اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
بلیو بیئرڈز سکس وائیوز (انگریزی: Bluebeard's Six Wives) 1950ء میں منظر عام پر آنے والی ایک مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری کارلو لڈوویکو بریگاگلیا نے کی۔ اس فلم میں Carlo Ninchi، Mario Castellani، Tino Buazzelli، آیزا بارزیزا اور ٹوٹو نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Pippo Barzizza نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (20ق.ھ / 36ھ) کی کنیت عبد اللہ ہے آپ کا مکمل نام ”حذیفہ بن حسل بن جابر“ ہے، ان کے والد کا اصل نام ”حسل“ تھا لیکن وہ ”یمان“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔اس لقب پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان کے والد ”حسل“ انصار کے ایک قبیلہ ”بنو اشہل“ کے حلیف بنے اور وہ قبیلہ چونکہ ملکِ یمن میں رہتا تھا ، لہٰذا اسی کی طرف نسبت کرتے ہوئے انھیں”یمان“ کا لقب دیا گیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد اور والدہ دونوں صحابہ میں سے تھے۔ ان کے والد ”یمان“ کی شہادت غزوہ احد میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئی۔ وہ اس طرح کہ حضرت حذیفہ اور ان کے والد دونوں غزوہ احد میں شریک تھے اور مشرکینِ مکہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور اس زمانے مین چونکہ خود وغیرہ پہن کر لڑتے تھے؛ اس لیے حضرت حذیفہ کے والد حضرت یمان کو صحابہ پہچان نہ سکے اور ان پر حملہ کر دیا،حضرت حذیفہ نے جب یہ دیکھا تو انھیں روکنے لگے؛لیکن تب تک ان کے والد حضرت یمان شہید ہو چکے تھے۔حضرت حذیفہ اور ان کے والد غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہے تھے کہ راستے میں کفار نے انھیں روک لیا اور پوچھا کہ کیا تم محمد (ﷺ) کے پاس جانا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم ان کے پاس نہیں؛ بلکہ صرف مدینے میں جانا چاہتے ہیں، تو کفار نے ان سے اللہ کا نام لے کر عہد و پیماں لیا کہ وہ مدینے جائیں اور حضور ﷺ کے ساتھ ہوکر نہیں لڑیں گے،پھر جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”انصرفا، نفي لہم بعہدہم، ونستعین اللّٰہ علیہم“ تم مدینے چلے جاؤ! ہم ان کا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالی سے مدد چاہیں گے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھیں اپنے جذبات پر مکمل قابو اور کنٹرول تھا، کیسے بھی تکلیف دہ حالات ہوں؛ لیکن حضرت حذیفہ کبھی اپنے جوش وجذبے کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہوئے، جیساکہ درج ذیل دو واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ ان کے والد یمان کو ان کے سامنے شہید کیا گیا؛ لیکن ان کے منہ سے صرف اتنا نکلا:یغفر اللّٰہ لکم“ اللہ تعالی تمھیں بخشے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میں وہ تمام صفات موجود تھیں جوکسی کو رازدار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں اور ان میں بالخصوص اپنے جوش وجذبات پر کنٹرول اور قابو رکھنا ہے؛ چنانچہ انھیں خدادا صلاحیتوں کی بنا پر حضور ﷺ نے انھیں اپنے رازدار بنانے کا شرف بخشا اور فتنوں سے متعلق اور منافقین کے ناموں اور ان کے احوال سے متعلق پوری تفصیل سے حضرت حذیفہ بن یمان کو آگاہ کیا۔حضور ﷺ کے اس رازدار صحابی کا انتقال محرم الحرام، 36ھ میں مدائن میں وفات پائی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد بار بار عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوچھا کرتے تھے، اے حذیفہ!
محمد کا ذکر بڑے مذاہب کی کتابوں میں
پیغمبر اسلام محمد ﷺ بن عبد اللہ تاریخ انسانیت کی وہ واحد ہستی ہیں۔ جن کا ذکر دنیا کی تمام بڑے مذاہب کی کتابوں میں کیا گیا ہے۔ آپ کا ذکر یہودیت، مسیحیت، ہندو مت، بدھ مت اور زرتشتیت (پارسی مت) وغیرہ کی مقدس کتابوں میں کیا گیا ہیں۔ ( لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ الله) ہندوؤں کی کتاب وید کا منتر جسے ان کہی کامنتر کہتے ہیں اس کا مطلب چھپایا گیا کسی سے کہا نہیں جا سکتا۔سقراط کے عالم جب ہندوؤں کی جان نہیں نکلتی اس ٹائم ہندوؤں کے مہا برہمن کو بلا یا جاتااور مرنے والے کے کان میں پڑھا جاتا ہے 1.لاالہ ہرنی پاپم 2.الل امباپرم پدم 3.
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
انجائنا ، دل کے پٹھوں میں خون کے ناکافی بہاؤ کی وجہ سے سینے میں درد ، دباؤ یاجکڑن ہے۔ یہ تکلیف جبڑے یا بازو تک پھیل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سانس کی قلت، پسینہ آنا یا متلی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ علامات صرف ورزش یا تناؤ کے ساتھ ہوتی ہیں اور آرام کے چند منٹوں میں ٹھیک ہوجاتی ہیں تو یہ مستحکم انجائنا ہے۔ اگر یہ غیر متوقع طور آرام کے وقت ہوتا ہے یا آرام کے ساتھ تیزی سے ٹھیک نہیں ہوتا ہے تو یہ غیر مستحکم انجائنا ہے۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
حضرت عائشہ کے بارے میں شیعہ نقطہ نظر
حضرت عائشہ کے بارے میں شیعہ نقطہ نظر (انگریزی: Shia view of Aisha) عمومًا ناموافق ہے۔ ام المؤمنین کا جنگ جمل میں نمایاں کردار نبھانا شیعہ ناپسندیدگی کا اصل سب سمجھا جاتا ہے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔
بی بی وی اے ارجنٹینا (انگریزی: BBVA Argentina) ریاستہائے متحدہ امریکا اور ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں واقع ایک مالیاتی خدمات ہے۔ اس کا قیام سنہ 1886ء میں عمل میں آیا۔ یہ کمپنی اصلاً Banco Bilbao Vizcaya Argentaria کی ذیلی کمپنی ہے۔ یہ ایک عوامی سطح پر تجارت کرنے والی کمپنی ہے اور اس کے حصص نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر مندرج ہیں۔ بينک اس کی ایک قابل ذکر اور نمایاں پیداوار ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
اسد رؤف (پیدائش: 12 مئی 1956ء) | (انتقال: 15 ستمبر 2022ء) ایک سابق پاکستانی کرکٹ کھلاڑی اور کرکٹ امپائر تھے۔ جو اب تک کے عظیم ترین امپائروں میں سے ایک تھے۔ وہ 2006ء سے 2013ء تک آئی سی سی ایلیٹ امپائر پینل کے رکن تھے اور ان پر الزام ہے کہ وہ میچ فکسنگ اور کرکٹ میچوں کی سپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔ فروری 2016ء میں، رؤف کو بی سی سی آئی نے بدعنوانی کا قصوروار پا کر ان پر پابندی عائد کر دی گئی۔
ون یونٹ وہ منصوبہ تھا جسے پاکستان کی وفاقی حکومت نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں و علاقوں کے انضمام کے لیے شروع کیا تھا۔ جس کے تحت مملکت پاکستان کے مغربی حصے کے تمام صوبوں کو یکجا کر کے ایک اکائی کی صورت دی گئی جبکہ اس کا دوسرا حصہ مشرقی پاکستان کی صورت میں موجود تھا۔ اس طرح پاکستان محض دو صوبوں پر مشتمل ایک ریاست بن گیا۔
ظہیر الدین بابر اعوان ( ; پیدائش 27 جنوری 1958؛ SI ) ایک پاکستانی سیاست دان، سینئر وکیل، مصنف، تجزیہ کار، کالم نگار اور بائیں بازو کے مصنف ہیں جنھوں نے اپریل 2020 سے 10 اپریل 2022 تک وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس سے قبل وفاقی وزیر قانون کی حیثیت سے کابینہ میں خدمات انجام دیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ۔ انھوں نے 2012 سے 2017 تک صوبہ پنجاب کے جونیئر پاکستانی سینیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
برصغیر پاک و ہند میں مسلم حکمرانی کا آغاز ، برصغیر پاک و ہند میں بتدریج مسلمان فتح کے دوران ہوا ، جس کا آغاز بنیادی طور پر فتح محمد بن قاسم کی زیرقیادت فتح سندھ اور ملتان کے بعد ہوا تھا۔ پنجاب میں غزنویوں کی حکمرانی کے بعد ، غور میں سلطان محمد کو عام طور پر ہندوستان میں مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ 12 ویں صدی کے آخر سے ، ترکو-منگول مسلم سلطنتوں نے دہلی سلطنت اور مغل سلطنت سمیت پورے برصغیر میں اپنے آپ کو قائم کرنا شروع کیا ، جس نے مقامی ثقافت کو اپنایا اور مقامی لوگوں کے ساتھ شادی کرلی۔ متعدد دوسری مسلم مملکتیں ، جنھوں نے 14 ویں وسط سے 18 ویں صدی کے آخر میں جنوبی ایشیاء کے بیشتر علاقوں پر حکمرانی کی ، جن میں بہمنی سلطنت ، دکن سلطنت اور گجرات سلطنت شامل تھے۔ شریعت کو دہلی سلطنت میں قانونی نظام کی بنیادی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا ، خاص طور پر فیروز شاہ تغلق اور علاؤالدین خلجی کی حکومت کے دوران ، جنھوں نے ہندوستان پر منگولوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔ جب کہ اکبر جیسے حکمرانوں نے سیکولر قانونی نظام اپنایا اور مذہبی غیر جانبداری کو نافذ کیا۔ ہندوستان میں مسلم حکمرانی نے برصغیر کے ثقافتی ، لسانی اور مذہبی ساخت میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی۔ فارسی اور عربی الفاظ مقامی زبانوں میں داخل ہونا شروع ہوئے ، جس نے جدید پنجابی ، بنگالی اور گجراتی کو راستہ فراہم کیا ، جبکہ اردو اور ڈکانی سمیت نئی زبانیں تخلیق کیں ، جسے مسلم خاندانوں اور ہندی کے تحت سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دور میں ہندوستانی موسیقی ، قوالی کی پیدائش اور کتھک جیسے رقصی شکلوں کی مزید ترقی بھی دیکھی گئی۔ سکھ مذہب اور دین الٰہی جیسے مذہب ہندو اور مسلم مذہبی روایات کے بھی پیدا ہوئے تھے۔ مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے دور میں اسلامی حکمرانی کی بلندی کو نشان زد کیا گیا تھا ، اس دوران فتاوی عالمگری مرتب کیا گیا تھا ، جس نے مختصر طور پر مغل ہندوستان کے قانونی نظام کے طور پر کام کیا تھا۔ میسور بادشاہ ٹیپو سلطان کے ذریعہ جنوبی ہندوستان میں اضافی اسلامی پالیسیاں دوبارہ متعارف کروائی گئیں۔ جدید بھارت کی مسلم حکومت کے مدت کا ممکنہ اختتام بنیادی طور پر برطانوی حکومت کا آغاز قرار دیا جاتا ہے ، تاہم ریاست حیدرآباد ، جوناگڑھ ریاست ، جموں و کشمیر ریاست اور دیگر چھوٹی ریاستوں میں 20ویں صدی کے وسط تک مقامی حکومت رہی.
دہلی سلطنت کے حکمرانوں کی فہرست
دہلی سلطنت، کا آغاز خاندان غلاماں سے ہوا اور اس کا خاتمہ لودھی خاندان پر ہوا۔ 1206ء میں سلطان قطب الدین ایبک، لاہور میں تخت نشیں ہوا اور اس طرح دہلی سلطنت کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔ دہلی سلطنت کے 320 سالہ دور حکومت میں پانچ خاندانوں نے حکومت کی۔ غوری سلطنت کی طرف سے جنوبی ایشیا کی فتح کے بعد ان خاندانوں نے دہلی سلطنت پر ترتیب وار حکومت کی جن میں خاندان غلاماں (1206ء-1290ء)، خلجی خاندان (1290ء-1320ء)، تغلق خاندان (1320ء-1414ء)، سید خاندان (1414ء-1451ء) اور لودھی خاندان (1451ء-1526ء)شامل ہیں۔ 21 اپریل1526ء کو ابراہیم لودھی کو ظہیر الدین بابر نے پہلی جنگ پانی پت میں شکست دے کر دہلی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور یہ سلطنت مغلیہ سلطنت میں ضم ہو گئی۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC، جسے جناح ہسپتال، کراچی بھی کہا جاتا ہے) کراچی ، سندھ ، پاکستان کے علاقے میں رفیقی شہید روڈ پر واقع ہے۔ 2015ء تک ، تقریباً 10 لاکھ مریض سالانہ اس ہسپتال سے علاج کرواتے ہیں۔ اس ہسپتال کو کراچی کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال سمجھا جاتا ہے۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
یہ چین کی قابل ذکر مساجد کی فہرست ہے۔ مسجد اسلام کے پیروکاروں کے لیے عبادت گاہ ہے۔ چین کی پہلی مسجد گوانگژو کی ہوئیشینگ مسجد ہے، جو 627 عیسوی میں تانگ خاندان کے دور میں تعمیر کی گئی۔ سال 2014ع میں چین میں 39,135 مساجد تھیں، سال 2009ع میں ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 25,000 شمال مغربی خود مختار علاقہ سنکیانگ میں تھیں، جن میں فی 500 مسلمانوں میں ایک مسجد کی کثافت تھی۔
صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے، اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔ اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے، اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔ ذہبی کہتے ہیں: «امام بخاری کی جامع الصحیح، کتاب اللہ کے بعد اسلام کی سب معتبر اور افضل کتاب ہے»۔</ref> اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔
مفتی محمد تقی عثمانی (پیدائش: 5 اکتوبر 1943ء) عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ ان کا شمار عالم اسلام کی مشہور علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ کے حالیہ صدر، بین الاقوامی اسلامی فقہ اکادمی، جدہ کے نائب صدر اور دارالعلوم کراچی کے صدر ہیں۔ اس کے علاوہ آپ آٹھ اسلامی بینکوں میں بحیثیت شرعی مشیر کام کر رہے ہیں اور البلاغ جریدے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
محمد اصغر افغان (پیدائش: 22 فروری 1987ء، کابل)، ایک افغانی کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ جو افغانستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان تھے۔ انھوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 14 جون، 2018ء کو بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف کیا۔ محمد اصغر افغان کو (سابقہ محمد اصغر ستانکزئی) اور اصغر سلام خیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اصغر دائیں ہاتھ کے بلے باز اور درمیانے درجے کے تیز گیند باز ہیں۔ مئی 2018ء میں، انھیں بھارت کے خلاف کھیلے گئے اپنے افتتاحی ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کا کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ اس نے 14 جون 2018ء کو، بھارت کے خلاف، افغانستان کے لیے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ 2 اگست 2018ء کو، اس نے اپنا آخری نام تبدیل کرکے افغان رکھ لیا۔ ان کے ایک چھوٹے بھائی کریم جنت نے بھی افغانستان کی طرف سے ایک روزہ میچوں میں شرکت کی ہے
امام محمد بن حسن شیبانی تبع تابعین میں سے ہیں۔ آپ امام شافعی رحمہ اللّٰہ کے استاد اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ کے شاگرد اور مشیر خاص تھے۔ امام ابو یوسف کے بعد آپ جید شاگرد تھے۔ استاد کے نظریات کو تدوین کرنے میں ان کی محنت بھی شامل تھی۔ فقہ حنفی کے اولین مرتب، جو امام محمد کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ نے 189ھ میں وفات پائی۔
دمشق میں علی ابن حسین زین العابدین کا خطبہ وہ خطبہ ہے جسے انھوں نے واقعہ عاشورا کے بعد دمشق میں یزید بن معاویہ کے دربار میں ارشاد فرمایا۔ زین العابدین اور اسیران کربلا کی موجودگی میں یزید کے حکم پر ایک خطیب نے منبر سے بنی امیہ کی مدح اور علی بن ابی طالب اور ان کے اہل بیت کی مذمت میں ایک تقریر کی۔ زین العابدین نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خطیب کے جواب میں علی بن ابی طالب کے فضائل بیان فرمائے۔ یہ خطبہ جس کے اکثر مطالب علی بن ابی طالب کی مدح اور فضیلت پر مشتمل ہیں شام میں وسیع اثرات کا حامل رہا اور یزید بن معاویہ کی ظاہری سیاست میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
دار الحدیث اشرفیہ حدیث شریف کی تعلیم کے لیے قائم کی گئی ایک درسگاہ ہے، جو دمشق شہر میں سوق عصرونیہ کے علاقے میں، قلعۂ صلاح الدین کے مشرقی دروازے کے قریب واقع ہے۔ یہ شہر کی علمی و تہذیبی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا میں حدیث کی تعلیم کے لیے بنائی جانے والی یہ دوسری عمارت تھی اور مؤرخین کے مطابق یہ دمشق میں علمِ حدیث کا سب سے پہلا مرکزی مقام تھی۔
وضو صفائی کے ایک عمل کا نام ہے جو مسلمانوں پر نماز یا قرآن کو چھونے سے پہلے واجب ہے۔ اس میں پانی کی مدد سے منہ ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اور مسح کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں وضو ،تیمم اور غسل کرنا۔ اس کا بنیادی مقصد جسمانی و روحانی پاکیزگی ہے۔ قرآن میں ایک آیت آیۂ وضو کے نام سے موجود ہے جس میں وضو کے طریقہ پر روشنی پڑتی ہے۔(سورة المائدہ آیت نمبر 7 )
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
لفظ نفس، کا اردو میں کوئی ایک متفقہ مفہوم بیان کرنا ایک اتنا ہی نازک اور مشکل کام ہے کہ جتنا اس کا کوئی انگریزی متبادل بیان کرنا۔ یہ لفظ اردو زبان میں نا صرف یہ کہ مذہبی دستاویزات میں متعدد معنوں میں آتا ہے بلکہ عام بول چال میں بھی اس کا استعمال متعدد مختلف مواقع پر کیا جاتا ہے۔ بعض ذرائع اسے روح سے متراف قرار دیتے ہیں۔ نفس سے ملتا ہوا مفہوم رکھنے والا ایک اور لفظ جو لفظ نفس کی طرح قرآن میں آتا ہے، وہ روح ہے جس کی انگریزی Spirit بھی کی جاتی ہے۔ علما کی ایک جماعت کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی لفظ ہیں جبکہ دیگر ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ بیان کرتے ہیں۔ اس دائرہ المعارف پر ان کو الگ الگ رکھنے کی کوئی فلسفیانہ یا مذہبی وجہ نہیں اور نہ اس کا مقصد کسی ایک مکتب فکر کی نمائندگی ہے بلکہ یہاں ان کو ان میں درج مواد کے لحاظ سے علاحدہ رکھا گیا ہے۔ ان دو الفاظ کے اس متبادل استعمال کی مثالیں قرآن کے مختلف انگریزی تراجم سے بھی ملتی ہیں مثلا؛ سورہ النساء آیت 171 میں روح کے لیے محمد اسد نے soul کا جبکہ یوسف علی نے spirit کا لفظ اختیار کیا ہے۔ پیچیدگی کا ایک اور مقام تب آتا ہے کہ جب اس لفظ نفس کی اصل الکلمہ سے بنے ایک عام لفظ تنفس پر غور کیا جائے جس کے معنی سانس لینے کے عمل کے آتے ہیں اور اسی وجہ سے نفس کو سانس بھی کہا جاتا ہے اور اس سانس (پھونک) کے تصور کے برعکس دوسری جانب قرآن کی سورت الحجر کی آیت29میں آتا ہے کہ ---- پھر جب پورا بنا چکوں میں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی روح تو گر جانا تم اس کے لیے سجدے میں۔ اور اس ابتدائیہ کے آخر میں ایک دلچسپ پہلو یہ کہ مذہبی (اور اسلامی دستاویزات) میں بھی نفس کو روح کے متضاد بھی تحریر کیا جاتا ہے اور نفیس بھی؛ یعنی نفسانی خواہشات کے مفہوم میں یہی نفس ہوتا ہے کہ جو انسانی وجود کو اللہ سے دور کرتا ہے جبکہ روح انسان کو اللہ کی جانب لے جانے کا تصور اپنے اندر رکھتی ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
گورنر کوفہ، پورا نام عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ جسے ابن مرجانہ یا ابن زیاد کے نام سے پہچانا جاتا ہے (28 ہجری - 67 ہجری) بنو امیہ کا ایک مشہور فوجی کمانڈر تھا اور امام حسین بن علی رضی اللہ تعالی علیہ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے اہم عوامل میں سے ایک تھا۔ وہ مرجانہ نامی لونڈی سے پیدا ہوا۔ بعض نے طنزیہ انداز میں ابن زیاد کو اس کی والدہ سے منسوب کیا ہے اور اسے "ابن مرجانہ" کہا جانے لگا، جس سے مراد عبید اللہ کی پیدائشی ناپاکی ہے۔ مسلم بن عقیل نے کوفے میں امام حسین رضی اللہ تعالی علیہ کے حق میں زمین ہموار کرنا شروع کی تو یزید بن معاویہ نے ابن زیاد کو بصرے سے تبدیل کرکے کوفے کا گورنر مقرر کر دیا۔
دوہا ہندی، اردو شاعری کی ممتاز اور مقبول صنف سخن ہے جو زمانہ قدیم سے تا حال اعتبار رکھتی ہے۔دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ اس کا آغاز ساتویں صدی اور آٹھویں صدی کا زمانہ بتایا جاتا ہے۔ دوہرا اور دو پد اس کے دوسرے نام ہیں۔ دوہے کے دونوں مصرعے مقفیٰ ہوتے ہیں۔ اپ بھرنش میں قافیہہ کا رواج دوہے سے شروع ہوا، ورنہ اس سے پہلے سنسکرت اور پراکرت میں قافیہہ نہیں تھا۔ دوہا، دو مصرعوں کی اپنی مختصر ترین ہیہت کی وجہہ سے انفرادی حیثیت کا حامل ہے ۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
پاکستان کے تعلیمی بورڈوں کی فہرست
پاکستان میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحانات کے انعقاد کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بورڈز اپنی تعلیمی پالیسی صوبائی وزارت تعلیم کی نگرانی میں مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان میں تعلیمی بورڈز کی یہ فہرست ان کے قیام کا سال، دائرہ اختیار (اضلاع) اور ویب سائٹس کو حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیتی ہے۔ تعلیمی بورڈ کی فہرست ملاحظہ فرمائیں۔ [1]آرکائیو شدہ بذریعہ ilmswap.com
دانشگاہ تربیت مدرس میٹرو اسٹیشن
دانشگاہ تربیت مدرس میٹرو اسٹیشن تہران میٹرو لائن 7 اور 6 کا ایک اسٹیشن ہے یہ چمران ایکسپریس وے اور جلال العلی احمد ایکسپریس وے کے چوراہے پر واقع ہے، اس کے نام تربیات مودارس یونیورسٹی کے قریب ہے۔
شینا زبان ایک ہند آریائی داردی زُبان ہے جو ہند آریائی لسانی گروہ کی شمال مشرقی ذیلی لسانی گروہ کی داردی لسانی شاخ سے تعلق رکھتی ہے۔ داردی لسانی گروہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ گروہ اپنے مرکز (وسط ایشیا) سے اُس وقت علاحدہ ہوا یا برصغیر کی طرف ہجرت کی جب ویدی اور اوستا بولنے والے ابھی کوئی مشترکہ زبان بول رہے تھے اور انھوں نے برصغیر کی طرف نقل مکانی شروع نہیں کی تھی۔ زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ شینا زبان اور دوسری داردی زبانوں والوں نے دو سے اڑھائی ہزار سال قبل مسیح کے دوران مختلف گروہوں میں وسط ایشیا سے برصغیر کی طرف ہجرت شروع کی۔
جنگ جمل یا جنگ بصرہ 13 جمادی الاولیٰ 36ھ (7 نومبر 656ء) کو بصرہ، عراق میں لڑی گئی۔ جنگ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی و داماد اور چوتھے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے درمیان میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مخالفین چاہتے تھے کہ حطرت عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لیں جو حال ہی میں احتجاج و بغاوت کے نتیجے میں عوام کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ ناگزیر جنگ کا اختتام حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی فتح اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شکست کے ساتھ ہوا، یوں پہلے فتنہ کا دوسرا باب شروع ہوا۔
افغانستان کا پرچم : (پشتو:د افغانستان بيرغ) افغانستان کا پرچم ہے جو صدیوں سے مختلف شکلیں اختیار کرتا رہا ہے پر جو موجودہ پرچم ہے وہ 2004 میں بناگیا ہے۔ یہ افغانستان کے اس پرچم کے طرح ہے جو 1930ء سے 1974ء تک افغانستان کا پرچم تھا۔ مگر 2004ء والے پرچم میں صرف لاالہ الا اللہ کا اضافہ کیا گیا جو مسجد کے محراب کے نشان کے اوپر پیلے رنگ میں نظر آ رہاہے۔
سگسی (منگولی: Сагсай) مشرقی منگولیا کے صوبے بیان-اولگی کا ایک ضلع ہے۔ شہر میں زیادہ تر قازق آبادی ہے، یہ علاقہ عقاب سے شکار کرنے والوں کا گھر ہے، جو سنہری عقاب سے خرگوش اور لومڑی کا شکار کرتے ہیں۔ ہر سال سگسی میں، الطائی قازق عقابوں کا سالانہ میلہ ستمبر کے آخری ہفتے میں لگتا ہے، یہ یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔
پاکستان میں ایران کے میزائل حملے، 2024ء
16 جنوری 2024ء کو، ایران نے پاکستان کے اندر کئی فضائی اور ڈرون حملے کیے، یہ دعویٰ کیا کہ اس نے بلوچ علیحدگی پسند گروپ جیش العدل کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران نے عراق اور شام کے اندر اسی طرح کے فضائی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے کرمان کے جواب میں موساد (اسرائیل کی خفیہ ایجنسی) کے علاقائی ہیڈ کوارٹر اور دہشت گرد گروہوں کے کئی مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ 3 جنوری کے بم دھماکے، جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ پاکستانی حکومت نے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ایران نے پاکستان کی فضائی حدود کی "بلا اشتعال خلاف ورزی" میں دو بچوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
جاوید اقبال (جج، پیدائش 1924ء)
جاوید اقبال (5 اکتوبر 1924ء - 3 اکتوبر 2015ء) ایک پاکستانی فلسفی، ماہر قانون اور عدالت عظمیٰ پاکستان کے سینئر جج تھے۔
سلطان محمد خان، ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جنھوں نے 29 اگست 2018 سے 9 فروری 2021 تک خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا کیونکہ انھیں ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا جس میں انھیں اپنا سینیٹ ووٹ بیچتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ وہ اگست 2018 سے جنوری 2023 تک خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔ اس سے قبل وہ مئی 2013 سے مئی 2018 تک خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔
سینیٹ آف پاکستان وفاق کا ایوانِ بالا اور پاکستان کی پارلیمان کا اعلیٰ حصہ ہے۔ اس کی رکنیت 96 اراکین پر مشتمل ہے ، جن میں سے 92 کا انتخاب صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ایک مخصوص طریقہ انتخاب (واحد منتقلی ووٹ) کے ذریعے کرتے ہیں جبکہ چار اراکین وفاقی دار الحکومت کی نمائندگی کرتے ہیں جن کو قومی اسمبلی کے ارکان منتخب کرتے ہیں - ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے اور اس کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھی تعداد کی نشستوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے برعکس، سینیٹ ایک مستقل ایوان ہے اور اس لیے اسے تحلیل نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹ کی تشکیل اور اختیارات پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 59 کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔ آبادی سے قطع نظر چاروں صوبوں میں سے ہر ایک کی نمائندگی 23 سینیٹرز کرتے ہیں، جب کہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی نمائندگی چار سینیٹرز کرتے ہیں، جن میں سے سبھی کی مدت چھ سال کی مدت تک ہوتی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ پارلیمنٹ کی عمارت کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسی عمارت کے ویسٹ ونگ میں ہوتا ہے۔ سینیٹ کے پاس متعدد خصوصی اختیارات ہیں جو قومی اسمبلی کو نہیں دیے گئے ہیں جن میں پارلیمانی بلز کو قانون میں نافذ کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔ نصف سینیٹ کے لیے ہر تین سال بعد انتخابات ہوتے ہیں اور ہر سینیٹر کی مدت چھ سال ہوتی ہے۔ آئین سینیٹ کو تحلیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔