اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ ملاحظہ کردہ مضامین کی فہرست۔ مزید معلومات کے لیے ۔ ۔ ۔
28 فروری 2026ء کو اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائی کی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کا نام رورنگ لائن رکھا جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے اسے آپریشن ایپک فیوری کے نام سے شروع کیا۔ کارروائی میں ایران کے اہم حکام، عسکری کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کے دوسرے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔ ایران نے سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آپریشن وعدۂ صادق 4 کا آغاز کیا اور اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
ابراہیمی معاہدہ کئی معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسرائیل اور متعدد عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرینکے معاہدے سے ہوا۔ جس کا اگست اور ستمبر 2020 میں اعلان کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن، ڈی سی میں دستخط کیے گئے، ان معاہدوں کی ثالثی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریاستہائے متحدہ نے کی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین 1994 میں اردن کے بعد اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ اس کے بعد ، سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا، حالانکہ سوڈان کا معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ ہے۔ جولائی 2025 میں، یہ اطلاع ملی کہ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ شام لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدے 2010 کی دہائی میں اسرائیل اور سنی عرب ریاستوں کے درمیان بتدریج بڑھتے ہوئے غیر رسمی تعاون کے پس منظر میں سامنے آئے، جو ایران سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث پروان چڑھ رہے تھے۔ 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہو گئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی ممالک کے دورے اور محدود فوجی و انٹیلی جنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ 2020 کے وسط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ہوا، جو اس شرط پر طے پایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرے گا، جیسا کہ ٹرمپ امن منصوبے میں تجویز کیا گیا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت معاشی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ مراکش کے معاملے میں تعلقات کی بحالی، مغربی صحاراپر مراکش کی خود مختاری کو امریکا کی طرف سے تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا۔ . سوڈان کے لیے اس میں دہشت گردی کے ریاستی اسپانسرز کی امریکی فہرستاور بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی شامل تھی۔ معاہدوں کو وسیع پیمانے پر تقریبات میں پیش کیا گیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر وسیع پیمانے پر اجاگر کیا .
پاک بھارت تنازع 2025ء مسلح تصادم تھا جس کا آغاز 7 مئی 2025ء کو ہوا جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنھیں آپریشن سِن٘دُور(2) کا نام دیا گیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی جس میں 28 شہری، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات بالآخر 2025ء کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔
سیکسی امریکی مصنفہ جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates) کا ایک ناول ہے۔ یہ پہلی بار 2005ء میں شائع ہوا اور نوجوان قارئین کے لیے لکھا گیا ان کا چوتھا ناول ہے۔ کتاب میں کم سنی میں جنسی رغبت، ہم جنس پرستی اور قبل از شادی جنسی تعلقات جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ بالغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض اسکول لائبریریوں میں پابندی کا نشانہ بنایا گیا۔
انا لله و انا الیہ راجعون (عربی: إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) آیت استرجاع کہلاتی ہے جو قرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 156 سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "ہم اللّٰہ کے ہیں اور ہمیں اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یعنی مرنے کے بعد)۔" جب مسلمان کسی کی موت یا مصیبت کی خبر سنتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وہ اس آیت کو تعزیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور خصوصاً مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کی گواہی دیتے ہیں۔ بے شک مُسلمین کو (مُصیبت اور نقصان کے وقت) صبر اور نماز کے ذریعے اللّٰہ سے مدد لینے کا حُکم ہے۔
میر تقی میر ( 28 مئی 1723ء- 20 ستمبر 1810ء) اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انھیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ۔ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
جہانگیر خان (پیدائش: 1 فروری 1910ء ،بستی غزن ،جالندھر (اب جالندھر)، پنجاب) | (انتقال: 23 جولائی 1988ء لاہور، پنجاب، پاکستان) ایک مسلمان بھارتی کرکٹ کھلاڑی تھے جنھوں نے بھارت کی طرف سے 4 ٹیسٹ میچ کھیلے ڈاکٹر محمد جہانگیر خان نے برطانوی دور حکومت میں ہندوستان کے لیے کرکٹ کھیلی اور آزادی کے بعد پاکستان میں کرکٹ منتظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کیا تھا۔
سانحۂ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680ء) کو، موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول حضرت امام حسین ابن علی، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ، حسین ابن علیؓ کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے اور اموی ظالم حکمران یزید اول کی ایک بڑی فوج کے مابین ہوئی۔جس کو حسین ابنِ علی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔جس میں اموی خلیفہ یزید اول کی فوج نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رفقا کو لڑائی میں شہید کیا، حرم حسین کے خیموں کو لوٹ لیا گیا اور بالآخر آگ لگا دی گئی۔ عمر بن سعد کی فوج نے کربلا کے صحرا میں مقتولین کی لاشیں چھوڑ دیں۔ بنی اسد کے لوگوں نے لاشوں کو تین دن بعد دفن کیا۔ واقعہ کربلا کے بعد، حسین ابن علی کی فوج سے وابستہ متعدد خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا گیا، بازار اور ہجوم والے مقامات سے گذر کر ان کی توہین کی گئی اور انھیں یزید ابن معاویہ کے دربار شام بھیج دیا گیا تھا۔ جنگ میں شہادت کے بعد حضرت امام حسین کو سید الشہدا کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 656ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، تایا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
ااہلِ حدیث''' (عربی: أَهْلُ الْحَدِيث) برِصغیر پاک و ہند اور دیگر علاقوں میں پائے جانے والے مسلمانوں کا ایک ایسا مذہبی گروہ ہے جو قرآن و صحیح احادیث کو دین کا بنیادی ماخذ سمجھتا ہے اور تقلیدِ شخصی کی بجائے سلف صالحین (اہل بیت و صحابہ) کے متفقہ فہم کی روشنی میں براہِ راست کتاب و سنت سے استدلال پر زور دیتا ہے۔ اس جماعت کا جھکاؤ عمومی طور پر زیدی فکر اور سلفی نظریات کی طرف ہوتا ہے۔ اہلِ حدیث اپنے عقائد و اعمال میں قرآن کریم اور صحیح احادیث کی اصل متن پر سختی سے عمل پیرا ہونے کو اہمیت دیتے ہیں۔۔ اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کے بعد حدیث کو اپنی زندگی کا مشعل راہ بنایا جائے اگرکسی معاملہ میں قرآن و حدیث سے مسئلہ کی وضاحت نہ ہو تو کسی بھی اسلامی فرقے کے مجتہدین، کے اجتہادات کو دیکھا جائے جس کا اجتہاد قرآن اور حدیث کے نزدیک تر ہو اسے لے لیا جائے جو نا موافق ہو اسے رد کر دیا جائے تاہم اجتہاد ہر دور کے اپنے تقاضوں کے مطابق ہوتا رہے گا۔ اہل حدیث کے نزدیک خبر احاد عقائد، احکام اور مسائل میں حجت ہے جبکہ صحیح احادیث کی متابعت (یعنی اطاعت) قرآن کی آیات کے اتباع کے مساوی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کی سورت النجم کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (ترجمہ: اور نہیں بولتا ہے وہ اپنی خواہشِ نفس سے، نہیں ہے یہ کلام مگر ایک وحی جو نازل کی جا رہی ہے۔ قرآن سورہ النجم آیت 3 تا 4)۔ تاہم سعودی عرب کے تعلیمی اداروں کے وظائف پر تعلیم حاصل کرنے والے گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ یافتہ اہل حدیث طلبہ کے ذریعے آج کل ہندوستان اور پاکستان میں اہل حدیث اپنے اصل منھج اور عقیدے سے منحرف ہوکر خلیجی ممالک ک" سلفی" تحریک سے متاثر نظریات کو فروغ دے رہے ہیں جن کا فقہی مسلک اہل حدیث کی بجائے حنبلی سے قریب تر ہے۔ لیکن اہل حدیث کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کے سبب یہ کھل کر کسی ایک امام کی پیروی کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں۔
انشائیہ : انشائیہ کے لغوی معنی "عبارت" کے ہیں۔ انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے جو مضمون کی مانند لگتی ہے مگر مضمون سے الگ انداز رکھتی ہے۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار آزادانہ طور پر اپنی تحریر پیش کرتاہے، جس میں اس کی شخصیت کا پہلو نظر آتا ہے۔ کسی خاص نتیجہ کے بغیر بات کو ختم کرتا ہے، یعنی نتیجہ کو قاری پر چھوڑ دیتا ہے۔ مشہور انشاء پروازوں میں محمد حسین آزاد، سرسید احمد خان، ابو الکلام آزاد، مرزا فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی، ابن انشاء وغیرہ مشہور ہیں۔
علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
احمد خان متقی بن محمد متقی (17 اکتوبر 1817ء – 27 مارچ 1898ء) المعروف سر سید، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، مصلح اور فلسفی تھے۔ ان کو برصغیر میں مسلم قوم پرستی کا سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے، جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔
شیرشابادی یا شیرشابادیہ بھی کہاجاتا ہے۔(بنگلہ: শেরশাবাদী )(انگریزی: Shershahabadia [1]) یہ ایک مسلم قوم ہے جو ہندوستانی ریاستمغربی بنگال، بہار، آسام اور جھارکھنڈ میں موجود ہے۔ انھیں مختصرا بادیہ یا بادھیا بھی کہا جاتا ہے۔ اسی نام کی وجہ سے بعض لوگ انھیں مغربی بنگال کے بیدیہ سے ان کا تعلق جوڑتے ہیں۔ جب کہ عادات و اطوار، رہن سہن، بول چال، کھان پان کسی بھی اعتبار سے یہ بیدیہ سے میل نہیں کھاتے ہیں۔
العرف الشذی شرح سنن الترمذی (عربی: العرف الشذي شرح سنن الترمذي) درس نظامی کے نصاب میں شامل کتاب سنن ترمذی کی کئی جلدوں پر مشتمل عربی شرح ہے۔ یہ دراصل ہندوستان کے نامور محدث انور شاہ کشمیری کے دروس، حواشی اور علمی افادات کو مرتب کرکے ان کے شاگرد محمد چراغ پنجابی نے مدون کی تھی۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت 1919ء میں ہوئی۔ یہ شرح فقہِ حنفی کے زاویۂ نظر سے تحریر کی گئی ہے۔ اس میں علامہ انور شاہ کشمیری کا مقصد محض احادیث کی تشریح، فقہی مسائل کی وضاحت یا نحوی و لغوی نکات کی نشان دہی نہیں تھا، بلکہ بالخصوص امام ابو حنیفہ کے بلند فقہی مقام اور ان کی آراء کے مضبوط دلائل کو نمایاں کرنا بھی مقصود تھا۔ بعد ازاں 1968ء میں محمد یوسف بنوری نے معارف السنن شرح جامع الترمذی کے نام سے چھ جلدوں پر مشتمل ایک نئی شرح تصنیف کی، جس کا مقصد العرف الشذی میں مذکور بعض علمی اشکالات کی مزید توضیح اور تصحیح پیش کرنا تھا۔
ابوبکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ عثمان تیمی قرشی (573ء—634ء) اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، خاتم النبین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اولین جانشین، صحابی، خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کے نام کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا ہے جسے حضرت ابوبکر صدیق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیا تھا۔
کھانسی (انگریزی: Cough) اچانک سے منہ کے راستے سے زور کی آواز کے ساتھ ہوا، بلغم اور جراثیم کے خارج ہونے کو کہا جاتا ہے۔ کھانسی از خود کسی موسمی مرض کے طور مخصوص وائرس کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ یہ کئی بار بخار، فلو اور دیگر امراض کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔ مسلسل کھانسنے سے انسانی پھیپھڑوں اور حلق پر زبر دست بار ہو سکتا ہے۔ کچھ دائمی امراض میں کھانسی بے روک ٹوک جاری رہ سکتی ہے، جیسے کہ دق کے مریضوں میں یہ عام خاصیت ہو سکتی ہے۔ موسمی کھانسی کو کئی بار غراروں، گرم بھانپ اور نیبولائزیشن کے ذریعے بھی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک طبی نسخوں کی بات ہے، تو اطباء نسخہ لکھنے سے پہلے یہ جانچ لیتے ہیں کہ کھانسی کیا خشک کھانسی ہے یا تر کھانسی ہے۔ اس تحقیق کے بعد دوا تجویز کرتے ہیں۔ تاہم جب کھانسی دیگر بیماریوں کے ساتھ ہوتی ہے یا ان کی جملہ علامات کا حصہ ہوتی ہے، تب مجموعی صورت حال کے پیش نظر اطباء کوئی علاج تجویز کرتے ہیں۔
دار العلوم دیوبند کے فضلا کی فہرست
دار العلوم دیوبند بھارت کا ایک اہم اسلامی تعلیمی ادارہ ہے۔ جسے فضل الرحمن عثمانی، محمد قاسم نانوتوی، سید محمد عابد دیوبندی اور دیوبند قصبہ کے چند دیگر علما نے قائم کیا تھا۔ وہاں کے معروف سابق فضلا میں محمود حسن دیوبندی؛ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی اور شبیر احمد عثمانی؛ پاکستان کی بانی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہاں کے سابق فضلا کی فہرست درج ذیل ہے:
بحریہ آئکون ٹاور کراچی، سندھ، پاکستان میں بحیرہ عرب کے ساحل پر تعمیر شدہ پاکستان کی سب بڑی فلک بوس عمارت ہے۔ یہ عمارت بحریہ ٹاؤن کی ملکیت ہے۔ بحریہ آئیکون ٹاور کمپلیکس میں ایک 62 منزلہ ٹاور شامل ہے، جو 984 فٹ (300 میٹر) پر ہے، یہ پاکستان کی بلند ترین عمارت اور جنوبی ایشیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔
جامعۂ پنجاب (انگریزی: University of the Punjab، نقل حرفی: یونیورسٹی آف پنجاب)، لاہور، پنجاب میں واقع ایك عوامی تحقیقی و تدریسی جامعہ ہے، جو برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں قائم ہونے والی پہلی یونیورسٹی ہے، اس طرح اسے پاکستان كی قدیم ترین یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کا قیام 14 اكتوبر 1882ء میں عمل میں آیا۔ پہلے اس کا کیمپس قدیمی مال روڈ اور انارکلی بازار کے ساتھ ہی تھا۔ 1970ء کی دہائی میں اس کے بہت سے شعبے نیو کیمپس میں منتقل ہو گئے۔ نیو کیمپس کے اردگرد لاہور کے نئے علاقے بن گئے جو اب شہر کا حصہ ہیں جیسے گارڈن ٹاون، فیصل ٹاون وغیرہ۔ اب جامعہ پنجاب نے اپنا کیمپس گوجرانوالہ اور جہلم میں بھی کھول لیا ہے۔ لاہور کے پرانے کیمپس کو علامہ اقبال کیمپس اور نئے کیمپس کو قائدِاعظم کیمپس کہا جاتا ہے جو ان کے سرکاری نام ہیں۔ جامعہ کا ایک ذیلی کیمپس خانس پور کے پہاڑی علاقے میں بھی قائم ہے مگر یہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہاں کوئی شعبہ مستقل بنیادوں پر قائم نہیں ہے۔ ان چار کیمپسوں کے ساتھ جامعہ پنجاب کی 13 کلیات (فیکلٹیاں)، 9 کالجز اور 83 تدریسی شعبے، تحقیقی مراكز اور ادارے ہیں، جبکہ اس کے الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 434 ہے۔ جامعہ میں 1006 كل وقتی اور 300 جز وقتی اساتذہ تدریسی/ تحقیقی فرائض سر انجام دے رہے ہیں، علاوہ ازیں 6000 سے زائد دیگر ملازمین بھی یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جب كہ آن كیمپس طلبہ کی تعداد 45678 ہے۔
عشقیہ خط، پیار کا خط، محبت آمیز خط یا پیار بھرا خط (انگریزی: Love letter) ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ مرد اور خواتین صدیوں سے دوسرے کے تیئیں نرم گوشہ جذبات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ ان خطوط کو کسی زمانے میں تحریری شکل میں دست بدست دیا جاتا تھا، تو کبھی پیام رساں کبوتر یا ڈاک کے ذریعے بھیجا جاتا رہا ہے۔ خط میں محبت سے جڑا سیدھا سادہ پیام چند لفظوں میں بیان ہو سکتا ہے یا پھر اس میں محبت اور وجہِ محبت کو کافی وسیع انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ خط میں جذبات کے اظہار کے لیے کئی قدیم اور گھسے پٹے فقروں کا استعمال ہو سکتا ہے، جیسے کہ جب سے دیدار ہوا ہے، دل دوسرے شخص کا ہو گیا ہے یا پھر اس شخص کے بنا زندگی کا تصور اب ممکن نہیں۔ اس میں کبھی فلمی یا مشہور تحریروں سے مکلموں کی نقل بھی ممکن ہے۔ اس میں شعر و شاعری کا سہارا بھی ممکن ہے۔ تصویری مواد بھی ممکن ہے، مثلًا معشوق کی تصویر کا اتارا جانا اور اس کے ساتھ کوئی پیام۔ یا پھر دل کی تصویر جس کے ساتھ تیر کا چبھنا اتارا جاتا ہے، جس سے دل کی بے چینی اور اس کے اندر کی چُبھن کا اظہار ممکن ہے۔
سایہ دیور بھی نہیں ( اردو: سایۂ دیوار بھی نہیں ; lit not even a shadow of a wall ) ایک پاکستانی ڈرامہ سیریل تھا جو دل بے قرار کے بعد 10 اگست 2016 کو ہم ٹی وی پر نشر ہونا شروع ہوا۔ اسے شہزاد کشمیری نے ڈائریکٹ کیا ہے اور قیصرہ حیات نے اس کے اسی نام کے ناول پر مبنی ہے۔ اس میں احسن خان اور نوین وقار مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
پَارُل (পারুল) پانچ پنکھڑیوں والے پھول کو کہتے ہیں جو اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے۔ اردو میں اس درخت کو پاڈھل / پَرال (Stereospermum chelonoides) کہتے ہیں۔ یہ ایک صنفِ مشترک (یونی سیکس) ہندو نام بھی ہے۔ یہ نام بنگالی لوک کہانی ”سات بھائی چمپا“ (یا سات چمپا بھائی اور ایک بہن پارُل) میں بھی آتا ہے۔ اس کہانی میں ایک بادشاہ کے سات بیٹے اور ایک بیٹی ہوتی ہے۔ کہانی کے اختتام پر سب بچے پھولوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور بیٹی کا روپ پارُل پھول کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ کہانی اور پارُل پھول ربندر ناتھ ٹھاکر کے ربندر سنگیت میں بھی شامل ہے۔
مریم نواز شریف (پیدائش 28 اکتوبر 1973ء) ایک پاکستانی سیاست دان ہے، جو اس وقت پنجاب کی وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے والی پہلی خاتون ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی ہیں اور ابتدائی طور پر خاندان کی مخیر تنظیموں میں شامل تھیں۔ تاہم، 2012ء میں، وہ سیاست میں داخل ہوئیں اور 2013ء کے عام انتخابات کے دوران انھیں انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا۔ 2013ء میں انھیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ تاہم، انھوں نے 2014ء میں ان کی تقرری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
فہرست فیفا عالمی کپ پینلٹی شوٹ آؤٹ
یہ فہرست فیفا عالمی کپ پینلٹی شوٹ آؤٹ (List of FIFA World Cup penalty shoot-outs) ہے۔
سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ(32ق.ھ/ 5ھ) قبیلہ بنو اشہل کے سردار اورمعزز صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے رہنے والے تھے ۔آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لے جانے سے پہلے ہی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ بھیج دیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دیں اور غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرتے رہیں۔ چنانچہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دامن اسلام میں آگئے اور خود اسلام قبول کرتے ہی یہ اعلان فرما دیا کہ میرے قبیلہ بنو عبدالاشہل کا جو مرد یا عورت اسلام سے منہ موڑے گا میرے لیے حرام ہے کہ میں اس سے کلام کروں۔آپ کا یہ اعلان سنتے ہی قبیلہ عبدالاشہل کا ایک ایک بچہ دولت اسلام سے مالا مال ہو گیا۔ اس طرح آپ کا مسلمان ہو جانا مدینہ منورہ میں اشاعت اسلام کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادر اور انتہائی نشانہ باز تیر انداز بھی تھے ۔ غزوہ بدر اور غزوۂ احد میں خوب خوب دادِ شجاعت دی،مگرغزوہ خندق میں زخمی ہو گئے اور اسی زخم میں شہادت سے سر فراز ہو گئے۔آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے نیزہ لے کر جوش جہاد میں لڑنے کے لیے میدان جنگ میں جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام ”اکحل”ہے کٹ گئی ۔آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آپ کے ليے مسجد نبوی شریف میں ایک خیمہ گاڑا اور آپ کا علاج شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے دو مرتبہ ان کے زخم کو داغا اور ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن آپ نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی : ”یا اللہ! تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے مجھے جنگ کرنے کی اتنی تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنھوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا، اے اللہ ! عزوجل میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے زندہ رکھنا تاکہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جنگ کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے شہادت عطا فرما دے ۔ ” خدا کی شان کہ آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہہ کر مسجد نبوی میں بنی غفار کے خیمے کے اندر پہنچ گیا۔ ان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو!یہ کیسا خون ہے جو تمھاری طرف سے بہ کر ہماری طرف آرہا ہے؟ جب لوگوں نے دیکھا تو سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون جاری تھا اسی زخم میں آپ کی شہادت ہو گئی ۔ عین وفات کے وقت ان کے سرہانے حضور انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ جان کنی کے عالم میں انھوں نے آخری بار جمال نبوت کا دیدار کیا اور کہا : السلام علیک یا رسول اللہ!
پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
پاکستانیوں کے لئے ویزا درکار ممالک
پاکستانیوں کے لیے ویزا درکار ممالک سے مطلب پاکستانی شہریوں کے لیے بیرونِ ملک دیگر ممالک میں سفری پابندیاں۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ اٹھانوے نمبر پر ہے۔ یعنی پاکستانی پاسپورٹ کے رکھنے والے کو دنیا کے 33 ممالک جانے کا حق ہے۔ دیگر پاسپورٹ جیسے بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، شمالی کوریا اور دیگر افریقی ممالک کے پاسپورٹ کے مقابلے میں پاکستانی پاسپورٹ درجے میں کم ہے۔ لہٰذا ہر پاکستانی شہری کو بیرونِ ملک میں ان شہریوں کے مقابلے میں زیادہ پابندیاں اور دشواریاں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نقشے میں خاکستری رنگ میں وہ ممالک دکھائے گئے ہیں جہاں پاکستانی شہری کو موجودہ ویزا کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ فرنگستان، شمالی امریکا، جنوبی امریکا اور آسٹریلیشیا کے کسی بھی ملک پاکستانی شہریوں کو ویزا کے بغیرملک میں داخلہ منع کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھی پاکستانی شہری کسی بھی خاکستری رنگ میں دکھایا گیا ملک میں ویزا کے بغیر پہنچ جاتا ہے اس ملک کے ادارے اسے فوری قانونی سزا دیتے ہیں۔
سربراہ خلائی آپریشنز یا چیف آف اسپیس آپریشنز (سی ایس او) ریاستہائے متحدہ کی خلائی فورس کا سروس چیف ہے۔ سی ایس او خلائی فورس آپریشنز کے لیے فضائیہ کے سکریٹری کا پرنسپل فوجی مشیر ہے اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے رکن کے طور پر، قومی سلامتی کونسل کا فوجی مشیر، سیکرٹری دفاع اور صدر ہوتا ہے۔ سی ایس او ایک قانونی دفتر ہے جو اسپیس فورس کے جنرل کے پاس ہوتا ہے، جو عام طور پر اسپیس فورس میں فعال ڈیوٹی پر اعلی ترین عہدے پر فائز افسر ہوتا ہے۔
مشرقی پاکستان میں 1950ء کے فسادات
1950 کے فسادات ( بنگالی: পঞ্চাশের গণহত্যা ) بنگالی مسلمانوں ، پاکستانی پولیس اور پیرا ملٹری کے ذریعہ آتش زنی کے ساتھ بنگالی ہندوؤں کے قتل عام کو کہتے ہیں۔
== و ارکان،واجبات-اور-اس کی-سنتیں۔شرائط و ارکان نماز == اس کے وہ بنیادی اجزا جن سے نماز وجود میں آتی ہے کہ انکا چھوڑنا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔ نہ وہ عمدا ً چھوڑنا جائز ہے اور نہ سہواً. نماز کے چودا ١٤ فرائض میں سات٧ شرطیں اور سات٧ ارکان ہیں۔درج ذیل ہیں نماز کے ٧ شرائط ١)طہارت بدن کی پاکی (غسل واجب نہ ہو و با وضو ہو) ٢)مصلی کے کپڑے پاک ہو ٣)نماز پڑھنے کی جگہ پاک ہو ٤)مصلی کا ستر مکمل ڈھکا ہوا ہوں (مرد کا کم از کم ناف سے گھٹنے تک اور عورت چہرہ و ہتھیلی اور قدموں کے علاوہ تمام بدن) ٥)نماز کو وقت مقررہ اور جائز اوقات میں پڑھے ٦)قبلہ رخ ہوکر پڑھنا ٧) نیّت .
ٹینس ایک ریکیٹ کا کھیل ہے جو انفرادی طور پر کسی ایک مخالف ( سنگلز ) کے خلاف یا دو کھلاڑیوں کی دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے جسے ( ڈبلز ) کہتے ہیں۔ ہر کھلاڑی ایک ٹینس ریکیٹ کا استعمال کرتا ہے جسے ڈوری سے باندھا جاتا ہے تاکہ ایک کھوکھلی ربڑ کی گیند کو جال کے اوپر یا اس کے آس پاس اور حریف کے کورٹ میں ڈال سکے۔ کھیل کا مقصد گیند کو اس طرح سے پھینکنا ہے کہ حریف واپسی کھیلنے کے قابل نہ رہے۔ وہ کھلاڑی جو گیند کو درست طریقے سے واپس کرنے سے قاصر ہے اسے ایک پوائنٹ حاصل نہیں ہوگا، جبکہ مخالف کھلاڑی کو حاصل ہوگا۔ ٹینس ایک اولمپک کھیل ہے اور اسے معاشرے کی ہر سطح اور ہر عمر میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ کھیل کوئی بھی شخص کھیل سکتا ہے جو ریکیٹ پکڑ سکتا ہے، بشمول وہیل چیئر استعمال کرنے والے ۔ ٹینس کی اصل شکلیں قرون وسطی کے آخر میں فرانس میں تیار ہوئیں۔ ٹینس کی جدید شکل 19ویں صدی کے آخر میں برمنگھم ، انگلینڈ میں لان ٹینس کے نام سے شروع ہوئی۔ اس کے مختلف فیلڈ (لان) کھیلوں جیسے کروکیٹ اور باؤلز کے ساتھ ساتھ پرانے ریکیٹ کے کھیل سے بھی گہرے روابط تھے جسے آج حقیقی ٹینس کہا جاتا ہے۔ ٹینس لاکھوں تفریحی کھلاڑی کھیلتے ہیں اور یہ دنیا بھر میں ایک مقبول تماشائی کھیل ہے۔ چار گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ (جنھیں میجرز بھی کہا جاتا ہے) خاص طور پر مقبول ہیں: آسٹریلین اوپن ، ہارڈ کورٹس پر کھیلا جاتا ہے۔ فرنچ اوپن ، ریڈ کلے کورٹس پر کھیلا گیا؛ ومبلڈن ، گراس کورٹس پر کھیلا گیا؛ اور یو ایس اوپن بھی ہارڈ کورٹس پر کھیلا گیا۔
مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی شجاعت، ان کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔
نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سینٹر
نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سینٹر، اسلامی جمہوریہ ایران؛ نئی دہلی کے کلچر ہاؤس میں واقع ہے اور مرمت کا کام کرنے، مائیکرو فلم کی تیاری، پرانے مخطوطات کی عکاسی اور ان کی طباعت میں مصروف ہے۔ یہ سنٹر 1985ء میں ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کی کوششوں کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔ اس مرکز کی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز علامہ قاضی نور اللہ شوشتری (وفات 1409ھ) کی 400ویں برسی کے ساتھ ہوا۔ وہ ایرانی محدث، خطیب، ادبی شخص اور بھارتی شاعر تھے۔ نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سینٹر کا نام اس عظیم تعلیم یافتہ شخص کے نام پر اس کی خدمات کے اعتراف میں رکھا گیا ہے۔
ریلوے جنرل ہسپتال راولپنڈی کا ایک جدید ترین PMC تصدیق شدہ انتہائی نگہداشت کا ہسپتال ہے۔ ریلوے جنرل ہسپتال ویسٹریج میں واقع ہے جو راولپنڈی شہر کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ یہ ہسپتال راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے تھوڑی دوری پر واقع ہے۔ پاکستان ریلویز کے حاضر سروس ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اس ہسپتال میں مفت علاج کیا جاتا ہے۔
بحرین کی ایران سے علیحدگی آل خلیفہ اور برطانیہ کے برسوں قبضے کے بعد ، 13 اگست 1971 کو محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں اور اس نے بحرین کے علاقے پر ایرانی حکمرانی سے دستبردار ہونے کے دوران ہوئی۔ اسی سال 16 دسمبر کو اقوام متحدہ میں بحرین کی رکنیت قبول کرنے سے ، بحرین کو اقوام متحدہ کا 299 واں ممبر تسلیم کیا گیا۔ بحرین کے جزیرے پر ، جو طویل عرصے سے ایران کا حصہ رہا ہے ، آل خلیفہ نے 1160 ش ھ (1780)کے آس پاس قبضہ کیا تھا اور یہ قاجار کے دور میں 1270ش ھ (1890) میں برطانوی حکمرانی میں آگیا تھا۔ تاہم ، اپریل 1970 میں ، ایرانی اور برطانوی حکومتوں کے معاہدے کے ساتھ ، بحرین میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نمائندے کی نگرانی میں رائے شماری کی بجائے بحرین کی آزادی پر رائے شماری کا انعقاد کیا گیا۔ اس نمائندے کی رپورٹ ، جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ بحرین کی اکثریت آزادی کی خواہاں ہے ، کو سلامتی کونسل نے منظور کیا تھا اور 14 اگست 1971 کو بحرین نے سرکاری بیانات میں اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ ایران اور برطانیہ سے اقتدار سنبھالنے والے سیکرٹری جنرل کے مندوب نے بحرین کے کچھ حصوں سے پوچھا تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں: ایران میں شامل ہونا ، برطانوی تحفظ ، آزادی کے تحت۔ 1299 ش ھ کی بغاوت سے قبل ، ایران نے گیارہ بار بحرین پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی ، لیکن برطانوی حکومت کی مخالفت کی وجہ سے وہ ناکام رہا۔ اس وقت سے لے کر 1346ش ھ تک کبھی بحرین پر خود مختاری کے دعوے کو ترک نہ کریں۔ ایک ایسے وقت میں جب برطانیہ جزیرے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہا تھا ، ایران باضابطہ اور غیر رسمی احتجاج اور بعض اوقات عملی اقدامات اور خط کتابت کے ساتھ جواب دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ ایران نے بین الاقوامی تنظیموں سے بھی شکایت کی کہ وہ دوسری عالمی جنگ میں ایران کے قبضے کی وجہ سے ناکام ہوچکا ہے۔ ایک ہی وقت میں، آل خلیفہ - حکومت بحرین میں سنی عربوں لا کر آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء) خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ تھے جنھوں نے 656ء سے 661ء تک حکومت کی۔ ابو الحسن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے خلیفہ بنے، لیکن انھیں شیعہ اثناعشریہ و زیدیہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام معصوم اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص تھے جو اسلام لائے۔ اور ان سے قبل ایک خاتون کے علاوہ کوئی مردو زن مسلمان نہیں ہوا۔ یوں سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ، بیعت رضوان، اصحاب بدر و احد، میں سے بھی تھے بلکہ تمام جنگوں میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا اور فاتح خیبر تھے، ان کی ساری ابتدائی زندگی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ گذری۔ وہ تنہا صحابی ہیں جنھوں نے کسی جنگ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہیں چھوڑا ان کی فضیلت میں صحاح ستہ میں درجنوں احادیث ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا اور دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد (ریاست حیدرآباد سے انھیں غیور جنگ کا خطاب دیا گیا تھا جسے انھوں نے قبول نہیں کیا) (پیدائش: 1836ء یا 6 دسمبر 1831ء، وفات: 3 مئی 1912ء) ضلع بجنور کی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریہر میں پیدا ہوئے۔ ایک مشہور بزرگ شاہ عبد الغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔
ریڈ، وائٹ اینڈ رائل بلیو (فلم)
ریڈ، وائٹ اینڈ رائل بلیو (Red, White & Royal Blue) 2023 کی ایک امریکی رومانوی کامیڈی فلم ہے جس کے ہدایت کار میتھیو لوپیز ہیں اور یہ ان کی فیچر فلم میں ہدایت کاری کی پہلی کاوش ہے۔ انھوں نے ٹیڈ مالاور کے ساتھ مل کر اسکرین پلے لکھا ہے۔ یہ اسکرپٹ 'کیسی میک کوسٹن' کے 2019 کے اسی نام کے ناول پر مبنی ہے۔ فلم ریاستہائے متحدہ کے صدر (ٹیلر زاخار پیریز) کے بیٹے اور ایک برطانوی شہزادے (نکولس گیلٹزائن) کے درمیان پروان چڑھتے ہوئے محبت کے رشتے کو دکھاتی ہے۔ کلفٹن کولنز جونیئر، سارہ شاہی، ریچل ہلسن، اسٹیفن فرائی اور اوما تھرمین معاون کرداروں میں نظر آتے ہیں۔
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻮﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺭحمۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺁﭖ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎﺋﮯ ﮐﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﺫﯾﺐ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐِ ﺍﺳﺮﺍﺭِ قلندریہ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻮﻡ ﺩﯾﻨﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﺎﺭﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ، ﺟﺐ ﺟﺬﺏ ﻭ ﺳﮑﺮ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﻠﻤﯽ ﯾﺎﺩ ﺩﺍﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎ برد کر ﺩﯾﺎ، مولا علی مشکل کشاء کرم اللہ وجہہ الکریم سے بلاواسطہ فیض یابی کی ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﺪ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﻼﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﻠﺠﯽ ﺍﻭﺭ جلال الدین خلجی ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ حلقۂ ﻣﺮﯾﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔
ستلج (انگریزی: Satluj (film)) 2026ء کی ایک بھارتی سوانحی ڈراما فلم ہے جس کی ہدایت کاری ہنی تریحان نے کی ہے اور بالترتیب آر ایس وی پی موویز اور میک گفن پکچرز کے ذریعے رونی اسکریو والا، ابھیشیک چوبے اور تریحان نے مشترکہ طور پر پروڈیوس کیا ہے۔ یہ فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے۔