اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
ہوٹل یا مسافر خانہ یا سرائے مختصر مدت کے لیے قیام و طعام کی سہولت فراہم کرنے والا ایک ادارہ ہے۔ اس کی سہولیات میں بنیادی طور پر بستر اور سامان رکھنے لے کیے جگہ سے لے کر حمام اور دیگر عیش و آرام کی خصوصیات شامل ہو سکتی ہیں۔ بڑے ہوٹلوں میں اضافی سہولیات مثلا سویمنگ پول، کاروباری مرکز، بچے کی دیکھ بھال، کانفرنس کی سہولیات اور سماجی تقریب خدمات شامل ہوتی ہیں۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرۂ مبارک گورا،پرکشش،گول،روشن رنگ،سرخی آمیز تھا۔ چودھویں کی چاند کی طرح جگمگاتا ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہوتے تو چہرہ مبارک اس طرح دمک اٹھتا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔ دھاریاں اس طرح چمکتی گویا روشن بادل چمکتا ہے۔ اور ایسا لگتا تھا تھا کہ سورج رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے میں دوڑتا ہے (پُرنور تھا)۔گویا اگر کوئی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتا تو طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھتا۔ چہرے پر پسینہ یوں محسوس ہوتا کہ گویا موتی ہے۔ اور پسینے کی خوشبو خالص مشک سے بھی بڑھ کر ہوتی۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصہ ہوتے تو چہرہ مبارک یوں سرخ ہوجاتے گویا آپ کے مبارک رخسار پر قرمزی انگور نچوڑ دیے گئے ہیں۔ آپ کے دونوں رخسار ہلکے اور پیشانی کشادہ، ابرو کماندار باریک،اور کامل تھے اور باہم ملے ہوئے نہ تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھیں کشادہ تھیں،اور ان کی سفیدی میں سرخی آمیزش تھی،پتلی سخت سیاہ تھی،پلکوں کے بال لمبے اور گھنے تھے،کوئی دیکھتا تو یوں محسوس کرتا گویا آنکھو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سرمہ لگایا ہے۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناک کا بانسہ بلند اور خم تھا یوں محسوس ہوتا گویا اس پر نور بلند ہے۔ دونوں کان مکمل اور منہ خوبصورت اور بڑا تھا۔ سامنے کے دونوں دانتوں میں ذرا سا فاصلہ تھا،بقیہ دانت بھی الگ الگ تھے،غرض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دانت سب سے خوبصورت تھے۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں شھید ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
اسٹاک کاروبارکا اسٹاک یا کیپٹل اسٹاک اس کے بانیوں کی طرف سے کاروبار میں فراہم کردہ بنیادی سرمایہ یا سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ کاروبار کے قرض دہندگان کے لیے ایک سیکورٹیز کے طور پر کام کرتا ہے، چونکہ قرض دہندگان کے لیے هانكر طور پر اسے اهرت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسٹاک جائداد اور کاروبار کی اثاثوں سے مختلف ہے جو مقدار اور قیمت میں اتار چڑھاؤ لا سکتا ہے۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء – وفات: 29 جون 2026ء) ایک بھارتی عالمِ دین، مفکر اور مصنف تھے۔ بھارت کی مشہور دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلما کے عظیم سپوت اور کئی دہائیوں تک وہاں کے اعلی استاذ رہے۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن اور لکھنؤ میں واقع جامعہ امام احمد بن عرفان شہید کے صدر تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی حدیثِ نبوی کی خدمت، شرعی تعلیم اور علمی و دعوتی اداروں کی تعمیر و تاسیس میں وقف کر دی۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
ہندو چمار اودھ مین کولی کہلاتے ہیں جبکہ مشرق میں ان کو پاؤلی بھی کہتے ہیں ان میں سے کچھ کپڑا بنتے ہیں، کپڑا بننے والے اپنے کو جھلاد کہتے ہیں ۔ جب کہ مسلمان جولاہا کہلاتے ہیں ۔ جولاہا فارسی کا کلمہ ہے اور پیشہ کا نام ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اس پیشے کے لوگوں کی عزت نہیں کی جاتی اور ان کو کمی جانا جاتا ہے۔اس پیشے سے وابستہ قوموں کو عزت دار قوم نہیں مانا جاتا ہے۔
واقعہ کربلا، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رشتہ دار اور غلاموں کو 10 محرم الحرام، 61ھ میں عراق کے شہر کربلا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بے دردی سے شہید کیا گيا۔ اس واقعے نے آنے والی صدیوں میں اسلامی تاریخ پر دور رس اثرات مرتب کیے؛ جو ہنوز جاری ہیں۔ واقعہ کربلا کے پس منظر، عوامل اور تفصیلات میں تاریخی بنیادوں پر اہل سنت و جماعت اور اہل تشیع کے درمیان میں کئی باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ یہ واقعہ 10 محرم 61ھ کو کربلا میں پیش آیا اور اس میں حسین ابن علی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا۔ اس واقعہ سے متعلق تاریخی اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔
حضرت ابو سفیان بن حرب بن امیہ رضي الله عنه (ت 560ء—653ء) صحابی رسول تھے۔ ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف تھے اور بعد میں، فتح مکہ کے دوران انھوں نے اسلام قبول کیا اور اسلام کے مددگار بن گئے۔قبولِ اسلام کے بعد حضرت ابو سفیان سب سے اول غزوۂ حنین میں شریک ہوئے، آنحضرتﷺ نے حنین کے مالِ غنیمت سے انھیں سو اونٹ مرحمت فرمائے، حنین کے بعد طائف کے محاصرہ میں شرکت کی۔ حضرت عمرؓ فاروق کے عہدِ خلافت میں جنگ یرموک میں شام کی فوج کشی میں اپنے پورے کنبہ کو لے کر شریک ہوئے، خود ان کے بیٹے اور ان کی بیوی سب شریک تھے، یرموک کی جنگ میں انھوں نے بڑا نمایاں حصہ لیا۔
قرآن اور بحریات (Oceanology) دراصل قرآن میں جدید بحریات کے بارے میں معلومات اور انکشافات کو کہا جاتا ہے۔ قرآن کے ایک ہزار سے زیادہ آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اور اس میں بیسیوں آیات صرف بحریات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود آبیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطامبقت رکھتی ہے۔
فری میسن (freemason) ایک بین الاقوامی یہودی تنظیم ہے۔ جس کا مقصد دنیا میں دجال اور دجالی ریاست کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس میں بیس برس سے بڑی عمر کے لوگ ممبر بنائے جاتے ہیں۔ بظاہر تویہ سوشل رابطوں اور فلاحی کاموں، اسپتالوں، خیراتی اداروں فلاحی اداروں اور یتیموں کے تعلیمی اداروں کی ایک تنظیم ہے۔ امریکا میں اس کے ممبروں کی تعداد اسی لاکھ سے زیادہ ہے۔ بظاہر یہ ایک خفیہ سلسلہِ اخوت ہے،خیرات کرنا اس کے ارکان کے فرائض میں شامل ہے۔ تنظیم کے پاس لاکھوں نہیں کھربوں ڈالر کے فنڈز ہیں۔ اس کے پیروکار دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہیں۔ آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ امریکا کے سابق صدر جارج واشنگٹن اور گوئٹے اس کے سربراہان میں شامل رہے ہیں۔ یہ سنہ1771ء میں برطانیہ میں قائم ہوئی تھی۔ برطانیہ کا حکمران خود اس کا سربراہ رہا ہے۔ اس کا ہیڈ آفس اب بھی برطانیہ میں ہی ہے۔ ان خیراتی اور فلاحی اداروں کی آڑ میں مسلم دشمنی ہے اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اس کے اولین مقاصد میں سے ہے۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
لبنان کے علاقہ صبرا اور شاتیلا میں واقع فلسطینیوں کے پناہ گزیں اڈے پر الکتائب نامی مسیحی ملیشیا، جسے اسرائیل کی سرپرستی حاصل تھی، نے 16 اور 18 ستمبر 1982ء میں نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ مسلح گروہ بنام الکتائب جو لبنان کی فلنججی جماعت کا رکن ایلی حبیقہ نے بنائی تھی۔ اس کو صبرا اور شاتیلا کے پناہ گزیں اڈوں میں پہنچانے کے لیے راستہ اسرائیلی فوجیوں نے فراہم کیا اور اس گروہ کے اراکین نے تین دن تک پناہ گزینوں کے اڈوں میں قتلِ عام کیا۔ اس بارے میں یہ بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ اسرائیلی فوجی اس قتلِ عام کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے کیونکہ اس قتلِ عام سے محض دو دن پہلے بشر الجمیل کا قتل ہوا تھا جو مسیحی مسلح لیڈر اور منتخب صدر تھے اور اس وجہ سے لبنان کی فلنجی جماعتوں اور مسلمانوں میں ایک طویل نفرت و دشمنی کا آغاز ہوا۔
زُہران(1) کوامے ممدانی (انگریزی: Zohran Kwame Mamdani، ) (پیدائش: 18 اکتوبر 1991ء) ایک امریکی سیاست دان ہیں جو جنوری 2026ء سے نیو یارک شہر کے 112ویں میئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ممدانی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیو یارک کے پہلے ایشیائ اور ہندوستانی نژاد اور پہلے مسلمان میئر ہیں۔ میئرمنتخب ہونے سے قبل ممدانی 2021ء سے 2025ء تک ریاست نیو یارک کی اسمبلی میں حلقہ نمبر 36 سے رکن تھے، جس میں ضلع کوئینز کے محلے ایسٹوریا اور لانگ آئلینڈ سٹی شامل ہیں۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
لالی پاپ ایک قسم کی میٹھی چیز ہے جسے عمومًا بچے شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ سخت کینڈی ہو سکتی ہے یا ایک چھوٹی لکڑی پر برف کے گولے کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر چوسا یا چاٹا جاتا ہے۔ اس کے لیے عالمی سطح مختلف اصطلاحات وضع کیے گئے ہیں جیسے کہ لالی، سکر، اسٹیکی پاپ۔ لالی پاپ مختلف ذائقوں اور شکلوں میں دست یاب ہیں۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
یزید کے دربار میں زینب بنت علی کا خطبہ
واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ قیدی بنا کر کئی شہروں سے گزار کردمشق لے جائی گئیں۔ انھوں اس سفر اسیری میں کئی خطبے دیے ان میں سے ایک خطبہ یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا۔ ان کے دیگر فصاحت و بلاغت سے بھرپور خطبات کی طرح ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس نے یزید کے دربار پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔ یزید کی محفل میں جب بی بی زینب (سلام اللہ علیہا) کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انھوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ”اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!“ پھر یہ معروف خطبہ دیا جس نے دشمن حسین کے مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔ راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔“ یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: ”اے یزید!
سندھ کی 15ویں صوبائی اسمبلی کے اراکین کی فہرست
یہ 2018 کے صوبائی انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے سندھ کی صوبائی اسمبلی کے موجودہ اراکین کی فہرست ہے۔
یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔
اینڈرز برِیوِک (پیدائش: 13 فروری 1979ء) ناروینی جس نے 22 جولائی 2011ء کو ناروے قتل واقعہ میں شہرت پائی۔ اینڈرز قدامت پسند مسیحی، دائیں بازو رحجان اور مسلم مخالف خیالات رکھتا ہے۔ اوسلو سے 25 میل دور جزیرہ پر ناروے حکومتی جماعت کے لگائے گئے نوجوانوں کے لیے کیمپ میں سرگرمیوں سے بیزار ہو کر، پاسبان لباس پہنے، اس نے اپنی بندوق کا دہانہ کھول دیا۔ اس کارروائی میں 85 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔
تبلیغ کا لسانی معنی پھیلنا، نشر کرنا یا تقسیم کرنا ہے اور اس کا اسم جوانی یا جوانی ہے، جیسا کہ: لڑکا بالغ ہونے یا بلوغت کو پہنچ چکا ہے۔ بلغ، ابلاغ اور تبلیغ کا مطلب ہے کسی مطلوبہ مقصد یا مطلوبہ حد تک پہنچنا، پہنچانا، پہنچانا اور پہنچانا، خواہ یہ حد یا ہدف ایک جگہ، وقت یا اخلاقی طور پر طے شدہ معاملہ ہو۔ یہ معنی اظہار میں مبالغہ آرائی پر دلالت کرتا ہے، جو لفظ کو حقیقت پسندانہ معنی کی حدود سے باہر لے جاتا ہے۔ اسلامی تبلیغ یا تبلیغ کا عمل ایک بڑا اسلامی مشن ہے جس پر اسلام نے انسانی زندگی میں اپنا وجود اور تشخص استوار کیا ہے۔
فٹ بال یا گیندِ پا (انگریزی: Football) اُن کھیلوں کے مجموعے کا نام ہے جن میں گیند کو لات مار کے ( کک مار کے) گول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کھیل میں دو ٹیمیں حصہ لیتی ہیں جن میں سے ہر ایک ٹیم میں گیارہ گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔اس کھیل میں جو ٹیم زیادہ گول کرتی ہے وہ فاتح کہلاتی ہے۔یہ کھیل دنیا کا سب سے زیادہ مشہور کھیل ہے جس کے بین الاقوامی طور پر مقابلے ہوتے ہیں۔
مذہب یا فقہی مذہب ایک فقہی (اسلامی اصول قانون) مکتب فکر ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی 150 سالہ تاریخ کئی فقہی مذاہب تھے، جو رفتہ رفتہ ختم ہو گئے یا دوسرے مذاہب فقہ میں ضم ہو گئے۔ عمان کا پیغام، 2005ء میں جن فقہی مذاہب کی توثیق کی گئی، جس کی تصدیق دنیا بھر کے جید علمائے اسلام نے کی، چار اہل سنت فقہی مکاتب فکر (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی)، 2 شیعہ فقہی مکاتب فکر (فقہ جعفری، زیدیہ)، اباضیہ مکتب فکر اور ظاہریت مکتب فکر کو باضابطہ قابل قبول قرار دیا ہے۔ اہل سنت و جماعت کا سب سے پہلا فقہی مذہب جسے اہل علم مذہب ابن عباس یا فقہ عباسیہ کے نام سے جانتے ہیں ہے۔اسی فقہ عباسیہ کے دو جلیل القدر فقہا ابوالعباس سفاح عباسی اور جعفر منصور عباسی نے خلافت عباسیہ قائم کی۔
رطبومہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ایک ایسا ورم tumor (یعنی ومہ) ہوتا ہے جس میں کسی لحاظ سے رطوبت یعنی نمی یا moist ہونے کا تصور پایا جاتا ہو یا یوں کہ لیں کہ اس میں رطوبت بھری ہوئی محسوس ہوتی ہو اور اسی رطوبت کی نسبت سے اس کو رطبومہ کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے Hygroma کہتے ہیں اور یہاں بھی اس کا اس کا مفہوم یہی ہے کیونکہ Hygro کا لاحقہ رطوبت یا رطب کے لیے لگا یا جاتا ہے اور oma کا سابقہ ورم یا tumor یا سرطان سے نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اب اس تعارف کے بعد اگر اس نام کو آسان اردو میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے رطوبت والا سرطان کہا جا سکتا ہے۔
جنوبی امریکا میں واقع دنیا کی سب سے بلند جھیل جو جہاز رانی کے قابل ہے۔ یہ جھیل کوہ انڈیز کے سلسلے کے ساتھ بولیویا اور پیرو کے درمیان سرحد پر واقع ہے۔ یہ جھیل سطح سمندر سے 12،507 فٹ بلند ہے۔ جھیل کا کل سطحی رقبہ 8,372 مربع کلومیٹر ہے۔ جھیل 190 کلومیٹر طویل اور 80 کلومیٹر عریض ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 107 اور زیادہ سے زیادہ گہرائی 281 میٹر ہے۔
برصغیر میں انگریزوں کے دور تک ہندووَں میں رواج تھا کہ کسی شخص کے مرنے پر اس کی بیوی بھی اس کی چتا کے ساتھ جل جاتی تھی اور یہ رسمِ ستی کہلاتی تھی۔ یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ستی کا کب رواج ہوا۔ ویدوں میں اس ستی کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ اگرچہ بعض ہندووَں کا خیال ہے کہ رگ وید میں ستی کا حوالہ ہے۔ لیکن رگ وید میں بیوہ سے کہا گیا کہ اٹھ اور دوسرا شوہر چن لے۔ یہ رسم کب سے جاری ہوئی اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہے۔ یونانیوں نے بھی ستی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ البتہ مسلمان سیاحوں نے ستی کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اندازہ ہے یہ رسم ساتویں صدی سے شروع ہوئی جب کہ راجپوتوں کا دور شروع ہوا۔ جمیز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ یہ رسم راجپوت عورتوں میں اس لیے شروع ہوئی نہ انھیں فاتح کی لونڈیاں بننا منظور نہیں تھا۔
بیڈ گیلا کرنا ، جسے رات کی بول بستری بھی کہا جاتا ہے،، مثانے پر کنٹرول پا جانے کی ایک مخصوص عمر کے بعد ،سوتے وقت پیشاب کا بار بار غیر ارادی طور پرخطا ہونا ہے۔ بچوں اور بڑوں میں بستر گیلا کرنے کا نتیجہ جذباتی تناؤ یا جسمانی زیادتی بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھار دن میں بھی پیشاب خطا ہو سکتا ہے یا پیشاب کی دیگر علامات ہو سکتی ہیں۔ پیچیدگیوں میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن شامل ہو سکتے ہیں۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
فصوص الحکم شیخ اکبر ابن عربی کی تالیف کردہ تصوف اسلامی پر اہم ترین کتب میں سے ایک کتاب ہے۔ پختہ عمری میں لکھی گئی اس کتاب کے مقدمے میں شیخ خود لکھتے ہیں کہ آپ کو خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کروائی گئی، ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، وہ بولے یہ لو اور لوگوں تک پہنچاؤ تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں۔ اِس کے ستائیس ابواب میں پیغمبران خدا پر ظاہر کی گئی الہامی حکمتوں کی ہیئت پر بات کی گئی ہے۔ ہر پیغمبر کوودیعت کی گئی حکمت کسی مختلف الہامی صفت سے منسوب ہے اور یوں ہر پیغمبر فہم کی ایک جدا صورت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ابن عربی کی اس کتاب پر سو سے زائد شروحات لکھی گئیں ہیں۔ اردو میں اس کا ترجمہ قیام پاکستان سے قبل عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کے الہیات کے پروفیسر محمد عبد القدیر صدیقی قادری حسرت نے کیا تھا، جبکہ حالیہ جدید ترجمہ مع تحقیق شدہ عربی متن 2015ء میں ابرار احمد شاہی نے ابن العربی فاؤنڈیشن سے شائع کیا ہے۔
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انھوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انھیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ف) یا پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ،پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے۔ یہ اصلی پاکستان مسلم لیگ سے جدا ہونے والے مختلف دھڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کی قیادت سندھ سے تعلق رکھنے والے پیر پگاڑا کے ہاتھ میں ہے۔ مسلم لیگ ف کا قیام 1985ء میں محمد خان جونیجو کی زیر قیادت تشکیل پانے والی پاکستان مسلم لیگ سے اختلافات کے باعث عمل میں آیا۔
جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار بن یاسر کے پاس گئے جب انھیں علی نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود دونوں عمار سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمھاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود نے عمار اور ابوموسیٰ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ ابومریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمھارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی۔
قصہ خوانی بازار قتل عام (انگریزی: Qissa Khwani massacre، پشتو: د قصه خوانۍ بازار خوڼۍ پېښه) پشاور، شمال مغربی سرحدی صوبہ، برطانوی ہندوستان (موجودہ خیبر پختونخوا، پاکستان) میں 23 اپریل 1930ء کو بکتر بند گاڑیوں سے حملہ اور بڑے پیمانے پر فائرنگ کا واقعہ تھا جس کے سبب بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ واقعہ تحریک آزادی ہند کے غیر معمولی واقعہ ثابت ہوا اور اس سے تحریک آزادی ہند کو طاقت نصیب ہوئی۔ برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف خان عبدالغفار خان کی غیر متشدد خدائی خدمتگار تحریک سے تعلق رکھنے والے شہر میں برطانوی ہند فوج اور مظاہرین کے درمیان یہ پہلا بڑا تصادم تھا۔ سرکاری اعدار و شمار کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 20 جبکہ پاکستانی اور بھارتی ذرائع نے 400 کے درمیان بتائی ہے۔ غیر مسلح افراد پر فائرنگ نے پورے ہندوستان میں احتجاج کو جنم دیا اور نو تشکیل شدہ خدائی خدمتگار تحریک کو شہرت ملی۔برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف پشاور شہر میں برطانوی ہند فوج اور مظاہرین کے درمیان یہ پہلا بڑا تصادم تھا۔
تحصیل لاہور (انگریزی: Lahor Tehsil) صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں واقع ہے۔اسے چھوٹا لاہور بھی کہا جاتا ہے۔دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر آباد اس شہر کی کل آبادی 35000ہے۔اس شہر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ کہتے ہیں سکندراعظم نے اسی شہر کے راستے دریائے سندھ عبور کرنے کی کوشش کی تھی اور اسے لاہور کے باشندوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اپنی تاریخ ، تہذیب ، ثقافت اور روایات کے اعتبار سے یہ شہر پنجاب کےدارالحکومت لاہور سے زیادہ ثروت مند تصور کیا جاتا ہے۔
منگلا ڈیم (Mangla Dam) پاکستان کا دوسرا بڑا بند ہے۔ دنیا میں اس کا ساتواں نمبر ہے۔ یہ ضلع میرپور اور ضلع جہلم کے موضع سلطانپور میں واقع ہے۔ دریائے جہلم کوہ ہمالیہ پیر پنجال کے دامن میں چشمہ ویری ناگ سے نکل کر سری نگر کی ڈل جھیل سے پانی لیتا ہوا دریائے جہلم سری نگر کے پاس سے گزرتا ہوا وولر جھیل میں گر جاتا ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی گذر گاہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کا مشاہدہ چکوٹھی میں لائن آف کنٹرول سےمظفر آباد اور کوہالہ تک کیا جا سکتا ہے۔ دریائے جہلم مظفر آباد میں دریائے نیلم سے دومیل کے مقام پہ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے اس جگہ کو ہی دومیل بولا جاتا ہے اور مظفرآباد ہی کے ایک مقام راڑہ مصطفیٰ آباد سے وادیٔ ناران کاغان کے کنہار دریا سے مل کر دیائے پونچھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم آزاد کشمیر ضلع میرپور کے اور ضلع جہلم کے مقام موضع سلطانپور پہنچ کر میدانی علاقہ سے بہتا ہوا جنوب مغرب کو بہتا ہوا تریموں بیراج کے مقام پر یہ دریائے چناب سے مل جاتا ہے۔یہ مغربی پنجاب کے دریاؤں میں سے اہم دریا ہے۔ یہ سارے دریا پنجند کے قریب دریائے سندھ میں مل جاتے ہیں۔ جہلم کے موضع سلطانپور کے مقام پر ایک ڈیم تعمیر کیا گیا ہے اور دریا جہلم کا پانی اس ڈیم میں آتا ہے۔ اس کو منگلا ڈیم کہتے ہیں۔ اس کا پانی آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے کام آتا ہے۔ دریائے جہلم پاکستان میں جہلم، ملکوال اور خوشاب کے میدانی علاقوں سے بہتا ہوا ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم پر1967ء میں سلطانپور گاؤں کے مقام پہ منگلا ڈیم بنایا گیا اور اس میں 5.9 ملین ایکڑ پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، اسی دریا پر 1967ء میں رسول بیراج تعمیر کیا گیا ۔ دریائے جہلم سے دو نہریں نکالی گئی ہیں، لوئر جہلم کینال 1901ء میں ضلع گجرات کے مقام رسول سے نکالی گئی، اس کی مزید دو شاخوں کھارا در مشین سے ضلع جھنگ کا شمالی حصہ سیراب ہوتا ہے، اپر جہلم 1915ء میں تعمیر کی گئی، اس کا پانی منگلا سے دریائے چناب تک جاتا ہے۔ اس ڈیم کو 2007ء میں 30 فٹ مزید بلند کیا گیا ہے۔
22 فروری 2017ء، پاک فوج نے پاکستان میں ایک نئے آپریشن 'آپریشن رد الفساد' (رَدُّالفَسَاد) کا اعلان کیا جو ملک بھر میں شروع کیا گیا۔ آپریشن کا مقصد بچے کچے دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنے، چھپے دہشت گردوں کو تلاش کرنے پر مشتمل ہے تاکہ، اب تک کی جانے والی کارروائیوں کے فوائد کو پختہ کیا جائے اور سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔پاک فضائیہ، پاک بحریہ، دیوانی مسلح افواج اور دیگر سلامتی / قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے / تاکہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کیا جا سکے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
باسفورس (انگریزی: Bosporus, Bosphorus, ترک: İstanbul Boğazı) ایک آبنائے ہے جو ترکی کے یورپی حصے (روم ایلی) اور ایشیائی حصے (اناطولیہ) کو جدا کرکے یورپ اور ایشیا کے درمیان سرحد قائم کرتی ہے۔ اس آبنائے کو آبنائے استنبول بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی سب سے تنگ آبنائے ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ مرمرہ سے ملاتی ہے (واضح رہے کہ بحیرہ مرمرہ درہ دانیال کے ذریعے بحیرہ ایجیئن سے منسلک ہے جو بحیرہ روم سے ملا ہوا ہے)۔
آئی سی سی عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ 2023-25ء
آئی سی سی عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ 2023-25ء ٹیسٹ کرکٹ کا ایک ٹورنامنٹ ہے جو آئی سی سی عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا تیسرا ایڈیشن ہے۔ اس کا آغاز جون 2023ء میں ایشیز سیریز 2023ء سے ہوا جو انگلینڈ اور آسٹریلیا کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی اور اس کا اختتام جون 2025ء میں فائنل میچ کے ساتھ ہونا شیڈول ہے جو دی لارڈز، لندن میں جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے مابین کھیلا جائے گا۔