنال پانی پت کے رہنے والے تھے۔ ان کو خطیب ایشیا اور شہنشاہ خطابت کا لقب بھی ملا ۔ قاری طیب رحمۃ اللہ علیہ ان کے استاد تھے۔ ان کا وقت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی گذرا ۔ قاری صاحب کی اسناد پر عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دستخط موجود ہیں۔ ان کی اولاد میں سے دو بیٹے، قاری بلال حنیف اور قاری طاہر حنیف بالکل اپنے والد کے انداز میں تقریر فرماتے ہیں ۔ بہت سے لوگوں نے ان کا انداز اپنا کر شہرت حاصل کی جن میں سے قاری عبدالحنان صدیقی اور قاری رمضان صاحب شیخوپوری شامل ہیں .
ایکس ایکس ایکس: ریٹرن آف زینڈر کیج
ایکس ایکس ایکس: ریٹرن آف زینڈر کیج (انگریزی: XXX: Return of Xander Cage) 2017ء میں منظر عام پر آنے والی ایک ایکشن فلم، جاسوسی فلم اور ہیجان خیز فلم ہے، جس کی ہدایت کاری ڈی جے کاروسو نے کی۔ اس فلم میں Tony Jaa، سیموئل ایل جیکسن، نینا ڈوبریو، ون ڈیزل اور ڈونی ین نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، ون ڈیزل نے فلم سازی کی، Brian Tyler اور Robert Lydecker نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔
نوڈ ڈاٹ جے ایس (انگریزی: Node.js) ایک آزاد مصدر کراس پلیٹ فارم رن ٹائم انوائرنمنٹ ہے جو سرور سائڈ اور نیٹ ورکنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر یہ سرور سائیڈ اطلاقیوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نوڈ ڈاٹ جے ایس اسکرپٹنگ زبان کے طور پر جاوا سکرپٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں ابتدائی طور پر ایک ایچ ٹی ٹی پی سرور کی لائبریری شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کسی بیرونی سافٹ ویئر کا استعمال کیے بغیر بھی ویب سرور کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس کے ذریعے ویب سرور کے کاموں پر زیادہ کنٹرول ممکن ہے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
نعمان ابن ثابت بن زوطا بن مرزبان (پیدائش: 5 ستمبر 699ء– وفات: 14 جون 767ء) (فارسی: ابوحنیفه،عربی: نعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان)، آپ کے دادا زوطی کا کوفہ میں خلیفہ راشد سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے قریبی تعلق تھا۔ عام طور پر آپکو امام ابو حنیفہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ سنی حنفی فقہ (اسلامی فقہ) کے بانی تھے۔ آپ ایک تابعی، مسلمان عالم دین، مجتہد، فقیہ اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ زیدی شیعہ مسلمانوں کی طرف سے بھی آپ کو ایک معروف اسلامی عالم دین اور شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں عام طور پر "امام اعظم" کہا جاتا ہے۔ مشہور اقوال : جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے (رد المختار حاشیہ از در مختار جلد 1 صفحہ 68) وروي عن أمام أبِي يوسف أنه قال سمعت أمام أبا حنيفة يقول: سيّدنا عليُّ بن ابي طالب كرم اللّٰه وجهه حُجَّتُنا عند اللّٰه يوم القيامة ولولا علي ما عَلِمنا كيف قتالُ أهلِ البغي أو كيف نقاتل أهلَ قبلة. امام اعظم ابو حنیفہ کے خاص شاگرد امام ابو یوسف بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے ہم سے فرمایا قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارا وسیلہ حضرت علی ہیں اور اگر حضرت علی نہ ہوتے تو ہمیں معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ اہل قبلہ باغیوں سے جنگ کیسے کی جاتی ہے .
محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
فاتح سبونہ میجر شیبر شریف شہید 28 اپریل 1943ء کو پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ بھٹی راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے لاہور کے سینٹ انتھونی اسکول سے او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھ رہے تھے جب انھیں پاکستان فوجی درسگاہ کاکول ضلع ایبٹ آباد سے آرمی میں شمولیت کا اجازت نامہ ملا۔
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
خواتین کاؤنٹی چیمپئن شپ 2019ء 23 ویں کرکٹ ویمنز کاؤنٹی چیمپئن شپ سیزن تھی۔ یہ اپریل کے آخر سے جون کے آغاز تک جاری رہا اور اس میں 32 کاؤنٹی ٹیمیں اور ٹیمیں سکاٹ لینڈ ویلز اور نیدرلینڈز کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈویژنوں کی ایک سیریز میں مقابلہ کرتی نظر آئیں۔ کینٹ ویمن نے ٹاپ ڈویژن کے فاتح کے طور پر کاؤنٹی چیمپئن شپ جیتی جس میں یارکشائر رنر اپ رہا۔ کینٹ کے لیے یہ ریکارڈ آٹھویں چیمپئن شپ ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
کوٹ بلوچ ( انگریزی: Kot Baloch ) پاکستان کے ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک گاؤں ہے جو منڈی بہاؤ الدین سے آٹھ کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ یہ برطانوی دور حکومت میں اپنے منظم بازاروں اور مقامی بازاروں کی وجہ سے مشہور تھا جو ہندو برادری کے کنٹرول میں تھے۔ گاؤں کا نام بلوچ قبائل کے نام پر رکھا گیا ہے جو روایتی طور پر اپنے خاندانوں اور اونٹوں کو ساتھ لے کر موسم گرما میں چرانے کے لیے آتے تھے۔ وہ دریائے جہلم میں ایک موڑ کے ساتھ رہتے تھے جو ایک موزوں، پناہ گاہ تھی۔ وہ اس علاقے میں چھ ماہ گزارتے اور پھر سردیوں کے موسم میں اپنے آبائی علاقوں کو واپس چلے جاتے۔ بعد ازاں مارتھ اور دیگر گوندل (قبیلہ) خاندان منڈی بہاؤالدین کے قریب سوہاوہ اور جہلم کے اطراف کے علاقوں سے آئے اور انھوں نے زمین پر کاشت کاری شروع کر دی، عارضی مکانات بنانا شروع کر دیے۔ کچھ سالوں کے بعد بلوچ خاندانوں نے گاؤں آنا چھوڑ دیا لیکن گاؤں کا نام کوٹ بلوچ ہی رہا۔ اب گاؤں میں کوئی بلوچ نہیں بچا۔
اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان (14 جون 1856ء – 28 اکتوبر 1921ء) بیسویں صدی عیسوی کے مجدد، نامور حنفی فقیہ، محدث، اصولی، نعت گو شاعر، علوم نقلیہ وعقلیہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ کے شیخ، عربی، فارسی اور اردو کی کثیر کتابوں کے مصنف جن میں مشہور ترجمہ قرآن کنزالایمان، فتاوی کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ اور نعتیہ دیوان حدائق بخشش مشہور ہیں۔ احمد رضا خان|اعلحضرت نے شدت سے تقلید اور حنفیت کا دفاع کیا سلسلۂ حدیث میں شاہ ولی اللہ اور عبد الحق محدث دہلوی سے استفادہ کیا اور فقہ میں سند اجازت شیخ عبد الرحمن حنفی مکی سے حاصل کی، جن کا سلسلہ عبد اللہ بن مسعود تک پہنچتا ہے۔ احمد رضا خان نے دو قومی نظریہ کا پرچار کیا اور کسی بھی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کو رد کیا، تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ان تحریکوں میں مسلم ہندو اتحاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے جو شرعی حیثیت سے ناجائز ہے۔ عورتوں کی ضروری دینی تعلیم کی سختی سے تلقین کی، عورتوں کے زیارت قبور کے لیے گھر سے نکلنے کے مسئلے پر ممانعت کا فتوی دیا۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
26 اگست 2026ء کی صبح، دریائے تریشولی کے سیلاب نے نیپال کے راسوا اور نواکوٹ اضلاع میں درجنوں بستیوں کو متاثر کیا۔ سیلاب نے چین نیپال سرحد پر گییرونگ بندرگاہ کے علاقے کو بھی متاثر کیا، جو سرحد پار تجارت اور سیاحت کا ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے آباد علاقوں کو کافی نقصان پہنچا ہے، حکام نے نیپال میں کم از کم955سے زائد اور چین میں 3 اموات کی تصدیق کی ہے۔ 4,793سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، مقامی باشندوں اور سیاحوںکی تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے راسوا، نواکوٹ، دھادنگ، گورکھا اور چتوان اضلاع میں دریاؤں کے کنارے آباد علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔
جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔
قرآن کریم، قرآن مجید یا قرآن شریف (عربی: القرآن الكريم) دین اسلام کی مقدس و مرکزی کتاب ہے جس کے متعلق ہم اسلام کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ یہ کلام الہی ہے اور اسی بنا پر یہ انتہائی محترم و قابل عظمت کتاب ہے۔ اسے ہمارے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے ذریعے اتارا گیا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے جیسے جیسے قرآن مجید کی آیات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتیں آپ صلی علیہ وآلہ وسلم اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سناتے اور ان آیات کے مطالب و معانی سمجھا دیتے۔ کچھ صحابہ کرام تو ان آیات کو وہیں یاد کر لیتے اور کچھ لکھ کر محفوظ کر لیتے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ہر قسم کی تاریف بیان کرتا ہے پاک ہے محفوظ ہے ، قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ افضل کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔ اور صحف ابراہیم، زبور اور تورات و انجیل کے بعد آسمانی کتابوں میں یہ سب سے آخری اور افضل کتاب ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اب اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے پیش نظر اسے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ نیز عربی زبان و ادب اور اس کے نحوی و صرفی قواعد کی وحدت و ارتقا میں بھی قرآن کا خاصا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے وضع کردہ عربی زبان کے قواعد بلند پایہ عرب محققین اور علمائے لغت مثلاً سیبویہ، ابو الاسود الدؤلی اور خلیل بن احمد فراہیدی وغیرہ کے یہاں بنیادی ماخذ سمجھے گئے ہیں۔
اردو زبان میں سینتیس حروفِ تہجی اور سینتالیس آوازیں ہیں جن میں سے بیشتر عربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ 'ء' کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اردو کتب اور لغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً 'دائرہ'۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اردو تختی اور اردو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اردو تختی میں اردو حروفِ تہجی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ نون کی شکل ہے اور 'ھ' اور 'ہ' ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔ ایک اور مثال الف ممدودہ (آ) اور الف مقصورہ (ا) کی ہے جو اردو تختی میں الگ ہیں مگر اردو کا ایک ہی حرف شمار ہوتے ہیں۔
سندھ سندھی: سنڌ پاکستان کے چارصوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی حصہ ہے۔ سندھ کی صوبائی زبان سندھی اور اردو ہے۔ صوبائی دار الحکومت کراچی ہے۔ سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق صوبہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ چھپن لاکھ چھیانوے ہزار 55,696,147 افراد پر مشتمل ہے۔
محمد حسین، (سوار محمد حسین شہید)، 18 جون 1949ء کو ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے ایک گاؤں ڈھوک پیر بخش (جو اب ان کے نام کی مناسبت سے ڈھوک محمد حسین اور ڈھوک نشان حیدر کے نام سے موسوم کی جا چکی ہے) جنجوعہ راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 3 ستمبر 1966ء میں سترہ سال کی کم عمری میں پاک فوج میں بطور ڈرائیور شمولیت اختیار کی اور ڈرائیور ہونے کے باوجود عملی جنگ میں بھر پور حصہ لیا۔
خواتین ٹوئنٹی 20 کپ 2017ء ،جو اسپانسرشپ کی وجوہات کی بنا پر 2017 نیٹ ویسٹ ویمنز ٹوئنی20 کپ کے نام سے جانا جاتا ہے، 9 واں کرکٹ ویمنز ٹوئن ٹی 20 کپ ٹورنامنٹ تھا۔ یہ جون اور جولائی میں ہوا، جس میں 36 ٹیموں نے حصہ لیا: 34 کاؤنٹی ٹیموں کے علاوہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز لنکاشائر ویمن نے ٹوئنٹی 20 کپ جیتا، ڈویژن 1 کے فاتح کے طور پر، کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ساتھ ساتھ 2017ء میں جیتی گئی دو ٹرافیوں میں سے پہلی۔
بابلیون الدرج میں کنواری مریم کا کلیسا
بابلیون الدرج میں کنواری مریم کا کلیسا قبطی قاہرہ میں واقع ایک قبطی آرتھوڈوکس کلیسا ہے، جو گیارہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
سگسی (منگولی: Сагсай) مشرقی منگولیا کے صوبے بیان-اولگی کا ایک ضلع ہے۔ شہر میں زیادہ تر قازق آبادی ہے، یہ علاقہ عقاب سے شکار کرنے والوں کا گھر ہے، جو سنہری عقاب سے خرگوش اور لومڑی کا شکار کرتے ہیں۔ ہر سال سگسی میں، الطائی قازق عقابوں کا سالانہ میلہ ستمبر کے آخری ہفتے میں لگتا ہے، یہ یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔
راچیل ہیہو فلنٹ ٹرافی 2021ء انگریز خواتین کے 50 اوور کے گھریلو کرکٹ مقابلے، راچیل ہہو فلنٹ ٹرفی کا دوسرا ایڈیشن تھا، جو 29 مئی سے 25 ستمبر 2021ء کے درمیان ہوا۔ اس میں آٹھ ٹیمیں راؤنڈ رابن گروپ میں کھیلتی تھیں، اس کے بعد ناک آؤٹ راؤنڈ ہوتا تھا۔ ہولڈرز سدرن وائپرز تھے، جنھوں نے 2020ء میں افتتاحی مقابلہ جیتا تھا۔ یہ شارلٹ ایڈورڈز کپ کے ساتھ ساتھ چلا۔ اس ٹورنامنٹ کا نام انگلینڈ کے سابق کپتان راچیل ہیہو فلنٹ، بیرونس ہیہو فلینٹ کے نام پر رکھا گیا تھا، جن کا انتقال 2017ء میں ہوا تھا۔
بچوں کا بچوں سے جنسی استحصال ایک قسم کا بچوں کا جنسی استحصال ہے جس میں سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے ہی کسی بچے کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور یہ ایک یا اس سے زیادہ بچوں یا نواجوانوں کی جانب سے کیا جاتا ہے جس میں راست طور پر کوئی بالغ شامل نہیں ہوتا ہے۔ اس اصطلاح کو اس جنسی سرگرمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو "بغیر رضامندی، بغیر مساوات یا پھر زبردستی کے نتیجے میں انجام پائے۔ اس میں یہ شکل بھی شامل ہے جب ایک بچہ جسمانی زبردستی، دھمکی، دھوکے بازی یا جذباتی چالبازی کا استعمال کرتے ہوئے تعاون حاصل کرے۔ بچوں کے بچوں سے جنسی استحصال کو مزید روایتی جنسی کھیل یا جسم کی ساخت کو جاننے کے تجسس سے اور ایسی کوششوں سے مختلف بتایا گیا ہے (مثلًا "ڈاکٹر کھیلنا") کیوں کہ بچوں کا بچوں سے جنسی استحصال ایک صاف طور ظاہر اور جنسی شہوت کی جانب دانستہ طور مرکوز ہے اور اس میں اباضہ بھی شامل ہے۔ کئی واقعات میں ایسا شخص جو دوسرے کو جنسی عمل کے لیے ابھارتا ہے، بچے کی معصومیت کا کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور کم عمر مظلوم ان پر ہونے والے ظلم کی حقیقی نوعیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جب جنسی استحصال ایک بھائی یا بہن کی جانب سے اپنے ہی بھائی یا بہن (وہی صنف یا مخالف صنف، دونوں ہی صورتوں میں) انجام پاتا ہے، تو اسے بین الاولاد استحصال کہتے ہیں۔
مریم نواز شریف (پیدائش 28 اکتوبر 1973ء) ایک پاکستانی سیاست دان ہے، جو اس وقت پنجاب کی وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے والی پہلی خاتون ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی ہیں اور ابتدائی طور پر خاندان کی مخیر تنظیموں میں شامل تھیں۔ تاہم، 2012ء میں، وہ سیاست میں داخل ہوئیں اور 2013ء کے عام انتخابات کے دوران انھیں انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا۔ 2013ء میں انھیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ تاہم، انھوں نے 2014ء میں ان کی تقرری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی۔ طائف میں پیدا ہوا وہیں اس کی پرورش ہوئی، حجاج بن یوسف طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اس نے اپنے باپ سے حاصل کی۔ جو ایک مدرس تھا۔ حجاج بچپن سے ہی اپنے ہم جماعتوں پر حکومت کرنے کا عادی تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر اس نے اپنے باپ کے ساتھ ہی تدریس کا پیشہ اختیار کیا لیکن وہ اس پیشے پر قطعی مطمئن نہ تھا اور کسی نہ کسی طرح حکمران بننے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ بالاخر وہ طائف چھوڑ کر دمشق پہنچا اور کسی نہ کسی طرح عبدالملک بن مروان کے وزیر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وزیر نے جلدی ہی اس کی انتظامی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اسے ترقی دے کر اپنی جاگیر کا منتظم مقرر کر دیا۔ ایک چیز جس کی وزیر کو ہمیشہ شکایت رہتی تھی اس کی سخت گیری تھی لیکن اس سخت گیری کی وجہ سے وزیر کی جاگیر کا انتظام بہتر ہو گیا تھا۔
مَملکت متحدۂ برطانیۂ عظمی و شمالی آئرلینڈ (انگریزی: United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland) جسے عموماً برطانیہ (انگریزی: Britain) یا مملکت متحدہ (انگریزی: United Kingdom) کہا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔
جنگ یمامہ حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت جمادی الاخری سن 12 ہجری میں یمامہ کے مقام پر پیش آئی یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف کی گئی تھی کیونکہ اس ملعون نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تھا۔ قاتل امیر حمزہ حضرت وحشی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ نام کے صحابی نے اس کو قتل کیا تھا اور ایک انصاری نے بھی قتل کرنے میں شرکت کی تھی۔ مسیلمہ جس دن قتل ہو ا اس کی عمر ڈیڑھ سو سال تھی اس کی پیدائش آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبد اللہ سے بھی پہلے کی تھی۔
ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
جُنْدُب بن جُنَادَة رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات 31ھ) ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے۔آپ اپنی کنیت ابوذرؓ غِفَارِی کے نام سے مشہور ہوئے۔آپ نہ مکہ سے تھے نہ یثرب سے تعلق تھا بلکہ ایک ایسی جگہ سے تھے جو مسافروں کے لیے نہایت ہی خطر ناک جگہ تھی - غِفَار-رہزنی اور تجارتی قافلوں کو لوٹنا بنو غفار کا پیشہ تھا۔جب مکہ میں آفتاب رسالت طلوع ہوا تو یہ خبر بنو غفار کے اس نوجوان تک بھی پہنچی جس کی رنگت میں سرمئی غالب تھی- بلند ترین قد, دبلے اور پھرتیلے جسم کے مالک تھے۔کردار میں سادہ مزاجی اقوال میں بے باکی ان کی شخصیت کو ایک خاص پہچان دیتی تھی۔آپ کبھی بت پرستی کے قریب نہیں گئے۔ابوذرؓ نے اپنے بھائی انیس کو یہ ذمہ دیا کہ مکہ کے حالات معلوم کرے اور اس شخص کے بھی جس نے نبوت کا اعلان کیا اور اک اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ان کے بھائی نے واپس آکر مختصر حالات بیان کیے کیونکہ مشرکین مکہ مکرمہ کی وجہ سے تفصیل معلوم کرنا مشکل کام تھا۔ابو زر غفاری نے کہا اتنا میرے لیے کافی نہیں خود مختصر سامان سفر باندھا اور مکہ کے لیے روانہ ہوئے جاتے وقت بھائی نے آگاہ کیا کہ مکہ کی قوم اس نبی کے خلاف ہیں اور وہ ان کے دشمن ہیں اور انھیں بھی تکلیف دیتے ہیں جو ان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔جب یہ مکہ پہنچے تو اسی الجھن میں رہے کی کس سے ملے اور کس سے نہیں اسی الجھن میں وقت گذرا اور سامان سفر ختم ہو گیا۔اسی حالت میں اک جگہ سے گذر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک معتبر شخصیت پر پڑی جو مسکینوں کو کھانا کھلا رہے تھے دیکھنے پر بہت ہی بھلے آدمی معلوم ہوتے تھے۔ جیسے ابوذرؓ نے غور کیا ویسے ہی انھوں نے بھی بھی ابوذرؓ پر غور کیا۔وہ ابوبکرؓ تھے۔ انھیں ابوبکرؓ اپنے گھر لے گئے اور خوب مہمان نوازی کی تین دن گذر گئے لیکن ابوذرؓ غفاری نے ان کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا کیونکہ ابوذرؓ غفاری اب بھی الجھن میں ہی تھے۔آخر ابوبکرؓ نے ان سے پوچھ لیا نہ تم تاجر نظر آتے ہو نہ تمھارے آمد کی وجہ معلوم ہوتی ہے۔تمھارا مقصد کیا ہے اور تمھاری منزل کیا ہے۔یہ سن کر ابوذرؓ نے ہمت باندھی اور کہا کہ وعدہ کرو کہ جو میں سوال کروں اس کا صحیح جواب دو گے اور مجھے تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اور یہ راز ہی رکھو گے۔ابوبکرؓ صدیق نے وعدہ کیا- ابوذرؓ نے ان سے مکہ آنے کا ارادہ بیان کیا اور یہ اللہ کی منشا تھی کہ آپ ابوبکر صدیقؓ کے مہمان تھے اور ابوبکرؓ بلا تاخیر انھیں آپ ﷺ کے پاس لے کر گئے۔آپ ﷺ نے ان کے سامنے جب قرآن پڑھا تو بے ساختہ ابوذرؓ نے درمیان میں ہی کلمہ پڑھ کر گواہی دی جس سے آپ ﷺ بے حد خوش ہوئے۔ان کی بے باکی کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ ابوذرؓ نے مشرکین مکہ کے درمیان با آواز بلند مسلمان ہونے کا اعلان کیا جس سے مشتعل ہوکر مشرکین نے آپ کو بہت زدوکوب کیا لیکن آپ ﷺ کے چاچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ابھی ایمان نہ لائے تھے درمیان میں حائل ہو گئے اور کہا یامعاشرۃ القریش! یہ شخص بنو غِفَار سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے ہمارے تجارتی قافلوں کا گذر ہوتا ہے یہ سنتے ہی سب خوف سے پیچھے ہٹ گئے اس طرح ابوذرؓ مشرکین کے چنگل سے چھوٹے آپ اسلام لانے والے پانچویں یا چھٹے شخص تھے اور بیرون مکہ سے آکر اسلام لانے والے پہلے شخص تھے آپ ﷺ سے پہلی ملاقات میں السلام علیکہ یا رسول اللہ یہ الفاظ سب سے پہلے ابوذرؓ نے استعمال کیے آپ ﷺ کے کہنے پر آپ نے اپنے علاقے میں جاکر دعوت دی آپ کے خاندان سمیت اکثر لوگ ایمان لے آے- بقیہ تب ایمان لائے جب آپ ﷺ مدینہ میں تھے آپ ﷺ نے بنو غفار کے لیے دعا فرمائی غِفٰارُُ غَفَرَالَلہُ لَہُمْ اے اللہ بنو غفار کو بخش دے دنیا اور مال سے بے رغبتی: ایک دفع ایک صحابی ابوذرؓ کے کمرے میں آے تو حیران رہ گئے سارا حجرہ خالی پڑا ہے تو پوچھا آپ کی ضروریات کا سامان کہاں ہے تو آپ نے فرمایا وہ سب سامان میں نے اپنے محل میں محفوظ رکھا ہے!
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان, سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2013ء تا 2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انھوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔
متحدہ عرب امارات ( (یو اے ای)، جسے سادہ الفاظ میں امارات بھی کہا جاتا ہے، مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو جزیرہ نما عرب کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کی امارات سے بنی ایک وفاقی بادشاہت اور نیم آئینی حکومت ہے، جس کا ابوظہبی قومی دارالحکومت ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سرحدیں مشرق اور شمال مشرق میں عمان اور جنوب مغرب میں سعودی عرب سے ملتی ہیں؛ یہ خلیج فارس میں قطر اور ایران کے ساتھ اور خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحدیں بھی بانٹتا ہے۔ بمطابق 2024، متحدہ عرب امارات کی تخمینہ آبادی 10 ملین سے زیادہ ہے؛ دبئی ملک کا سب سے بڑا متحدہ عرب امارات کے شہر ہے۔ اسلام ریاستی مذہب ہے اور عربی زبان سرکاری زبان ہے؛ انگریزی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اور کاروبار کی زبان ہے۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مختلف روایات میں اکثر گیارہ سے تیرہ ازواج کے نام ملتے ہیں۔ جنھیں امہات المؤمنین کہا جاتا ہے یعنی مؤمنین کی مائیں۔ اس کے علاوہ انھیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں حضرت عائشہ کے علاوہ تمام بیوہ و مطلقہ (طلاق شدہ) تھیں اور زیادہ شادیوں کا عرب میں عام رواج تھا۔
چونڈہ پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سنہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئئ۔یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقہ میں لڑی گئی۔8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا۔باجرہ گڑھی نکھنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویزن کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلومیٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔اس درمیان میں پاکستانی فضائیہ نے ایک حملہ کیا لیکن کوئی خاص نقصان نہ کر سکی ۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویزن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کرا کے دفاعی پوزیشن پر چلی گئی۔ چونڈہ کنٹرول لائ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔14 ستمبر کو بھارت نے چونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کرا کے واپس لوٹ گئی "چونڈہ" پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں سنہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی۔ یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔ یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔۔۔ 8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نکھنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلومیٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔۔۔ سرحدی دیہات کنگرہ، سبز پیر، معراجکے سے لوگوں نے نقل وحمل کر دی اور بارڈر سے دور چلے گئے۔ اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔۔۔ چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نے چونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔۔۔ جنرل ٹکا خان اس وقت چونڈہ محاذ پر کمانڈ کر رہے تھے۔ دشمن کے ٹینکوں کی پوری دیوار کے سامنے پاکستان کے پاس محدود تعداد میں موجود ٹینک کچھ معنی نہیں رکھتے تھے۔ جنرل ٹکا خان نے جوانوں سے خطاب کیا اور ایک عجیب و غریب جنگی چال اپنے جوانوں کے سامنے رکھ دی۔ کہ ہم اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے آگے بڑھتے ٹینکوں کا راستہ روکیں گے۔۔۔ اس سرفروشی کے لیے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے خود کو پیش کیا. اس کے بعد جنرل ٹکا خان نے جوانوں سے کہا کہ جو جو جوان اس جان لیوا مشن پر میرے ساتھ دفاع مادر وطن کے لیے خود کو فنا کرنا چاھتا ہے ایک قدم آگے چل کر اپنی رضامندی سے آگاہ کرے۔ اگلے ہی لمحے جنرل ٹکا خان نے دیکھا کہ سارے کے سارے جوان ایک قدم آگے بڑھ کر اس مشن پر جانے کے لیے تیار تھے۔۔۔ پھر جنرل ٹکا خان نے کہا کہ ہمیں کم تعداد میں سرفروش چاھئیں، لہذا جو جوان اپنے گھر کے چھ بھائی ھیان وہ آگے آ جائے، چند جوان آگے بڑھے، پھر انھوں نے کہا جو اپنے گھر کے پقنچ بھائی ہیں وہ جوان آگے بڑھے، ہھر مزید چند جوان آگے بڑھے۔ پھر کہا جو جوان اپنے گھر کے چار بھائی ہیں وہ آگے بڑھیں۔ تب مزید کئی جوان آگے بڑھے۔۔۔ یوں پاک فوج کے ان جانبازوں کا ایک "فنا فی اللہ" دستہ تیار کیا گیا جنھوں نے اپنے سینوں کے ساتھ بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے جا کر لیٹ گئے۔ ھوا کچھ یوں کہ دشمن پاک فوج کی جانب سے اچانک مزاحمت ختم ھو جانے پر بہت زیادہ خوش تھا۔ کہ اب شاید پاک فوج جنگ ہار رہی ہے۔ اور پسپا ھو رہی ہے۔ دشمن اپنی پوری طاقت سے آگے بڑھنے لگا۔۔۔ جیسے ہی دشمن کے ٹینک پاک فوج کے جنگی جال میں پھنس گئے اسی وقت وطم عزیز کے سرفروش بیٹوں نے (جو اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے راست میں لیٹے ھوئے تھے) خود کو اڑانا شروع کر دیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں بھارت ٹینکوں کے پرخچے اڑنے لگے. دشمن شدید بوکھلاہٹ کا شکار ھو گیا۔۔۔ خدا کے نام پر کٹنے کی لذت کیا بتاؤں میں!!!!!!!!!!
علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں4 /جون 1857ء کو ہوئی تھی- ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا اور وکالت بھی کی مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ ہونے کے سبب ترک کر دی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔