اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں شھید ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
دی فیٹ آف دی فیوریس (انگریزی: The Fate of the Furious) 2017ء میں منظر عام پر آنے والی ایک ایکشن فلم اور جرائم فلم ہے، جس کی ہدایت کاری F. Gary Gray نے کی۔ اس فلم میں Ludacris، Tyrese Gibson، مشیل روڈریگز، ون ڈیزل اور ڈوین جانسن نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، Neal H. Moritz نے فلم سازی کی، Brian Tyler نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔
ملازمت خارجہ پاکستان کی سنٹرل سپیریئر سروسز کا حصہ ہے۔ یہ باضابطہ طور پر اکتوبر 1952 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کا پرانا نام فارن سروس آف انڈیا تھا جو 1947 سے پہلے انڈین سول سروس (برٹش انڈیا) کے اندر کام کرتی تھی۔ 1947 کے بعد، اس کی بھرتی اور ملازمین کی بھرتی بڑی تنظیم سول سروس آف پاکستان کے ذریعے کی جاتی ہے۔ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان ایک پاکستانی فقیہ اور سفارت کار تھے جنھوں نے پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد انھوں نے اپنا بین الاقوامی کیریئر جاری رکھا اور وہ واحد پاکستانی ہیں جنھوں نے عالمی عدالت انصاف کی صدارت کی۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ وہ آج تک واحد شخص ہیں جنھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور بین الاقوامی عدالت انصاف دونوں کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء – وفات: 29 جون 2026ء) ایک بھارتی عالمِ دین، مفکر اور مصنف تھے۔ بھارت کی مشہور دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلما کے عظیم سپوت اور کئی دہائیوں تک وہاں کے اعلی استاذ رہے۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن اور لکھنؤ میں واقع جامعہ امام احمد بن عرفان شہید کے صدر تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی حدیثِ نبوی کی خدمت، شرعی تعلیم اور علمی و دعوتی اداروں کی تعمیر و تاسیس میں وقف کر دی۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
وہ ٹیکس جو کسی ملک کو فتح کرنے کے بعد غیر مسلم آبادی سے وصول کیا جاتا ہے۔ جب مسلمان کسی ملک کو فتح کرتے تھے تو وہاں کی غیر مسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے کی تلقین کرتے۔ اگر وہ لوگ اسلام قبول نہ کرتے تو ان سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ جو لوگ جزیہ دیتے تھے انھیں اہل ذمہ یا ذمی کہتے تھے۔ ان کو اپنی عبادت اور مذہبی رسوم ادا کرنے میں پوری آزادی ہوتی تھی۔ اور ان کی حفاظت حکومت کا فرض ہوتا تھا۔ وہ جنگی خدمات سے بھی آزاد ہوتے تھے۔ جبکہ مسلمانوں پر جنگی خدمت فرض تھی۔ بوڑھوں، بچوں، اپاہجوں، غلاموں اور پاگلوں کو جزیہ سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا تھا۔
میاں محمد بخش (تقریباً 1830 – 22 جنوری 1907) ایک پنجابی مسلم شاعر تھے جو کھڑی شریف، کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔چک بہرام کے مشہور پسوال خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ان کی پیدائش کھڑی شریف میر پور میں ہوئی ہے ان کے اجداد میاں دین محمد جو پڑدادے ہیں اور میاں دین محمد کے چچا پیرا شاہ غازی قلندر چک بہرام گجرات سے ہجرت کر کے چک ٹھاکرہ آباد ہوئے۔ ان میں سے ایک دادے کی اولاد مانسہرہ پنجول میں آباد ہوئے۔ انھوں نے اپنی 77 سالہ زندگی میں 18 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ بالخصوص اپنی رومانوی مثنوی "سیف الملوک" کے لیے مشہور ہیں، جس میں انھوں نے داستانِ عرب شہزادہ سیف الملوک کو شعری انداز میں قلمبند کیا۔ انھوں نے رومانوی المیہ "مرزا صاحباں" بھی تحریر کیا۔ ان کا بیشتر کلام لہندی پنجابی میں ہے، سوائے ایک کتاب "یاری" کے جو فارسی میں لکھی گئی۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
سعودی عرب (رسمی نام : المملكة سعودیہ العربیہ) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے بڑے حصے پر محیط ہے، جو اسے ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ اس کی سرحد مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہے۔ شمال میں اردن، عراق اور کویت؛ مشرق میں خلیج فارس، قطر اور متحدہ عرب امارات؛ جنوب مشرق میں عمان؛ اور جنوب میں یمن۔ بحرین مشرقی ساحل سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ شمال مغرب میں خلیج عقبہ سعودی عرب کو مصر اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں کے ساتھ ساحل ہے اور اس کا زیادہ تر علاقہ خشک صحرا، نشیبی، میدان اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریاض ہے۔ یہ ملک مکہ اور مدینہ کا گھر ہے، جو اسلام کے دو مقدس ترین شہر ہیں۔
شنرِن-کوئین اسٹیشن (سائیتاما) (انگریزی: Shinrin-kōen Station (Saitama)) جاپان کے علاقے نامیگاوا، سائیتاما میں واقع ایک اسٹیشن ہے۔ اسے سنہ 1971ء میں عوامی خدمات کے لیے باضابطہ کھولا گیا۔ یہ اسٹیشن ٹوبو ریلوے کی ملکیت اور ٹوبو ریلوے کے زیرِ انتظام ہے اور اس وقت بھی زیر استعمال ہے۔ یہ اسٹیشن Tōbu Tōjō Line پر خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس اسٹیشن میں مسافروں کے لیے 4 پلیٹ فارم موجود ہیں۔ اس کے قریبی اور ملحقہ اسٹیشنوں میں ہیگاشی-ماٹ سویاما اسٹیشن اور Tsukinowa Station شامل ہیں۔
ہائپوکسیا یا اکسیجن کی کمی ، ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم کے ٹشوز مناسب آکسیجن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اچانک شروع ہونے پر، علامات میں سانس کی قلت اور تیز دل کی دھڑکن شامل ہو سکتی ہے۔ جب بیماری کی شدت میں اعتدال ہو، تو الجھن اور سر درد ہو سکتا ہے، جب کہ شدید بیماری میں جلد نیلی ہو سکتی ہے اور شخص بے حس بھی ہو سکتا ہے۔ جب بتدریج شروع ہو تو ، ابتدائی علامت میں اکثر ورزش کے ساتھ سانس کی قلت شامل ہے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
مقامی زبانوں میں ممالک، زیر نگین علاقوں اور ان کے دار الحکومتوں کی فہرست
یہ فہرست مقامی زبان میں نام ممالک و تابع علاقہ جات اور ان کے دار الحکومت (List of countries and dependencies and their capitals in native languages) ہے۔
فہرست بھارتی ریاستیں بلحاظ تحت وزن افراد
یہ فہرست بھارتی ریاستیں بلحاظ تحت وزن افراد (Indian states ranking by underweight people) ہے۔
انوار الحق کاکڑ ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جنھوں نے 14 اگست 2023 سے 3 مارچ 2024 تک پاکستان کے نگراں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔وہ مارچ 2018ء سے ایوان بالا پاکستان کے رکن ہیں۔ عبوری وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل کاکڑ نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انھوں نے سینیٹ اور اپنی سیاسی جماعت، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) دونوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا، جس کی بنیاد انھوں نے 2018 میں رکھی تھی۔
تفسیر میزان ایک شیعہ مکتب کی تفسیر ہے۔ جس کا نام المیزان فی تفسیر القرآن ہے اور عربی زبان کی شیعہ تفاسیر میں سے جامع اور مفصل ترین تفسیر مانی جاتی ہے کہ جسے سید محمد حسین طباطبائی نے لکھا ہے۔ یہ تفسیر چودھویں صدی کی تفاسیر میں سے شمار ہوتی ہے۔ یہ تفسیر ترتیبی اور روش کے لحاظ قرآن کی تفسیر قرآن کے ساتھ تفسیر ہے۔ علمی مطالب ،دقت اور عمق کی وجہ سے شیعہ و سنی علما کے درمیان مخصوص اہمیت کی حامل تفسیر ہے ۔قرآن کی تحقیق اور قرآن فہمی میں اسے معتبر منبع مانا جاتا ہے۔ بہت ہی مختصر مدت میں اس تفسیر کے متعلق دسیوں کتابیں ،سینکڑوں مقالے، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے تھیسس کافی تعداد میں لکھے جا چکے ہیں۔ اعجاز قرآن، قصص انبیا، روح و نفس، استجابت دعا، توحید، توبہ، رزق، برکت، جہاد اور احباط جیسے عمیق عناوین کی تحقیق اس کے اہم ترین موضوعات میں سے ہیں کہ جن کی تحقیق کرتے ہوئے ان سے متعلق آیات کے ذریعے مطالب بیان کیے گئے ہیں۔ اس تفسیر کی مقبولیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے اتنی کم مدت میں فارسی،انگلش،اردو،ترکی اور اسپین کی زبانوں میں اسے ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
مسجد جرینہ جسے مسجد نصر یا مسجد حیفا کبیر بھی کہا جاتا ہے، فلسطین کے شہر حیفا کی ایک قدیم تاریخی مسجد ہے جو عثمانی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ مسجد شہرِ حیفا کی قدیم بستی میں واقع ہے۔ عثمانیوں نے اس مسجد کی تعمیر 1775ء میں اس وقت کروائی جب انھوں نے جلیل کے حاکم ظاہر العمر کا اقتدار ختم کیا۔ یہ مسجد اس مہم کے قائد حسن پاشا کے اعزاز میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد، مسجد صغیر کے بعد، حیفا کی دوسری قدیم ترین مسجد ہے۔ .
سدومی (Sodomy) سدوم کا رہنے والا۔ اغلام باز سدومی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سدومیت کا ارتکاب کریں۔ سدومی عام طور پر لوگوں یا ایک شخص اور غیر انسانی جانور (bestiality) کے درمیان مقعد یا منہ سے کیا گیا جنسی عمل ہے، لیکن اس سے کسی بھی قسم کی غیرتولیدی (non-procreative) جنسی عمل کی سرگرمی کا مطلب بھی ہے۔ خالصتاً، سدومی کی اصطلاح کتاب پیدائش میں سدوم وعمورہ کی کہانی سے اخذ ہوئی تھی، جہاں اسے عام طور پر مقعد سے کیے گئے جنسی عمل کے ساتھ حوالہ دیا گیا ہے۔ بہت سے ممالک میں سدومی قوانین ان رویوں کو جرم قرار دیتے ہیں۔ مغربی دنیا میں، اس جیسے بہت سے قوانین ختم ہو چکے ہیں یا باقاعدگی سے نافذ نہیں ہیں۔
بی ایس سی (Bachelor of Science بیچلر آف سائنس) جسے مختصراً BS، BSc، SB یا ScB بھی لکھا جاتا ہے_____ سے مراد سائنس کی ڈگری یا اس کا حامل شخص ہے۔ اس ڈگری میں عمومًا سائنس کے مختلف شعبہ جات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مثلاً خردوبینی حیاتیات (حیاتی علوم /لائف سائنسیز) کے زمرے کا ایک مضمون ہے، جبکہ شماریات ٹیکنالوجی یا انجینیرنگ زمرے کا ایک مضمون ہے۔ یہ دونوں، حیاتی علوم اور ٹیکنالوجی، ذیلی تقسیم کے باوجود سائنس کی وسیع تعلیم دنیا کا حصہ ہیں۔
توپ : (Cannon) : ایک فوجی اسلحہ ہے جو وسطی دور میں خوب استعمال میں آیا۔ آج کل اس کی شکل جدید ہے۔توپ کا پہلا استعمال چین میں کیا گیا تھا بعد ازاں مسلمانوں نے توپ کو استعمال کیا اور اس کو مزید فروغ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ توپ کو جنگوں میں بھی بہت بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا اس ہتھیار نے گذشتہ جنگوں کے بر عکس تباہی پھیلانے میں مدد کی.
محمد بن عبد اللہ بن جعفر ابن ابی طالب (وفات 61 ھ / 680 عیسوی) نے امام حسین کے ساتھ جنگ کربلا میں حصہ لیا اور قتل ہوئے ۔ کچھ ذرائع کے مطابق ، وہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے بیٹے ہیں۔ وہ اور ان کے بھائی عون اپنے والد عبد اللہ بن جعفر حکم سے امام حسین کے ساتھ کربلا آئے کیونکہ ان کے والد علیل تھے اور امام کے ساتھ جانے سے معذور تھے۔
شرح الزيارة الجامعہ الكبيرہ ایک ضخیم کتاب ہے جسے احمد بن زین الدین الأحسائی نے تصنیف کیا اور انہی کی طرف فرقہ شیخیہ منسوب ہے۔ یہ کتاب “الزیارة الجامعة الکبيرة” کی شرح پر مشتمل ہے، جو اثنا عشری شیعہ کے نزدیک ایک نہایت اہم دینی متن ہے۔ اس زیارت کو ابن بابویہ قمی نے اپنی کتابوں عیون أخبار الرضا اور من لا يحضره الفقيه میں روایت کیا ہے، جبکہ طوسی نے اسے التهذيب میں نقل کیا ہے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
متناسق عالمی وقت یا UTC، بنیادی وقت کا عالمی معیار ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں گھڑیوں اور ان پہ موجود وقت کو کنٹرول کیا جاتا۔ یہ اوسط شمسی وقت کے تقریباً ایک سیکنڈ کے اندر اندر ہوتا ہے (جیسے UT1 ) 0° طول البلد پر ( IERS حوالہ میریڈیئن میں اس وقت استعمال شدہ پرائم میریڈیئن کے طور پر) اور اسے دن کی روشنی کی بچت کے وقت کے لیے ایڈجسٹ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ مؤثر طریقے سے گرین وچ مین ٹائم (GMT) کا جانشین ہے۔
بدر کی جنگ (عربی: غَزْوَةُ بَدْرٍ، اردو میں: غزوۂ بدر)، جسے قرآن اور مسلمانوں کی جانب سے یوم فرقان (عربی: يَوْمُ الْفُرْقَانْ) بھی کہا جاتا ہے، 13 مارچ 624ء (17 رمضان 2 ہجری) کو موجودہ سعودی عرب کے صوبہ مدینہ میں واقع بدر کے قریب لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں حضرت محمد نے اپنے صحابہ کی قیادت کرتے ہوئے قریش کی فوج کو شکست دی، جس کی قیادت عمرو بن ہشام کر رہا تھا، جو مسلمانوں میں ابو جہل کے نام سے مشہور تھا۔ یہ جنگ حضرت محمد اور ان کی قبیلہ قریش کے درمیان چھ سالہ جنگ کا نقطہ آغاز بنی۔ اس سے قبل، 623ء کے آخر اور 624ء کے آغاز میں مسلمانوں اور مکہ کے مشرکین کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔
روح اللہ خمینی کی ١ فروری ١٩٧٩ کو ١٤ سال کی جلاوطنی کے بعد ایران واپسی ایرانی انقلاب کا ایک اہم واقعہ تھا۔ اس نے شاپور بختیار کی عبوری حکومت کے خاتمے اور ١١ فروری ١٩٧٩ کو ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے حتمی تختہ الٹنے کی راہ ہموار کی. روح اللہ خمینی، جو ایران میں آیت اللہ خُمینی کے نام سے جانے جاتے ہیں، ایک ایرانی شیعہ مسلم مذہبی رہنما، فلسفی، انقلابی اور سیاست دان تھے۔ جلاوطنی سے قبل، خمینی شاہ کے ایک نمایاں مخالف تھے۔ ان کی واپسی پر، انھیں لاکھوں لوگوں نے خوش آمدید کہا اور ١٠ دن کے اندر انقلاب کامیاب ہو گیا۔ انقلاب کے بعد، خمینی ملک کے سپریم لیڈر بن گئے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں ملک کی سب سے اعلیٰ سیاسی اور مذہبی اتھارٹی کے طور پر تخلیق کیا گیا ایک عہدہ تھا، جو انھوں نے اپنی موت تک سنبھالا۔ خمینی کی واپسی اور اس کے بعد کے ١٠ دن اب ایران میں عشرہ فجر کے طور پر منائے جاتے ہیں.
ابو القاسم محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (12 ربیع الاول عام الفیل / اپریل 570ء یا 571ء – 12 ربیع الاول 10ھ / 8 جون 632ء) مسلمانوں کے آخری نبی ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک پیغمبر صاحب تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے کرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کے لیے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمۃ للعالمین اور آپ کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ کے پاس 610ء میں ایک روز جبرائیل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام محمد کو پہنچایا وہ یہ ہے۔
بھارت میں ریلوے اسٹیشنوں کی فہرست
یہ بھارت میں ریلوے اسٹیشنوں کی فہرست (انگریزی: List of railway stations in India) ہے۔
دیوان چاولی مشائخ المعروف بابا حاجی شیر دیوان جو بورے سے 16 کلومیٹر کی دوری پر پے اس گاؤ کا پرانا نام کھتوال کھٹوال کے نام سے منسوب رہا ہے یہ پر بابا فرید گنج شکر کی جائے پیدائش بھی بتائی جاتی ہے اور یہا پر بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ کے خاندان کے مزار بھی ہے اور بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ نے جس کنواں میں لٹک کر چلہ کیا تھا وہ بھی یہاں موجود ہے دیوان چاولی مشائخ کا مزار بہت خاص اہمیت کا حامل ہے آپ کی تاریخ شہادت 101 ہجری مزار پر رقم ہے 60 ہجری میں کربلا کا پرسوز واقع پیش آیا جس میں نواسہ رسول اولاد علی پر ہر ستم ظلم آزمایا گیا
جج یا قاضی وہ عُہدیدار جو قانون کے اعلیٰ امتحانات پاس کرنے کے بعد قانون سے کماحقہ واقفیت رکھتا ہو اور اسے کسی دیوانی یا فوجداری عدالت کی صدارت پر فائز کیا گیا ہو۔ پاکستان میں دیوانی عدالتوں کے جج سول جج کہلاتے ہیں۔ اور فوجداری، ماتحت عدالتوں کے جج مجسٹریٹ۔ البتہ فوجداری عدالت بالا سیشن جج کی عدالت ہوتی ہے۔ اور سیشن جج کو دیوانی اختیارات کی عدالت بالا کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ جج کہتے ہیں۔تمام سول جج سینئر سول جج کے ماتحت کام کرتے ہیں۔تمام ایڈیشنل سیشن جج ایک سیشن جج کے ماتحت سب کام کرتے ہیں ہیں ان کا دائرہ اختیار سیشن جتنا ہی ہوتا ہے۔سب سے پہلے سیول جج بھرتی کیے جاتے ہیں اور ہائی کورٹ خود ایڈیشنل سیشن جج بھرتی کرتی ہے۔سول جج بھرتی ہونے کے لیے یے کم ذات کم دو سال کا تجربہ وکالت میں ہونا لازمی ہے۔اس کا امتحان ان سے پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن لیتیآرکائیو شدہ بذریعہ ppscpastpapers.com تھی پر اب لاہورہائیکورٹ سیول جج کے امتحان خود لیتی ہے۔در جائے اول میں بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سورج قابلیت کے لحاظ سے ایڈیشنل سیشن جج تک ریٹائر ہو سکتا ہے۔
جامن استوائی خطے کا ایک سدا بہار درخت ہے جس کا اصل وطن پاکستان، بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا ہے۔ یہ کافی تیزی سے بڑھنے والا درخت ہے جو مناسب حالات میں 30 میٹر کی اونچائی تک پہنچ سکتا ہے۔ درخت اکثر 100 سال سے زیادہ کی عمر پاتا ہے۔ اس کے پتے گھنے اور سایہ دار ہوتے ہیں اور لوگ اسے صرف سایہ اور خوبصورتی کے لیے بھی لگاتے ہیں۔ اس کی لکڑی مضبوط نہیں ھوتی مگر قابل استعمال ہے۔اسے فرنیچر میں استعمال کیا جاتا ہے کھیلوں کا سامان بھی اس سے بنایا جاتا ہے۔جامن کے پھلوں کے رس کے داغ اگر کپڑوں پر لگ جائیں تو مشکل سے جاتے ہیں خوش ذائقہ زود ہضم اور ھردلعزیز پھل ہے۔طبی فوائد بے بہا ہیں۔جن کا ھاضمہ درست نہ ھو انھیں روزانہ نہار منہ کھانے کا مشورہ طبیب دیتے ہیں جامن کی عام طور پر دو اقسام ہیں ایک دیسی جامن اور ایک جنگلی جامن جنگلی جامن سائز میں چھوٹا لیکن ذائقے میں لاجواب ہوتا ہے۔جبکہ جنگلی جامن کے مقابلے میں دیسی جامن کا گودا زیادہ ہوتا ہے۔جو جوس بنانے کے لیے زیادہ کار آمد سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
معجم صغیر :اما م طبرانی نے معجم کے نام سے تین کتابیں لکھیں (معجم کبیر،معجم اوسطمعجم صغیر) یہ ان کی مشہور و معروف تصانیف ہیں جو علم حدیث کی بلند پایہ کتابیں سمجھی جاتی ہیں، محدثین کی اصطلاح میں معجم ان کتابوں کو کہا جاتا ہے جن میں شیوخ کی ترتیب پر حدیثیں درج کی گئی ہوں۔اس کتاب میں امام طبرانی نے اپنے شیوخ کی روایات کو جمع کیا اور ان کے ناموں کو حروف معجم پر مرتب کیا۔
اسمارٹ ٹیکنالوجیز (انگریزی: Smart Technologies) کینیڈا کے شہر کیلگری میں واقع ایک کمپیوٹنگ ہے۔ اس کا قیام سنہ 1987ء میں عمل میں آیا۔ یہ ایک عوامی سطح پر تجارت کرنے والی کمپنی ہے اور اس کے حصص Toronto Stock Exchange اور نیزڈیک پر مندرج ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس کمپنی میں تقریباً 1,042 ملازمین کام کرتے ہیں۔ Interactive whiteboard اس کی ایک قابل ذکر اور نمایاں پیداوار ہے۔
ارباز خان ( 4 اگست پیدائش 1967ء) ایک بھارتی اداکار، فلم ساز اور ڈائریکٹر ہے جو ہندی سینما میں اپنے کام کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ 1996ء میں اس نے اپنے کیرئیر کی شروعات کی۔ فلموں میں مرکزی کردار اور معاون اداکار کے طور پر کام کیا۔ اس نے بالی وڈ کی فلم پروڈکشن میں شرکت کی جو ارباز خان پروڈکشنز کے ساتھ شروع ہوئی اور فلم دبنگ 2010ء میں اس نے اپنے حقیقی بھائی سلمان خان کے ساتھ اس کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم بالی وڈ کی سب سے مشہور فلموں میں سے ایک بن گئی۔ اس فلم کو بہترین مقبول فلم نیشنل فلم ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔اس فلم میں بے شمار تفریحی سامان بھی تھا۔ اس نے ریئلٹی شو کی میزبانی بھی کی جو سونی ٹی وی سے نشر ہوتا تھا۔ خان اپنے گھرانے کا دوسرا بیٹا ہے جو بالی وڈ کے ساتھ مضبوط جڑیں رکھتا ہے۔ اس کا والد سلیم خان ایک کامیاب اسکرین مصنف ہے اور اس کی ماں سوشیلا چارک اور اس کی سوتیلی ماں ہیلن اداکارہ اور بالی وڈ رقاصہ ہے۔