اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .
محمد عامر خان (پیدائش: 6 ستمبر 2001ء) ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔ وہ پاکستان کی قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے کھیل چکے ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں خیبر پختونخواہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔دسمبر 2019ء میں انھیں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز پشاور زلمی نے 2020ء کے پی ایس ایل ڈرافٹ کے دوران ایمرجنگ کیٹیگری میں ڈرافٹ کیا تھا۔ انھوں نے اپنا ٹوئنٹی 20 ڈیبیو 22 فروری 2020ء کو پشاور زلمی کے لیے 2020ء پاکستان سپر لیگ میں کیا۔ اس نے اپنا لسٹ اے ڈیبیو 22 جنوری 2021ء کو خیبر پختونخواہ کے لیے 2020–21 پاکستان کپ میں کیا۔ اس نے اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیو 20 اکتوبر 2021ء کو خیبر پختونخوا کے لیے 2021-22 قائداعظم ٹرافی میں کیا۔
بین الاقوامی انجمن صلیب احمر و ہلال احمر
بین الاقوامی انجمن صلیب احمر و ہلال احمر ایک فلاحی ادارہ جس کی شاخیں دنیا کے ہر ملک میں ہیں۔ یہ ادارہ سب سے پہلے سوئٹزر لینڈ میں قائم ہوا۔ اس کا مقصد جنگ میں زخمی ہونے والے سپاہوں کی دیکھ بھال اور جنگی قیدیوں کی امداد اور خبر گیری کرنا تھا۔ بعد میں اس کے مقاصد کو وسعت دے دی گئی اور زمانہ امن میں بھی اسے عوام کی خدمت کاذریعہ بنا دیا گیا۔ چنانچہ اب یہ ادارہ ہنگامی حوادث سے متاثر ہونے والوں کی بھی امداد کرتا ہے۔ 1940ء میں بین الاقوامی ریڈ کراس سوسائٹی نے بچوں کے تحفظ اور امداد کی غرض سے ایک الگ شعبہ قائم کر دیا۔ ریڈکراس اس سوسائٹی کے قیام و تنظیم کی ضرورت کا احساس عام کرنے کا سہرا سوئٹزلینڈ کے ایک شہری ڈوننٹ کے سر ہے۔ اس نے ایک کتابچے میں جنگ کی تباہ کاریوں کا ذکرکرتے ہوئے ان سپاہیوں کی حالت زار خاص طور پر بیان کی تھی جو جنگ میں زخمی ہوئے تھے لیکن طبی امداد سے محرومی کے باعث سسک سسک کر مر گئے۔ ڈوننٹ نے دنیا بھر کے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی خبر گیری اور علاج معالجے کا کوئی موثر انتظام کریں۔ 63 اقوام نے متعلقہ مسائل پر غور و خوص کے لیے ایک کانفرنس میں شریک ہونا منظور کر لیا۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
یورپ میں ایل جی بی ٹی کیو حقوق
یورپ میں ایل جی بی ٹی حقوق ہرملک میں وسیع پیمانے پر متنوع ہیں۔ دنیا بھر میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے والے 28 ممالک میں سے سولہ کا تعلق یورپ سے ہے۔ مزید تیرہ یورپی ممالک نے ہم جنس جوڑوں کے لیے سول یونینز یا زیادہ محدود شناخت کی دوسری شکلوں کو قانونی حیثیت دی ہے۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
نوبل انعام یافتہ ایشیائی شخصیات کی فہرست
نوبل انعام ایک سالانہ بین الاقوامی انعام ہے جو 1901ء میں پہلی بار طبیعیات، کیمیا، فعلیات یا ادویات، ادب اور امن کے متعلق کارکردگیوں پر نوازا گیا۔ معاشیات میں ایک متعلقہ انعام 1969 سے دیا جاتا رہا ہے۔ نوبل انعام آٹھ سو سے زائد لوگوں کو دیا جا چکا ہے۔
سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء – وفات: 29 جون 2026ء) ایک بھارتی عالمِ دین، مفکر اور مصنف تھے۔ بھارت کی مشہور دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلما کے عظیم سپوت اور کئی دہائیوں تک وہاں کے اعلی استاذ رہے۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن اور لکھنؤ میں واقع جامعہ امام احمد بن عرفان شہید کے صدر تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی حدیثِ نبوی کی خدمت، شرعی تعلیم اور علمی و دعوتی اداروں کی تعمیر و تاسیس میں وقف کر دی۔
Sheraniمیانی قبیلہ میانی پشتون قبائل کی ایک شاخ ہے جن کی اکثریت ٹانک کے مغربی علاقہ گومل میں آباد ہے۔ میانی ایک پشتون قبیلہ ہیں اس قبیلے کو 2014ء میں حکومت پاکستان نے الگ قبیلہ تسلیم کیا جو اس سے پہلے شیرانی قبیلے کہ ایک شاخ سمجھا جاتا تھا یہ لوگ کپڑے کی کاروبار زیادہ کرتے ہیں جس کے مثال ڈیرہ اسماعیل خان میں کپڑے کی پرانی اور مشہور گومل مارکیٹ ہیں جس میں اکثر دوکانیں میانی قبائل کی ہیں ٹانک سے 35 کلومیٹر مغرب میں مرتضٰی گرداوں میں میانی قبائل کی اکثریت ہیں یہاں ڈیرہ اسماعیل خان میں کوکار سٹی میں بھی اکثریت میانی قبائل کی ہیں میانی قبائل افغانستان میں بھی ہیں لیکن زیادہ پاکستان میں واقع ہیں میانی قبائل کی شاخیں میرگل خیل فیروزخیل ابراھیم خیل خواجر خیل پتاس خیل سلیم زی لدرزی شیرخیل نوروزی حسن خیل شاھوزی خیرلسی سینزی اور کلاخیل میانی قبائل کا مشہور شخصیت حاجی عبدلعزیز جو 2019 2 3 میں وفات پاگئے ایک مخلص اور نڈر مشرانو میں تھا
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
یزید کے دربار میں زینب بنت علی کا خطبہ
واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ قیدی بنا کر کئی شہروں سے گزار کردمشق لے جائی گئیں۔ انھوں اس سفر اسیری میں کئی خطبے دیے ان میں سے ایک خطبہ یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا۔ ان کے دیگر فصاحت و بلاغت سے بھرپور خطبات کی طرح ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس نے یزید کے دربار پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔ یزید کی محفل میں جب بی بی زینب (سلام اللہ علیہا) کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انھوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ”اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!“ پھر یہ معروف خطبہ دیا جس نے دشمن حسین کے مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔ راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔“ یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: ”اے یزید!
سِل (س پر زیر) یا تپ دق جس کو عام طور پر ٹی بی کہا جاتا ہے ایک وبائی بیماری ہے جو ایک جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس کا درست علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری اپنی ہلاکت خیزی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی اور اندازہ ہے کہ ہر سال اس کی وجہ سے سترہ سے بیس لاکھـ (بعض اعدادوشمار کے مطابق اس سے بھی زیادہ) افراد کی ہلاکت ہو جاتی ہے جن میں سے اکثر کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہوتا ہے۔ طبی الفاظ میں سِل کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ مرض سل یا عرفِ عام میں TB ایک عدوی مرض ہے جو ایک بیکٹیریا متفطرہ سل (Mycobacterium tuberculosis) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور گو کہ جسم کے کسی بھی حصے پر اثرانداز ہو سکتی ہے مگر عام طور پر پھیپڑوں میں نمودار ہوتی ہے۔ متفطرہ سل ایک غیر تخم پرور (non-spore forming)، غیر متحرک اور حیوائی (aerobic) بیکٹیریا ہے جس کا غلاف مومی ہوتا ہے جو صامد للحمض (acid fast) رنگداری پر سرخ ہوجاتا ہے۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
جاوی گینڈا ( گینڈا سونڈیکس )، جاوین گینڈا یا سنڈا گینڈا گینڈوں کے خاندان کی ایک انتہائی خطرے سے دوچار قسم ہے۔ یہ سطحی طور پر ہندوستانی گینڈوں سے ملتے جلتے ہیں۔ تاہم، افریقہ کے کالے یا سفید گینڈے کے لمبے اور ممکنہ طور پر مہلک سینگوں کے برعکس، جاون نسل کا سنگل، کسی حد تک کند سینگ (صرف نر پر موجود) عام طور پر 25 سینٹی میٹر (0.82 فٹ) سے چھوٹا ہوتا ہے۔
اووسائٹس کریو پریزرویشن عورت کے انڈوں کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ یہ تکنیک حمل کو ملتوی کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ جب حمل کی خواہش ہو تو انڈوں کو پگھلا کر فرٹیلائز کیا جا سکتا ہے اور جنین کے طور پر بچہ دانی میں منتقل کیا جا سکتا ہیں۔ متعدد مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بانجھ پن کے زیادہ تر مسائل عمر بڑھنے سے متعلق جراثیم کے خلیوں کی خرابی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ طریقہ کار کی کامیابی کی شرح عورت کی عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے جس میں کم عمر، بالغ خواتین میں مشکلات زیادہ ہوتی ہیں۔
اِباضیہ یا اہل الحق یا اہل الدعوہ یا اہل الاستقامہ ایک اسلامی فرقہ ہے جس کا نام عبد الله بن اباض تمیمی کے نام پر رکھا گیا جو اباضیہ کے معروف داعیوں میں سے تھے۔ جبکہ اباضیوں کے نزدیک اس فرقے کے حقیقی بانی تابعی جابر بن زيد ہیں۔ اباضیہ کی نمایاں موجودگی سلطنتِ عمان میں ہے جہاں بعض اندازوں کے مطابق وہ آبادی کا تقریباً 70٪ حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جبل نفوسہ اور زوارہ (لیبیا)، وادی میزاب (الجزائر)، جربہ (تیونس)، نیز شمالی افریقا اور زنجبار کے بعض علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مخالفین کے نزدیک اباضیہ کا تعلق خوارج سے ملتا جلتا ہے اور وہ انھیں خوارج کا ایک معتدل گروہ قرار دیتے ہیں، جبکہ اباضیوں کے نزدیک ان کا خوارج سے کوئی نسبتی تعلق نہیں۔ اباضی خود کو اہل الحق والاستقامہ کہتے ہیں۔ ابتدائی ادوار میں انھوں نے ”اباضیہ“ کی اصطلاح استعمال نہیں کی بلکہ اپنے لیے ”جماعت المسلمين“، ”اہل الدعوہ“ اور ”اہل الحق و الاستقامہ“ جیسے نام اختیار کیے۔ ”اباضیہ“ کا لقب پہلی مرتبہ تیسری صدی ہجری کے اواخر میں ظاہر ہوا جب اہلِ سنت نے یہ نام ان کے لیے استعمال کیا جسے بعد میں انھوں نے بطور امرِ واقعہ قبول کر لیا۔
ڈیلی موشن ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ہے جہاں پر صارفین اپنی بنائی ہوئی ویڈیوز دوسروں کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ مشہور زمانہ یوٹیوب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بنائی گئی۔ اس کا آغاز 2006 میں ہوا۔ اس کی ترویج میں خود فرانسیسی حکومت نے حصہ ڈالا تھا اور آج یہ مقبولیت میں یوٹیوب کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس وقت اس ویب گاہ کو دیکھنے والوں کی تعدار 3 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
گوریلا جنگ یا گوریلا محاربہ یا چھاپہ مار جنگ (عربی: حرب العصابات ،فارسی: چریک، انگریزی: Guerrilla warfare) ایسی جنگ ہے جو عموماً ایک چھوٹی مگر متحرک طاقت کسی بڑی مگر کم متحرک روایتی طاقت یا فوج کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ اردو میں گوریلا جنگ ہی کیا جاتا ہے مگر اس جنگ کا گوریلوں سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ ہسپانوی زبان کے لفظ Guerrilla سے نکلا ہے جس کا ترجمہ چھاپہ مار ہے۔
اسلام اور عصر حاضر وحید الدین خان کی ایک اہم علمی اور فکری تصنیف ہے جو جدید دور میں اسلام کی معنویت، سائنسی ترقی اور مذہبی تشریحات کے درمیان توازن کو موضوع بناتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان فکری چیلنجوں کا جواب دیتی ہے جو جدیدیت، الحاد اور سائنسی انکشافات کے نتیجے میں روایتی مذہبی فکر کو درپیش ہیں۔ وحید الدین خان نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام ایک ابدی مذہب ہے جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
رابرٹ ولیم بارکر (12 دسمبر 1923-26 اگست 2023ء) ایک امریکی میڈیا شخصیت، گیم شو کے میزبان اور جانوروں کے حقوق کے وکیل تھے۔ انھوں نے 1972ء سے 2007ء تک شمالی امریکا کے ٹیلی ویژن کی تاریخ میں سب سے طویل چلنے والے گیم شو سی بی ایس کے دی پرائس از رائٹ کی میزبانی کی۔ بارکر نے 1956 ءسے 1975ء تک سچائی یا نتائج کی میزبانی بھی کی۔
ام المومنین جویریہ بنت حارث (پیدائش: 608ء –و فات: جنوری/فروری 676ء) کا اصل نام برہ تھا۔ غزوہ مریسیع (جسے غزوہ نبی مصطلق بھی کہتے ہیں جو شعبان 6ھ (دسمبر 627ء) میں ہوا) میں قید ہوکر آئیں، ثابت ابن قیس کے حصہ میں آئیں انھیں نے آپ کو مکاتبہ کر دیا حضور انور نے آپ کا مال کتابت ادا کر دیا اور آپ سے نکاح کر لیا،آپ کی وفات ربیع الاول 56 ہجری میں ہوئی، 65 سال عمر پائی۔
بنی عابدی (پیدائش 1971) ایک پاکستانی فنکارہ ہے جو ویڈیو ، فوٹو گرافی اور ڈرائنگ کرتی ہیں ۔ انھوں نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس اور شکاگو کے اسکول آف دی آرٹ انسٹی ٹیوٹ میں بصری فنون کی تعلیم حاصل کی۔ 2011 میں ، انھیں برلن کے ڈی اے اے ڈی فنکاروں کے لیے مدعو کیا گیا تھا اور تب سے وہ برلن میں مقیم ہیں۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
عام نظریہ یہ ہے کہ اسلامی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین بیٹے تھے جن کا نام عبد اللہ، ابراہیم اور قاسم تھا اور چار بیٹیاں جن کا نام فاطمہ زہرا ، رقیہ ، ام کلثوم اور زینب تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پہلی بیوی خدیجہ بنت خویلد سے پیدا ہوئے تھے، سوائے ان کے بیٹے ابراہیم کے، جو ماریہ القبطیہ سے پیدا ہوئے تھے۔ محمد کے بیٹے میں سے کوئی بھی بالغ نہیں ہوا، لیکن ان کا ایک بالغ رضاعی بیٹا، زید بن حارثہ تھا۔ ان کی تمام بیٹیاں جوانی کو پہنچیں۔ کچھ شیعہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فاطمہ بنت محمد ان کی اکلوتی حیاتیاتی بیٹی تھیں۔
گورنر کوفہ، پورا نام عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ جسے ابن مرجانہ یا ابن زیاد کے نام سے پہچانا جاتا ہے (28 ہجری - 67 ہجری) بنو امیہ کا ایک مشہور فوجی کمانڈر تھا اور امام حسین بن علی رضی اللہ تعالی علیہ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے اہم عوامل میں سے ایک تھا۔ وہ مرجانہ نامی لونڈی سے پیدا ہوا۔ بعض نے طنزیہ انداز میں ابن زیاد کو اس کی والدہ سے منسوب کیا ہے اور اسے "ابن مرجانہ" کہا جانے لگا، جس سے مراد عبید اللہ کی پیدائشی ناپاکی ہے۔ مسلم بن عقیل نے کوفے میں امام حسین رضی اللہ تعالی علیہ کے حق میں زمین ہموار کرنا شروع کی تو یزید بن معاویہ نے ابن زیاد کو بصرے سے تبدیل کرکے کوفے کا گورنر مقرر کر دیا۔
میر چاکر خان رند، میر شاہک خان رند کے بیٹے ہیں۔ میر چاکر خان رند یا چاکر اعظم صرف ایک نام یا ایک شخصیت نہیں بلکہ بلوچوں کی تہذیب و ثقافت، تاریخ و تمدن، معیشت و معاشرت، اخلاق و عادات، بہادری و جوانمردی، جوش و جذبہ، گفتار و کردار، ایثار و قربانی، ایفائے عہد اور انتقام کا نام ہے۔ سردار میر چاکر رند خود بھی بہادر تھے اور بہادر دوستوں ہی کی نہیں بلکہ دشمنوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بقول میر چاکر "بہادروں کا انتقام بھی مجھے پیارا ہے جو میرے اونچے قلعوں پر حملہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں" میر چاکر خان مکران کے قیام کے دوران میں اپنی ابھرتی جوانی میں ہی قوم میں مقبول ہو گئے تھے۔ قلات پر حملے کے دوران میں بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ میر شہک کے انتقال کے بعد پورے رند علاقوں کا حکمران انکا بیٹا میر چاکر تھا اور رندوں کی تاریخ کا سنہری دور تھا لیکن اس دور کا اختتام اتنا تاریک اور عبرت انگیز ہے کہ میر چاکر کے آخری دور میں نہ صرف رند بلکہ پوری بلوچ قوم اس طرح منتشر ہوئی کہ آج تک دوبارہ اکھٹی نہ ہو سکی میر چاکر کا دور بلوچوں کا عروج اور خوش حالی کا دور تھا اور آج بھی بلوچ قوم کا اجتماعی طور پر ہیرو میر چاکر رند ہے۔ بلوچ آج بھی میر چاکر کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں بقول میر چاکر "مرد کا قول اس کے سر کے ساتھ بندھا ہے" اور میرچاکر اپنے قول کا دھنی تھا اپنے قول کے مطابق ایک مالدار عورت "گوھر" کو امان دی اور اس کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا دی اور اپنے ہی بھائیوں لاشاریوں سے جنگ کی جو تیس سالہ کشت و خون میں بدل گئی اور یہی جنگ کئی نامور رند اور لاشاریوں کو خاک و خون میں نہلا گئی جن میں میر چاکر کے دو نوجوان بھائیوں کے علاوہ میرھان، ھمل، جاڑو، چناور، ھلیر، سپر، جیند، بیبگر، پیرو شاہ اور دیگر سینکڑوں بہادر بلوچ شامل تھے بلوچوں کی معاشرتی زندگی میں وعدہ خلافی کے علاوہ جھوٹ بولنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بقول چاکر خان رند کے "سچ بولنا بلوچوں کا شیوہ ہے اور جھوٹ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے" بلوچ معاشرے میں جو کوئی جھوٹ بولے اور وعدہ خلافی کرے تو ان کے معاشرے میں کوئی مقام و عزت نہیں ہوتی اور ان کی نظر میں وہ شخص زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے اور رندوں کی ایک کہاوت ہے کہ"مرے ہوئے رند کو کوئی راستہ نہیں ملتا دونوں طرف سے ان کی زندگی اسیر ہے" بلوچ لوگ عورتوں اور بچوں پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتے، مہمان اور مہمان نوازی بلوچ معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہے اور مہمانوں کو خدا کا نعمت سمجھتے ہیں سردار چاکر خان رند کی تاریخ پیدائش کا مختلف روایات ہیں ان میں سب سے زیادہ معتبر 1468ء اور قلات کو 1486ءفتح کیا کہ در آن وقت سردار چاکر کی عمر صرف 16 سال تھی اور سال 1488ء میں سبھی پر قبضہ کیا اور اسی سال میر شہک وفات پا گئے اور رند اور لاشار کی تیس سالہ جنگ کا آغاز سال 1489ءمیں شروع ہوا جس سے بلوچ قبائل انتشار کا شکار ھونے لگے اور پھر تمام بلوچ قبائل کا جرگہ بلایا گیا جس میں متفقہ سرداری کا طرہ جتوئ قبیلے کو ملا اور بلوچ قبائل کے نائب امیر عظیم جنگجو(فاتح ہندوستان) اور جتوئ قبیلے کے سردار میر بجار خان میروانی نواب آف قلات مقرر ھوئے تاہم رند اور لاشار کی جنگ بندی تو ھو گئی مگر ان کی صلح نہ ہو سکی 1519ء کے آخر میں ایک بار پھر تمام بلوچ قبائل کا جرگہ بلایا گیا جس کا مقصد صلح نا کرنے والے قبیلے کے خلاف اعلان جنگ کرنا تھا تاہم میر چاکر خان نے بغیر کسی قصاص لینے کے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے لاشار قبیلے کے ساتھ دشمنی ختم کر دی اور اس بڑی اور نا ختم ہونے والی جنگ کا 1519ءمیں اختتام ہوا ۔ 1520ء میں میر چاکر خان اپنے بھانجے اور داماد میر بجار خان کے بڑے بیٹے میر نوتک خان کے ساتھ ملتان کو روانہ ہوئے اور میر بجار خان کی ملکیتی ہندوستان کی بڑی کاروباری بندرگاہ میروانہ کی سرپرستی اپنے نواسے میر لوہار خان کو دی اور اس کے اطراف کی ساری جاگیر میر نوتک خان کے حوالے کر دی اور 1523ء میں مستقل طور پر موجودہ پاکستان کے ضلع اوکاڑہ کے ایک قصبہ ستگھرہ میں قیام کیا اور 1555ءمیں میر بجار خان جتوئی کی سرپرستی میں ہمایوں کے ساتھ دہلی پر حملہ آور ہوئے اور شیر شاہ سوری کے جانشینوں کو شکست دے کر دہلی فتح کیا۔ 1565ءمیں یہ عظیم قائد اس دنیاے فانی کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے اور بمقام ستگھرہ میں دفن ہوئے۔ جہاں ان کی قبر آج بھی موجود ہے۔
گوہر نواز خان خیبر پختونخوا کے ایک سیاست دان ہیں، جو لگاتار دو مرتبہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے رکن رہے ہیں۔ ان کا تعلق ہری پور سے ہے، ان کے بھائی اختر نواز خان خیبر پختونخوا کے وزیر تھے جنھیں شہید کر دیا گیا۔ گوہر نواز خان، ان کے بھائی اختر نواز خان، بھتیجے بابر نواز خان ہری پور کے عوام میں اپنی گہری اور مضبوط جڑیں رکھتے ہیں۔ ان کا خاندان بغیر کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ کے جیت کر عوامی خدمت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ گوہر نواز خان اگر چہ 2018 کا انتخاب ہار گئے لیکن انھوں نے عوام سے اپنا رابطہ ختم نہیں کیا وہ پر امید ہیں کہ موجودہ حکومت اور ایم پی اے عوامی حمایت نا رکھنے کی وجہ سے آئندہ دور بھی پھر عوام کے اپنے خادموں کا ہے۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
مختار نامہ، پاور آف اٹارنی یا لیٹر آف اٹارنی (انگریزی: Power of attorney) ایک تحریری دستاویز ہے جس میں ایک شخص دوسرے شخص کو کسی نجی کام، کاروبار یا کسی قانونی کام کے لیے اپنی نمائندگی کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ نمائندہ بنانے والا شخص مختار کنندہ اور جسے یہ قانونی اختیار دیا جاتا ہے وہ مختار کہلاتا ہے۔ اختیار دینے والا اپنے مختار کے فوجداری جرم کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ نیز اگر مختار نامہ میں دیے گئے امور کو انجام دیتے ہوئے کسی تیسرے فریق کو نقصان ہو جائے تو اس مختار کنندہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ مختار نامے کی دو قسمیں ہوتی ہیں، مختار نامہ عام اور مختار نامہ خاص۔
قتل اور خانہ جنگی کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے ارشادات
قتل اور خانہ جنگی کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے ارشادات پاکستانی دیوبندی عالم محمد تقی عثمانی کے ایک کتاب۔ یہ رسالہ قتل اور خانہ جنگی کے بارے میں محمد بن عبد اللہ کے ارشادات پر مبنی ہے ۔ اس میں انسانی جان کی حرمت کے بارے میں قرآن کریم کے ارشادات نقل کرنے کے بعد انسانی جان کی حرمت سے متعلق چالیس احادیث بیان کی گئی ہیں ، بعد ازاں ظالم اور بد کار حکمرانوں کی صورت میں مسلمانوں کے طرز عمل کے حوالے سے احادیث اور مسلمانوں کی خانہ جنگی کی صورت میں قرآن و سنت کے احکامات ذکر کیے گئے ہیں ۔ کتاب کے ٨٨ صفحات ہیں اور مکتبہ معارف القرآن کراچی سے ١٤٣٠ھ میں شائع ہوئی ہے ۔ مولانا شاکر جاخرہ نے " The Sanctity of Human Life in the Quran and Sunnah " کے عنوان سے ٧٨ صفحات پر مبنی انگریزی زبان میں اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے ۔ یہ ٢٠١٠ ء میں مکتبہ معارف القرآن کراچی کی طرف سے شائع ہوا ۔
بعث نبوی چالیس برس کی عمر کو پہنچنے اور منصبِ رسالت عطا کیے جانے سے پہلے ہی محمد ﷺ، جو اسلام کے رسول اور نبی ہیں، جسمانی، فکری اور اخلاقی کمال کی مثال سمجھے جاتے تھے، جیسا کہ مكسيم رودنسون نے اپنی کتاب محمد میں ذکر کیا ہے۔ آپ کے عمدہ اخلاق نے آپ کو سب کے نزدیک معزز بنا دیا تھا۔ اسی طرح آپ بت پرستی اور ان مشرکانہ رسوم سے بیزار تھے جن کا مکہ اس خطے میں ایک بڑا مرکز تھا۔ . دعوتِ محمدی کے آغاز ہی سے آپ کی زوجہ خدیجہ آپ کی پشت پناہی کرتی رہیں۔ ابتدا میں دعوت اپنے اہلِ خانہ اور قریبی ساتھیوں کو اس نئے دین کی طرف بلانے سے شروع ہوئی، جو سابقہ آسمانی تعلیمات کی تکمیل اور تتمہ تھا۔ بعض لوگوں نے اس دعوت کو قبول کر کے محمد ﷺ کی تائید کی، جبکہ دوسرے اس سے اعراض کرتے رہے۔.
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
سرال، چکوال (انگریزی: Saral, Chakwal) پاکستان کا ایک آباد مقام جو ضلع چکوال میں واقع ہے۔سرال ( ضلع چکوال یونین کونسل نمبر -3ہے)۔قصبہ سرال چکوال شہر کے شمال میں تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سرال کے مغرب میں ڈھوک ککا، ڈھوک الفو، ڈھوک ڈومنیاں، ڈھوک ودھری، ڈھوک جوراں اور مولے شمال میں جیٹھل، سرکال کسر، ڈھوک خانزادہ مشرق میں فم کسر، پڑھال، ترکوال اور ڈھڈیال جبکہ جنوب میں کوٹھہ بافندہ، فرید کسر، ندرال، ڈھوک پنچھیاں والی، ڈھوک ڈھبہ اور ہرڑ واقع ہیں۔
اوتار (Avatar) کے معنی خدا کی جانب سے اتارا ہوا ہے، مگر ہندو مت میں عموماً اوتاروں کو خدا (بھگوان) سے علاحدہ بشر نہیں بلکہ خود خدا ہی کا روپ قرار دیا جاتاہے، یعنی بھگوان خود کسی شکل میں وارد ہوتا ہے۔یعنی ہندو اسطورہ میں کسی دیوتا کا انسانی روپ میں زمین پر آنا۔ عمومی مفہوم میں اس سے مراد ایسا شخص لیا جاتا ہے، جسے مجسم الہ مانا جاتا ہو ۔