اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
جون ایلیا (14 دسمبر، 1931ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
گالاتا پل (ترکی زبان: Galata Köprüsü) شاخ زریں، استنبول، ترکی میں واقع ایک پُل ہے۔ جو زمانۂ قدیم سے مختلف صورتوں میں اس کھاڑی پر مختلف صورتوں میں موجود رہا ہے اور آج جو پل اس مقام پر قائم ہے وہ پانچواں پل ہے۔ غلاطہ پل خصوصاً 19 ویں صدی کے اواخر سے ترک ادب، تھیٹر، شاعری اور ناولوں کا حصہ بنتا رہا ہے۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
شانگلہ پاکستان کے خیبر پختونخوا میں واقع ایک ضلع ہے۔ انتظامی طور پر ضلع شانگلہ پانچ تحصیلوں الپوری تحصیل پورن تحصیل بشام، تحصیل چکیسر۔ تحصیل۔ مارتونگ یہاں کے اہم مقامات ہیں۔ جبکہ بشام ضلع شانگلہ کا مرکزی شہر اور دنیا کے آٹویں عجوبے شاہراقراقرم پر واقع ہے۔ بشام شہر چو بیس گھنٹے کھلا رہنے والا شہر ہے اور یہ شہر بٹگرام، کوہستان، تورغر اور شانگلہ کے سنگم پر واقع ہے اور کاروباری مرکز ہے۔ ضلع شانگلہ کے ضلعی دفاتر الپوری میں واقع ہیں۔ سرکاری طور پر ضلع متعین ہونے سے پہلے شانگلہ ضلع سوات کی ایک تحصیل تھا اور یکم جولائی 1995ء کو اسے ضلع بنا دیا گیا۔ اس ضلع کا کل رقبہ 1586 مربع کلومیٹر ہے انسانی ترقی کے پیمانے میں شانگلہ کا شمار ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں یہ سب سے پسماندہ جبکہ پاکستان میں یہ دوسرا سب سے پسماندہ علاقہ ہے Shangal is the only district in Pakistan which Cover 85% Of Its area in forest .
الملہوف علی قتلی الطفوف (کتاب)
"الملہوف علی قتلی الطفوف" کا موضوع کربلا کے مصائب اور حسین ابن علی کی سانحہ كربلا میں شہادت ہے۔ اہل تشیع کے مطابق واقعہ کربلا پر ایک مشہور اور مستند ترین مقتل کی کتاب ہے۔ اسے معروف اہل تشیع عالم دین، سید رضی الدین علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاؤس المعروف بہ سید بن طاووس حلی (متوفی 664ھ) نے تالیف کیا ہے۔ یہ کتاب مسافروں اور حسین ابن علی کے زائرین کے لیے لکھی گئی تھی۔ اسی لیے اختصار کے پیش نظر اس کی روایات کے سلسلہ اسناد کو حذف کر کے صرف آخری راوی یا روایت کے ماخذ کو ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کی غیر معمولی اہمیت اور مؤلف کے مقام و منزلت کی وجہ سے اس کتاب کا مختلف زبانوں میں بارہا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
2024ء کی بالی ووڈ فلموں کی فہرست
یہ 2024ء کی بالی ووڈ فلموں کی فہرست (انگریزی: List of Hindi films of 2024) ہے۔
ایچ ایم ایس راولپنڈی ایک برطانوی مسلح مرچنٹ کروزر تھا (ایک تبدیل شدہ سمندری لائنر جو قافلے کے محافظ کے طور پر، گشتی جہاز کے طور پر یا ناکہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا) جو جرمن جنگی جہاز Scharnhorst اور Gneisenau کے خلاف سطحی کارروائی میں ڈوب گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم۔ اس کا کپتان ایڈورڈ کورلی کینیڈی تھا۔
رابرٹ جارج ہالینڈ (پیدائش:19 اکتوبر 1946ءکیمپر ڈاؤن، سڈنی، نیو ساؤتھ ویلز)|وفات:17 ستمبر 2017ءنیو کیسل، نیو ساؤتھ ویلز،) نیو ساؤتھ ویلز اور آسٹریلوی کرکٹ کھلاڑی تھے۔ وہ اپنی کنیت کی وجہ سے "ڈچی" کہلاتا تھا ہالینڈ، جس نے اپنی کرکٹ کی زندگی کا بیشتر حصہ نیو کیسل میں گزارا اور وہ 38 سال کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد سب سے زیادہ عمر رسیدہ آسٹریلوی ڈیبیو کرنے والا بنا۔ نیو ساؤتھ ویلز کے سلیکٹرز نے ہالینڈ کو ریاست کی لیگ اسپن باؤلنگ کی طویل روایت کو جاری رکھنے کے لیے بلایا۔ اس نے تیزی سے بولنگ اٹیک کا ایک لازمی حصہ بنایا جس نے ریاست کو 1980ء کی دہائی میں شیفیلڈ شیلڈ میں اہم مقامی ٹیم بنا دیا۔ مرے بینیٹ (بائیں بازو کے آرتھوڈوکس) اور گریگ میتھیوز (آف اسپن) کے ساتھ اسپن پر مبنی حملے کی تشکیل کرتے ہوئے، ہالینڈ اس ٹیم کا حصہ تھا جس نے 1982-83ء 1984-85ء اور 1985-86ء میں شیفیلڈ شیلڈ جیتا تھا ہالینڈ نے اپنا اول درجہ کیریئر نیوزی لینڈ کی مقامی لیگ میں ویلنگٹن کے ساتھ ایک سیزن کے ساتھ ختم کیا۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
اکشئے کمار ایک بھارتی فلمی اداکار ہے۔ وہ سابق میں تھائی لینڈ میں خانساماں تھے۔ انھوں نے مارشل آرٹس میں ٹریننگ حاصل کی تھی۔ بالی ووڈ کے لیے انھوں نے ایک فوٹو شوٹ کروائی تھی جو اتفاق سے فلمی ہدایت کاروں کی جانب سے پسندیدگی سے دیکھی گئی اور اس سے ان کا فلمی سفر شروع ہوا۔ وہ ایک ایکشن ہیرو کی امیج رکھتے ہیں۔ ان کی شادی مشہور اداکارہ ٹونکل کھنہ سے ہوئی۔
گوجرانوالہ (پنجابی: گجرانوالا) پاکستان میں واقع گوجرانوالہ ڈویژن کا ایک شہر اور دار الحکومت ہے۔ اسے "پہلوانوں کا شہر" بھی کہا جاتا ہے اور یہ اپنے کھانے کے لیے کافی مشہور ہے۔ یہ کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی کے بعد بالترتیب 5 واں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ 18ویں صدی میں قائم ہونے والا، گوجرانوالہ شمالی پنجاب کے کئی قریبی ہزاروں سال پرانے شہروں کے مقابلے نسبتاً جدید شہر ہے۔ یہ شہر 1763 اور 1799 کے درمیان شُکر چکیا مثل کا دار الحکومت کے رہا اور یہ سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجيت سنگھ کی جائے پیدائش ہے۔
روح الحیات دراصل حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے پند و نصائح کا مجموعہ ہے۔ جس کے موئف علامہ محمد باقر مجلسی علیہ رحمہ ہے۔ یہ کتاب عین الحیوة کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب کے مترجم مولانا سید علی حسن اختر صاحب امروہوی ہے۔ یہ کتاب پندرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ ہندوستان میں یہ کتاب عباس بک ایجنسی نے فروری 2001ء میں شائع کیا۔
سماجی اضطراب کی خرابی ( SAD )، جسے سماجی فوبیا بھی کہا جاتا ہے،جس کی خصوصیات میں ، سماجی حالات کا ضرورت سے زیادہ خوف یا اضطراب شامل ہے- یہ خو ف کہ دوسروں کی جانب سے ان کے بارے میں منفی انداز میں فیصلہ کرنے کے امکانات موجود ہیں ۔ دیگر علامات میں دھیما بولنا اور آنکھ سے رابطہ کم کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ علامات اس حد تک ہوتی ہیں کہ وہ کام کاج کو متاثر کرتی ہیں یا پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ پیچیدگیوں میں ڈپریشن ، منشیات کا غلط استعمال اور خودکشی کے خیالات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کا امتزاج شامل ہے.
معاویہ بن ابی سفیان (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔
وادی یاسین پاکستان کے صوبہ گلگت و بلتستان کے سلسلہ کوہ ہندوکش میں واقع ہے۔ حوالدار لالک جان شہید کا تعلق بھی اسی وادی تھا۔ انھوں نے 15 ستمبر 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کیاتھا۔ وادی یاسین میں کھوار اور بروشسکی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لوگوں کی شکل و صورت چترالیوں سے ملتی ہے اور وادی یاسین اور چترال کی بہت سی تہواروں میں اشتراک پایا جاتا ہے۔-
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
جمعہ کی نماز فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ موکد ہے۔ یعنی ظہر کی نماز سے اس کی تاکید زیادہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالٰیٰ اس کے دل پر مہر کر دے گا اور ایک روایت میں ہے وہ منافق ہے اور اللہ سے بے علاقہ۔ اور چونکہ اس کی فرضیت کا ثبوت دلیل قطعی سے ہے لہٰذا اس کا منکر کافر ہے ۔
سلطان محمود غزنوی کے تین بیٹے محمد غزنوی ، مسعود غزنوی اور عزالدولہ عبدالرشید غزنوی تھے۔ سلطان کا سب سے بڑا بیٹا محمد غزنوی تھا اس لیے اس نے مرتے وقت بڑے بیٹے کو سلطان بنانے کی وصیت کی تھی۔ مسعود غزنوی فوج میں مقبول تھا اس لیے اس نے 1030ء میں ہی بھائی کو گرفتار کر لیا اور اسے اندھا کر کے قید خانے میں ڈال دیا اور خود غزنی کے تخت پر قابض ہو گیا۔
اسکاٹ لینڈ کے ایک روزہ کرکٹ کھلاڑیوں کی فہرست
1999ء میں اسکاٹ لینڈ کے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی کے بعد سے 86 کھلاڑی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ایک روزہ بین الاقوامی ایک بین الاقوامی کرکٹ میچ ہے جو دو نمائندہ ٹیموں کے درمیان ہوتا ہے، ہر ایک کو ایک روزہ بین الاقوامی کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل طے کرتا ہے۔ ون ڈے ٹیسٹ میچوں سے اس لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کہ فی ٹیم اوورز کی تعداد محدود ہوتی ہے اور یہ کہ ہر ٹیم کی صرف ایک اننگز ہوتی ہے۔ فہرست کو اس ترتیب سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں ہر کھلاڑی نے اپنی پہلی ون ڈے کیپ جیتی ہے۔ جہاں ایک سے زیادہ کھلاڑی ایک ہی میچ میں اپنی پہلی ایک روزہ بین الاقوامی کیپ جیتتے ہیں، ان کھلاڑیوں کو حروف تہجی کے لحاظ سے کنیت کے مطابق درج کیا جاتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ نے 1999ء کرکٹ ورلڈ کپ میں اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلا۔ جنوری 2006ء کے بعد سے، سکاٹ لینڈ کو سرکاری ایک روزہ بین الاقوامی کا درجہ حاصل ہے، یعنی اس تاریخ کے بعد وہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے خلاف، ایک روزہ بین الاقوامی کا درجہ رکھنے والی کسی دوسری ٹیم کے خلاف کھیلتا ہے، وہ ایک آفیشل ایک روزہ بین الاقوامی ہے۔ آئی سی سی فی الحال ورلڈ کپ کوالیفکیشن ایونٹس میں کارکردگی کی بنیاد پر چار سالہ سائیکل کے لیے ایسوسی ایٹ (نان ٹیسٹ) ممالک کو عارضی ایک روزہ بین الاقوامی کا درجہ دیتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ نے کم از کم 2018ء کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے اختتام تک سرکاری ایک روزہ بین الاقوامی کا درجہ برقرار رکھا ہے۔
کھجور ایک قسم کا پھل ہے۔ کھجور زیادہ ترمصر اور خلیج فارس کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے اعلٰی کھجور عجوہ (کھجور) ہے جو سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔ کھجور کا درخت دنیا کے اکثر مذاہب میں مقدس مانا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں اس کی اہمیت کی انتہا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام درختوں میں سے اس درخت کو مسلمان کہا ہے کیونکہ صابر، شاکر اور اللہ کی طرف سے برکت والا ہے۔ قرآن مجید اوردیگر مقدس کتابوں میں جابجا کھجور کا ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ “جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میں کھانا نہ ہو“ طبی تحقیق کے مطابق کھجور ایک ایسی منفرد اور مکمل خوراک ہے جس میں ہمارے جسم کے تمام ضروری غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں افطار کے وقت کھجور کا استعمال اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے چونکہ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد توانائی کم ہوجاتی ہے اس لیے افطاری ایسی مکمل اور زود ہضم غذا سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ طاقت و توانائی فراہم کرسکے اور کھجور یہ تمام مقاصد فوراً پورا کردینے کی اہلیت رکھتی ہے۔
سوات موٹروے ( پشتو: سوات بزرگراه )، جسے M-16 یا سوات ایکسپریس وے بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں چار لین والی موٹر وے ہے۔ منصوبے کا فیز 1، جون 2019ء میں مکمل ہوا، یہ نوشہرہ میں موجودہ M-1 موٹر وے کو چکدرہ سے جوڑتا ہے جبکہ زیر تعمیر دوسرا مرحلہ اس منصوبے کو فتح پور تک توسیع دے گا۔
برصغیر میں انگریزوں کے دور تک ہندووَں میں رواج تھا کہ کسی شخص کے مرنے پر اس کی بیوی بھی اس کی چتا کے ساتھ جل جاتی تھی اور یہ رسمِ ستی کہلاتی تھی۔ یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ستی کا کب رواج ہوا۔ ویدوں میں اس ستی کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ اگرچہ بعض ہندووَں کا خیال ہے کہ رگ وید میں ستی کا حوالہ ہے۔ لیکن رگ وید میں بیوہ سے کہا گیا کہ اٹھ اور دوسرا شوہر چن لے۔ یہ رسم کب سے جاری ہوئی اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہے۔ یونانیوں نے بھی ستی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ البتہ مسلمان سیاحوں نے ستی کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اندازہ ہے یہ رسم ساتویں صدی سے شروع ہوئی جب کہ راجپوتوں کا دور شروع ہوا۔ جمیز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ یہ رسم راجپوت عورتوں میں اس لیے شروع ہوئی نہ انھیں فاتح کی لونڈیاں بننا منظور نہیں تھا۔
”صحاح“ صحیح کی جمع ہے۔ محسوسات اور معنویات میں استعمال ہوتا ہے اگر محسوسات میں استعمال ہوتو لغتاً اس کا معنی ہوگا ”الشیء السلیم من الأمراض والعیوب“ یعنی وہ چیز جو امراض وعیوب سے صحیح سالم ہو، اس سے معلوم ہوا کہ واضعِ لغت نے اس لفظ کو سلامت من العیوب ہی کے لیے وضع کیا ہے؛ لہٰذا یہی اس کا معنی حقیقی ہے اور معنویات میں یہ جس معنی کے لیے مستعمل ہے، وہ اس کا معنی مجازی ہے۔ مثلاً قول وحدیث کی صفت صحیح آتی ہے تواس وقت ترجمہ ہوگا ”مَا اعتُمد علیہ“ یعنی قول صحیح وہ ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ اور اصطلاح میں صحیح خبرواحد کی ایک قسم ہے۔
محمد عادل شاہ، بیجاپور کا سلطان
محمد عادل شاہ ، بیجاپور کا ساتواں سلطان تھا، جو 1627 میں تخت پر بیٹھا تھا۔ اپنے دور حکومت میں، اس نے مغلوں کی احمد نگر سلطنت کے خلاف مہمات میں مدد کی اور 1636 میں ان کے ساتھ امن معاہدہ کیا۔ ان کا انتقال 1656 میں ہوا اور گول گنبد میں دفن ہوئے۔
عالیہ بھٹ (انگریزی: Alia Bhatt) (پیدایش 15 مارچ 1993) برطانوی شہریت کی حامل ہندوستانی النسل اداکارہ اور گلوکارہ ہے جو ہندی فلموں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔تین فلم فیئر ایوارڈوں سمیت بے شمار دیگر اعزازات حاصل کرنے والی عالیہ بھٹ بھارت کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ بھی ہے۔ فرابس انڈیا(Forbes India) کے سیلیبرٹی 100 (Celebrity 100) میں سال 2014 سے اور فرابس ایشیا (Forbes Asia ) میں سال 2017 کی مرکز اشاعت رہی۔
ارم ذات العماد (ارم ستونوں والا شہر) یا زبانِ عام میں صرف ارم (عربی میں إرَم ذات العماد اور انگریزی میں Irem, Ubar, Wabar یا Iram of the Pillars) قدیم عرب قوم عاد کے مرکزی شہر کا نام تھا۔ یہ شہر طوفانِ نوح کے کافی بعد بسا اور زبردست ترقی کر گیا۔ اس وقت لوگ طوفانِ نوح کو بھول کر دوبارہ شرک اور بت پرستی کی طرف راغب ہو گئے تھے۔ اس قوم پر حضرت ھود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ جب اس قوم نے شرک اور بت پرستی ترک نہ کی تو اللہ نے عذاب نازل کر کے اسے تباہ کر دیا۔ اس قوم کے تذکرے کو کہانی سمجھا جاتا تھا مگر اسی صدی میں اس شہر کے آثار برآمد ہوئے ہیں جو الربع الخالی کے اس حصے میں ہے جو آج کل عمان میں شامل ہے۔ اس کے آثار 1984 میں خلائی شٹل چیلینجر کی مدد سے دریافت کیے گئے۔ یہ شہر 3000 سال قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک اونٹوں کے اس کاروانی راستے پر آباد تھا جہاں سے ھند، عرب اور یورپ تک تجارت کی جاتی تھی اور یہ اپنے زمانے کا ایک تجارتی مرکز تھا۔ روایت ہے کہ یہ شہر ایک عظیم طوفان سے تباہ ہوا۔ اسے ایک ہزار ستونوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ اس کے ستون بہت اونچے تھے۔
ہندوستانی صوبائی انتخابات، 1946ء
برطانوی ہندوستان میں جنوری 1946 میں ہندوستانی صوبوں کی قانون ساز کونسلوں کے ارکان کے انتخاب کے لیے صوبائی انتخابات ہوئے۔ ہندوستان میں برطانوی راج کا خاتمہ 1945/1946 کے انتخابات تھے۔ جیسے جیسے چھوٹی سیاسی جماعتیں ختم ہوئیں، سیاسی منظر انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ تک محدود ہو گیا جو پہلے سے کہیں زیادہ مخالف تھیں۔ 1937 کے انتخابات کے اعادہ میں کانگریس نے 90 فیصد عام غیر مسلم نشستیں حاصل کیں جبکہ مسلم لیگ نے صوبوں میں مسلم نشستوں کی اکثریت (87 فیصد) جیتی۔ اس کے باوجود آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلم انڈیا کی واحد نمائندہ ہونے کے اپنے دعوے کی تصدیق کی۔ الیکشن نے پاکستان کی راہ ہموار کی۔
عام نظریہ یہ ہے کہ اسلامی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین بیٹے تھے جن کا نام عبد اللہ، ابراہیم اور قاسم تھا اور چار بیٹیاں جن کا نام فاطمہ زہرا ، رقیہ ، ام کلثوم اور زینب تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پہلی بیوی خدیجہ بنت خویلد سے پیدا ہوئے تھے، سوائے ان کے بیٹے ابراہیم کے، جو ماریہ القبطیہ سے پیدا ہوئے تھے۔ محمد کے بیٹے میں سے کوئی بھی بالغ نہیں ہوا، لیکن ان کا ایک بالغ رضاعی بیٹا، زید بن حارثہ تھا۔ ان کی تمام بیٹیاں جوانی کو پہنچیں۔ کچھ شیعہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فاطمہ بنت محمد ان کی اکلوتی حیاتیاتی بیٹی تھیں۔
پنجاب کا روایتی مذہب سے مراد عموماً پنجاب کے غیر مسلموں (ہندوؤں اور سکھوں) کے عقائد اور اعمال سے متعلق تہوار اور عبادات ہیں جن میں اجداد کی پوجا، مقامی خداؤں کی عبادات اور دیسی تہوار شامل ہیں۔ پنجاب کے قدیم آباد علاقوں میں بہت سی خانقاہیں اور مزارات ہیں جو مختلف عقائد و مذاہب کے لوگوں میں منقسم ہیں۔ یہ مزارات اور خانقاہیں بین الفرقہ مکالمہ کی مظہر ہیں اور بزرگوں کی تعظیم کی روایت سے مختلف ہیں۔
ابن صفی کی جاسوسی دنیا کی فہرست
جاسوسی دنیا پاکستانی مصنف ابن صفی کا لکھا ہوا افسانوی ناولوں کا ایک سلسلہ ہے، جس کا ہر ناول ایک مکمل کہانی ہے، البتہ چند کہانیاں ایسی ہیں جو دو یا دو سے زائد ناولوں پر مشتمل ہیں۔
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی، اس نے معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں اس کے حکم سےسانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کیے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ روایات کے مطابق، اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبید اللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔ اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری اور آتشی گولہ باری کی گئی۔ یزید نے معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اس کی طرف منسوب کر
پاکستان میں انٹرنیٹ سنسرشپ کی وجہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے بھیجی اور موصول ہونے والی معلومات کو کنٹرول کرنے کی کوششیں ہیں۔ فی الحال فروری 2025ء تک، ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پابندی عائد ہے، حالانکہ حکومت سرکاری بیانات جاری کرنے کے لیے پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہے۔
ٹیلز آف دی گروٹیسک اینڈ اریبیسک
ٹیلز آف دی گروٹیسک اینڈ اریبیسک (انگریزی: Tales of the Grotesque and Arabesque) امریکی انگریزی میں تحریر کردہ ایک کتاب ہے جسے ایڈگر ایلن پو نے تحریر کیا۔
سید علی حیدر گیلانی، ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے ہیں۔ وہ اگست 2018 سے جنوری 2023 تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔ 9 مئی 2013 کو، نامعلوم بندوق برداروں نے پیپلز پارٹی کے اجتماع پر حملہ کرنے کے بعد انھیں ضلع ملتان سے اغوا کر لیا گیا۔ تین سال بعد، علی، 10 مئی 2016 کو افغانستان کے شہر غزنی میں افغان کمانڈوز کے ایک آپریشن میں بازیاب ہوئے۔
حسن بن علی بن ابی طالب (621ء–670ء) 15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورہ کوثر کی پہلی تفسیر بن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ میں تشریف لائے رسولِ خداؐ کے لیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسو ل کریم ؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ مشرکین کو جواب کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپؐ نہیں ہوںگے بلکہ آپؐ کا دشمن ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؓ یعنی امام حسن ؓ و حسین ؓ کو قرار دیا گیا۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہؓ کے، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں‘‘حضرت عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب (اولاد فاطمہ )اور رشتہ کے ۔ نصاری نجران کے ساتھ مباہلہ کے لیے بھی رسول خدا امام حسن و حسین ؓ کو اپنے فرزندان کے طور پر ساتھ لے کر گئے جس پر قرآن کی آیت گواہ ہے۔ بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسن ؓ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتؐ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔ اس کے بعد آنحضرت ؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ــ’’ آپ نے اس بچہ کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیر المومنین ؓنے عرض کی۔ ’’آپؐ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔ ‘‘پیغمبر ؐ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل ؑ پیغمبر ؐ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس بچہ کا نام حسن ؓ رکھیے۔ تاریخ خمیس میں یہ مسئلہ تفصیلاً مذکور ہے۔ ماہرین علم الانساب بیان کرتے ہیں کہ خداوند عالم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ کے دونوں شاہزادوں کانام انظار عالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہ ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے۔ خداکی وحی کے بغیر کوئی کام اور کلام نہ کرنے والے رسول خدا ؐکی نواسوں سے محبت اور اللہ کے نزدیک مقام کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول کریم ؐ نماز عشاء ادا کرنے کے لیے باہر تشریف لائے اور آپؐ اس وقت حضرت امام حسن اور امام حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ آپؐ اس وقت آگے بڑھے (نماز کی امامت فرمانے کے لیے) اور ان کو زمین پر بٹھلایا۔ پھر نماز کے واسطے تکبیر فرمائی۔ آپ ؐ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ میں تاخیر فرمائی تو میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ صاحب زادے (یعنی رسول کریم ؐ کے نواسے) آپ ؐ کی پشت مبارک پر ہیں اور اس وقت آپؐ حالت سجدہ میں ہیں۔ پھر میں سجدہ میں چلا گیا جس وقت آپؐ نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ آپؐ نے نماز کے دوران ایک سجدہ ادا فرمانے میں تاخیر کیوں فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا ایسی کوئی بات نہ تھی میرے نواسے مجھ پر سوار ہوئے تو مجھ کو (برا) محسوس ہوا کہ میں جلدی اٹھ کھڑا ہوں اور اس کی مراد (کھیلنے کی خواہش) مکمل نہ ہو۔ ۔ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آ گئے اور حسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت ؐنے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انھیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حسن بن علیؓ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپؐ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ (بخاری، مسلم) اہل بیت سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا، حسن اور حسینؓ۔ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھرآپ ؐدونوں کو سونگھا کرتے اور انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا، حسن اور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ؐ کا ارشاد ہے، جس نے ان دونوں یعنی حسن وحسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؓ نے فرمایا، کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے نانا نانی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسینؓ ہیں سیدہ فاطمہؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو رسول کریم ؐکے مرضْ الوصال کے دوران آپؐ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ؐ! انھیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا، حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے۔ امام حسن مجتبیٰؓ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداؐ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرتؐ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمؐکی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراؓ کی شہادت سے تین سے چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔ فرزند رسول امام حسن مجتبیٰؓ اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے درجے پر فائز ہوئے اس کے ساتھ خلافت اسلامیہ پر بھی متمکن ہوئے اور تقریباً چھ ماہ تک آپر امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالا۔ آپ کا عہد بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام زین العابدین ؓفرماتے ہیں کہ امام حسنؓزبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثریاد خداوندی میں گریہ کرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتا تھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے ۔ امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ امام حسن ؓ نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایا ہے وہ عظیم و پرہیزگار تھے۔ امام حسن کے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے 21 رمضان کو شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔ حضرت علی کی تکفین و تدفین کے بعد عبد اللہ ابن عباس کی تحریک سے قیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی یہ واقعہ 21 رمضان 40ھ یوم جمعہ کاہے( ابن اثیر) ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی .
میری جین سانتا اینا گک (21 اکتوبر 1963ء - 2 مارچ 2024ء) جو پیشہ ورانہ طور پر جیکلن جوز کے نام سے جانی جاتی ہیں، ایک فلپائنی اداکارہ تھیں۔ فلم اور صابن اوپیرا میں اپنی گھسنے والی آنکھوں اور مخالفانہ کرداروں کے لیے جانا جاتا ہے، وہ ایشین فلم ایوارڈز کی نامزدگی کے علاوہ پانچ گواد یورینز ، دو لونا ایوارڈز اور ایک FAMAS ایوارڈ سمیت مختلف تعریفوں کی وصول کنندہ تھیں۔ جوز نے اپنی اداکاری کا آغاز 1984ء میں ولیم پاسکول کی چیکاس اور چیٹو ایس رونو کے پرائیویٹ شو میں بیک ٹو بیک ایڈلٹ ڈراما فلموں میں کیا جس کے بعد انھوں نے اپنی پہلی FAMAS ایوارڈز کی نامزدگی حاصل کی۔ اگلے سال اس نے لینو بروکا کی وائٹ سلیوری میں کام کیا جس نے اسے پہلی گواد یورین نامزدگی حاصل کی۔ اس کی پہلی گواد یورین جیت بالغ ڈراما فلم تکاؤ ٹوکسو (1986ء) میں اس کے کردار سے ملی جس نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتا۔ اس نے بہترین معاون اداکارہ کا اپنا پہلا لونا ایوارڈ 1996ء میں دی فلور کنٹیمپلیسیئن اسٹوری (1995ء) میں فلور کنٹیمپلیسیئن کے شوہر کی مالکن کا کردار ادا کرنے پر جیتا جس کے لیے انھیں چوتھا گواد یورین اور چوتھا فاماس ایوارڈ نامزدگی بھی ملا۔ وہ 1990ء سے 2000ء کی دہائی تک اپنے فلمی کاموں کے لیے ایوارڈز اور تنقیدی تعریفیں حاصل کرتی رہیں۔