اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء – وفات: 29 جون 2026ء) ہندوستانی عالمِ دین، مفکر اور مصنف تھے۔ بھارت کی دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلما کے کئی دہائیوں تک وہاں کے اعلی استاذ رہے۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن اور لکھنؤ میں واقع جامعہ امام احمد بن عرفان شہید کے صدر بھی تھے۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
علی سردار جعفری شخصیت اور فن (کتاب)
علی سردار جعفری شخصیت و فن، عقیل عباس جعفری کی اردو تصنیف ہے جس میں آپ نے مشہور و معروف ترقی پسند ہندوستانی شاعر علی سردار جعفری کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالی ہے۔
افغانستان کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصراً طالبان کہا جاتا ہے۔ نسلی اعتبار سے یہ پشتون، تاجک اور ازبک ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روس کی افغانستان میں آمد کے بعد افغان جہاد میں مجاہدین کے ساتھ مل کر لڑتے رہے۔ روس کو شکست دینے کے بعد مجاہدین کی آپس میں شدید چپقلش کے باعث 1994ء میں ظہور پانے والے تحریک اسلامی طالبان کے نام سے چند طلبہ کا گروہ تھا جسے ملا محمد عمر نے قائم کیا اور انہی کی سربراہی میں بزور بازو افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور امارت اسلامی افغانستان کے نام سے حکومت قائم کردی۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
وسیم اکرم (پیدائش: 3 جون 1966ء لاہور،پنجاب)۔ایک پاکستانی کرکٹ مبصر، کوچ اور سابق کرکٹ کھلاڑی اور پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔ وسیم اکرم کو بڑے پیمانے پر اب تک کے عظیم ترین فاسٹ باؤلرز میں شمار کیا جاتا ہے اور کئی ناقدین انھیں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے اہم بائیں ہاتھ کا فاسٹ باؤلر مانتے ہیں۔ اکتوبر 2013ء میں وسیم اکرم واحد پاکستانی کرکٹ کھلاڑی بنے جنھیں ورلڈ الیون وزڈن کرکٹرز المانک کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ہمہ وقتی ٹیسٹ میں نامزد کیا گیا تھا۔وسیم الرم پاکستان کے ایسے مایہ ناز گیند باز تھے جو بائیں ہاتھ سے گیند بازی کرنے والے دنیا کے سب سے بہتر گیند باز مانے جاتے ہیں۔ وسیم اکرم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ایک روزہ کرکٹ میں 500 سے زیادہ وکٹیں لینے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے 356 ایک روزہ میچوں میں 502 وکٹیں لیں۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وسیم اکرم کرکٹ کمنٹری کے شعبے کو اپنایا کرتے ہیں۔ انھوں نے انڈین پریمیئر لیگ میں شاہ رخ خان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈر کے باولنگ کوچ کی حثیت سے بھی اپنے فرائض ادا کیے۔کرکٹ میں انھیں وقار یونس کے ساتھ مل کر کرکٹ کے میدانوں پر دھوم مچانے کے باعث دو ڈبلیوز کے نام سے جانا گیا انھوں نے ماڈلنگ بھی کی پاکستان کرکٹ بورڈ کی دی گئی سلیکشن اور کوچنگ کی مختلف ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برا ہوتے رہے وسیم اکرم نے پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمپشائر کاونٹی، لاہور، لنکاشاِئر،پاکستان آٹوموبائلز کارپوریشن،پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی طرف سے کرکٹ کھیلی اور ہر جگہ اپنی مہارت کا مظاہرہ سامنے آیا۔وسیم اکرم کے والد چوہدری محمد اکرم کا تعلق امرتسر کے قریب ایک گاؤں سے تھا جو 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستانی پنجاب کے علاقے کامونکی چلے آئے تھے۔ وسیم اکرم نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج، سول لائنز، لاہور سے اپنی تعلیم مکمل کی۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
بلوچ ایک کثیر النسل قوم ہے بلوچوں کی تاریخ تقریباً 5000 سال پرانا ہے۔ ایران سے ملنے والے مختلف چیزیں آج کے موجود بلوچوں سے ملتے جلتے ہیں بلوچوں نے تقریباً 5000 سال پہلے مال مویشی کرنا سیکھ لیا تھا اس بات کا ثبوت ترکی کے قدیم تاریخ بتاتی ہیں۔ بلوچوں کا جد جسے حمزہ سیستانی کہتے ہیں وہ دراصل سیستان و بلوچستان میں رہتا تھا۔ بلوچوں کی مادری زبان بلوچی ہے لیکن کچھ بلوچ دوسری زبانیں بھی بولتے ہیں۔ بلوچ بنیاد میں دو قبیلوں میں مشتمل ہے براھو اور بلوچک، دونوں قبائل بلوشگان کے اولاد ہیں جو شمالی ایران اور زاگرس کے پہاڑوں میں رہتے تھے۔
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سے مراد پاکستان کی مسلح افواج کی طبقہ اشرافیہ کے گٹھ جوڑ، پاکستانی انٹیلی جنس کمیونٹی اور دیگر فوج کے حمایتی فوجی حکومتی اہلکار اور عام شہری ہیں۔ مختلف فوجی بغاوتوں کے لیے ذمہ دار، فوجی تسلط والی اسٹیبلشمنٹ نے 1947 میں اپنے وجود کے تقریباً نصف عرصے براہ راست حکومت کی ہے، جب کہ بقیہ عرصے میں سیاسی قیادت پر اکثر خفیہ تسلط قائم کیا ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ میں ملک کی فوجی اور انٹیلی جنس سروسز، قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اس کی خارجہ اور ملکی پالیسیوں کے اہم فیصلہ ساز شامل ہیں، جن میں جنرل محمد ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے دوران جارحانہ اسلامائزیشن کی ریاستی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔
پاکستانی صحافی، دانشور اور کالم نویس۔ ارشاد حقانی 6 ستمبر 1928ء کو قصور میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی نوجوانی میں جماعت اسلامی سے وابستہ رہے اور پچاس کے دہائی میں انھوں نے جماعت اسلامی کے جریدے ’تسنیم‘ کے لیے بھی کام کیا۔ 1956ء ماچھی گوٹھ میں ہونے والی اجتماع میں ارشاد احمد حقانی امین احسن اصلاحی کے ہمراہ جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے تھے۔ انھوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز گورنمنٹ کالج قصور میں بحیثیت لیکچرار کیا۔ 1981ء میں جب لاہور سے جنگ اخبار کی اشاعت شروع ہوئی تو وہ اس کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ ارشاد احمد حقانی روزنامہ جنگ کے سینئر مدیر رہے اور ان کا کالم ’حرف تمنا‘ کے عنوان سے شائع ہوتا رہا۔ 1996ء میں جب صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی تو ملک معراج خالد کی نگران کابینہ میں وزیر اطلاعات بھی رہے۔ موصوف طویل عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلاء تھے۔ ارشاد احمد حقانی کا انتقال 24 جنوری 2010ء کو ہوا۔ مرحوم کو قصور میں موجود ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
قاری شاکر قاسمی 1943ء کو پیدا ہوئے، بچوں کے ٹیلی ویژن پروگرام اقرا کے میزبان تھے ، جس میں قرآنی عربی کی صحیح تلاوت اور تلفظ کے بارے میں اسباق اور مشقیں فراہم کی جاتی تھیں ۔ یہ پروگرام 1978ء سے 1985ء تک پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (PTV) پر دوبارہ نشر ہوا اور دوبارہ چلایا گیا۔ بعد میں اس کی میزبانی قاری وحید ظفر قاسمی (ان کے چھوٹے بھائی) نے کی اور اس کے بعد قاری خوشی محمد نے میزبانی کی۔ .
پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔سبز رنگ اسلام اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور الم کو ظاہر کرنا ہے۔کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′، 18′+12′، 10′+6-2/3′، 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لیے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے۔ پاکستانی پرچم کو پاکستانی آئین ساز اسمبلی نے 11 اگست 1947ء کو آزادی سے 3 دن قبل اپنایا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان ایک آزاد ریاست بنا تبھی اسے ڈومنین پاکستان کا قومی پرچم تسلیم کر لیا گیا۔
سلطنت عثمانیہ عثمان اول نے بطور بیلیک (بیگ کے دائرہ اختیار میں آنے والا علاقہ) کے شمال مغربی ایشیائے صغری میں، بازنطینی دار الحکومت قسطنطنیہ کے ٹھیک جنوب میں قائم کی۔ عثمانیوں نے 1352ء میں پہلی بار یورپ کو عبور کیا، 1354ء میں در دانیال میں قلعہ جنبی میں مستقل نو آبادی کی بنیاد رکھی اور اپنا دار الحکومت ادرنہ سے 1369ء میں منتقل کر لیا۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
یزید کے دربار میں زینب بنت علی کا خطبہ
واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ قیدی بنا کر کئی شہروں سے گزار کردمشق لے جائی گئیں۔ انھوں اس سفر اسیری میں کئی خطبے دیے ان میں سے ایک خطبہ یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا۔ ان کے دیگر فصاحت و بلاغت سے بھرپور خطبات کی طرح ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس نے یزید کے دربار پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔ یزید کی محفل میں جب بی بی زینب (سلام اللہ علیہا) کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انھوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا ”اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!“ پھر یہ معروف خطبہ دیا جس نے دشمن حسین کے مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔ راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔“ یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: ”اے یزید!
چائنا ریڈیو انٹرنیشنل (China Radio International), 中国国际广播电台، عوامی جمہوریہ چین کا سرکاری ریڈیو اسٹیشن ہے جس کی نشریات کا آغاز 3 دسمبر 1941ء کو ہوا۔ چائنا ریڈیو انٹرنیشنل دنیا کی تینتالیس زبانوں میں پروگرام نشر کر رہا ہے۔ اس کی نشریات کا مقصد دنیا کے ساتھ چین کو متعارف کرانا اور چینی عوام اور دنیا کے عوام کے مابین واقفیت اور دوستی میں اضافہ کرنا ہے۔ چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی ویب گاہ www.cri.cn چین کی خبروں کہ اہم سرکاری ویب سائٹوں میں سے ایک ہے۔ دنیا میں ایک سو ساٹھ سے زائد ممالک اور علاقوں کے لوگ اس ویب گاہ سے مستفید ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر پروگراموں کا دورانیہ دو سو اکیس اعشاریہ پانچ گھنٹے ہے اور اسے روزانہ سننے والوں کی تعداد سات لاکھ ہے۔
سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ(32ق.ھ/ 5ھ) قبیلہ بنو اشہل کے سردار اورمعزز صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے رہنے والے تھے ۔آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لے جانے سے پہلے ہی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ بھیج دیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دیں اور غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرتے رہیں۔ چنانچہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دامن اسلام میں آگئے اور خود اسلام قبول کرتے ہی یہ اعلان فرما دیا کہ میرے قبیلہ بنو عبدالاشہل کا جو مرد یا عورت اسلام سے منہ موڑے گا میرے لیے حرام ہے کہ میں اس سے کلام کروں۔آپ کا یہ اعلان سنتے ہی قبیلہ عبدالاشہل کا ایک ایک بچہ دولت اسلام سے مالا مال ہو گیا۔ اس طرح آپ کا مسلمان ہو جانا مدینہ منورہ میں اشاعت اسلام کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادر اور انتہائی نشانہ باز تیر انداز بھی تھے ۔ غزوہ بدر اور غزوۂ احد میں خوب خوب دادِ شجاعت دی،مگرغزوہ خندق میں زخمی ہو گئے اور اسی زخم میں شہادت سے سر فراز ہو گئے۔آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے نیزہ لے کر جوش جہاد میں لڑنے کے لیے میدان جنگ میں جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام ”اکحل”ہے کٹ گئی ۔آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آپ کے ليے مسجد نبوی شریف میں ایک خیمہ گاڑا اور آپ کا علاج شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے دو مرتبہ ان کے زخم کو داغا اور ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن آپ نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی : ”یا اللہ! تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے مجھے جنگ کرنے کی اتنی تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنھوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا، اے اللہ ! عزوجل میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے زندہ رکھنا تاکہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جنگ کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے شہادت عطا فرما دے ۔ ” خدا کی شان کہ آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہہ کر مسجد نبوی میں بنی غفار کے خیمے کے اندر پہنچ گیا۔ ان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو!یہ کیسا خون ہے جو تمھاری طرف سے بہ کر ہماری طرف آرہا ہے؟ جب لوگوں نے دیکھا تو سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون جاری تھا اسی زخم میں آپ کی شہادت ہو گئی ۔ عین وفات کے وقت ان کے سرہانے حضور انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ جان کنی کے عالم میں انھوں نے آخری بار جمال نبوت کا دیدار کیا اور کہا : السلام علیک یا رسول اللہ!
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
علی بن محمد باقر بن علی حسینی سیستانی (عربی: علي بن محمّد باقر بن علي الحُسَينيّ السيسْتانيّ؛ پیدائش 4 اگست 1930ء) عراق کے شہر نجف کی حوزۂ علمیہ کے سربراہ اور ممتاز اسلامی عالم ہیں۔ وہ آیت اللہ العظمیٰ کے رتبے پر فائز ہیں اور اصولی اثنا عشری شیعہ مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
طسم اور جديس طسم اور جدیس جزیرہ نما عرب کی عربِ بائدہ (یعنی وہ قدیم عرب قبائل جو ماضی میں فنا ہو گئے) میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ قبائل لاوذ بن إرم بن سام بن نوح کی نسل سے تھے اور عہدِ قدیم میں الیمامہ کے علاقے (موجودہ سعودی عرب) میں آباد تھے۔ ان کا شمار عاد، ثمود اور عمالیق جیسی بڑی اور قدیم عرب اقوام میں ہوتا ہے۔
چالیس چراغ عشق کے ترکی، انگریزی، اردو اور عربی میں شائع ایک مقبول ناول کا عنوان ہے۔ یہ ناول ترکی کی مشہور ناول نگار ایلف شفق کا سب سے مشہور ناول ہے۔ ایلف شفق کے اس مشہور ناول کا اردو ترجمہ ’’چالیس چراغ عشق کے ‘‘ نام سے ہما انور نے کیا ہے۔ اس ناول کا پلاٹ جلال الدین رومی اور ان کے پیر و مرشد شمس تبریز کے ارد گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول ساڑھے سات لاکھ کی تعداد میں شائع ہوا اور ترکی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔
تنظیم اسلامی پاکستان کی اہم اسلامی جماعتوں میں سے ایک ہے۔ اس جماعت کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد ہیں۔ تنظیم اسلامی پاکستان میں نظام خلافت کے قیام کی خواہاں ہے۔ اس کا مرکزی دفتر لاہور، پاکستان میں واقع ہے۔ تنظیم اسلامی منہج انقلاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق انقلاب کے لیے کوشاں ہے۔ یہ تنظیم مولانا محمود حسن دیوبندی کی تمنا اور خواہش کے مطابق رجوع الی القرآن اور آپس کے اختلاف سے اجتناب کرتے ہوئے قرآنی تفہیم کو عام کرنے کے مشن پر بھی گامزن ہے۔ اس تنظیم کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ہیں اور موجودہ امیر شجاع الدین شیخ حفظہ اللہ ہیں۔ تنظیم اسلامی کا ایک امیر ہوتا ہے جبکہ تمام ارکان کو رفقائے تنظیم اسلامی کہا جاتا ہے۔ یہ تنظیم بیعت کی مسنون بنیاد پر قائم ہے۔ چنانچہ تنظیم اسلامی میں شمولیت کے لیے عہدرفاقت اور بیعت لی جاتی ہے۔
استادیو آزتیکا، ایک فٹ بال اسٹیڈیم ہے جو میکسیکو سٹی میں واقع ہے۔ یہ فٹ بال کلبوں کلب امریکا اور کروز ازول کے ساتھ ساتھ میکسیکو کی قومی ٹیم کا سرکاری میدان ہے۔ سطح سمندر سے اسٹیڈیم کی بلندی 2,200 میٹر (7,200 فٹ) ہے۔ 87,523 کی گنجائش کے ساتھ، یہ میکسیکو اور لاطینی امریکہ کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے اور دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا ایسوسی ایشن فٹ بال اسٹیڈیم ہے ۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء) اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔ سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔ ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔ آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔ سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔، .
علامہ خادم حسین رضوی (22 جون 1966ء-19 نومبر 2020ء نکہ کلاں پنڈی گھیب) بریلوی مکتب فکر کے عالم دین اور مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے بانی تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل خادم حسین لاہور میں محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب تھے۔ ممتاز قادری کی سزا پر عملددرآمد کے بعد انھوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی، جس کی پاداش میں محکمہ اوقاف نے ان کو ملازمت سے نکال دیا۔
مریم نواز شریف (پیدائش 28 اکتوبر 1973ء) ایک پاکستانی سیاست دان ہے، جو اس وقت پنجاب کی وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے والی پہلی خاتون ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی ہیں اور ابتدائی طور پر خاندان کی مخیر تنظیموں میں شامل تھیں۔ تاہم، 2012ء میں، وہ سیاست میں داخل ہوئیں اور 2013ء کے عام انتخابات کے دوران انھیں انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا۔ 2013ء میں انھیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ تاہم، انھوں نے 2014ء میں ان کی تقرری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ ڈیپارٹمنٹ
ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ ڈیپارٹمنٹ Military Lands and Cantonments Department( ML&C ) پاکستان میں وزارت دفاع کا ایک ایگزیکٹو محکمہ ہے۔ اس کا مشن عوام کے حامی، چھاؤنیوں میں موثر مقامی گورننس اور موثر دفاعی زمینی انتظام کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان بھر میں، 11 ملٹری اسٹیٹ (ME) سرکلز اور 44 چھاؤنیاں ہیں جو 306,341 ایکڑ اراضی پر محیط ہیں۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق، تقریباً 4.7 ملین لوگ چھاؤنیوں میں رہتے ہیں۔
ساہیوال پنجاب کا ایک خوبصورت اور سرسبز و شاداب شہر ہے۔ اس کا پرانا نام منٹگمری تھا۔ یہاں جٹ قوم کی گوت ساہی قوم کی اکثریت کی وجہ سے شہر کا نام ساہیوال پڑا۔ ساہیوال کی نیلی بار کی گائے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ساہیوال ایک پر امن شہر ہے۔ جوگی چوک شہر کا انتہائی مصروف حصہ ہے۔ انگریزوں کے زمانے سے پہلے بھی اس کا نام ساہیوال ہی تھا۔ انگریزوں نے تبدیل کر کے منٹگمری رکھا تھا۔ جسے بعد میں پھر ساہیوال کر دیا گیا تھا۔ کیونکہ انگریزوں کی یہاں کی ایک قوم ’’ساہی‘‘ سے اچھی نہ بنتی تھی۔ کینال کالونی، کنال پارک اور اسٹیڈیم کے آس پاس کا علاقہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور ابهى حال ہی میں ايک نيا فريدیہ پارک كو خوبصورت بنايا اور تفريح كا اور جهولوں كا اضافہ كيا جو كہ ساہيوال كو اور خوبصورت بناتا ہے۔ ساہيوال كا لڑكوں كا كالج بهى بہت مشہور ہے۔ ساہیوال کی بھینس پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اتفاق شوگر ملز، اینگرو وغیرہ بھی ساہیوال میں ہے۔ ساہیوال ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم بھی کافی بڑا ہے ساہیوال کی سنٹرل جیل بھی تاریخی لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس جیل میں قید رہنے والوں میں ذوالفقار علی بھٹو، جواہر لال نہرو، فیض احمد فیض اور دیگر کئی مشہور شخصیات بھی یہاں قید رہیں۔
ہندوستان میں ایک ہزار سال سے زیادہ کے ارتقا میں تصوف کی ایک تاریخ ہے۔تصوف کی موجودگی ایک سرفہرست ادارہ رہا ہے جس نے پورے ایشیا میں اسلام کی رسائی کو بڑھایا ہے۔آٹھویں صدی کے اوائل میں اسلام کے داخلے کے بعد ، دہلی سلطنت کی 10 ویں اور 11 ویں صدی کے دوران اور اس کے بعد باقی ہندوستان تک صوفی تصوف روایات زیادہ واضح ہوئیں۔ابتدائی دہلی سلطنت میں چار تاریخی طور پر علاحدہ علاحدہ خاندانوں کا ایک اتحاد ، ترک اور افغانی ملکوں کے حکمرانوں پر مشتمل تھا۔ اس فارسی اثر و رسوخ نے جنوبی ایشیاء کو اسلام ، صوفی فکر ، ہم آہنگی والی اقدار ، ادب ، تعلیم اور تفریح سے دوچار کیا جس نے آج ہندوستان میں اسلام کی موجودگی پر پائیدار اثرات مرتب کیے ہیں۔صوفی مبلغین ، سوداگر اور مشنری بھی سمندری سفر اور تجارت کے ذریعہ ساحلی بنگال اور گجرات (بھارت) میں آباد ہوئے۔ صوفی احکامات کے متعدد رہنماؤں ، طریقت نے تصوف کے توسط سے مقامات کو اسلام سے متعارف کروانے کے لیے پہلی منظم سرگرمی کی خدمات حاصل کیں۔ سینٹ شخصیات اور خرافاتی کہانیاں اکثر ہندوستان کے دیہی دیہات میں ہندو ذات کی برادریوں کو راحت بخش اور متاثر کرتی ہیں۔ آسمانی روحانیت ، کائناتی ہم آہنگی ، محبت اور انسانیت کی صوفی تعلیمات عام لوگوں کے ساتھ گونجتی ہیں اور آج بھی ہے۔ مندرجہ ذیل مشمولات تصوف اور اسلام کے باطنی تفہیم کو پھیلانے میں مدد دینے والے متعدد اثرات پر گفتگو کرنے کے لیے ایک موضوعاتی نقطہ نظر اپنائیں گے ، جس سے ہندوستان آج صوفی ثقافت کا عصری مرکز بنے گا۔ تین صوفی احکامات ہیں:- 1. سلسلہ - صوفیوں نے بہت سارے آرڈر تشکیل دیے۔ تیرہویں صدی تک ، اس میں 12 سلیسلہ تھے۔ 2. خانقاہ۔ صوفی بزرگ خانقاہ میں رہتے ہیں۔ مذاہب کے عقیدت مند ان خانقاہوں پر اولیاء کرام کی سعادت حاصل کرنے آئے تھے۔ 3.
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
دہلی اردو اخبار دہلی سے اردو زبان میں شائع ہونے والا ایک ہفت روزہ اخبار تھا جسے مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے 1837ء میں شائع کیا۔یہ دہلی کا پہلا اردو اخبار تھا۔ اس اخبار کے ذریعہ ہمیں اس عہد کی سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ ادبی اور علمی سرگرمیوں کا حال بھی معلوم ہوتا ہے۔ اخبار کی ماہانہ قیمت 2روپے اور زر سالانہ 20روپے تھا۔ اس کا پہلا نام ’اخبار دہلی‘تھا لیکن10مئی 1840(نمبر 168جلدنمبر3)سے اس کا نام ’دہلی اردو اخبار ‘ہو گیا۔نام کی تبدیلی کے ساتھ کاغذ قدرے سفیداور کتابت قدرے جلی اور کشادہ ہو گئی۔ 12جولائی 1857کو نمبر 28جلد 19سے اس کا نام بہادر شاہ ظفر کے حکم پر ’اخبار الظفر‘کر دیا گیا۔ اخبار کا نمبر اور جلد کا شمار وہی رہا جو ’دہلی اردو اخبار‘ کاتھا اور یہ کھل کر انگریزوں کی مخالفت اور بہادر شاہ ظفر کی حمایت کرنے لگا لیکن جنگ آزادی کی ناکامی، مغلیہ سلطنت کی تاراجی کے ساتھ اور انگریزوں کی جانب سے مولوی محمد باقر کو گولی مار کر شہید کر دینے کے بعد بالآخر اس اخبار کی زندگی بھی 16ستمبر1857کو ختم ہو گئی۔
تہران کا میٹرو سسٹم کل سات لائنوں پر مشتمل ہے۔ مئی 2023ء تک 150 اسٹیشنوں کے ساتھ 7 لائنیں (لائنز 1–7) ہیں، جن میں سے چھ میٹرو سروس لائنیں (لائنز 1–4 اور 6 اور 7) کام کر رہی ہیں۔ امام خمینی اسٹیشن پر لائنیں 1 اور 2 ایک دوسرے کو عبور کرتی ہیں۔ لائن 5 ایک مضافاتی ریل لائن ہے جو تہران (صدیغیہ) اسٹیشن پر لائن 2 سے ملتی ہے۔ یہ کاراج کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے اور کاراج شہر کی ریل لائن سے منسلک ہے اور امام خمینی ایئرپورٹ ایک میٹرو ایکسپریس ہے۔
محمد جلال الدین رومی (پیدائش:1207ء) ایک مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز(یہ اصل میں مولانا کا ہی دیوان ہے لیکن اشعار میں زیادہ تر شمس تبریز کا نام آتا ہے اس لیے اسے انھی کا دیوان سمجھا جاتا ہے) ان کی معروف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، ان کا مکان پیدائش ایران ہے اور ان کا مزار قونیہ،ترکی میں واقع ہے۔
آم ایک کھانے کے قابل پتھر کا پھل ہے جو اشنکٹبندیی درخت Mangifera indica سے پیدا ہوتا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا شمال مغربی میانمار، بنگلہ دیش اور شمال مشرقی ہندوستان کے درمیان کے علاقے سے ہوئی ہ M. indica قدیم زمانے سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کاشت کی جاتی رہی ہے جس کے نتیجے میں آم کی دو اقسام ہیں: "انڈین قسم" اور "جنوب مشرقی ایشیائی قسم"۔ منگیفیرا کی نسل میں دیگر انواع بھی کھانے کے قابل پھل پیدا کرتی ہیں جنھیں "آم" بھی کہا جاتا ہے، جن کی اکثریت ملیشیائی ماحولیات میں پائی جاتی ہے۔
راجپوت جس کے معانی راجاؤں کے بیٹے کے ہیں اور وہ اپنا سلسلۂ نسب دیو مالائی شخصیات سے جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ابتدا اور اصلیت کے بارے میں بہت سے نظریات قائم کیے گئے ہیں۔ ایشوری پرشاد کا کہنا ہے کہ وہ ویدک دور کے چھتری ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ سیھتن اور ہن حملہ آوروں میں سے بعض راجپوتانہ میں مقیم ہو گئے تھے اور انھوں نے اور گونڈوں اور بھاروں کے ساتھ برہمنی مذہب کو قبول کرکے فوجی طاقت حاصل کر لی تھی۔
طارق جمیل (معروف بہ مولانا طارق جمیل) ایک پاکستانی مبلغ اور عالمِ دین ہیں۔ اُن کا تعلق خانیوال، صوبہ پنجاب کے شہر تلمبہ سے ہے جو میاں چنوں کے قریب واقع ہے۔ وہ تبلیغی جماعت کے رکن ہیں اور فیصل آباد، پاکستان میں ایک مدرسہ چلاتے ہیں۔ اُن کی تبلیغی کوششوں کے باعث بہت سے گلوکار، اداکار اور کھلاڑی دینِ اسلام کی طرف راغب ہوئے۔ آگر آپکو نیکیہ بتانا ہے تو اللہ کا ہے ذکر کرنا چاہیے ذکر آسانی سے کرنے کے لیے اس ٹول کو استمال کیجیے
پاکستان کے سفارتی مشنوں کی فہرست
یہ پاکستان کے سفارتی مشنوں کی فہرست اعزازی قونصل خانے کو چھوڑ کر ہے۔