اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
مختصر سیرتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیرت النبی پر ایک مختصر کتاب ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے مصنف کا نام عبد اللہ بن محمد بن عبدالوہاب ہے اسے الداعیۃ بالمکتب التعاونی لدعوۃ الجالیات بالجبیل (سعودی عرب) نے نشر کیا۔
سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء – وفات: 29 جون 2026ء) ایک بھارتی عالمِ دین، مفکر اور مصنف تھے۔ بھارت کی مشہور دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلما کے عظیم سپوت اور کئی دہائیوں تک وہاں کے اعلی استاذ رہے۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن اور لکھنؤ میں واقع جامعہ امام احمد بن عرفان شہید کے صدر تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی حدیثِ نبوی کی خدمت، شرعی تعلیم اور علمی و دعوتی اداروں کی تعمیر و تاسیس میں وقف کر دی۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
یوم آزادی (ریاستہائے متحدہ امریکا)
آزادی کا دن، 4 جولائی 1776 کو ریاست ہائے متحدہ امریکا کے آزادی کےاعلامیے کی یاد میں ریاستہائے متحدہ میں ایک وفاقی چھٹی کا دن ہے۔ کنٹینٹل کانگریس نے اعلان کیا کہ تیرہ امریکی کالونیاں اب برطانیہ کی بادشاہت کے تابع نہیں ہیں اور اب متحد اور آزاد ریاست ہیں۔ کانگریس نے 2 جولائی کو دو روز قبل آزادی کے حق میں ووٹ دے دیا تھا، لیکن 4 جولائی تک اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
کیان ابو عمرہ کوفہ میں مختار ثقفی کی پولیس کے چیف تھے وہ مختار کے ساتھ رہے اور انھوں نے امام حسین ابن علی کے قاتلوں سے لڑائی میں حصہ لیا جن میں سب سے نمایاں کارنامہ شمر بن ذو جوشن کو قتل کرنا تھا۔ عمر بن سعد 67ھ میں کوفہ کے قریب معرکہ مذار میں مصعب بن زبیر کی فوج کے گھڑ سواروں کے ہاتھوں وفاداروں کے ایک گروہ کے ساتھ مارا گیا، جب احمر بن شمیط نے انھیں گھوڑوں سے اترنے کا حکم دیا کہ میدان جنگ میں اتر جاؤ۔ اس وقت سنان بن انس نخعی کو کوفہ کے قریب ایک شہر میں قتل کیا گیا اس نے شہزادہ علی اصغر کے قاتل حرملہ بن كاہل کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی لیکن حرملہ نے اپنے بیٹے حیدر اور اس کی بیوی شیرین کو قتل کر دیا۔اس نے حسین بن علی کی حمایت کے لیے الطاف جانے کی کوشش کی لیکن وہ راستہ بھول گیا۔.
ابو جوشن صمیل بن حاتم بن شمر بن ذو الجوشن ضبابی الکلبی (تقریباً 70ھ - 142ھ / 690ء - 759ء) اندلس میں عرب عدنانی قبائل کا امیر، ہوشیار، بہادر اور سخی شہزادوں میں سے ایک تھا۔ ان کے دادا شمر بن ذو الجوشن تھے، جو حسین بن علی کے قاتل تھے، ان کے والد کے دادا ذو الجوشن تھے ۔ اپنے زمانے میں بنو ضباب کے سردار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، آپ کوفہ آئے اور وہیں وفات پائی۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
آلو چاٹ برصغیر پاک و ہند میں پنپنے والی ایک عوامی ڈش ہے جو مشرقی ہندوستان ، شمالی ہندوستان ، مغربی بنگال، شمالی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے سلہٹ ڈویژن کے حصوں میں بھی مشہور ہے۔ آلو کو تیل میں فرائی کرکے مصالحہ اور چٹنی ڈال کر آلو چاٹ تیار کی جاتی ہے۔ بنا ابلے ہوئے آلو کے ساتھ بھی آلو چاٹ کو تیار کیا جا سکتا ہے ۔ مصالحے ، لیموں کا کا عرق اور چٹنی کے ساتھ پھل بھی آلو چاٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
مچھلیوں کو معجزانہ طور پر پکڑنا
مچھلیوں کو معجزانہ طور پر پکڑنا اناجیل اربعہ میں مذکور یسوع مسیح سے منسوب دو معجزات ہیں۔ دونوں معجزات کے درمیان میں سالوں کا وقفہ ہے۔ مگر دونوں معجزات میں رسول گلیل کے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے میں ناکام رہے تب یسوع نے ان سے ایک اور جال ڈالنے کو کہا اور انعام میں رسولوں (شاگردوں) نے ڈھیر ساری مچھلیاں پائیں۔
بیگا ( ) نیو ساؤتھ ویلز ، آسٹریلیا کے جنوب مشرق میں، بیگا ویلی شائر میں واقع ایک قصبہ ہے۔ یہ وادی بیگا کا اقتصادی مرکز ہے۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ جگہ کا نام بیگا مقامی آبائی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے "بڑا کیمپنگ گراؤنڈ"۔ ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ یہ مقامی آبائی زبان میں لفظ "بیکا" کی بدعنوانی ہے ( یون زبانوں میں سے ایک) جس کا مطلب ہے "خوبصورت"۔ نوآبادیات سے پہلے بیگا کا مقامی نام مزدور تھا۔
شاہ محمود قریشی زرداری حکومت اور عمران خان حکومت میں پاکستان کے وزیر خارجہ رہے۔ 31 مارچ 2008ء تا فروری 2011ء پیپلز پارٹی کے فعال رکن رہا۔ زرداری حکومت سے بدظن ہو کر وزارت سے استعفی دے دیا اور بالآخر نومبر 2011ء میں زرداری جماعت اور پارلیمان سے بھی مستعفی ہو گئے۔ اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔
عام نظریہ یہ ہے کہ اسلامی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین بیٹے تھے جن کا نام عبد اللہ، ابراہیم اور قاسم تھا اور چار بیٹیاں جن کا نام فاطمہ زہرا ، رقیہ ، ام کلثوم اور زینب تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پہلی بیوی خدیجہ بنت خویلد سے پیدا ہوئے تھے، سوائے ان کے بیٹے ابراہیم کے، جو ماریہ القبطیہ سے پیدا ہوئے تھے۔ محمد کے بیٹے میں سے کوئی بھی بالغ نہیں ہوا، لیکن ان کا ایک بالغ رضاعی بیٹا، زید بن حارثہ تھا۔ ان کی تمام بیٹیاں جوانی کو پہنچیں۔ کچھ شیعہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فاطمہ بنت محمد ان کی اکلوتی حیاتیاتی بیٹی تھیں۔
گائیکواڑ (مراٹھی: गायकवाड) ہندو مرہٹوں کا ایک قبیلہ ہے۔ اس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندان نے مغربی ہندوستان کی نوابی ریاست بڑودا پر اٹھارویں صدی کے اوائل سے 1947ء تک حکمرانی کی۔ ریاست بڑودا کے سربراہ یا حاکم کو مہاراجا گائیکواڑ کہا جاتا تھا۔ ریاست بڑودا کا صدر مقام بڑودا شہر تھا جو آج کل بھارتی صوبہ گجرات میں واقع ہے۔ برطانوی راج میں ریاست کے انگریزوں سے تعلقات کا انتظام بڑودا ریزیڈنسی کے ذمہ تھا۔ ریاست بڑودا کا برطانوی ہند کی وسیع ترین اور مالدار ترین نوابی ریاستوں میں شمار ہوتا تھا۔ ریاست کے ذرائع آمدنی میں روئی کی نفع بخش تجارت نیز چاول، گیہوں اور شکر کی تیاری خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
تخلیقی ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب۔ تخلیقی عمل میں دنیا کی حقیقتوں، مسائل، تجربات، مشاہدات اور احساسات کو قصہ پن کے بغیر ادب اور فن کے تقاصوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے تو ایسی نثر غیر افسانوی نثر کہلاتی ہے۔ غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کرنے کی بجائے ادیب، زندگی میں در پیش حقیقی واقعات کو اپنے احساسات، اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہیئت کے دائرہ کار میں پیش کرتا ہے۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
نواب محمد سعید خان آف رام پور آڈر آف دی سٹار آف دی انڈیا، (پیدائش: 19 مئی 1786ء - 1 مئی 1855ء) اپنے چاچا زاد بھائی نواب احمد علی خان بہادر کے بعد 5 جولائی 1840ء سے 1 اپریل 1855ء تک ریاست رام پور کے نواب رہے۔ وہ نواب غلام محمد خان بہادر کے فرزند تھے۔ نواب محمد سعید خان نے اپنے ابتدائی سال برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت میں میں گزارے۔ آخرکار ترقی کرتے ہوئے وہ دودائن (بھارت) کے ڈپٹی کلکٹر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ اگرچہ ان کے والد اپنے مختصر دورِ حکومت میں ایک ظالم رہے تھے، لیکن نواب محمد سعید خان اپنے باپ کے برعکس ایک خیرخواہ اور ترقی پسند حکمران ثابت ہوئے۔ انھوں نے آبپاشی کے منصوبوں کی تعمیر اور عدالتیں اور ایک جدید قانونی ضابطہ قائم کیا۔ نواب محمد سعید خان کا انتقال 1 اپریل 1855ء کو 69 سال کی عمر میں ہوا اور انھیں رام پور میں دفن کیا گیا۔ ان کے بعد ان کے بڑے بیٹے نواب یوسف علی خان بہادر رام پور کے نواب بنے۔
رتھ (انگریزی: Chariot)،زمانہ قدیم کی ایک سادہ سی گاڑی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ دو ہزار قبل مسیح یعنی گھوڑے کی دریافت سے بھی پہلے بابلی اس سے واقف تھے۔ غالباً اس پر شاہی سواری نکلتی تھی۔ بعد میں اسے گھوڑے کھینچنے لگے اور مشرق قریب میں اس کا استعمال ہو گیا۔ رتھ جنگ میں خاص طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔ اشوریوں نے اس کے پہیوں کے ساتھ بطور اسلحہ درانتیاں لگا دی تھیں۔ ایران میں بھی انھیں استعمال کیا گیا۔ یونان اور روم والے اسے شوقیہ استعمال کرتے تھے اور وہاں رتھوں کے دوڑ کے مقابلے ہوتے تھے۔ زمانہ قدیم میں آریا بھی رتھوں پر سوار ہو کر میدان جنگ میں جایا کرتے تھے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
اسٹیبلشمنٹ یا انصرام یا استقرار، عام طور پر پاکستانی تجزیہ نگاروں میں استعمال ہونی والی اصطلاح ہے جو پاکستان میں فوجی حاکمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پس پردہ ریاستی انتظام کے متعلق یہ افراد، جو مکمل طور پر فوج سے تعلق نہیں رکھتے وہ پاکستان کی سیاست، دفاع اور جوہری پروگرام کے پالیسی فیصلوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان کے جوہری منصوبوں بلکہ دفاعی بجٹ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی اپنے مروجہ نظریہ کے مطابق استعمال کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
سیاست (Politics) "ساس" سے مشتق ہے جو يونانی زبان کا لفظ ہے، اس کے معانی شہر و شہرنشین کے ہیں۔ اسلامی علما کا دعویٰ ہے کہ صرف خلافت اور مسلم بادشاہت ہی جائز اسلامی سیاسی نظام ہیں۔ اور یہ کہتے ہوئے بھی کہ باقی سیاسی نظام حرام ہیں، وہ مسلمانوں کو اسلامی حکمرانی قائم کرنے کے لیے اقتدار میں آنے کے راستے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اوجز المسالک إلى موطّأ مالک، امام مالک کے موطّا کا ایک نہایت مبسوط اور معیاری عربی شرح ہے۔ اس کے مصنف شیخ محمد زکریا کاندھلوی ہیں اور یہ مجموعی طور پر 17 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں موطّا کے متن، اس کی مختلف روایات، مصادر اور ان سے مستنبط فقہی احکام کی تفصیلی تحقیق پیش کی گئی ہے اور یہ کام چاروں سنی مذاہب (مالکی، حنفی، شافعی، حنبلی) کے دلائل کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
وہ جانور جن کے جسم کا درجۂ حرارت ارد گرد کے ماحول کے مطابق تبدیل ہو جائے، سرد خون والے جانور (انگریزی: cold-blooded animals) کہلاتے ہیں۔ ان کے لیے ایک اور اصطلاح ایکٹوتھرم (Ectotherm) بھی استعمال کی جاتی ہے۔ سرد خون والے جانوروں کے جسم کا درجۂ حرارت ماحول کے درجۂ حرارت کے تقریباً برابر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان جانوروں کو شدید موسی حالات میں زندہ رہنے کے لیے خاص تکنیک اختیار کرنا پڑتی ہے۔ مثلاً مچھلیاں پانی میں اپنی گہرائی بدل کر مناسب درجہ حرارت تلاش کرتی ہیں۔ صحرائی جانور دن میں ریت کے اندر بنے بلوں میں رہتے ہیں اور یوں شدید گرمی کے خلاف مدافعت حاصل کرتے ہیں۔ حشرات خود کو گرم کرنے کے لیے اپنے پروازی پنکھوں کو مرتعش رکھتے ہیں۔ ٹھنڈے خون کے بعض جانور سرما خوابی (Hibernation) کا سہارا بھی لیتے ہیں اور اس دوران اپنے نظامِ تحول کو ایک خاص شرح پر کم از کم رکھتے ہیں۔ حالات سازگار ہونے پر یہ شرح اپنے معمول پر آ جاتی ہے۔
جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔
کُشان سلطنت (c. 30–c. 375 AD) (انگریزی: Kushan Empire، قدیم یونانی: Βασιλεία Κοσσανῶν، باختری: Κοϸανο، کوشانو، سنسکرت: कुषाण، براہمی: 𑀓𑀼𑀱𑀸𑀡، کُوشاݨا، بدھ مت ہائبرڈ سنسکرت: گُشانہ ومشا، پارتھی: 𐭊𐭅𐭔𐭍 𐭇𐭔𐭕𐭓، چینی: 貴霜) پہلی صدی کے اوائل میں یوچی کی طرف سے باختری علاقوں میں قائم کی گئی ایک ہم آہنگی والی سلطنت تھی۔ یہ موجودہ تاجکستان، ازبکستان، افغانستان، پاکستان، مشرقی ایران اور شمالی ہندوستان، کم از کم وارانسی کے قریب ساکیتا اور سارناتھ تک پھیلی ہوئی تھی، جہاں کشان شہنشاہ کنشکِ اعظم کے دور سے متعلق نوشتہ جات اور سکے پائے گئے ہیں۔
فہرست فیفا عالمی کپ پینلٹی شوٹ آؤٹ
یہ فہرست فیفا عالمی کپ پینلٹی شوٹ آؤٹ (List of FIFA World Cup penalty shoot-outs) ہے۔
بادشاہ ننگا ہے ایک بچوں کی کہانی ہے جو 1837 میں ڈنمارک کے ادیب ہینز کرسچن اینڈرسن نے لکھی تھی۔ اصل کہانی ڈینش زبان میں Kejserens nye Klæder کے نام سے لکھی گئی، یہ ایک لوک کہانی تھی جسے ادبی طرز پر لکھا گيا۔ اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ دو فریبی جولاہوں نے بادشاہ کو ایک ایسا کپڑا بُن کر دیا جو صرف عقلمندوں کو نظر آتا تھا اور احمق اسے نہیں دیکھ پاتے تھے۔ چونکہ کوئی بھی یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ بے وقوف ہے اس لیے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ اسے یہ کپڑے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان میں بادشاہ خود بھی شامل تھا اور اس کے سارے درباری بھی۔ جب جی حضوری کرتے ہجوم میں لوگ بادشاہ کے لباس کی تعریف میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے کوشاں تھے، ایک چھوٹے بچے نے عین جلوس میں کہہ دیا کہ بادشاہ ننگا ہے جس سے پورے مجمع کو زبان مل گئی۔ خاموشی کانا پھوسی میں اور کاناپھوسی شور میں بدل گئی۔
ضلع شیخوپورہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے۔ اس کا مرکزی شہر شیخوپورہ ہے۔ مشہور شہروں میں شامل شیخوپورہ مریدکے اور صفدرآباد ہیں۔ 1998ء کے میں کی آبادی کا تخمینہ 33,21,029 تھا۔ ضلع شیخو پورہ میں عمومی طور پر پنجابی، اردو وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 5960 مربع کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے اوسط بلندی 236 میٹر (774.28 فٹ) ہے۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ(25ق.ھ / 63ھ) صحابی اور راوی حدیث تھے۔ صحابی عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن وائل سہمی قرشی نے سنہ 7ھ کے بعد اسلام قبول کیا اور مدینہ ہجرت کی۔ انھوں نے والد صحابی عمرو بن العاص سے پہلے اسلام قبول کیا، جو قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔ ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمیہ قرشیہ تھیں۔ عبد اللہ اپنے والد عَمروْ سے فقط 12 سال چھوٹے تھے۔ قبول اسلام کے بعد عبد اللہ کچھ غزوات میں شریک ہوئے۔ مؤرخین نے ان کی مختلف کنتیں لکھی ہیں، ابو محمد، ابو عبد الرحمن اور ابو نصیر۔ کہا جاتا ہے کہ جب پیدا ہوئے تو ان کا نام العاص رکھا گیا اور رسول اللہ نے تبدیل کر کے عبد اللہ رکھا۔ عبد اللہ کے بقول رسول اللہ کی ہجرت کے بعد انھوں نے ان سے کئی احادیث ایک صحیفے میں نقل کیں جسے انھوں نے «صحیفہ صادقہ» کا نام دیا۔ یہ سلسلہ انھوں نے بیچ میں روکا مگر رسول اللہ کے حکم «لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا» جناب رسول اللہ ﷺ سے اجازت ملنے پر حضرت عبد اللہؓ نے پھر حدیثیں لکھنی شروع کر دی اور ان کا ایک مجموعہ مرتب کیا جس کا نام " الصادقہ" رکھا ۔ اس مجموعہ کو وہ نہایت عزیز رکھتے تھے اور کسی حالت میں بھی اس کی مفارقت گوارا نہ کرتے تھے۔فرماتے تھے : ( مایر غبنی فی الحیٰوۃ اِلاَّ الصّادقہة) یعنی مجھ کو زندگی کا خواہش مند یہی کتاب "صادقہ" بنا رہی ہے یہ نہ ہو تو مجھے جینے کی خواہش نہیں ہے۔پھر خود ہی "صادقہ" کی تعریف اس طرح کرتے ہیں: فاماالصّادقة فصحِیفِة کتبتھا منﷺ یعنی الصّادقہ وہ صحیفہ ہے جس کو میں نے رسولﷺ سے سُن سُن کر لکھا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ نے فرمایا کہ اگر قرآن اور یہ صحیفہ (صادقہ) اور وہط کی جاگیر مجھ کو دے دی جائے تو پھر مجھ کو دنیا کی کوئی پروا نہیں حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کے بعد ان کا مجموعہ احادیث"الصادقہ" ان کے صابزادے شعیبؒ کو ملا اور ان کے بعد ان کے صاحبزادے عمروؒ کا ملا انھوں نے اپنے والد کے واسطے سے اسی صحیفے کی حدیثیں روایت کی ہیں۔ عبد اللہ قرآن کے قاری اور ماہر تھے اور وہ تورات پڑھ سکتے تھے اور اس کے عالم تھے۔ انھوں نے کئی احادیث منتقل کیں، یوں وہ بڑے عالم ہو گئے اور وہ عبادات میں مجتہد تھے۔ حضرت عبد اللہؓ بن عمروؓ کو جہاد فی سبیل اللہ کا بے انتہا شوق تھا اور وہ غزوات میں اکژ رسول اللہ ﷺ کی ہمر کابی کا شرف حاصل کیا کرتے تھے لیکن اربابِ سِیرَ نے یہ تصریح نہیں کی کہ انھوں نے عہدِ رسالت کے کن کن غزوات میں شرکت کی ۔ " سنن دار قطنیؒ " کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ غزووں میں بعض دفعہ حُضُور ﷺ اُن کو کسی اہم خدمت پر مامور فرماتے تھے خود فرماتے ہے ایک دفعہ رسول ﷺ نے مجھے فوج کے لیے اونٹ مہیا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ میری تحویل میں جس قدر اونٹ تھے ان سب پر لوگوں کو سوار کر دیا پھر بھی کچھ لوگ باقی رہ گئے جن کو سوار کرنے کیے لیے کوئی اونٹ نہ تھا ۔ میں نے رسول ﷺ کی خدمت میں عرض کیا : " یا رسول اللہ ﷺ میں نے سارے اونٹ لوگوں میں تقسیم کر دیے لیکن کچھ لوگوں کو اونٹ نہیں مل سکا " حُضُور ﷺ نے فرمایا: " ایک ایک اونٹ کے بدلے میں صدقہ کے دو دو تین تین اونٹوں کا وعدہ کر کے کچھ اونٹ حاصل کر لو تاکہ باقی لوگ بھی ان پر سوار ہو سکیں " میں نے ارشادِ نبوی کی تعمیل کی اور جتنے اونٹوں کی ضرورت تھی مہیا کر لیے 10ھ میں حجتہ الوداع کے موقع پر بھی سرورِ عالم ﷺ کے ہمرکاب تھے ۔ فرماتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجتہ الوداع میں منٰی تشریف فرما تھے کے ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا !
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
عمار بن یاسر (56 ق.ھ-37ھ) (کنیت ابو یقظان ) جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ قدیم الاسلام اور مہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کو کفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنھیں سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا، چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پر پیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یا رسول اللہ!
یزید کے دربار میں زینب بنت علی کا خطبہ
واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ قیدی بنا کر کئی شہروں سے گزار کردمشق لے جائی گئیں۔ انھوں اس سفر اسیری میں کئی خطبے دیے ان میں سے ایک خطبہ یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا۔ ان کے دیگر فصاحت و بلاغت سے بھرپور خطبات کی طرح ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس نے یزید کے دربار پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔ یزید کی محفل میں جب بی بی زینب (سلام اللہ علیہا) کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انھوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ”اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!“ پھر یہ معروف خطبہ دیا جس نے دشمن حسین کے مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔ راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔“ یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: ”اے یزید!
حضرت آدم علیہ السلام ، اللہ کے اولین پیغمبر ہیں۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب ۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ تمام آسمانی کتابوں کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اس رُوئے زمین پر اللہ جل شانہ‘نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا۔ حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا احوال کچھ یوں ہے : اللہ تعالی نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر آدم علیہ السلام کو بنایا۔ اس لیے زمین کے لحاظ سے لوگ سرخ ،سفید ، سیاہ اور درمیانے درجے میں ،اسی طرح اچھے ،برے ، نرم اور سخت طبیعت والے اور کچھ درمیانے درجے کے پیدا ہوئے (روایت : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) ۔ اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو زمین میں مٹی لانے کے لیے بھیجا تو زمین نے عرض کی کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ سے کوئی کمی کرے یا مجھے عیب ناک کر دے تو وہ مٹی لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور عرض کی :اے اللہ!اس نے تیری پناہ میں آنے کی درخواست کی تو میں نے اس کو پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ،زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے بھی پناہ دے دی اور حضرت جبرائیل کی طرح واقعہ بتا دیا پھر اللہ نے موت کے فرشتوں کو بھیجا۔زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی تو اس نے کہا میں اس سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم کی تعمیل کیے بغیر واپس چلا جاؤں اور اس سے مختلف جگہوں سے سرخ ،سیاہ اور سفید مٹی اکٹھی کی جس کی بنا پر آدم علیہ السلام کی اولاد بھی مختلف رنگوں والی ہے ۔( روایت سدی رحمۃ اللہ بحوالہ ابن عباسؓ و ابن مسعودؓ )وہ مٹی لے کرعرش پر چلے گئے اور اس کو پانی کے ساتھ تر کیا۔پانی سے تر کرنے سے وہ چپکنے والی لیس دار مٹی بن گئی۔ اس پر باری تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا :میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔جب میں اس کو اچھی طرح بنا لوں اور اس میں اپنی پیدا کردہ روح ڈال دوں تو اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔ اللہ تعالی ٰنے علم کے ساتھ آدم علیہ السلام کا ان پر شرف اور مرتبہ واضح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان سے مراد وہی نام ہیں جو لوگوں کے ہاں مشہور و معروف ہیں۔انسان ، جانور ، زمین ، سمندر ، پہاڑ ، اونٹ ، گدھا وغیرہ۔ مجاہد بن جبیر نے کہا :پیالہ اور ہنڈیا وغیرہ کے نام سکھائے ۔ مجاہد نے مزید کہا:ہر جانور ، پرند ، چرند اور ہر ضرورت کی ہر چیز کے نام سکھائے۔ سعید بن جبیر ، قتادہ بن دعامہ وغیرہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ الربیع نے کہا:فرشتوں کے نام سکھائے۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا :ان کی اولاد کے نام سکھائے۔اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہر چھوٹی اور بڑی چیز اور ان کے افعال کے نام سکھائے ۔ حضرت انس بن مالکؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا :قیامت کے دن ایمان والے اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم اپنے رب کے پاس سفارش کرنے والا طلب کریں ،پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدم!
انڈونیشیا کی تاریخ کو اس کی جغرافیائی حیثیت، اس کے قدرتی وسائل، انسانی ہجرت اور روابط، جنگوں اور فتوحات کے ساتھ ساتھ تجارت، اقتصادیات اور سیاست نے بھی شکل دی ہے۔ انڈونیشیا 17،000 سے 18،000 جزائر (8،844 نامی اور 922 مستقل طور پر آباد) کا ایک مجمع الجزائر ملک ہے جنوب مشرقی ایشیا میں خط استوا کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ ملک کی اسٹریٹجک سمندری لین کی پوزیشن نے بین جزیرے اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا ہے۔ اس کے بعد سے تجارت نے بنیادی طور پر انڈونیشی تاریخ کی تشکیل کی ہے۔ انڈونیشیا کا رقبہ مختلف ہجرت کے لوگوں کے ذریعہ آباد ہے، جس سے ثقافت، نسل اور زبانوں میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔ جزیرہ نما خلائی علاقوں کے آب و ہوا اور آب و ہوا نے زراعت اور تجارت اور ریاستوں کے قیام پر نمایاں اثر ڈالا۔ ریاست انڈونیشیا کی حدود ڈچ ایسٹ انڈیز کی 20 ویں صدی کی سرحدوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
گرو نانک دیو (گرمکھی پنجابی: ਗੁਰੂ ਨਾਨਕ) کی پیدائش شہر ننکانہ صاحب، لاہور، پنجاب موجودہ پاکستان میں 15 اپریل، 1469ء کو ہوئی اور وفات 22 ستمبر، 1539ء کو شہر کرتار پور میں ہوئی۔ گرونانک سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گروؤں میں سے پہلے گرو تھے۔ ان کا یوم پیدائش گرو نانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک (اکتوبر–نومبر) میں پورے چاند کے دن، یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے۔
انڈیگو (انگریزی: IndiGo) بھارتی ایئرلائن ہے جس کا صدر دفتر گرو گرام میں واقع ہے۔ یہ مسافروں کی تعداد اور بیڑے کے حجم کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ایئر لائن ہے، جس کا ملکی مارکیٹ میں حصہ اگست 2025ء تک 64.2% تھا۔ یہ ایشیا کی دوسری سب سے بڑی ایئر لائن ہے، اور مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ایئر لائنز میں سے ایک ہے، جس نے 2025ء کی چوتھی سہ ماہی میں 31.9 ملین سے زیادہ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کی۔ نومبر 2025ء، انڈیگو 137 مقامات – 94 ملکی اور 43 بین الاقوامی – کے لیے روزانہ 2,700 سے زیادہ پروازیں چلاتی ہے۔ یہ اپنی ذیلی کمپنی، انڈیگو کارگو کے تحت کارگو خدمات چلاتی ہے۔ اس کا بنیادی مرکز دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہے۔
مَملکت متحدۂ برطانیۂ عظمی و شمالی آئرلینڈ (انگریزی: United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland) جسے عموماً برطانیہ (انگریزی: Britain) یا مملکت متحدہ (انگریزی: United Kingdom) کہا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔
مروان بن حکم کا تعلق بنو امیہ کی دوسری شاخ بنی عاص سے تھا۔ حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضرت عثمان نے حکم کے بیٹے مروان کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ حضرت عثمان کو اس پر بے حد اعتماد تھا۔ اس لیے مہر خلافت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ جب آپ کے خلاف فسادیوں نے شورش پیدا کی تو حاکم مصر کے نام منسوب خط وغیرہ کی جعلسازی کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی جاتی ہے۔ شہادت عثمان کے بعد مدینہ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کے خلاف لڑا۔ حضرت طلحہ کی شہادت بھی اس کے ہاتھوں ہوئی جو اسی کی فوج کے سربراہ تھے۔ امیر معاویہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اسے مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یزید کی موت کے وقت یہ مدینہ ہی میں مقیم تھا۔ جبیر ابن مطعم سے روایت ہے کہ ہم لوگ پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ادھر سے حکم (مروان کا باپ) گذرا۔ اسے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے صلب میں جو بچہ ہے اس سے میری امت عذاب اور پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ اس روایت بارے ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ روایت منکر ہے۔<ref>أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي ابن أبي حاتم؛ الرازي (1427 هـ - 2006 م)۔ العلل۔ مطابع الحميضي۔ ج 6۔ ص 555 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)</>
3376 (عدد) یعنی 3376 ایک عدد اور ایک علامت ہے۔ کچھ عددی نظاموں میں 3375 سے بڑا یا زیادہ اور 3377 سے چھوٹا یا کم ہوتا ہے۔ گنتی میں اسے تین ہزار تین سو چھہتر یا تینتیس سو چھہتر بولا جاتا ہے۔ اور اس سے پہلے تین ہزار تین سوپچہتر یا تینتیس سو پچہتر اور اس کے بعد تین ہزار تین سو ستتر یا تینتیس سو ستتر بولا جاتا ہے۔