اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
بلیو بیئرڈز سکس وائیوز (انگریزی: Bluebeard's Six Wives) 1950ء میں منظر عام پر آنے والی ایک مزاحیہ فلم ہے، جس کی ہدایت کاری کارلو لڈوویکو بریگاگلیا نے کی۔ اس فلم میں Carlo Ninchi، Mario Castellani، Tino Buazzelli، آیزا بارزیزا اور ٹوٹو نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Pippo Barzizza نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (20ق.ھ / 36ھ) کی کنیت عبد اللہ ہے آپ کا مکمل نام ”حذیفہ بن حسل بن جابر“ ہے، ان کے والد کا اصل نام ”حسل“ تھا لیکن وہ ”یمان“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔اس لقب پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان کے والد ”حسل“ انصار کے ایک قبیلہ ”بنو اشہل“ کے حلیف بنے اور وہ قبیلہ چونکہ ملکِ یمن میں رہتا تھا ، لہٰذا اسی کی طرف نسبت کرتے ہوئے انھیں”یمان“ کا لقب دیا گیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد اور والدہ دونوں صحابہ میں سے تھے۔ ان کے والد ”یمان“ کی شہادت غزوہ احد میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئی۔ وہ اس طرح کہ حضرت حذیفہ اور ان کے والد دونوں غزوہ احد میں شریک تھے اور مشرکینِ مکہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور اس زمانے مین چونکہ خود وغیرہ پہن کر لڑتے تھے؛ اس لیے حضرت حذیفہ کے والد حضرت یمان کو صحابہ پہچان نہ سکے اور ان پر حملہ کر دیا،حضرت حذیفہ نے جب یہ دیکھا تو انھیں روکنے لگے؛لیکن تب تک ان کے والد حضرت یمان شہید ہو چکے تھے۔حضرت حذیفہ اور ان کے والد غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہے تھے کہ راستے میں کفار نے انھیں روک لیا اور پوچھا کہ کیا تم محمد (ﷺ) کے پاس جانا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم ان کے پاس نہیں؛ بلکہ صرف مدینے میں جانا چاہتے ہیں، تو کفار نے ان سے اللہ کا نام لے کر عہد و پیماں لیا کہ وہ مدینے جائیں اور حضور ﷺ کے ساتھ ہوکر نہیں لڑیں گے،پھر جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”انصرفا، نفي لہم بعہدہم، ونستعین اللّٰہ علیہم“ تم مدینے چلے جاؤ! ہم ان کا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالی سے مدد چاہیں گے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھیں اپنے جذبات پر مکمل قابو اور کنٹرول تھا، کیسے بھی تکلیف دہ حالات ہوں؛ لیکن حضرت حذیفہ کبھی اپنے جوش وجذبے کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہوئے، جیساکہ درج ذیل دو واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ ان کے والد یمان کو ان کے سامنے شہید کیا گیا؛ لیکن ان کے منہ سے صرف اتنا نکلا:یغفر اللّٰہ لکم“ اللہ تعالی تمھیں بخشے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میں وہ تمام صفات موجود تھیں جوکسی کو رازدار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں اور ان میں بالخصوص اپنے جوش وجذبات پر کنٹرول اور قابو رکھنا ہے؛ چنانچہ انھیں خدادا صلاحیتوں کی بنا پر حضور ﷺ نے انھیں اپنے رازدار بنانے کا شرف بخشا اور فتنوں سے متعلق اور منافقین کے ناموں اور ان کے احوال سے متعلق پوری تفصیل سے حضرت حذیفہ بن یمان کو آگاہ کیا۔حضور ﷺ کے اس رازدار صحابی کا انتقال محرم الحرام، 36ھ میں مدائن میں وفات پائی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد بار بار عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوچھا کرتے تھے، اے حذیفہ!
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی (عربی: تميم بن حمد آل ثاني؛ پیدائش: 3 جون 1980ء) ریاست قطر کے آٹھویں اور موجودہ امیر ہیں۔ وہ 25 جون 2013 کو اپنے والد کے امیر قطر کے عہدہ سے دستبردار ہونے کے بعد قطر کے امیر منتخب ہوئے۔ وہ سابق امیر قطر، شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے چوتھے بیٹے ہیں۔ امیر منتخب ہونے سے پہلے شیخ تمیم ملک میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ شیخ تمیم دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ ہیں۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
علی بن ابی طالب اسلامی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت ہیں، ایک جلیل القدر جنت کی بشارت پانے والوں میں شامل صحابی، خلافت راشدہ میں چوتھے خلیفہ اور اہل تشیع کے نزدیک پہلے امام۔ آپ ابو طالب بن عبد المطلب کے بیٹے تھے، مگر، آپ کی پرورش محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر ہوئی، بچپن میں اسلام قبول کیا، غزوات میں شرکت کی، صلح حدیبیہ کا عہد اور کتابت وحی کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا سے شادی ہوئی، حسن و حسین آپ کے بیٹے تھے۔ حسن نے آپ کے بعد 6 ماہ خلافت سنبھالی جبکہ حسین کو سانحۂ کربلا میں شہید کیا گیا۔ زینب اور ام کلثوم آپ کی بیٹیاں تھیں۔
اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔
شاردا (شاردہ: 𑆯𑆳𑆫𑆢𑆳، لاطینی: Sharada) ایک قدیم ابوگیدا رسم الخط ہے جو خطوط براہمی میں سے ایک رسم الخط ہے۔ یہ رسم الخط آٹھویں اور بارہویں صدی کے درمیان برصغیر پاک و ہند کے شمال مغربی حصوں (کشمیر اور پڑوسی علاقوں میں) سنسکرت اور کشمیری لکھنے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اس کے بعد کشمیر میں اس کا استعمال محدود ہو گیا۔ اب صرف کشمیری پنڈت ہی اسے مذہبی مقاصد کے لیے استعمال میں لاتے ہیں۔
قلعہ صلاح الدین ایوبی یا قلعہ صہیون شام کے صوبۂ لاذقیہ کے ساحلی پہاڑی سلسلے میں واقع ایک تاریخی قلعہ ہے۔ یہ ایک بلند پہاڑی چوٹی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس کے چاروں طرف گھنے جنگلات اور دلکش قدرتی مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک یہ قلعہ صہیون یا السون کے نام سے معروف رہا، تاہم آج یہ مسلم کرد سپہ سالار صلاح الدین ایوبی کی یاد میں قلعہ صلاح الدین ایوبی کہلاتا ہے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی (عربی: الشيخ حمد بن خليفة آل ثاني کا قطر میں بر سر اقتدار الثانی خاندان سے تعلق ہے۔ وہ 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ انھوں نے 1995ء میں اس وقت اقتدار پر قبضہ کیا جب ان کے والد اور اس وقت کے امیر قطر بیرونی دورہ پر تھے۔ شیخ حمد 18 برس بر سر اقتدار رہے۔ ان کے دور میں قطر میں قدرتی گیس کی پیداوار 77 ملین ٹن تک پہنچ گئی جس کی وجہ سے فی کس خام ملکی پیداوار اور 86,440امریکی ڈالر فی کس سالانہ آمدنی کے لحاظ سے قطر دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا۔
نئہ گاج ڈیم انگریزی (Nai Gaj Dam) پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ اور تحصیل جوہی کی سرحدوں میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں گاج نئہ کے کنارے پر تعمیر کیا گیا ہے جو دادو شہر سے 65 سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال-مغرب میں واقع ہے۔ نئہ گاج ڈیم کی تعمیر 2012ء میں شروع ہوئی اور جب مکمل ہو گا تب پاوراسٹیشن میں 4.2 میگا واٹ توانائی کی گنجائش ہوگی۔ ڈیم سے 50 کیوسک کے مقدار کا پانی پائیپ لائین کے ذریعے منچھر جھیل کو اور کاچھو کے صحرا اور ضلع دادو کے کوہستان کے علائقے کو بھی پانی دینے کا منصوبہ ہے۔ نئہ گاج ڈیم میں سے 300000 ایکڑ ضلع دادو کی زمین کے لیے پانی جمع کرنے اور اس کے علاوہ ڈیم کے ذریعے 28000 ایکڑ/رقبہ ایراضی جوہی تحصیل کی زمین سیراب کرنے کے لیے پانی دینے کا منصوبہ بھی ہے۔
درہم خالص چاندی کا بنا ہوا سکّہ ہوتا ہے جو 70 جو کے برابر ہوتا ہے جس کا وزن 2.975 گرام ہوتا ہے۔ وزن کے اعتبار سے سات دینار کا وزن دس درہم کے برابر ہوتا ہے۔ درہم کا وزن چودہ قیراط کے برابر ہوتا ہے۔1400 سال پہلے قیمت کے لحاظ سے سونا چاندی سے سات گنا مہنگا ہوا کرتا تھا جیسا کہ زکاۃ کے نصاب سے ظاہر ہے۔ اب سونا چاندی سے لگ بھگ 70 گنا مہنگا ہو گیا ہے۔
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
ثمود (عربی:ثِمود) قدیم جزیرۃ العرب کی قوم جو پہلے ہزارے ق م سے تقریباً حضرت محمدﷺ کے عہد تک رہے ہیں۔ قوم کے مورثِ اعلیٰ کا نام ثمود تھا اور مشہور نسب نامہ یہ ہے۔ ثمود بن جشیر بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام۔ عاد جس طرح جنوبی اور مشرقی عرب کے مالک تھے، ثمود اس کے مقابل مغربی اور شمالی عرب پر قابض تھے۔ ان کے دار الحکومت کا نام حجر تھا۔ یہ شہر حجاز سے شام کو جانے والے قدیم راستہ پر واقع تھا۔ اب عموماً اس شہر کو مدائن صالح کہتے ہیں۔ یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔ یہ یادگاریں اب تک باقی ہیں۔ ان پر ارامی و ثمودی خط میں کتبے منقوش ہیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی (پیدائش: 5 اکتوبر 1943ء) عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ ان کا شمار عالم اسلام کی مشہور علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ کے حالیہ صدر، بین الاقوامی اسلامی فقہ اکادمی، جدہ کے نائب صدر اور دارالعلوم کراچی کے صدر ہیں۔ اس کے علاوہ آپ آٹھ اسلامی بینکوں میں بحیثیت شرعی مشیر کام کر رہے ہیں اور البلاغ جریدے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
مشرقی ایشیا یا مشرق بعید جغرافیائی و ثقافتی لحاظ سے براعظم ایشیا کا ایک ذیلی خطہ ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ علاقہ 12،000،000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے یعنی یہ براعظم کے کل رقبے کا 28 فیصد ہے اور براعظم یورپ سے 15 فیصد بڑا ہے۔ یہاں کی آبادی 1.5 ارب ہے جو ایشیا کی کل آبادی کا 40 فیصد اور دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی بنتی ہے۔ یہ یورپ کی کل آبادی کا دو گنا ہے۔ یہ دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ مشرقی ایشیا میں آبادی کی کثافت 130 افراد فی مربع کلومیٹر ہے جو دنیا بھر کے اوسط سے 3 گنا زیادہ ہے۔
2023 کی پاکستانی فلموں کی فہرست
صفحہ منتقل ہونے کے بعد: یہ ایک رجوع مکرر صفحہ ہے۔ صفحے کو نئے عنوان کی جانب منتقل کرنے کے بعد اس صفحے کو رجوع مکرر کے طور پر باقی رکھا گیا ہے تاکہ پرانے عنوان کے داخلی یا خارجی روابط جہاں موجود ہوں وہ غیر مربوط نہ ہو جائیں۔
مصافحہ یا ہاتھ ملانا (انگریزی: Handshake) عالمی سطح پر ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت یا رخصت کے وقت خیر سگالی کا اظہار ہے۔ یہ قدیم زمانے سے چلی آ رہی روایت ہے۔ اس کے تحت دو لوگ ایک دوسرے کے ایک ہاتھ یا کچھ معاملوں میں دونوں ہاتھ قریب لاکر ایک گرہ کی طرح پاس لاتے ہیں۔ یہ کئی بار کچھ سیکینڈ سے زیادہ وقت اکٹھا نہیں رہتے، مگر کچھ تہذیبوں یہ زیادہ دیر تک بندھے رہتے ہیں اور کافی گرم جوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ مصافحہ میں ہاتھ اوپر اور نیچے کیے جاتے ہیں۔ عام طور سے سیدھے ہاتھ کو آگے کرنا صحیح طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کی الگ الگ ثقافتوں میں ہاتھ ملانے کی روایتوں یا طریقوں میں کہیں معمولی تو کہیں بالکلیہ جدا گانہ روایتیں موجود ہیں۔
میلاد النبی یا جشنِ میلاد النبی (عربی: مَوْلِدُ النَبِيِّ) ایک سالانہ خوشی کا دن ہے جو مسلمان ہر سال اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے مناتے ہیں۔ یہ ربیع الاول کے مہینہ میں آتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتی ہیں، لیکن خاص ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبی کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔ یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پر میلاد النبی اور نعت خوانی (مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن علماے کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعرا اور ثنا خوانِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ 12 ربیع الاول کو کئی اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان، افغانستان، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلاد النبی اور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں۔
اوبو اسٹیشن (انگریزی: Ōbu Station) جاپان میں واقع ایک اسٹیشن ہے۔ اسے سنہ 1887ء میں عوامی خدمات کے لیے باضابطہ کھولا گیا۔ یہ اسٹیشن سنٹرل جاپان ریلوے کمپنی کی ملکیت اور سنٹرل جاپان ریلوے کمپنی کے زیرِ انتظام ہے اور اس وقت بھی زیر استعمال ہے۔ یہ اسٹیشن Tōkaidō Main Line اور Taketoyo Line پر خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس اسٹیشن میں مسافروں کے لیے 5 پلیٹ فارم موجود ہیں۔ اس کے قریبی اور ملحقہ اسٹیشنوں میں Aizuma Station، Kyōwa Station، Owari-Morioka Station اور کاریا اسٹیشن شامل ہیں۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .
جان لینن (انگریزی: John Lennon) کو بیسویں صدی کا سب سے مشہور متاثر کن اور متنازع گلوکار مانا جاتا ہے۔ ان کا سب سے زیادہ مشہور گانا ’امیجن‘ بیسویں صدی کے سو مقبول ترین گیتوں میں شامل ہے، گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اسے ہر دور کے پانچ سو سدا بہار گانوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے لیکن اس گانے کو قدامت پرست ہمیشہ سے متنازع سمجھتے ہیں۔جان لینن کو 1980 میں ان کے ایک جنونی مداح نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
کندوال ،پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع جہلم تحصیل پنڈدادن خان کا ایک گاؤں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کندوال کی آبادی 30 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ کندوال کی تاریخ تین سو سال پرانی ہے۔ یہ پنڈ دادن خان، للہ انٹر چینج، خوشاب روڈ پر واقع ہے۔ یہ ضلع جہلم کی آخری حدود کا گاؤں ہے۔ یہاں مختلف قوموں اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں چوتھے خلیفہ راشد علی بن ابی طالب اور شام کے (باغی) گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
رضا مظفری (انگریزی Reza Mozaffari Nia) رضا موزافارنیا یا رضا موزافرنیا 1959-28 فروری 2026ء) ایک ایرانی فوجی اہلکار تھا جس نے دفاعی اختراع اور تحقیق کی تنظیم (او ڈی ایف این ڈی) کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جو ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کے لاجسٹکس (ایم او ڈی اے ایف ایل) کے اندر ایک ادارہ ہے جو حساس ٹیکنالوجیز میں تحقیق سے وابستہ ہے۔ اس سے قبل وہ نائب وزیر دفاع اور ملک اشتر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (ایم یو ٹی) کے ڈین کے عہدوں پر فائز تھے۔ موزہفری نیا پر امریکا نے ایران کے میزائل اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگراموں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں پابندی عائد کی تھی۔ وہ ایران پر 2026 ءکے اسرائیلی-امریکی حملوں میں مارا گیا تھا۔
یہ ایک امن پسند اور محنتی قوم ہے ۔ بھارت میں بشتر تیلی اب بھی ہندومت مذہب ہیں ، تاہم پاکستان میں تیلی مسلمان ہیں ۔ ریزلے کی رائے میں اس پیشے کے لوگ قدیم اور وسطی دور میں بھی کمی ہی تھے۔ کیوں کہ امور خانہ داری اور دوسرے تہواروں کے موقع پر ہر ہندو تیل کا استعمال کرتا ہے اور تیل نکالنے کا کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی سماجی پاکزگی غیر مشتبہ ہوتی۔ مگر ہندوازم نے ان کو شودر بنا دیا۔
حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے۔ حجر اسود وہ سیاہ پتھر ہے جو کعبہ کے جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازہً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول چکر بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنے جاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جا سکتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود سے یہ فرمایا: إني أعلم أنک حجر، لا تضر و لا تنفع. ”بلاشبہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان۔ “ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: بلیٰ یا أمیر المومنین، إنه یضر و ینفع. ” کیوں نہیں، امیر المومنین !
المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد
المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد؛ حیدر آباد، دکن میں واقع ایک تعلیمی، تربیتی اور تحقیقی ادارہ ہے۔ جسے مشہور عالم دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے سنہ 2000ء میں قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ ملک وبیرون ملک اپنی ایک منفرد سنجیدہ شناخت رکھتا ہے۔ ادارہ میں مختلف علمی وتعلیمی شعبے کارگر ہیں؛ لیکن ادارہ اپنے فقہی اختصاص کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ معہد کو مختلف موضوعات کی تدریس کے لیے قابل اور ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل ہیں۔
سنن ابن ماجہ، حدیث نبوی کی اہم کتابوں میں سے اور کتب ستہ میں سے چھٹی کتاب ہے، اس کے مولف ابن ماجہ ابو عبد اللہ محمد بن یزید قزوینی ہیں، ماجہ ان کے والد یزید کا نام تھا۔ یہ کتاب ان کی سب سے اہم اور بڑی کتاب ہے اسی کتاب سے وہ مشہور و معروف ہیں۔ اس میں انھوں نے احادیث کو کتاب اور ابواب کے اعتبار سے مرتب کیا ہے، احادیث کی کتابوں میں اس کتاب کے مقام میں علما کا اختلاف ہے چونکہ اس کتاب میں صحیح، حسن، ضعیف بلکہ منکر اور موضوع روایات بھی شامل ہیں لیکن بہت کم ہیں، موضوع احادیث دیگر احادیث کی بنسبت کم ہیں۔ اس کتاب میں 4000 سے زائد احادیث ہیں، صاحب کتاب ابن ماجہ کی وفات 273ھ میں ہوئی۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
معجم صغیر :اما م طبرانی نے معجم کے نام سے تین کتابیں لکھیں (معجم کبیر،معجم اوسطمعجم صغیر) یہ ان کی مشہور و معروف تصانیف ہیں جو علم حدیث کی بلند پایہ کتابیں سمجھی جاتی ہیں، محدثین کی اصطلاح میں معجم ان کتابوں کو کہا جاتا ہے جن میں شیوخ کی ترتیب پر حدیثیں درج کی گئی ہوں۔اس کتاب میں امام طبرانی نے اپنے شیوخ کی روایات کو جمع کیا اور ان کے ناموں کو حروف معجم پر مرتب کیا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
ہندو مت جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مذہب ہے جس میں تقریباً 1.20 بلین ہندو ہیں ، جو جنوبی ایشیا کی آبادی کے صرف دو تہائی سے کم ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دنیا میں ہندوؤں کی سب سے زیادہ آبادی ہے دنیا بھر میں تقریباً 99 فیصد ہندوؤں کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔ ہندومت ہندوستان اور نیپال میں غالب مذہب ہے اور بنگلہ دیش ، پاکستان ، سری لنکا اور بھوٹان میں دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ ہند-آریائی ہجرت ہند آریائیوں کو جنوبی ایشیا میں لے آئی، جہاں انھوں نے ویدک دور (ca.
خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ 7ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه 8ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی۔ موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔
تسبیح فاطمہ (عربی: تَسْبِيح فَاطِمَة) ایک مخصوص ذکر ہے جو اسلام کے نبی حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سب سے چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا کو تلقین کی تھی۔ تسبیح فاطمہ میں 33 بار تسبیح (سُبْحَانَ ٱللَّٰهِ)، 33 بار تحمید (ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ) اور 34 بار تکبیر (ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ) کا ورد کیا جاتا ہے۔
ضلع لسبیلہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ایک ضلع ہے۔ اس کے مشہور علاقوں میں حب، سومیانی اور گڈانی شامل ہیں۔ 2005ء میں اس کی آبادی تقریباً 700000 کے لگ بھگ تھی۔ یہ گوادر اور کراچی کے درمیان واقع ہے۔ اس ضلعے کے مشرق میں کراچی جبکہ مغرب میں گوادر اہے۔ ضلعے کا جنوب حصہ سمندری ساحل سے لگا ہوا ہے اور شمال میں ضلع خضدار واقع ہے۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
المغرب (عربی: المغرب؛ باضابطہ نام: مملکت المغرب) (برصغیر میں مراکش کے نام سے مقبول) شمالی افریقا کے خطے المغرب العربی میں واقع ایک ملک ہے جس کے شمال میں بحیرہ روم اور مغرب میں بحر اوقیانوس بہتا ہے اور اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں الجزائر اور جنوب میں مغربی صحارا کے متنازع علاقے سے ملتی ہیں۔ المغرب سبتہ، ملیلہ اور چٹان قمیرہ کے ہسپانوی ایکسکلیو اور اس کے ساحل کے قریب کئی چھوٹے ہسپانوی زیر نگین جزائر پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ مراکش ایک ایسا ملک ہے جہاں اس کی آبادی کی اکثریت مراکش کے عربوں پر مشتمل ہے، جسے عام طور پر "مراکشی" کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے سرحدی اور دور دراز علاقوں میں ایسے اقلیتی گروہ بھی آباد ہیں جو خود کو مراکش کی قوم کا حصہ نہیں سمجھتے اور اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں.
لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ (پیدائش کے وقت اصل خاندانی نام وین-ٹیمپسٹ-اسٹیورٹ، سابقہ برلی 11 جون 1934ء-18 اکتوبر 2025ء) ایک انگریزی سوشلائٹ مصنف اور سیاسی کارکن تھیں۔ وہ اینابیل کا نام تھا جو ان کے پہلے شوہر تاجر مارک برلی کے ذریعہ قائم کردہ خصوصی مے فیئر نائٹ کلب تھا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی کے دوران لندن کی ایک ممتاز سوسائٹی ہوسٹس، اس نے سرمایہ کار سر جیمز گولڈ اسمتھ کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے میڈیا کی توجہ مبذول کروائی، جو برلی سے اس کی شادی کے دوران شروع ہوا اور بعد میں ان کی شادی کا باعث بنا۔ اپنے بعد کے سالوں میں، اس نے یادیں شائع کیں اور سیاسی اور انسان دوست کاموں کی حمایت کی۔
عارفانہ کلام یا صوفیانہ کلام شاعری کا وہ کام ہے جو صوفیاء اور عارفین نے کی ہے۔ اس شاعری کی خاص بات اس میں پنہاں عشقِ حقیقی کے اسرار و رموز ہیں۔ جس میں صوفیا نے اپنے تجربات اور عشقِ حقیقی میں درپیش رکاوٹوں اور مراحل و مدارج بیان کیے ہیں۔ صوفی شاعری کا یہ کام مختلف زبانوں میں ہوا ہے اور ہر زبان میں پیش کیا جانے والا صوفی کلام عوام میں بہت مقبول ہوا ہے۔ مختلف صوفیا کا کلام پنجابی، سندھی، اُردو، فارسی، عربی و دیگر زبانوں میں موجود ہے۔ یہ کلام نثر اور شعر دونوں صورتوں میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔
استاذالعلما ء شیخ الحدیث حافظ محمد احسان الحق قادری 1926ء کو شمس آباد، اٹک (کیمل پور) پنجاب میں مولانا محمد نصیر احمد کے گھر پیدا ہوئے جو پنجاب کی معزز اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ استاذالعلماء شیخ الحدیث حافظ محمد احسان الحق قادری، اہلسنت والجماعت، حنفی بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین، ولی کامل، مصنف، مدرس، مبلغ، شاعر، نعت خواں، مناظر اور فقیہہ تھے۔ آپ نےجمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اہلسنت میں گراں قدر سیاسی خدمات سر انجام دیں۔
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) (پیدائش: 614ء– وفات: 13 جولائی 678ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں سنہ 678 ء میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جس سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔ جنگ جمل کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ آپ کو عائشہ صدیقہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ناران بالاکوٹ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے یہ جگہ سیاح حضرات کے لیے ایک اہم جگہ ہے۔ یہ جگہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔اس جگہ کا سب سے خوبصورت مقام جھیل سیف الملوک ہے جو 2.7 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں ہر سال یہاں پر لاکھوں حضرات سیر کے لیے ملک کے کونے کونے سے آتے ہیں۔ ناران کے ساتھ ساتھ دریائے کنہار بہتا ہے اور ناران میں 5 ماہ برف باری ہوتی ہے تو وہاں کے مقامی لوگ بالاکوٹ کی طرف آتے ہیں تو وہاں پر کم سے کم دس فٹ برف باری ہوتی ہے تو وہاں پر پہاڈوں سے جنگلی جانور نیچے ناراں میں آ جاتے ہیں جن میں تیندوا ریچھ اہم ہیں
مولانا محمد موسیٰ بازی روحانی ایک اسلامی فلسفی، عظیم عالم، امام، حدیث کے مفسر، ماہر فلکیات، فقیہ اور پاکستان کے ممتاز علما میں سے ایک اور دلچسپ کتابوں کے مصنف ہیں۔ شیخ محمد موسیٰ بازی روحانی بن مولوی شیر محمد البازی کی کتاب فتح الله بخصائص الاسم الله کی سب سے نمایاں اور روحانی سمجھی جاتی ہے اور وہ پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
XNXX ایک چیک-فرانسیسی فحش ویڈیو شیئرنگ اور دیکھنے کی ویب گاہ ہے۔ اس کی بنیاد 1997 میں پیرس میں رکھی گئی تھی، جس کے سرورز اور دفاتر مونٹریال، ٹوکیو اور نیوارک میں تھے۔ یہ WGCZ ہولڈنگ کی ملکیت ہے، وہی کمپنی جو XVideos چلاتی ہے۔ جولائی 2025 تک، یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی 42ویں اور Pornhub، xHamster اور XVideos کے بعد چوتھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فحش ویب گاہ ہے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
ماہ پیکر کوسم سلطان (ترکی: Kösem Sultan) سلطنت عثمانیہ کی ملکہ اور والدہ سلطان تھیں۔ کوسم سلطان عثمانی تاریخ کی طاقتور و با اقتدار خواتین میں سے ایک تھیں۔ کوسم نے اقتدار کی یہ قوت تب حاصل کی جب وہ 1610ء میں عثمانی سلطان احمد اول کی محبوب زوجہ بنیں اور بعد ازاں قانونی بیوی ہونے کا درجہ حاصل ہو گیا۔ 1623ء میں وہ عثمانی سلطان مراد رابع کی تخت نشینی پر والدہ سلطان بنیں اور بعد ازاں اپنے دوسرے بیٹے سلطان ابراہیم اول کی تخت نشیں ہونے پر 1640ء میں دوبارہ اِسی عہدے پر فائز ہوئیں۔ ستمبر 1651ء تک وہ سلطنت عثمانیہ کی بااَثر ترین خواتین اور طاقتور والدہ سلطان کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ عثمانی تاریخ میں سلطنت خواتین کے عہد میں کوسم سلطان تقریباً 46 سال تک سیاسی و انتظامی معاملات میں دخل انداز رہیں۔ کوسم سلطان نے تقریباً 9 عثمانی سلاطین کا عہد حکومت دیکھا۔ سترہویں صدی عیسوی کے نصفِ اول تک وہ سلطنت عثمانیہ کا طاقتور ستون اور بنیاد خیال کی جاتی تھیں۔2 ستمبر 1651ء کو ینی چری بغاوت میں انھیں قتل کر دیا گیا۔ قتل کے بعد انھیں عثمانی تاریخ میں والدہ معظمہ، والدہ مقتولہ، والدہ شہیدہ کے نام سے یاد کیا گیا۔ عثمانی مؤرخین انھیں کوسم والدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
رائی سے مراد ایک پودا اور اس کا بیج ہے جو عموماً مصالحوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پودے کی لمبائی تقریباً چھ فٹ ہوتی ہے اور اس میں چار پتیوں والے پیلے رنگ کے پھولوں کے گچھے لگتے ہیں۔ بیجوں کی پھلی یا ڈوڈا ایک انچ لمبا ہوتا ہے۔ اس پودے کا وطن ایشیا ہے اور اسے سیاہ رائی کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ایک پودا یورپ میں بھی کاشت ہوتا ہے جو سفید رائی کہلاتا ہے۔ رائی کے بیجوں کو پیس کر اس میں پانی اور آٹا ملا کر پلٹس بھی بناتے ہیں، پاکستان کے ضلع چترال میں رائی سے ایک ڈش تیار کی جاتی ہے جسے خیلیخی لییوغ کہا جاتا ہے۔ یہ ڈش جوڑوں کے درد اور گردے کے درد کو آرام پہنچاتی ہے، حکیم اس سے دوا بھی بناتے ہیں۔
نوبل امن انعام حاصل کرنے والوں کی فہرست
نوبل امن نعام ایک سو تیرہ برس سے ان افراد اور اداروں کو انفرادی یا اجتماعی طور سے پیش کیا جا رہا ہے جنھوں نے نوبل کمیٹی کی نظر میں قیامِ امن و ترقی کے لیے ایسا انفرادی یا اجتماعی کام کیا ہو جس کی عالمی اہمیت و اثرات ہوں۔ انیس سو ایک میں سوئٹزر لینڈ میں ریڈکراس کی بنیاد رکھنے والے ہنری ڈوناں اور بین الاقوامی پارلیمانی یونین کے فرانسیی بانی فریڈرک پاسے کو سب سے پہلا نوبل انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔ تب سے ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستھیارتی تک ایک سو تین شخصیات کو نوبل امن انعام مل چکا ہے۔ اب تک بائیس نوبل امن انعامات عالمی اداروں کو غیر معمولی کارکردگی کے اعتراف میں دیے گئے ہیں۔ آسٹریا کی فلاحی کارکن برتھا وون سیٹنر سے لے کے ملالہ یوسف زئی تک پندرہ خواتین کو امن کا نوبل انعام ملا۔ ان ایک سو تیرہ برسوں میں انیس برس ایسے بھی گذرے جن میں کسی کو بھی نوبل امن انعام نہ مل سکا۔ ان میں پہلی عالمی جنگ کے چار اور دوسری عالمی جنگ کے پانچ سال بھی شامل ہیں۔ جبکہ انیس سو اڑتالیس میں دیگر شعبوں میں تو نوبل انعامات ملے لیکن امن کا نوبل انعام مہاتما گاندھی کے احترام میں کسی کو نہیں دیا گیا۔ مہاتما کو اس لیے نہیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ بعد از مرگ نوبل انعام دینے کی روایت نہیں